30/07/2025
انجینئر محمد حسن رضا نول، ضلع جھنگ کے معروف و تاریخی گاؤں چک نمبر 232 ج۔ب نولاں والے کے ایک باوقار اور علم دوست خاندان سجاول خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ خاندان صدیوں سے علم، اخلاق، خدمت اور قومی ترقی کا نشان رہا ہے، جہاں ڈاکٹرز، انجینئرز، اساتذہ، وکلا، پولیس افسران، ججز، بنک مینجرز، پٹواری اور سی ایس پی آفیسرز جیسی ممتاز شخصیات نے اپنی قابلیت اور خدمت سے علاقے کا نام روشن کیا ہے۔
محمد حسن رضا نے اپنا ابتدائی تعلیمی سفر سیکرڈ ہارٹ ہائی اسکول، جھنگ سے شروع کیا، جہاں سے میٹرک کیا۔ بعد ازاں فاران ماڈل کالج، جھنگ سے ایف ایس سی مکمل کی۔ علمی پیاس بجھانے کے لیے انہوں نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کا رخ کیا، جہاں سے ایگری کلچر انجینئرنگ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور عملی زندگی میں قدم رکھا۔ تعلیم کے بعد انہوں نے دو سال تک رمضان شوگر ملز، چنیوٹ میں بطور سرکل آفیسر خدمات سرانجام دیں، جہاں ان کی صلاحیتوں، محنت اور دیانتداری کو بھرپور سراہا گیا۔
لیکن ان کی شخصیت صرف تعلیم و پیشہ ورانہ مہارت تک محدود نہیں۔ وہ خدمتِ خلق کے جذبے سے بھی سرشار ہیں۔ بطور صدر فلاحی تنظیم چک نمبر 232 انہوں نے برسوں سے التوا کا شکار جنازہ گاہ کا منصوبہ محض چار ماہ کی قلیل مدت میں مکمل کروا کر عوامی خدمت کی ایک روشن مثال قائم کی۔ اسی جذبۂ خدمت کے تحت ہر سال ماہِ رمضان میں گاؤں کے مستحق افراد کے لیے رمضان پیکج کے ذریعے لاکھوں روپے کا راشن سحر و افطار کے لیے مہیا کیا جاتا ہے، جو درجنوں دیہی خاندانوں کے چولہے روشن کرتا ہے۔
ان کا خواب ہے کہ وہ ایسے ذہین و مستحق طلبہ کے لیے ایک ایسا نظام تشکیل دیں، جو انہیں مالی معاونت فراہم کر کے تعلیمی اداروں تک پہنچنے کے قابل بنائے۔ ساتھ ہی وہ ان کی کیرئیر کونسلنگ کر کے انہیں ایک باعزت، خودمختار اور باوقار مستقبل عطا کرنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح ماحولیاتی بہتری کے لیے وہ ایک منظم شجر کاری مہم کے آغاز کا ارادہ رکھتے ہیں، تاکہ آنے والی نسلوں کو سرسبز اور صحت مند ماحول میسر ہو۔
انجینئر حسن رضا اس وقت اڈا پل دلووالہ پر واقع کسان ٹریڈرز کے تحت زرعی ادویات و اجناس کا کامیاب کاروبار کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ کاروبار خواہ چھوٹا ہو، وہ ملازمت سے کئی درجے بہتر ہے، کیونکہ نوکری صرف گزارے کا ذریعہ ہے، جبکہ کاروبار نسلوں کی پرورش کرتا ہے، خودمختاری بخشتا ہے اور دوسروں کے لیے بھی روزگار کے دروازے کھولتا ہے۔
یہ نوجوان قیادت نہ صرف اپنے لیے، بلکہ اپنے گاؤں، اپنے حلقے اور اپنی قوم کے لیے ایک مثبت تبدیلی کا خواب لیے ہوئے سرگرم عمل ہے۔ ان کا عزم، ان کی سوچ اور ان کی خدمات آنے والے وقتوں میں نئی راہیں کھولنے کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔