27/07/2025
* *
ایک عربی امام صاحب کو عربی گورنر نےکہا کہ بس ایک آیت ھی پڑھا کرو کیونکہ امور سلطنت کی وجہ سے طویل نماز ہمارے لیئے گراں ہوتی ہے۔
اس حکم کے فوری بعد، مغرب کی نماز کا وقت ہوا، نماز میں امام نے پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد آیت پڑھی،،
وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا ( الاحزاب-67)
ترجمہ: "اور وہ کہیں گے کہ اے ھمارے رب ھم نے بات مانی اپنے سرداروں کی اور بڑوں کی تو انہوں نے ھمیں رستے سے بھٹکا دیا" -
اور اگلی رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورہ الاحزاب کی اگلی آیت پڑھی،،
ربنا آتهم ضعفين من العذاب والعنهم لعناً كبيرا( الاحزاب- 68 )
ترجمہ: "اے ھمارے رب تو دے ان کو عذاب دگنا اور لعنت کر ان پر بڑی لعنت" -
نماز ختم ھوئی تو گورنر نے کہا کہ امام صاحب جو جی چاھے پڑھو اور جتنا جی چاھے پڑھو بس ان دو آیتوں کے علاوہ ...
*خلاصہ: امام مسجد کے ساتھ مذاق میں بھی نہ چھیڑا کرو*