Mufti Hashmat Ullah Haqqani page

Mufti Hashmat Ullah Haqqani page Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Mufti Hashmat Ullah Haqqani page, Real Estate, Ajman, Dubai.

27/02/2026
27/02/2026

*بیرون ملک مقیم شخص صدقہ فطر کس طرح ادا کرے؟*

سوال

ایک بندہ باہرملک میں کام کرنےکےغرض سےگیااوربیوی بچےپاکستان میں ہیں۔اب صدقۃالفطر کاوقت آیا ہے تو یہاں بندہ اپنااوربچوں کافطرانہ باہر کی کرنسی میں دے گا یا پاکستانی کرنسی میں؟

جواب
صدقہ فطر کی مقدار گندم کے حساب سے پونے دو کلو گندم ہے چاہےکہیں بھی ادا کیا جائے، اور اگر قیمت ادا کرنی ہے تو جہاں ادائیگی کرنے والا موجود ہے وہاں کا اعتبار ہوگا، لہذا اگر کوئی شخص بیرون ملک میں مقیم ہے اور عید الفطر وہیں کرے گا، تو اس پر اپنا اور اپنے نابالغ بچوں کا صدقہ فطر اس کے موجودہ رہائشی ملک کے نرخ کے حساب سے دینا لازم ہوگا، خواہ وہ یہ قیمت وہیں ادا کرے یا پاکستان بھیج دے، یا اس کی اجازت سے پاکستان میں ادا کی جائے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"والمعتبر في الزكاة فقراء مكان المال، وفي الوصية مكان الموصي، وفي الفطرة مكان المؤدي عند محمد، وهو الأصح، وأن رءوسهم تبع لرأسه.

(قوله: مكان المؤدي) أي لا مكان الرأس الذي يؤدي عنه (قوله: وهو الأصح) بل صرح في النهاية والعناية بأنه ظاهر الرواية، كما في الشرنبلالية، وهو المذهب كما في البحر؛ فكان أولى مما في الفتح من تصحيح قولهما باعتبار مكان المؤدى عنه".

(كتاب الزكاة، باب مصرف الزكاة والعشر،فروع في مصرف الزكاة، 2/355، ط: سعيد)

فقط والله أعلم

فتویٰ نمبر : 144409101535

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

اللہ دی مغفرت نصیب کڑی.. او فیملی تہ دی اللہ صبر ورکڑی..
16/01/2026

اللہ دی مغفرت نصیب کڑی.. او فیملی تہ دی اللہ صبر ورکڑی..

خوازہ خیلہ بابو سہراب خان کاجواں سال بیٹا
اور اختر ایوب خان کا بھتیجا عزیراحمد خان انتقال کر گئے۔ مرحوم کی نماز جنازہ آج بروز جمعہ بعد از نماز مغرب بابو جنازگاہ میں ادا کی جائے گی۔ فاتحہ خوانی اریانہ چمتلئ میں جاری ہے"
16/01/2026

14/01/2026

ماشاء اللہ زما والد محترم پہ عالم گنج کی د مولانا عبدالصمد مظھری صاحب دختم بخاری پہ موقعہ یو خایستہ مجلس کی د استاد محترم حضرت مولانا عزیز الرحیم دادئ مولوی صاحب او زمونگ ڈیر گران مشر عالم گنج حاجی صاحب خلیفہ مجاز حضرت مولانا عزیز الرحمن ہزاروی صاحب او ورسرہ حضرت مولانا سراج الدین صاحب سابقہ مدرس سیدوشریف. اللہ تعالیٰ دی ٹولو لہ روغ صحت ورکڑی آمین..

20/12/2025

*انسان اپنی پوری زندگی میں کوشش کے باوجود بھی اجالا نہ لا سکے تو کوئی بات نہیں ،لیکن اندھیرے سے صلح نہ کرے...

17/11/2025
Shingro dand swat..
26/04/2025

Shingro dand swat..

13/08/2024

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیں بھی یاد کرلینا چمن میں جب بہار آئے۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی صاحب رح۔۔۔۔
دو دنوں سے میں شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی صاحب رح کو پڑھ رہا ہوں۔
وہ ہمارے استاد ڈاکٹر علامہ خالد محمود صاحب رح آف مانچسٹر کے براہ راست استاد تھے۔علامہ عثمانی صاحب رح کا ذکر خیر میں اپنے استاد شیخ الحدیث مولانا عبدالسلام صاحب رح آف حضرو بانی جامعہ عربیہ اشاعت القرآن حضرو سے بہت کثرت سے سنتا تھا کیونکہ وہ شیخ الحدیث مولانا ادریس کاندھلوی رح اور شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان صاحب رح کے شاگرد تھے اور یہ حضرات علامہ عثمانی صاحب رح سے نسبت تلمذ رکھتے تھے۔
علامہ شبیر احمد عثمانی صاحب رح 1889ء کو بجنور میں پیدا ہوئے انکے والد گرامی قدر حضرت مولانا فضل الرحمن عثمانی صاحب رح ممتاز حیثیت کے مالک تھےاور بانیان دارالعلوم دیوبند میں سے تھے ۔علامہ شبیر احمد عثمانی صاحب رح نے شیخ الہند رح کی شاگردی اختیار کی جس سے وہ کندن بن گئے رفتہ رفتہ انکے جوہر نمایاں وتاباں ہوئے اور علامہ عثمانی علم وتحقيق کے شہباز بنے۔اور دارالعلوم دیوبند میں مرکزی حیثیت حاصل کی۔
ایک وقت آیا کہ بزرگان دیوبند میں اختلاف کی وسیع وعریض خلیج پیدا ہوئی اور علامہ عثمانی صاحب رح وغیرھم دیوبند چھوڑ کر ڈابھیل تشریف لائے اور پھر اس علاقہ میں علم وعرفان کے خوب دریا بہے اور تشنگان علوم نبوت خوب سیر ہوئے اور انکی روحوں کو تازگی ملی اسی جگہ ہمارے چھچھ کے شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان صاحب قدس اللہ سرہ نے علامہ کشمیری رح اور علامہ عثمانی رح کے سامنے زانو تلمذ طے کئے۔سوانح نگار لکھتے ہیں کہ علامہ عثمانی صاحب رح تفسیر عثمانی لکھتے وقت حضرت شیخ القرآن رح سے مفسر قرآن مولانا حسین علی الوانی رح کی تحقیقات بارے استفسار فرمایا کرتے تھے نیز انکی خواہش تھی کہ شیخ القرآن جوکہ انکے شاگرد تھے فتح الملھم شرح مسلم کے لکھنے میں انکی معاونت کریں مگر تقسیم ہند کے باعث اس خواہش کی تکمیل نہ ہوسکی۔
پھر جب ایک موقع پر دارالعلوم دیوبند کے بزرگوں اور علامہ عثمانی صاحب رح کے درمیان تعلقات ٹھیک ہوئے اور علامہ عثمانی صاحب رح واپس تشریف لے گئے تو دارالعلوم دیوبند میں انکے خطاب کا یہ حصہ بہت ہی اہمیت کا حامل تھا اور اسے خوب شہرت ملی۔
فرمایا جسطرح سمندر سے بخارات اٹھ کر بادل کی صورت میں برستے ہیں اور پھر سمندر میں جا ملتے ہیں گویا یہ بخارات اپنے مرکز سے جدا ہوتے اور مرکز کی طرف واپس ہوتے ہیں ٹھیک اسی طرح اب سے کچھ سال پہلے مجھے اپنے مرکز علمی کو چھوڑ کر جدا ہونا پڑا اور پھر آج وہ وقت آیا اس علم کے سمندر سے اٹھے بخارات پھر اسی سمندر میں آکر مل گئے ہیں۔
علامہ عثمانی صاحب رح صرف حدیث کے علوم کے ہی شناور نہیں تھے بلکہ انہیں تفسیر وکلام میں بھی ید طولی حاصل رہا ہے وہ درس قرآن مجید بھی دیتے تھے شیخ الہند رح کے دولت خانہ پر وہ ہر جمعہ کو بعد از نماز جمعہ قرآن مجید کا درس بھی دیا کرتے تھے۔
جب پاکستان بنا ایک موقع پر سابق گورنر جنرل نے شیخ الاسلام علامہ عثمانی صاحب رح کی کسی تجویز پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ مولانا یہ امور مملکت ہیں علماء کو ان باتوں کی کیا خبر؟
علامہ عثمانی صاحب رح نے فرمایا کہ ہمارے اور آپ کے درمیان صرف ABC کے پردے حائل ہیں ان مصنوعی پردوں کو اٹھا کر دیکھئے تو پتہ چلے گا کہ علم کس کے پاس ہے اور جاھل کون ہے؟
علامہ عثمانی صاحب کا یہ جملہ بھی بہت معروف ہے فرمایا کرتے تھے کہ حق بات حق نیت اور حق طریقہ سے کہی جائے تو کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔
حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب رح سے بعض معاملات میں اختلاف تھا لیکن اس کے باوجود جب ایک شخص نے حضرت مدنی صاحب رح کو کانگریس کا متبع لکھا تو علامہ عثمانی صاحب رح نے اسے تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کسی بزرگ( حضرت تھانوی صاحب رح ) کی عقیدت کے جوش میں اس طرح کا غلو ہر گز پسندیدہ نہیں کہ انکے علاوہ اپنی ہی جماعت کی دوسری برگزیدہ ہستیوں میں سے کسی پر اعتماد باقی نہ رہے۔۔کسی شاعر نے ایسوں کے متعلق ہی گویا کہا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔کفر است در طریقت ما کینہ داشتن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔آئین ما است سینہ چو آئینہ داشتن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک مرتبہ علامہ عثمانی صاحب رح نے فرمایا مولوی حاکم بننا نہیں چاہتا بلکہ حاکموں کو تھوڑا مولوی بنانا چاہتے ہیں۔
پاکستان کے بنانے میں انکی بڑی محنت تھی پھر علماء کرام کو جوڑنے کے لئے انہوں نے جمعت علماء اسلام کی داغ بیل ڈالی۔اگر وہ چاہتے تو بہت دنیا بناسکتے تھے مگر ساری زندگی انہوں نے اپنا ذاتی مکان تک نہیں بنایا۔قائد اعظم محمد علی جناح کا جنازہ انہوں نے پڑھایا اور اس سے پہلے پاکستان کا سب سے پہلے جھنڈا انہوں نے لہرایا
ہمارے اکثر بزرگان دیوبند تقسیم ہند کے خلاف تھے جبکہ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رح اور شبیر احمد عثمانی صاحب رح وغیرھم تقسیم ہند کے پر جوش حامی تھے دونوں حلقوں میں اس اختلاف کا اثر واضح تھا ایک دفعہ میں شیخ الحدیث مولانا عبدالغنی صاحب رح شاگرد حضرت مدنی صاحب رح کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ رح سے سوال کیا کہ حضرت ہمارے بزرگوں کا آپس میں اختلاف کیسے تھا؟ شیخ الحدیث مولانا عبدالغنی صاحب رح نے فرمایا کہ جیسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا اختلاف تھا۔سبحان اللہ
13 دسمبر 1949ء بمطابق 21 صفر 1369ھ بروز منگل علامہ عثمانی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
الله حضرت عثمانی صاحب رح سمیت ہمارے تمام اکابر واصاغر کی کامل مغفرت فرمائے اور ہم سب کو انکے نقش قدم پر چلائے آمین
از محمد ادریس

اختلاف ہوا، لڑے،  ایک دوسرے میں سینگ پھنس  گئے،  اور پھر مر گئے ہوا کیا؟کتوں کا جھنڈ آیا اور دونوں کو مزے سے کھایا.یہی س...
04/08/2024

اختلاف ہوا، لڑے، ایک دوسرے میں سینگ پھنس گئے، اور پھر مر گئے

ہوا کیا؟

کتوں کا جھنڈ آیا اور دونوں کو مزے سے کھایا.

یہی سب کچھ اس وقت مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے!

Address

Ajman
Dubai

Telephone

+9615684054

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mufti Hashmat Ullah Haqqani page posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mufti Hashmat Ullah Haqqani page:

Share

Category