AALAM E IMKAN

AALAM E IMKAN Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from AALAM E IMKAN, Real Estate, Nagbal, Mandalay.

شاعرِ اسلام، مدّاحِ رسول ﷺ حضرت مولانا قاری احسان محسن قاسمی صاحب کے لیے خصوصی دعائے شفا 🤲تمام عاشقانِ رسول ﷺ، محبانِ رس...
25/08/2026

شاعرِ اسلام، مدّاحِ رسول ﷺ حضرت مولانا قاری احسان محسن قاسمی صاحب کے لیے خصوصی دعائے شفا 🤲

تمام عاشقانِ رسول ﷺ، محبانِ رسول ﷺ، اہلِ علم و ادب اور اربابِ ذوق سے مؤدبانہ و مخلصانہ گزارش ہے کہ ہندوستان ہی نہیں بلکہ عالمِ اردو کی بزمِ سخن میں ایک ممتاز و مایۂ ناز شاعر، شاعرِ اسلام اور مدّاحِ رسول ﷺ حضرت مولانا قاری احسان محسن قاسمی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی صحت و عافیت کے لیے خصوصی دعا فرمائیں۔

حضرت قاری صاحب ان اہلِ سخن میں شمار ہوتے ہیں جن کے فکر و فن کی بالیدگی، اسلوبِ بیان کی شیرینی اور مدحتِ رسول ﷺ سے معمور کلام نے ہندوستان کی حدود سے آگے عالمِ اردو کے بے شمار دلوں میں جگہ بنائی ہے۔ ان کی مترنم آواز اور نعتیہ کلام سے سوشل میڈیا کے وسیع حلقوں سمیت اردو دنیا کا ایک بڑا طبقہ مانوس ہے؛ آج وہی محبت دعا کی صورت اختیار کرنے کی متقاضی ہے۔

سوشل میڈیا کے توسط سے ایک خبر گردش میں ہے کہ حضرت قاری صاحب حیدرآباد میں ایک بڑے نعتیہ مشاعرے میں شرکت کے لیے تشریف لائے ہوئے تھے کہ 23 اگست 2026ء، اتوار کو اچانک طبیعت ناساز ہوئی اور قلبی عارضہ لاحق ہوگیا۔ فوری طور پر طبی امداد اور علاج کا سلسلہ شروع کیا گیا، بعد ازاں ڈاکٹروں کے مشورے سے حضرت رات کی پرواز کے ذریعے اپنے وطن واپس تشریف لے گئے۔

زندگی کے بعض لمحے خبر نہیں، دعا کا تقاضا بن جاتے ہیں؛ اور آج یہی وہ لمحہ ہے کہ محبت کے سب الفاظ سمٹ کر بارگاہِ شافیِ مطلق میں ایک دعا بن جائیں۔

🤲 اَللّٰهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، أَذْهِبِ الْبَأْسَ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا۔

اے اللہ رب العزت! حضرت مولانا قاری احسان محسن قاسمی صاحب کو اپنے فضلِ خاص سے شفائے عاجلہ، کاملہ، نافعہ اور دائمی عطا فرما۔ ہر مرض و تکلیف کو رفع فرما، صحت و عافیت کا لباس عطا فرما، قلب کو سکون، بدن کو قوت اور زندگی کو خیر و برکت سے معمور فرما۔ ان کی زبان و قلم کو پھر سے مدحتِ سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی خدمت کے لیے رواں و تاباں فرما، اور انہیں صحت و سلامتی کے ساتھ محافلِ نعت میں دوبارہ جلوہ افروز فرما۔

تمام عاشقانِ رسول ﷺ، محبانِ رسول ﷺ، اہلِ علم و ادب اور حضرت کے عقیدت مندوں سے خصوصی دعائے شفا کی مخلصانہ درخواست ہے۔

🤲 آمین یا رب العالمین۔

🌹 درودِ پاک — رحمت کے دروازے کھولنے والی کنجیدرودِ پاک صرف الفاظ کا ورد نہیں، یہ محبتِ مصطفیٰ ﷺ کا اظہار، روح کی طہارت ا...
23/08/2026

🌹 درودِ پاک — رحمت کے دروازے کھولنے والی کنجی
درودِ پاک صرف الفاظ کا ورد نہیں، یہ محبتِ مصطفیٰ ﷺ کا اظہار، روح کی طہارت اور رب کی رحمت سے جڑنے کا ایک عظیم وسیلہ ہے۔ قرآنِ کریم نے جس عمل کا آغاز خود اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کی طرف منسوب کرکے کیا، اس کی عظمت کا اندازہ انسان کی عقل کہاں کر سکتی ہے؟
درود پڑھنے والا بظاہر چند لمحے زبان کو مصروف کرتا ہے، مگر حقیقت میں وہ اپنی روح کو ایک عظیم نسبت سے وابستہ کر رہا ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص آپ ﷺ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ (صحیح مسلم)
درود کی برکت صرف آخرت تک محدود نہیں؛ یہ دل کی بے چینی میں سکون، مشکلات میں امید، دعا میں برکت اور زندگی کے اندھیروں میں روشنی کا ذریعہ بنتا ہے۔ جب انسان اپنے مسائل کے بوجھ تلے دب جائے اور راستے بند دکھائی دینے لگیں، تو درود اسے یہ یقین دلاتا ہے کہ اللہ کی رحمت کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔
فلسفۂ درود یہ ہے کہ انسان جب اپنی حاجت سے پہلے محبوبِ خدا ﷺ کی بارگاہ میں سلام و درود پیش کرتا ہے تو گویا وہ اپنی ذات کے مطالبے سے بلند ہوکر محبت اور ادب کی دنیا میں داخل ہوجاتا ہے۔ اور جس دل میں ادبِ مصطفیٰ ﷺ پیدا ہوجائے، اس دل کی دنیا پہلے جیسی نہیں رہتی۔
درود پڑھتے رہیے؛ ممکن ہے جس مسئلے کا حل آپ اپنی تدبیر میں ڈھونڈ رہے ہیں، اس کا دروازہ رحمتِ الٰہی نے آپ کے درود کے بعد کھول رکھا ہو۔ 🤍
✨ وائرل ہیش ٹیگز
#درودپاک #درودشریف ٰﷺ #دعا #محمدﷺ

21/08/2026

بلندیوں پر بھی اپنی خاک یاد رکھو

انسان کی زندگی میں اصل کمال یہ نہیں کہ وہ کتنی بلندیوں تک پہنچا؛ اصل کمال یہ ہے کہ بلندیوں پر پہنچ کر بھی اسے اپنی زمین، اپنی ابتدا اور اپنی حقیقت یاد رہے۔

مقام مل جانا کوئی بڑی بات نہیں، کیونکہ مقام تو وقت بھی دیتا ہے اور حالات بھی بدل دیتے ہیں۔ کبھی انسان ایک معمولی حیثیت سے سفر شروع کرتا ہے اور گردشِ ایام اسے عزت، منصب، شہرت اور اختیار کی بلندیوں تک پہنچا دیتی ہے۔ مگر یہاں سے زندگی کا ایک اور امتحان شروع ہوتا ہے؛ ایسا امتحان جس میں سوال یہ نہیں ہوتا کہ تم کیا بن گئے؟ بلکہ سوال یہ ہوتا ہے کہ جو بن گئے ہو، اس کے بعد تم اپنے آپ کو پہچانتے بھی ہو یا نہیں؟

محمود و ایاز کی حکایت اسی حقیقت کا ایک خوب صورت استعارہ ہے۔ ایاز کو جب قربِ سلطانی، عزت اور منصب حاصل ہوا تو اس نے اپنے ماضی کو دفن نہیں کیا؛ بلکہ اسے اپنی خود شناسی کا آئینہ بنا لیا۔ اس کے پرانے کپڑے اور جوتے اس کے لیے محض ماضی کی چیزیں نہیں تھے، بلکہ ایک خاموش درس گاہ تھے؛ جہاں وہ ہر بار اپنے نفس کو یہ سبق پڑھاتا تھا کہ:

"اے ایاز! جس مقام پر آج کھڑا ہے، اسے اپنی ذات کا کمال نہ سمجھ؛ یاد رکھ کہ تو کہاں سے اٹھا تھا۔"

یہی وہ مقام ہے جہاں عروج اور غرور ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں۔

انسان جب نیچے ہوتا ہے تو عاجزی اس کی مجبوری بھی ہو سکتی ہے؛ مگر جب وہ اوپر پہنچ کر بھی جھکا رہے تو یہی عاجزی اس کے کردار کی گواہی بن جاتی ہے۔

درخت کی پہچان اس کی شاخوں سے ضرور ہوتی ہے، مگر اس کی زندگی جڑوں سے وابستہ رہتی ہے۔ شاخیں آسمان کو چھو لیں، پھول موسموں کو مسحور کر دیں، پھل لوگوں کو فائدہ پہنچائیں؛ لیکن اگر جڑیں زمین سے رشتہ توڑ دیں تو وہی بلندی اس کے زوال کا آغاز بن جاتی ہے۔

انسان بھی ایسا ہی ہے۔

دولت ملے تو فقر کی حقیقت نہ بھولو،
علم ملے تو تواضع نہ چھوڑو،
مقام ملے تو اپنے ماضی کو نہ بھولو،
اور شہرت ملے تو یہ نہ بھولو کہ ایک دن تمہارا نام بھی خاموشی کی تاریخ میں اتر جائے گا۔

قرآن انسان کو بار بار اس کی ابتدا کی طرف متوجہ کرتا ہے؛ تاکہ وہ اپنے وجود پر غرور کرنے سے پہلے اپنی تخلیق کی حقیقت کو پہچانے۔ یہی خود شناسی ہے، اور یہی معرفت کی پہلی سیڑھی بھی ہے۔

امام غزالیؒ کی فکری روایت میں بھی انسان کے لیے سب سے اہم سوال یہی ہے کہ وہ اپنے نفس کو پہچانے؛ کیونکہ جو شخص اپنی حقیقت سے غافل ہو جائے، وہ اپنی منزل کی حقیقت سے بھی دور ہو جاتا ہے۔

اس لیے کبھی کبھی زندگی کی تیز رفتاری سے نکل کر اپنے ماضی کی کسی خاموش گلی میں واپس جانا چاہیے۔ ان دنوں کو یاد کرنا چاہیے جب خواب بڑے تھے مگر وسائل چھوٹے؛ راستے دشوار تھے مگر امید زندہ تھی؛ اور شاید ہمارے پاس کچھ بھی نہیں تھا، سوائے چند مخلص دعاؤں کے۔

ان ہاتھوں کو یاد کرنا چاہیے جنہوں نے مشکل وقت میں ہمیں تھاما، ان دلوں کو یاد کرنا چاہیے جنہوں نے ہمارے لیے دعا کی، اور ان خاموش احسانوں کو یاد کرنا چاہیے جنہیں ہم کامیابی کی چمک میں اکثر بھول جاتے ہیں۔

کیونکہ احسان فراموشی صرف لوگوں کو بھولنا نہیں؛ کبھی کبھی اپنی ذات کی تاریخ سے بے وفائی بھی ہوتی ہے۔

بلندی کا حسن اسی وقت قائم رہتا ہے جب انسان کی پیشانی پر کامیابی کا نور ہو، مگر دل میں اپنی خاک کی خوشبو بھی باقی ہو۔

تاج سر پر ہو تو سر کو رب کے حضور جھکنے سے نہ روکنے دو۔
منصب ہاتھ میں ہو تو ہاتھ کو محتاج کا ہاتھ تھامنے سے نہ روکو۔
نام بلند ہو تو دل کو اپنے اصل نام—بندگی—سے غافل نہ ہونے دو۔

آخرکار انسان کی ساری مسافت چند لفظوں میں سمٹ جاتی ہے:

خاک سے آیا، خاک پر چلا، اور خاک ہی میں اتر گیا۔

پھر درمیان کی یہ تمام بلندی، یہ شہرت، یہ جاہ و جلال، یہ تخت و تاج—سب ایک عارضی داستان سے زیادہ کیا ہیں؟

اصل کامیابی شاید یہی ہے کہ جب انسان دنیا کی نگاہ میں بہت بڑا ہو جائے تو اپنے رب کے سامنے اپنے آپ کو پھر بھی ایک محتاج بندہ سمجھتا رہے۔
«جو خاک سے اٹھا ہے، اسے خاک یاد رہنے دے
بلندیوں میں بھی دل کو ذرا پاک رہنے دے
یہ تاج و تخت، یہ شہرت، یہ جاہِ دنیا
سر اپنا رب کے حضور ہمیشہ خاک رہنے دے»
کیونکہ جو اپنی بنیاد کو یاد رکھتا ہے، وہ بلندی پر بھی انسان رہتا ہے؛ اور جو اپنی اصل بھول جائے، وہ بلندی پر پہنچ کر بھی اندر سے بے گھر ہو جاتا ہے۔

#خودشناسی #عاجزی #حکمت #انسانیت #انکسار #کردار #بلندی #کامیابی #شکر #روحانیت #ادب #معرفت

18/08/2026

🌿 شکایت سے سکون تک — دل کی ایک خاموش حکمت

انسان کی زندگی میں کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں حالات نہیں، ہماری مسلسل شکایتیں بڑا کر دیتی ہیں۔ ہم گزرے ہوئے لمحوں کو بار بار یاد کرتے ہیں، لوگوں کے رویّوں کا حساب رکھتے ہیں، اور پھر انہی حسابوں کے بوجھ تلے اپنے دل کا سکون کھو دیتے ہیں۔

حالانکہ زندگی کا ایک گہرا فلسفہ یہ ہے کہ ہر چیز ہمارے اختیار میں نہیں، مگر ہر چیز کے بارے میں ہمارا رویہ ہمارے اختیار میں ہے۔

قرآن کہتا ہے:

﴿لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ﴾
"اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں ضرور زیادہ دوں گا۔"
(سورۃ ابراہیم: 7)

شکر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے دکھ سے انکار کر دے؛ شکر یہ ہے کہ وہ دکھ کے باوجود اللہ کی حکمت پر بدگمان نہ ہو۔

کبھی جو دروازہ ہمارے لیے بند ہوتا ہے، وہ محرومی نہیں ہوتا؛ شاید وہ کسی ایسی راہ سے حفاظت ہوتی ہے جس کا انجام ہماری نگاہ نہیں دیکھ سکتی۔

کبھی کسی انسان کی بے وفائی ہمیں توڑتی نہیں، ہماری توقعات کو توڑتی ہے۔
اور یہی ٹوٹنا بعض اوقات انسان کو مخلوق کی امید سے نکال کر خالق کی طرف لے جاتا ہے۔

اس لیے ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں، ہر زخم کا حساب رکھنا ضروری نہیں، اور ہر شخص کو اپنی مرضی کے مطابق بدلنا تو ممکن ہی نہیں۔

کچھ لوگوں کو معاف کر دیجیے، کچھ باتوں کو وقت کے حوالے کر دیجیے، اور کچھ دکھ اللہ کے سپرد کر دیجیے۔

کیونکہ سکون اس وقت نہیں آتا جب دنیا ہماری مرضی کے مطابق ہو جائے؛
سکون اس وقت اترتا ہے جب دل دنیا کی بے ترتیبی کے باوجود اپنے رب کی حکمت پر مطمئن ہو جائے۔

شاید اصل آزادی یہی ہے کہ انسان کہہ سکے:

"یا اللہ! جو میری سمجھ میں نہیں آیا، میں اسے بھی تیری حکمت کے سپرد کرتا ہوں؛ جو میرے پاس ہے، اس پر تیرا شکر؛ اور جو مجھ سے چھن گیا، اس پر بھی تیرا بھروسہ۔"

پھر دل میں شکایت کے لیے جگہ کم اور رضا کے لیے وسعت پیدا ہونے لگتی ہے۔

اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ
سکون حالات کا نام نہیں، اللہ کے ساتھ ایک درست نسبت کا نام ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

گلہ کیا تھا، مگر دل میں کوئی صدا بھی نہ تھی
زخم اتنے تھے کہ لب پر کوئی دعا بھی نہ تھی

جسے ہم ہجر سمجھتے رہے، وہ رازِ وصال نکلا
جو تیرے ہاتھ سے چھینا گیا، وہ تیری عطا نکلا

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

💭 اگر آپ کے دل میں بھی کوئی ایسی شکایت ہے جسے آپ مدتوں سے اٹھائے پھر رہے ہیں، تو شاید آج اسے اللہ کے سپرد کرنے کا وقت ہے۔

❤️ اگر یہ تحریر دل کو چھو جائے تو اسے آگے ضرور پہنچائیں؛ ممکن ہے کسی خاموش دل کو اس میں اپنا جواب مل جائے۔

12/08/2026

کنویں سے طور تک — اللہ کی پوشیدہ تدبیر

زندگی کے بعض راستے بظاہر ہمیں ہماری منزل سے دور لے جاتے ہیں، مگر حقیقت میں وہی راستے ہمیں اس مقام تک پہنچا رہے ہوتے ہیں جس کا ہمیں ابھی علم بھی نہیں ہوتا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر سے نکلے تو نہ منزل معلوم تھی، نہ مستقبل کا نقشہ۔ مدین کے کنویں پر وہ خود بے سروسامانی، خوف اور ضرورت کی حالت میں تھے، مگر انہوں نے اپنی پریشانی کے باوجود دو ضرورت مند لڑکیوں کی پریشانی کو محسوس کیا۔ ان کی مدد کی، پھر ایک سایے کے نیچے بیٹھ کر صرف اتنا عرض کیا:

﴿رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ﴾

یہ ایک گہرا فلسفیانہ اصول ہے:
انسان جب اپنی ذات کے حصار سے نکل کر دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے، تو وہ دراصل اپنی زندگی کو اللہ کی تدبیر کے حوالے کر دیتا ہے۔

موسیٰؑ کو معلوم نہ تھا کہ کنویں پر کی جانے والی ایک بے لوث خدمت انہیں ایک گھر، خاندان، روزگار اور ایک نئے مرحلے تک لے جائے گی۔ انہیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ برسوں بعد ایک رات وہ اپنے اہلِ خانہ کے لیے آگ لینے جائیں گے، مگر اسی سفر میں انہیں نبوت کی صدا سنائی دے گی:

﴿يَا مُوسَىٰ ۝ إِنِّي أَنَا رَبُّكَ﴾

وہ آگ لینے گئے تھے، مگر ہدایت کا چراغ لے کر لوٹے۔

یہی اللہ کی پوشیدہ تدبیر ہے۔

ہم مستقبل نہیں دیکھ سکتے، مگر اللہ دیکھتا ہے۔
ہم صرف اپنا قدم دیکھتے ہیں، وہ پوری راہ دیکھتا ہے۔
ہم واقعے کو دیکھتے ہیں، وہ واقعات کے پیچھے چھپی حکمت دیکھتا ہے۔

اس لیے نیکی کو کبھی معمولی نہ سمجھیں۔

کسی مسافر کی مدد، کسی مجبور کا سہارا، کسی بھوکے کو کھانا، کسی پریشان انسان کے لیے چند تسلی کے الفاظ—یہ سب بظاہر چھوٹے اعمال ہیں، مگر ممکن ہے اللہ کی تقدیر میں یہی چھوٹا سا عمل آپ کی زندگی کے کسی بڑے دروازے کی کنجی بن جائے۔

مخلوق کے ساتھ خیر کا معاملہ کرتے رہیں، صلہ تلاش نہ کریں۔

کیونکہ جس لمحے آپ نے نیکی کو اللہ کے سپرد کر دیا، اسی لمحے آپ نے اسے ایک ایسی ہستی کے حوالے کر دیا جو نہ کسی عمل کو بھولتی ہے، نہ کسی اخلاص کو ضائع کرتی ہے۔

حضرت موسیٰؑ کا کنویں سے طور تک کا سفر ہمیں یہی بتاتا ہے:

آپ نہیں جانتے کہ آپ کا آج کا ایک چھوٹا قدم کل آپ کو کہاں پہنچا دے گا۔

بس نیت درست رکھیں، قدم خیر کی طرف اٹھائیں، اور باقی راستہ اُس رب پر چھوڑ دیں جو کنویں سے طور تک بھی راستے بناتا ہے۔

دوسروں کے لیے آسانی بن جائیے؛
آپ کو معلوم نہیں، اللہ آپ کے لیے کہاں سے آسانی پیدا کر رہا ہے۔


ٰ

#توکل
#اخلاص
#نیکی
#انسانیت






#مدین
#طور




تمثیلِ معرفت اور بصیرتِ حقیقتصوفی کے استعارے، باطن کے اسرار اور عقلِ ظاہر کا المیہتصوف محض اذکار و اشغال کا نام نہیں؛ یہ...
08/08/2026

تمثیلِ معرفت اور بصیرتِ حقیقت

صوفی کے استعارے، باطن کے اسرار اور عقلِ ظاہر کا المیہ

تصوف محض اذکار و اشغال کا نام نہیں؛ یہ تطہیرِ باطن، تہذیبِ نفس، تصفیۂ قلب اور انکشافِ حقیقت کا وہ باطنی سفر ہے جس میں لفظ، محض لفظ نہیں رہتا اور تمثیل، محض حکایت نہیں رہتی؛ بلکہ دونوں رمزِ معرفت اور آئینۂ حقیقت بن جاتے ہیں۔

اہلِ تصوف جب کسی تمثیل کو منصۂ بیان پر لاتے تھے تو ان کا مقصود حکایت آرائی یا لذتِ سماعت نہ تھا؛ ان کے پیشِ نظر تشکیلِ شعور، تطہیرِ ادراک اور انتقالِ معنی ہوتا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ حقیقتِ واحدہ ہر ذہن پر ایک ہی اسلوب میں منکشف نہیں ہوتی؛ کسی کے لیے استدلال کا دریچہ کھلتا ہے، کسی کے لیے تمثیل کا، کسی کے لیے محبت کا، اور کسی کے لیے ایک ایسی خاموش اشاریت کا جس میں الفاظ سے زیادہ معنی اور بیان سے زیادہ برہان مضمر ہوتا ہے۔

صوفی کی قول یا سمجھانے کے لیے کوئی تمثیل دراصل تجربۂ باطن کی ترجمان ہوتی ہے۔ وہ ایک واقعۂ محسوس میں ایک حقیقتِ معقول، ایک حکایتِ محدود میں ایک معنیِ نامحدود، اور ایک معمولی منظر میں ایک عالمِ رمز و اشارت متشکل کر دیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حکایت، ہدایت بن جاتی ہے؛ استعارہ، معرفت بن جاتا ہے؛ اور لفظ، وجدان کی دہلیز پر دستک دینے لگتا ہے۔

اہلِ معرفت کو اس امر کا کامل ادراک تھا کہ انسان صرف عقل سے نہیں سمجھتا؛ وہ ذوق، وجدان، تجربۂ باطن اور کیفیتِ قلب سے بھی حقیقت کو دریافت کرتا ہے۔ چنانچہ ان کی تعلیم میں استدلال کے ساتھ تمثیل، برہان کے ساتھ عرفان، اور علم کے ساتھ حال کی آمیزش ملتی ہے۔ ان کے نزدیک تعلیم کا کمال یہ نہ تھا کہ سامع کو معلومات کا انبار دے دیا جائے؛ کمال یہ تھا کہ ایک ایسا فکری انقلاب برپا ہو جس کے بعد آدمی وہی حقیقت نئے شعور، نئے زاویۂ نظر اور نئی بصیرت سے دیکھنے لگے۔

لیکن عصرِ حاضر کا المیہ یہ ہے کہ علمِ ظاہر کی کثرت کو بصیرتِ باطن کا مترادف سمجھ لیا گیا ہے۔ اصطلاحات کی فراوانی کو تحقیق، حوالہ جات کی کثرت کو تعمق، اور معلومات کے انبار کو معرفت تصور کرنے کا رجحان عام ہے۔ حالاں کہ علم، اگر شعور میں تحلیل نہ ہو؛ تحقیق، اگر حقیقت تک نہ پہنچائے؛ اور عبارت، اگر بصیرت میں تبدیل نہ ہو—تو وہ محض حافظۂ الفاظ کی آرائش ہے، کشفِ معنی نہیں۔

اسی لیے بعض اوقات متون کے شناسا، معانی کے اجنبی ثابت ہوتے ہیں؛ کتابوں کے محقق، کیفیتوں کے ناواقف؛ اور اصطلاحات کے ماہر، اشارات کے نامحرم۔
صوفیا کے کلام کی تفہیم کے لیے صرف علمِ عبارت کافی نہیں؛ علمِ اشارت بھی درکار ہے۔ صرف الفاظ کا مفہوم جان لینا کافی نہیں؛ ان کے پسِ پشت کارفرما روحانی تجربے، باطنی واردات اور معرفتی تناظر کو محسوس کرنا بھی لازم ہے۔ کیونکہ جس حقیقت کو ایک صاحبِ حال نے زیست کیا ہو، اسے محض صاحبِ قال کے پیمانے سے ناپنا ہمیشہ ممکن نہیں۔
یہی سبب ہے کہ ایک مردِ درویش کی مختصر حکایت کبھی کبھی صدہا صفحات کی علمی بحث پر سبقت لے جاتی ہے؛ اس لیے نہیں کہ حکایت، تحقیق سے برتر ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ معنی کو ذہن تک پہنچانے سے پہلے دل تک پہنچا دیتی ہے۔
اور شاید یہی وہ نکتۂ اسرار ہے جہاں مولانا جلال الدین رومیؒ کی تمثیلات، قصۂ پارینہ نہیں رہتیں؛ وہ آئینۂ انسان، میزانِ نفس، تفسیرِ باطن اور جستجوئے حق کی علامت بن جاتی ہیں۔
الفاظ سب کے پاس ہوتے ہیں؛ مگر ہر لفظ کے پیچھے بصیرت نہیں ہوتی۔
علم بہتوں کے پاس ہوتا ہے؛ مگر ہر علم، معرفت نہیں بنتا۔
اور حکایت بہت سے لوگ سناتے ہیں؛ مگر ہر حکایت، دل کو منزل تک نہیں پہنچاتی۔
یہی فرق ہے علمِ منقول اور علمِ مشہود میں،
یہی فاصلہ ہے صاحبِ قال اور صاحبِ حال میں،
اور یہی وہ پردہ ہے جس کے پار صوفی کی تمثیل،اور فرمان حقیقت کا چہرہ دکھاتی ہے۔

06/08/2026

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
انسان کی فطرت میں کامیابی کی جستجو ودیعت کی گئی ہے۔ وہ زندگی کے ہر میدان میں بہتری، رہنمائی اور کمال کا خواہاں رہتا ہے۔ صحت کے لیے طبیب کی طرف رجوع کرتا ہے، علم کے لیے استاد کا دامن تھامتا ہے، اور دنیا کے ہر فن میں ماہرین کی رہنمائی کو کامیابی کی کنجی سمجھتا ہے۔
لیکن جب سوال ہو زندگی کو سنوارنے، دل کو سکون دینے، کردار کو بلند کرنے اور دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کرنے کا تو پھر اس ہستی سے بڑھ کر کون رہنما ہو سکتا ہے جسے خود ربِ کائنات نے "رحمةً للعالمين" بنا کر بھیجا۔
ہمارے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ»
(جامع الترمذی: 2317)

ترجمہ:
"آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ ان چیزوں کو چھوڑ دے جو اس سے متعلق نہیں۔"

یہ حدیثِ مبارکہ زندگی کا ایک عظیم فلسفہ بیان کرتی ہے۔ کامیاب انسان وہ نہیں جو ہر راستے پر چلنے لگے، ہر بحث میں الجھ جائے اور ہر آواز کے پیچھے دوڑ پڑے، بلکہ کامیاب انسان وہ ہے جو اپنے وقت، اپنی صلاحیت اور اپنی توانائی کو ان کاموں کے لیے محفوظ رکھتا ہے جو اسے مقصد، ترقی اور کامیابی کی منزل تک پہنچائیں۔

فضول گفتگو، بے مقصد مشغلے اور غیر ضروری معاملات انسان کی زندگی کے قیمتی لمحات کو ضائع کر دیتے ہیں، جبکہ خاموشی، حکمت اور مقصدیت انسان کے کردار کو بلند کر دیتی ہے۔

یاد رکھیں!
جو شخص اپنی توجہ کی حفاظت کرنا سیکھ لیتا ہے، وہ اپنی زندگی کی حفاظت کرنا سیکھ لیتا ہے۔
کیونکہ وقت زندگی ہے، اور زندگی کا بہترین استعمال ہی حقیقی کامیابی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے، اپنی زندگی کو مقصد اور حکمت کے ساتھ گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔






06/08/2026
02/08/2026

🌿 منزل کی پہچان، خواہشات کی نفی اور مسافرِ دنیا کا فلسفہ 🌿

زندگی کی سب سے بڑی دانائی دولت، شہرت یا اقتدار حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اس حقیقت کو سمجھ لینے میں ہے کہ انسان اس دنیا میں رہنے کے لیے نہیں، بلکہ گزرنے کے لیے آیا ہے۔ جو اس حقیقت کو پا لیتا ہے، وہ دنیا کو اپنا گھر نہیں بلکہ ایک عارضی قیام گاہ سمجھتا ہے، اور جو اس حقیقت سے غافل رہتا ہے، وہ خواہشات کے ایسے صحرا میں بھٹکتا ہے جہاں پیاس کبھی ختم نہیں ہوتی۔

ضرورتیں ہمیشہ محدود ہوتی ہیں، مگر خواہشات کی کوئی حد، کوئی کنارہ اور کوئی انتہا نہیں ہوتی۔ ایک فقیر اپنی چند ضرورتیں پوری کرکے بھی مطمئن ہو سکتا ہے، لیکن اگر خواہشات کو زندگی کا محور بنا لیا جائے تو پوری دنیا کی دولت بھی انسان کے اندر کی خالی جگہ کو نہیں بھر سکتی۔ اسی لیے سکون دولت کی کثرت سے نہیں بلکہ دل کی قناعت سے پیدا ہوتا ہے۔

رسولِ اکرم ﷺ نے دنیا میں رہنے کا ایسا جامع اصول عطا فرمایا جو ہر دور کے انسان کے لیے مشعلِ راہ ہے:

«كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ»
(صحیح البخاری)

ترجمہ:
"دنیا میں ایسے رہو جیسے تم ایک اجنبی ہو یا راستہ چلنے والے مسافر۔"

اور ایک اور عظیم ارشادِ نبوی ﷺ ہے:

«ازْهَدْ فِي الدُّنْيَا يُحِبَّكَ اللّٰهُ، وَازْهَدْ فِيمَا عِنْدَ النَّاسِ يُحِبَّكَ النَّاسُ»
(سنن ابن ماجہ)

ترجمہ:
"دنیا سے بے رغبتی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا، اور لوگوں کے مال سے بے نیاز رہو، لوگ تم سے محبت کریں گے۔"

مسافر راستے کی خوبصورتی سے لطف تو لیتا ہے، مگر اسے اپنی منزل پر ترجیح نہیں دیتا۔ وہ جانتا ہے کہ سایہ بھی عارضی ہے اور دھوپ بھی، آسانی بھی چند لمحوں کی ہے اور آزمائش بھی۔ اس لیے وہ اتنا ہی سامان اٹھاتا ہے جتنا منزل تک پہنچنے کے لیے ضروری ہو۔ یہی زندگی کا سب سے بڑا فلسفہ ہے کہ انسان دنیا کو دل میں نہیں بلکہ ہاتھ میں رکھے، کیونکہ ہاتھ کا مال چھن جائے تو نقصان ہوتا ہے، مگر دل میں بس جانے والی دنیا آخرت کا سرمایہ بھی چھین لیتی ہے۔

مسافر ہوں، سو زادِ سفر اتنا ہی رکھتا ہوں
کہ منزل یاد رہ جائے، نہ دنیا بوجھ بن جائے

ضرورتوں کے لیے دنیا بہت وسیع ہے، لیکن
خواہشوں کے لیے یہ عمر بھی کم پڑ جاتی ہے
جو شخص منزلِ حقیقی کو سامنے رکھتا ہے
اسی کی زندگی سکون کی راہ پا جاتی ہے

اللّٰہم ہمیں قناعت، بصیرت، حسنِ عمل اور آخرت کی تیاری کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔

29/07/2026

سچائی کی طاقت: انسان کے کردار، ضمیر اور روح کی تعمیر کا راستہ

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔

انسان کی پوری زندگی دراصل ایک امتحان ہے، اور اس امتحان میں سب سے بڑا سرمایہ اس کا کردار ہے۔ مال، شہرت اور طاقت وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں، لیکن سچائی وہ نور ہے جو انسان کے نام کو زمانوں تک زندہ رکھتا ہے۔

معزز حاضرینِ مجلس!

انسان کے بہت سے گناہ ہیں، لیکن ایک ایسی کمزوری ہے جو آہستہ آہستہ انسان کے دل، کردار اور معاشرے کو کھوکھلا کر دیتی ہے، اور وہ ہے جھوٹ۔

رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:

"تم سچائی کو لازم پکڑو، کیونکہ سچ نیکی کی طرف لے جاتا ہے، اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔ اور جھوٹ سے بچو، کیونکہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے، اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔"
(صحیح بخاری، حدیث: 6094)

یہ صرف ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ انسانی زندگی کا ایک مکمل فلسفہ ہے۔ سچ انسان کے اندر اعتماد، سکون اور عزت پیدا کرتا ہے، جبکہ جھوٹ انسان کو اندر سے کمزور کرتا جاتا ہے۔ جھوٹا شخص دوسروں کو دھوکا دینے سے پہلے خود اپنے ضمیر سے دور ہو جاتا ہے۔

علامہ اقبال نے کہا:

؎ سچ کہہ دوں تو برا لگتا ہے زمانے کو بہت
جھوٹ کہہ دوں تو ضمیر اپنا خفا ہوتا ہے

سچائی کا راستہ کبھی کبھی مشکل ضرور ہوتا ہے، مگر یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو باطن کا سکون عطا کرتا ہے۔

؎ سچ کی راہوں میں اگر خار بہت ہوتے ہیں
اسی رستے پہ چراغِ دلِ بشر ہوتے ہیں

اہلِ علم نے ایک سبق آموز حکایت بیان کی ہے کہ ایک شخص نے صرف جھوٹ چھوڑنے کا عہد کیا، تو رفتہ رفتہ وہ کئی برائیوں سے بچ گیا۔ اگرچہ یہ واقعہ حدیثِ نبوی ﷺ کے طور پر ثابت نہیں، لیکن اس کا اخلاقی پیغام قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ہے کہ سچائی انسان کو پاکیزگی کی طرف لے جاتی ہے۔

آئیے! آج ہم اپنے دلوں میں یہ عہد کریں کہ ہماری زبان سچ بولے گی، ہمارے معاملات دیانت پر قائم ہوں گے، ہماری تجارت، گواہی، دوستی اور رشتے سچائی کے نور سے روشن ہوں گے۔

کیونکہ:

جھوٹ وقتی فائدہ دے سکتا ہے،
مگر سچ انسان کو دائمی عزت عطا کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سچ بولنے، سچ کو اپنانے اور سچائی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔




Address

Nagbal
Mandalay
191201

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AALAM E IMKAN posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category