17/03/2026
endingpostchallenge تیل کی قیمتوں میں تقریباً 3٪ اضافہ دیکھنے میں آیا جب ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات (UAE) پر نئے حملوں کی خبریں سامنے آئیں۔ اس صورتحال نے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ خلیج کا خطہ دنیا میں تیل کی سپلائی کا ایک بڑا مرکز ہے۔
رپورٹس کے مطابق، ایران سے منسلک گروپس کی جانب سے یو اے ای کے اہم انفراسٹرکچر اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ اگرچہ نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، لیکن سرمایہ کاروں نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر تیل کی خریداری بڑھا دی، جس سے قیمتیں اوپر چلی گئیں۔
عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ (Brent Crude) کی قیمت میں تقریباً 3 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) بھی اسی طرح اوپر گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ کشیدگی برقرار رہی تو تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، کیونکہ سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق، خلیج میں کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی کا براہ راست اثر توانائی کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ خاص طور پر اگر حملے تیل کی تنصیبات یا شپنگ روٹس کو متاثر کریں، تو عالمی سطح پر سپلائی کم ہو سکتی ہے، جس سے قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں۔
دوسری جانب، عالمی طاقتیں صورتحال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ کشیدگی مزید نہ بڑھے۔ تاہم، سرمایہ کار ابھی بھی محتاط ہیں اور مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان ہے۔
مختصر طور پر، ایران اور یو اے ای کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے، اور اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو آنے والے دنوں میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔