12/09/2026
بات کچھ مہینے پرانی ہے۔
میں ڈیوٹی سے واپس آ رہا تھا۔ رات کے ٹھیک *2 بج رہے تھے*۔
راستہ شارٹ کرنے کے لیے میں قبرستان والی گلی سے گزرا۔
آدھی رات، سناٹا، اور دور کتوں کی آواز...
میں نے جیسے ہی گیٹ کراس کیا، اندر سے آواز آئی۔
ہلکی سی... کانپتی ہوئی آواز:
*"یا اللہ... مجھے معاف کر دے..."*
میں رک گیا۔
دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ سوچا کوئی بھکاری ہوگا۔
میں نے 2-3 قدم اندر رکھے۔
پھر دوبارہ آواز آئی، اس بار صاف تھی:
*"نماز مت چھوڑنا... خدارا نماز مت چھوڑنا..."*
یار قسم سے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔
موبائل کی ٹارچ جلائی۔ چاروں طرف اندھیرا۔ کوئی بھی نہیں تھا۔
بس ایک پرانی ٹوٹی ہوئی قبر تھی۔ اور آواز وہیں سے آ رہی تھی۔
میں ڈر کے مارے وہیں بیٹھ گیا۔ سوچا فجر تک نہیں ہلنا۔
صبح ہوتے ہی میں سیدھا امام مسجد کے پاس گیا۔ روتے ہوئے ساری بات بتائی۔
امام صاحب میرے ساتھ گئے۔ اسی قبر کے پاس کھڑے ہو کر دیر تک چپ رہے۔
پھر بولے:
*"بیٹا... یہ فلاں کا بیٹا تھا۔ بہت اچھا تھا۔ لوگوں کی مدد کرتا تھا۔ بس ایک کمی تھی... نماز نہیں پڑھتا تھا، اور ٹال مٹول کرتا تھا۔"*
یہ سن کر میری آنکھیں بھر آئیں۔
میرے دل سے خود بخود یہ الفاظ نکلے
*"یا اللہ مجھے معاف کر دے۔ مجھے غافل نہ بنانا۔"*
اس دن کے بعد سے، الحمدللہ، میری ایک نماز بھی قضا نہیں ہوئی۔
اور آج بھی جب گھڑی میں *2 بجتے ہیں*...
کانوں میں وہی آواز گونجتی ہے:
*"نماز مت چھوڑنا..."*
# # # *سبق:*
پتہ نہیں ہماری مہلت کب ختم ہو جائے۔
*نماز کو "بعد میں" مت کرنا۔ کیونکہ "بعد میں" شاید آئے ہی نہ