10/08/2026
عشاء کی نماز سے قبل اسلام بی بی کے شوہر نے کھانا کھایا اور نماز کی تیاری کی۔ اسلام بی بی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ ان کے سرتاج کے ساتھ آخری ملاقات ہے۔ ان کی سوچ یہی تھی کہ نماز ادا کرنے کے بعد ان کے شوہر گھر واپس آئیں گے، سکون سے سوئیں گے اور صبح روزگار کے لیے نکل جائیں گے۔لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھااسلام بی بی اپنے شوہر کے واپس آنے کی منتظر تھیں کہ اچانک گھر کے قریب مشین گن کی خوفناک تڑتڑاہٹ گونج اٹھی۔ آواز اتنی خوفناک تھی کہ ان کا دل دہل گیا۔ وہ فوراً اپنے شوہر کی خیریت کے لیے دعائیں مانگنے لگیں، مگر چند ہی لمحوں بعد ان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ان کے شوہر گلی میں خون میں لت پت پڑے تھے اور کسی نے گولیوں کا نشانہ بن کر اللہ کوپیارے ہو چکے تھے۔گھر میں کہرام مچ گیا۔ ایک خاندان کا واحد کفیل چھین لیا گیا۔ اسلام بی بی کے مطابق ان کے شوہر کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں تھی۔ بچوں کے بہتر مستقبل کی خاطر وہ اپنا گاؤں چھوڑ کر لکی مروت شہر کے مضافاتی علاقے میں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر ہوئے تھے، مگر چند لمحوں میں ان کے بچوں کے سر سے باپ کا سایہ اور خاندان سے واحد کمانے والا شخص چھین لیا گیا۔اس المناک واقعے کو کئی ماہ گزر چکے ہیں، مگر اسلام بی بی اور ان کے تین بچوں کی مشکلات کم نہیں ہوئیں۔اج یہ بیوہ ماں اپنے بچوں سمیت انتہائی غربت اور بے بسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ لکی مروت شہر کے مضافات میں لکی میانوالی روڈ پر میر قلم پل کے قریب واقع ایک انتہائی بوسیدہ گھر میں ان کا کوئی مستقل سہارا نہیں۔ شوہر کی وفات کے بعد بچوں کی تعلیم ایک خواب بن چکی ہے۔شدید گرمی کے باوجود گھر میں بجلی اور سولر کی سہولت تک موجود نہیں۔ پینے کے صاف پانی کا بھی کوئی انتظام نہیں، چنانچہ یہ مجبور خاندان پڑوسیوں سے پانی لے کر اپنی ضروریات پوری کرتا ہے۔اسلام بی بی کی آنکھوں میں اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر اور دل میں ایک ہی سوال ہے
میرے بچوں کا کیا بنے گا؟
آج یہ مجبور ماں کسی سے اپنا حق نہیں مانگ رہی، بلکہ انسانیت کے نام پر مخیر اور صاحبِ حیثیت افراد سے مدد کی اپیل کر رہی ہے۔ آپ کی معمولی سی مالی مدد اس خاندان کے لیے بہت بڑا سہارا بن سکتی ہے۔ان کا ایزی پیسہ نمبر 03149232124 بنام اسلام بی بی ہے
All Follow