09/12/2025
کچھ لوگ اچانک کسی کے گھر چلے جاتے ہیں اور پھر گھر میں بکھراوا، بچوں کا شور، یا میز پر رکھی چیزوں کا حساب کتاب کرنے لگتے ہیں… جیسے وہ مہمان نہیں، گھر کے انسپکٹر ہوں۔
سچ تو یہ ہے کہ جو شخص بغیر بتائے آتا ہے، اسے گھر یا ماحول کے بارے میں کوئی شکایت کرنے کا حق ہی نہیں بنتا۔
گھر کوئی میوزیم نہیں ہوتا…
بچے کوئی نمائش کی چیزیں نہیں ہوتے…
اور انسان ہمیشہ تیار، ترتیل میں نہیں رہتا.خاص طور پر چھوٹے بچوں والا گھر ۔
پہلے زمانے میں جب نہ فون تھا نہ اطلاع دینے کا آسان طریقہ، تب اچانک آنے والے مہمان خوشی کا باعث بنتے تھے، کیونکہ زندگی سادہ تھی اور لوگ ذہنی طور پر ہمیشہ دستیاب ہوتے تھے۔
آج حالات بدل گئے ہیں۔ کام، ذمہ داریاں، بچوں کی روٹین اور ذہنی تھکن سب کچھ ساتھ چل رہا ہے۔ ایسے میں اچانک دروازے کی گھنٹی کئی دفعہ خوشی کے بجائے پریشانی لے آتی ہے۔
لیکن اگر کوئی بغیر بتائے آ بھی جائے، تو کم از کم اسے اتنی تمیز ضرور ہونی چاہیے کہ وہ گھر یا میزبان کو جج نہ کرے۔
جس طرح وہ بنا بتائے آنے کی آزادی لیتا ہے، اسی طرح میزبان کو بھی اپنے گھر کو “perfect” رکھنے کی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔
یاد رہے:
بغیر بتائے آنا آپ کی مر ضی ہے…
اور پھر جو حالتِ گھر دِکھے، اسے قبول کرنا بھی آپ کی ہی ذمہ داری ہے۔
مہمان اگر حقیقت میں مہمان ہو، تو سمجھتا ہے
جج نہیں کرتا۔