Chakwal Group

Call Contact the business

Chakwal Group "Hamesha meethay alfaz bolo,taa k kabhi wapis leny parren to karrvay na lagein" "KEEP SMILING"

29/08/2026

*نیپال؛ بپھرا ہوا سیلاب سیکڑوں سیاحوں کو بہا لے گیا، ہلاکتیں 150 ہوگئیں، 300 لاپتا؛ ہولناک ویڈیو*
لاپتا سیاحوں میں 100 سے زائد بھارتی اور 12 برطانوی شہری بھی شامل ہیں

نیپال اور تبت کی سرحد پر اچانک آنے والے شدید سیلاب اور مٹی کے تودے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔

نیپال کے ٹورازم بورڈ کے مطابق ہلاکتیں 150 ہوگئیں جبکہ سیکڑوں سیاح لاپتا ہیں جن میں 100 سے زائد بھارتی شہری اور 12 برطانوی شہری بھی شامل ہیں۔

تبت سے سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں پانی اور کیچڑ کا ایک بڑا ریلا سرحدی گزرگاہ کی عمارتوں سے ٹکراتا دکھائی دیتا ہے۔

نیپال سے آنے والی تصاویر میں بھی سیلابی ریلے کے اچانک آنے پر لوگوں کو جان بچانے کے لیے محفوظ مقامات کی جانب بھاگتے دیکھا جا سکتا ہے۔

نیپال کے وزیر خارجہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس تباہ کن سیلاب کے پیچھے ممکنہ طور پر زلزلہ اور اس کے نتیجے میں برفانی تودہ گرنے کا واقعہ ہو سکتا ہے۔

تاہم حادثے کی حتمی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

دوسری جانب تبت میں صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ نے واقعے پر ذاتی طور پر ہدایات جاری کی ہیں۔

چینی حکام نے امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔

نیپال میں اس قدرتی آفت کو 2015 کے تباہ کن زلزلے کے بعد ملک کی سب سے بڑی تباہی قرار دیا جا رہا ہے۔ 2015 کے زلزلے میں تقریباً 9 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حکام کے مطابق سب سے بڑا چیلنج دشوار گزار پہاڑی علاقے، خراب موسم اور سیلاب کے باعث متاثرہ مقامات تک رسائی ہے۔

ریسکیو ٹیمیں لاپتا سیاحوں سمیت دیگر متاثرین کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

I got scammed by Umair Ansar He scammed me 10K pkr for Chatgpt account, beware from himFacebook Profile https://www.face...
25/08/2026

I got scammed by Umair Ansar

He scammed me 10K pkr for Chatgpt account, beware from him

Facebook Profile https://www.facebook.com/itsmehry

Phone: 03330930144

Bank details:
UMAIR ANSAR
Askari Bank Limited
Account Number: 00793230000286

25/08/2026

بچوں کے سکول گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد دوبارہ کھل گئے۔
حکومت پنجاب کی طرف سے بچوں کو سکول لیکر جانے والی سوزوکیوں، کیری ڈبوں اور رکشوں کے لئے نئی اصطلاحات۔
کسی سوزوکی یا کیری میں گیس سلنڈر نصب نہیں کیا جائے گا۔
بچوں کے بیگ سوزوکیوں، رکشوں اور کیری ڈبوں کے باھر نہیں لٹکائے جائیں گے۔
رکشے والے آگے اپنی سیٹ پر ساتھ کوئی بچہ نہیں بٹھائیں گے۔
سوزوکی والے اپنی گاڑیوں کے باھر سٹوڈنٹس کھڑے نہیں کریں اور نہ کوئی بچہ لٹک کر جائے گا۔
ان تمام گاڑیوں میں اوور لوڈنگ کی سختی سے ممانت ھو گی۔

25/08/2026
💔 ایک بھیگا ہوا خط۔۔۔ جس میں دعائیں آج بھی زندہ ہیں!سوشل میڈیا کے مطابق کچھ دن پہلے مغرب کے وقت خان پور کٹورا میں پیش آن...
25/08/2026

💔 ایک بھیگا ہوا خط۔۔۔ جس میں دعائیں آج بھی زندہ ہیں!
سوشل میڈیا کے مطابق کچھ دن پہلے مغرب کے وقت خان پور کٹورا میں پیش آنے والے خوفناک ٹریفک حادثے نے ایک پورے خاندان کی دنیا اجاڑ دی۔
ایک تیز رفتار کار نے ایک خاندان کو اُس وقت کچل دیا جب وہ دین پور شریف سے عقیدت رکھتے ہوئے اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کے لیے دعائیں کروانے جا رہے تھے۔
حادثے میں 19 سالہ علیشہ بی بی جاں بحق ہوگئیں، جبکہ خاندان کے دیگر افراد شدید زخمی ہوئے اور بعض کو زندگی بھر کی معذوری کا سامنا کرنا پڑا۔
💔 لیکن اس حادثے سے بھی زیادہ دل چیر دینے والی چیز وہ بھیگا ہوا خط ہے جو علیشہ بی بی کے پاس سے ملا۔
علیشہ بی بی نے یہ خط اپنے پیر و مرشد صاحب دین پوری کی خدمت میں پیش کرنے کے لیے لکھا تھا۔
حادثے کے دوران خط نہر کے پانی میں بھیگ گیا۔
کاغذ کے کئی حصے پھٹ گئے۔۔۔
کچھ الفاظ پانی میں بہہ گئے۔۔۔
کچھ جملے ہمیشہ کے لیے مٹ گئے۔۔۔
لیکن جو الفاظ باقی رہ گئے، وہ ایک ایسی معصوم بیٹی کے دل کی داستان سناتے ہیں جو اپنے لیے کم اور اپنے گھر والوں کے لیے زیادہ فکرمند تھی۔
وہ اپنے حافظِ قرآن بھائی کے مستقل نمازی بننے کی دعا کرتی ہے۔۔۔
اپنے چھوٹے بھائیوں کے حافظِ قرآن اور عالمِ دین بننے کی التجا کرتی ہے۔۔۔
اپنے والد کے پانچ وقت کا نمازی بننے کی آرزو کرتی ہے۔۔۔
گھر کے اخراجات، چائے کی چھوٹی سی دکان، جانوروں، دودھ والے کے قرض اور حلال روزی کے لیے دعا مانگتی ہے۔۔۔
ذرا سوچیں۔۔۔
19 سال کی ایک بچی اپنے خاندان کی اتنی فکرمند تھی! 😢
یہ صرف ایک خط نہیں تھا۔۔۔
یہ ایک بیٹی کے دل میں اپنے پورے گھر کی فکر تھی۔
یہ ایک خاندان کی پریشانیوں کی داستان تھی۔
یہ ایک معصوم دل کی دعاؤں کی فہرست تھی۔
اور پھر۔۔۔
وہی بچی ایک خوفناک حادثے میں ہم سے جدا ہوگئی۔ 💔
علیشہ بی بی حادثے کے بعد نہر میں جا گریں۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے لباس میں ہوا بھرنے کے باعث وہ پانی پر تیرتی رہیں اور ریسکیو اہلکاروں نے انہیں جائے حادثہ سے تقریباً ایک کلومیٹر دور نہر سے نکالا۔
کاغذ بھیگ گیا۔۔۔ الفاظ مٹ گئے۔۔۔ مگر دعائیں نہیں مٹیں۔
⚠️ لیکن اس حادثے کے بعد کئی سنگین سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ڈرائیور کو موقع پر پکڑا گیا تھا، مگر ایف آئی آر میں اسے رش کا فائدہ اٹھا کر فرار ہونے والا کیوں ظاہر کیا گیا؟
یہ بھی الزام سامنے آیا ہے کہ کم عمر ڈرائیور کے والد نے مبینہ طور پر اس کی جگہ ایک عمر رسیدہ ڈرائیور کو پولیس کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی۔
یہ تمام الزامات اپنی جگہ تحقیقات کے متقاضی ہیں۔
اگر یہ الزامات درست ہیں تو سوال صرف ایک حادثے کا نہیں، بلکہ قانون کی عمل داری اور بااثر افراد کے اثر و رسوخ کا بھی ہے۔
ایک 19 سالہ بیٹی چلی گئی۔۔۔
کئی افراد شدید زخمی اور معذور ہوگئے۔۔۔
ایک خاندان ہمیشہ کے لیے غم میں ڈوب گیا۔۔۔
اب ضرورت ہے کہ معاملے کی شفاف، غیر جانب دار اور مکمل تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی نے قانون توڑا ہے تو اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
علیشہ بی بی کا وہ بھیگا ہوا خط آج ہم سب سے ایک سوال پوچھ رہا ہے:
"کیا اس معصوم بیٹی کی دعاؤں کے بدلے اس کے خاندان کو انصاف بھی ملے گا؟" 💔
پانی کاغذ کو مٹا سکتا ہے۔۔۔
مگر ایک مظلوم خاندان کی فریاد کو نہیں۔
اللّٰہ تعالیٰ علیشہ بی بی کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، زخمیوں کو صحتِ کاملہ دے اور سوگوار خاندان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔ 🤲😢

اگر آپ کی عزت پر کوئی ہاتھ ڈالے تو آپ کیا کریں گے ؟؟؟سرحد یونیورسٹی میں ہونے والے وقوعہ کی بیک گراؤنڈ ۔۔اس میں کسی بھائی...
25/08/2026

اگر آپ کی عزت پر کوئی ہاتھ ڈالے تو آپ کیا کریں گے ؟؟؟
سرحد یونیورسٹی میں ہونے والے وقوعہ کی بیک گراؤنڈ ۔۔اس میں کسی بھائی کو شک ھے تو تھانہ ہمک سے کنفرم کر لیں ۔
اصل واقعہ ڈاکٹر جدون صاحب کی مبینہ ہراسمنٹ کا ھے یہ بات طے اور ثابت شدہ ھے بصورت معافی نامی ڈاکٹر جدون کہ اس نے ڈاکٹر انا ان کا نام آئنہ نہیں انا ہے کے ساتھ گالم گلوچ بدتمیزی دو دن پہلے کی ۔۔15 ھوئی پولیس میں معاملہ گیا مگر یونیورسٹی کے وی ڈی کی درخواست پر کہ یونیورسٹی کی بدنامی ھے ڈاکٹر انا کی منت سماجت کی گئ کہ درخواست واپس لیں انھوں نے درخواست واپس لینے سے انکار کر دیا لیکن مزید کارروائی نہ کرنے پر راضی ھوئیں کہ ڈاکٹر جدون تحریری معافی مانگیں ۔۔۔جو انھوں نے مانگی۔۔۔اس دن پھر طلبا فیسوں میں اضافے پر احتجاج کر رہے تھے کہ ڈاکٹر جدون اور اس کے شرپسند طلبا نے یہ احتجاج ھائی جیک کیا ڈاکٹر انا جو سٹوڈنٹس افیئر کی انچارج ہیں وہ مذاکرات کے لئے آئیں مگر طلبا بپھر گئے اور گالم گلوچ کی ڈاکٹر جدون کی زیر قیادت ۔۔تب ڈاکٹر انا نے بہن سے بات کی اس نے انکے شوہر کو بتایا ۔۔۔باقی صورت حال سب کے سامنے ہے ۔
تصویر میں دائرے میں شخص ڈاکٹر جدون ھے جو تاحال موقع سے غائب ھے اور مفرور ھے ۔۔ایسے حالات میں یونیورسٹی کی سیکورٹی پر سنگین قسم کے سوالات اٹھتے ہیں کہ
ایک نوکری سے برخاست بندہ ہجوم کے ساتھ ھنگامہ آرائی کرتا رہا ۔۔لیکن انتظامیہ نے پولیس کو انفارم نہ کیا ۔
پولیس کو اس دن بھی 15 کال ڈاکٹر انا نے کی
۔جب معاملات اتنے سنگین تھے تو اعلیٰ پولیس افسران کیوں نہ موقع پر پہنچے ۔۔حتی کہ متعلقہ تھانہ کے ایس ایچ او نے بھی آنے کی زحمت نہ کی کہ ایسے ہجوم ھنگامے میں اوپر کی آمدن نہیں ھوتی ۔۔
نہ ایس ایچ او نہ ڈی ایس پی نہ خفیہ ایجنسی کا کوئی اہلکار۔
کیا برلب سڑک جی روڈ ٹی چوک پر ہونے والے اس دو دن سے ہونے والے مظاہرے کی خفیہ اداروں نے کوئی رپورٹ دی اگر نہیں تو اس نااہلی پر سخت ترین ایکشن لیا جائے ۔۔
یہ تھانہ میں موجود ڈاکٹر انا کی درخواست ڈاکٹر کا جواب اور پولیس رپورٹ کی کاپیاں ہیں ۔۔۔پڑھ لیں پرکھ لیں اور دیکھ لیں کہ قصور جس کا ھے ۔۔

سرحد یونیورسٹی حقائق ثبوت کے ساتھ پہلی بار الجھی ہوئی گھتی سلجھ گئی سرحد یونیورسٹی اصل لڑائی کدھر سے شروع ہوئی مکمل کہان...
25/08/2026

سرحد یونیورسٹی حقائق ثبوت کے ساتھ پہلی بار
الجھی ہوئی گھتی سلجھ گئی سرحد یونیورسٹی اصل لڑائی کدھر سے شروع ہوئی مکمل کہانی
سرحد یونیورسٹی واقعہ ؛ EXCLUSIVE اہم ترین حقائق ؛

لیفٹننٹ کرنل اسفند یار ولی اور طلبہ کے درمیان کیا ہؤا کیوں ہؤا ، معاملہ کہاں سے شروع ہؤا ، سب اصل حقائق تمام ثبوتوں کے ساتھ ۔

پہلی تصویر ڈاکٹر جدون خان کی، سابقہ ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ HoD ۔ ۔ ۔ جو کرنل اسفند پر حملہ آور ہے ۔

اب کہانی سنئیے ۔ ۔ ۔

ڈاکٹر جدون کے خلاف ایک طویل عرصے سے خواتین طلبا اور ٹیچرز کیطرف سے شکایات تھیں ہراسانی کی ، کہ جدون خان ان کو غیر ضروری طور پر دفتر بلاتے ہیں ، غیرمناسب باتیں کرتے ہیں اور دیگر طریقوں سے ہراساں کرتے ہیں۔ ڈاکٹر اناء عطاء جو کہ کرنل اسفند کی اہلیہ ہیں وہ اسی ڈیپارٹمنٹ میں سٹوڈنٹ افئیرز کی انچارج تھیں۔ جب سٹوڈنٹ لڑکیوں نے ہراسانی کی شکایات کیں تو ڈاکٹر اناء نے ڈاکٹر جدون کیخلاف یونیورسٹی انتظامیہ/ وائس پرنسپل کو شکایت کی۔ تحقیقات ہوئیں ڈاکٹر جدون خان مجرم پائے گئے اور ان کو عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔ ڈاکٹر اناء کو جدون خان کی جگہ HoD بنا دیا گیا۔ ڈاکٹر جدون خان نے اس معاملے کا کینہ دل میں رکھ لیا اور اس کے بعد ڈاکٹر اناء کو ان کے فون پر دھمکی آمیز میسیجز بھیجنے شروع کر دیے۔ معاملہ صرف یہیں تک نہیں رکا، گزشتہ جمعے 21 اگست 2026 کو ڈاکٹر جدون خان ، ڈاکٹر اناء کے آفس میں زبردستی آ دھمکے، انہیں گالیاں دیں، دھمکایا حتیٰ کہ انہیں مارنے کیلئے آگے بڑھے۔ اس صورتِ حال پر ڈاکٹر اناء نے فوراً پولیس کو 15 پر رابطہ کیا اور اس کے فوراً بعد تھانہ ھمک چلی گئیں ، ڈاکٹر جدون کے خلاف کاروائی کیلئے۔ اب میری ٹویٹ کیساتھ لگی وہ درخواست دیکھئے جو ڈاکٹر اناء نے جدون خان کے خلاف گزشتہ جمعے کو تھانے میں دی FIR کیلئے۔ اسی دوران اس معاملے کی خبر وائس پرنسپل کو ہوئی وہ فوراً تھانے پہنچ گئے اور ڈاکٹر اناء سے درخواست کی کہ وہ پولیس کاروائی نہ کروائیں معاملے کو یہیں رفع دفع کریں کیونکہ یونیورسٹی کی عزت کا سوال ہے۔ وائس پرنسپل نے ڈاکٹر اناء کو یقین دہانی کروائی کہ وہ خود اس معاملے کو ہینڈل کریں گے اور جدون خان آئندہ انہیں تنگ نہیں کرے گا۔ پہلے تو ڈاکٹر اناء نہیں مانیں۔ انہوں نے بتایا کہ جدون خان انہیں دھمکی آمیز میسیجز بھی بھیجتا رہا ہے اور آج یہاں تک اتر آیا ہے لہٰذا وہ پولیس کاروائی لازما کروائیں گی۔ وائس پرنسپل کی کافی منت سماجت پر ڈاکٹر اناء صرف اتنا مانیں کہ ٹھیک ہے پولیس کاروائی نہ ہو گی مگر پولیس کے پاس میری درخواست موجود رہے گی ریکارڈ میں تاکہ اگر دوبارہ جدون خان کوئی ایسی حرکت کرے تو پولیس کے پاس ریکارڈ موجود ہو۔ جدون خان نے پولیس کے سامنے ڈاکٹر اناء سے معافی مانگی اور تحریری معافی نامہ لکھ کر دیا جو پولیس ریکارڈ کا حصہ ہے۔ میری ٹویٹ میں تصویر دیکھئے جدون خان کے معافی نامے کی۔ اس تمام واقعے کے بعد ڈاکٹر اناء جب گھر گئیں تب انہوں نے اپنے شوہر کرنل اسفندیارولی کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ اس سے پہلے انہوں نے شوہر سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے کرنل اسفند کو کہا کہ معاملہ وائس پرنسپل کے کہنے پر ختم ہو گیا ہے۔ کرنل اسفند اہلیہ کے یہ سب بتانے پر مطمئن ہو گئے کہ ٹھیک ہے رفع دفع ہو گیا۔ اس قسم کے افسوسناک واقعات تعلیمی اداروں میں ہوتے رہتے ہیں جو انتہائی افسوسناک ہے۔ خیر اب آئیے کہ 24 اگست سوموار کے روز کیا ہؤا۔ یونیورسٹی میں طالبات اپنے پیپرز کے حوالے سے ایک الگ احتجاج کر رہیں تھیں۔ ڈاکٹر اناء چونکہ ہیڈ آف سٹوڈنٹ افیئرز ہیں وہ ان طالبات کے پاس معاملے کے حل کیلئے گئیں۔ اسی دوران جدون خان لڑکوں کا جُھنڈ لے کر احتجاج کروانے چلے آئے، جس کی مکمل پلاننگ کی گئی تھی، اور احتجاج کا مقصد یہ تھا کہ جدون خان کو بحال کیا جائے۔ اہم سوال کہ جدون خان خود اس احتجاج میں کیوں موجود تھا ؟؟؟ جدون خان کرنل اسفند پر حملہ کرتے ہوئے نظر آ رہا ہے!!! جدون خان نے جان بوجھ کر ڈاکٹر اناء کو دیکھ کر ان کیخلاف مغلظات بکنا شروع کر دیں۔ یہ سب دیکھ کر فطری طور پر ڈاکٹر اناء نے سوچا کہ یہ شخص تو پھر شروع ہو گیا ، یہ باز ہی نہیں آ رہا، انہوں نے ایک بار پھر 15 پولیس کا کال کر دی۔ جو پولیس آپ کو ویڈیو میں نظر آ رہی ہے وہ ڈاکٹر اناء کے بلانے پر آئی ہوئی تھی ۔ پولیس 15 کو کال کرنے کے بعد ڈاکٹر اناء نے پشاور میں اپنی بہن کو کال کر کے اس واقعے سے آگاہ کیا کہ جدون خان پھر اپنی حرکتوں پر اتر آیا ہے۔ ڈاکٹر اناء نے سب سے پہلے اپنے شوہر کرنل اسفند کو کال نہیں کی!!!! یہ جاننا بہت اہم ہے!!! یہ سب آن ریکارڈ ہے۔
ڈاکٹر اناء نے اپنی بہن کو کہا کہ تم اسفند کو مت بتانا، کیونکہ وہ ظاہر ہے اپنے شوہر کے طبیعت کو پہچانتی ہیں، کہ جب وہ جانیں گے کہ ایک بار پھر ایسی حرکت ہوئی ہے تو طیش میں آئیں گے۔ ڈاکٹر اناء نے اپنی بہن کو آگاہ کیا تاکہ فیملی میں کسی کو معلوم ہو۔ ڈاکٹر اناء اس دوبارہ وقوعے کو ہونے سے گھبرائی بھی ہوئی تھیں۔ ان کی پشاور والی بہن نے فون بند ہوتے ہی کرنل اسفند کو کال کر دی حالانکہ ڈاکٹر اناء نے منع بھی کیا تھا، بہن نے بہنوئی کو بتایا کہ اناء بہت گھبرائی ہوئی ہے خدانخواستہ اس کو نقصان نہ پہنچ جائے۔ کرنل اسفند اس وقت آفس کی طرف جا رہے تھے۔ انہوں نے وہیں سے گاڑی یونیورسٹی کی طرف موڑ لی۔ ڈاکٹر اناء نے فون کر کے اپنے شوہر کو نہیں بلایا تھا۔۔!!! کرنل اسفند کے مطابق ان کا ارادہ قطعاً کسی کو Hurt کرنے کا نہیں تھا وہ صرف یہ سمجھ رہے تھے کہ غالباً صرف ایک شخص جدون خان ہے جو ڈاکٹر اناء کے پاس موجود ہے اور انہیں نقصان نہ پہنچا دے۔ یہ ردِعمل ایک شوہر کا اپنی بیوی کیلئے مکمل فطری ہے۔ لیکن کرنل اسفند جب اہلیہ کے پاس پہنچے تب دیکھا کہ وہاں تو اچھا خاصا مجمع جمع تھا۔ مجمع نے بھی جب کرنل اسفند کو دیکھا، اور یہ ذہن میں رکھئے کہ یہ وہ جُھنڈ تھا جو جدون خان نے پلاننگ کے تحت ڈاکٹر اناء کیخلاف اکٹھا کر رکھا تھا، سو مجمع نے کرنل اسفند کیخلاف بھی گالیاں نکالنا اور مغلظات بکنا شروع کر دیے۔ Mob Mentality پاکستان میں کیسی ہوتی ہے یہ ہم سب اچھے سے جانتے ہیں۔ جُھنڈ میں سے ایک لڑکا خاص طور پر کرنل اسفند کیخلاف زیادہ گالیاں نکال رہا تھا اور کرنل اسفند کو مارنے کیلئے بھی لپکا تھا۔ کرنل اسفند نے اس لڑکے کو غالباً تھپڑ یا سٹک سے مارا جو ان پر حملہ آور ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس سے جُھنڈ کو موقع مل گیا اور وہ ڈاکٹر اناء پر بھی چھپٹے اور کرنل اسفند پر بھی۔ ایسے موقع پر کرنل اسفند نے Self Defence میں گولی چلا کر جُھنڈ کو منتشر کرنا چاہا کیونکہ جب آپ اپنی بیوی سمیت مجمع میں پھنس جائیں تو Mob Mentality کیا کر گزرے کسی کو پتہ نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔

اس وقوعے کے بعد سے جدون خان مفرور ہے عین ممکن ہے اپنے علاقے بنوں فرار ہو گیا ہو۔ جو لڑکے ڈاکٹر اناء پر حملہ آور ہوئے ان کے خلاف FIRs ہو چکی ہیں۔

یہ ہیں اب تک کے تمام اصل حقائق !!! تمام ثبوتوں کے ساتھ!!! مزید حقائق بھی جیسے جیسے سامنے آئیں گے آپ کو بتاؤں گی۔

لیکن ایسے تمام باغیرت جوانوں افسران کی قدر تعریق اور سپورٹ کرنی چاہئے جو اپنی یا کسی بھی خاتون کی عزت کو سب سے مقدم سمجھتے ہیں اور خواتین کی عزت کیلئے شہید بھی ہو جاتے ہیں، اسلام آباد میں ہونے والا حالیہ واقعہ جس میں گروپ کیپٹن عاصم طارق اپنی جان پر کھیل گئے مگر عورت کی عزت بچا گئے ۔۔۔۔ عزت سب کی سانجھی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ اور جب بات عورت کی عزت کی ہو تو کوئی بھی باغیرت فرد اسی طرح ردِعمل دے گا۔

Address

Chakwal
Chakwal

Telephone

+923482020851

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chakwal Group posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Chakwal Group:

Shortcuts

Share

Category