12/04/2026
دو لباس ہیں اور دو پیغام ہیں!
مجھے پچھلے کچھ گھنٹوں میں کئی پیغامات آئے. پاور اور انفلوئنس میرا ڈسپلن ہے اور نفسیات کے حوالے سے میں اس کا طالب علم ہوں اور دنیا کے کئی ممالک میں اس پر بات کرچکا ہوں. پہلا پیغام ایک بی بی سی کے جرنلسٹ دوست کا تھا. وہ جاننا چاہتا تھا کہ جنرل عاصم کی یونیفارم سے سوٹ والی تصویر میں کیا فرق ہے. کیا پیغام بھجنا مقصود ہے؟
دو تصویریں ہیں. ایک رات کی۔، ایک دن کی۔ دونوں اسلام آباد ائرپورٹ کی۔ دونوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں۔ مگر دونوں میں فرق ہے۔ اور یہ فرق اتفاقی نہیں ہے۔
اوپر والی تصویر: دن کا وقت۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اترے ہیں۔ ایئر فورس ٹو کی سیڑھیوں سے۔ سرخ قالین بچھا ہوا ہے۔ استقبال کرنے والے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار ہیں۔ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں۔ مگر اس بار فوجی وردی میں نہیں۔ سویلین سوٹ میں۔ ٹائی لگی ہوئی ہے۔ مسکراہٹ ہے۔ یہ وہ لباس ہے جو کہتا ہے: میں سفارت کار ہوں۔ میز پر بیٹھنے آیا ہوں۔ بات کرنے آیا ہوں۔
نیچے والی تصویر: رات کا وقت۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اترے ہیں۔ ان کے ساتھ وزیر خارجہ عراقچی ہیں۔ استقبال کرنے والا فیلڈ مارشل عاصم منیر ہے۔ فوجی وردی میں۔ کیمو فلاج۔ کندھے پر پاکستانی پرچم۔ سینے پر رینک۔ سر پر فوجی ٹوپی۔ یہ وہ لباس ہے جو کہتا ہے: میں سپاہی ہوں۔ میدان سے آیا ہوں۔ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔
دو لباس۔ دو پیغام۔ ایک ہی آدمی۔
یہ اتفاق نہیں ہے۔ سفارتکاری میں لباس زبان ہوتا ہے۔ ہر بٹن بولتا ہے۔ ہر رنگ پیغام دیتا ہے۔ اور جو لوگ طاقت کی زبان سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ لباس کا انتخاب کبھی اتفاقی نہیں ہوتا۔
1922 میں مصطفیٰ کمال اتاترک نے یونانی وفد سے مذاکرات کے دوران یہی حکمت عملی استعمال کی۔ جب یونانی سفارت کار آئے تو اتاترک نے فوجی وردی پہنی ہوئی تھی۔ پیغام واضح تھا: میں فاتح ہوں، تم مفتوح۔ میں کمانڈر ہوں، تم التجا کرنے آئے ہو۔ جب یورپی سفارت کاروں سے بات ہوئی تو اتاترک سویلین سوٹ میں تھے۔ پیغام بدل گیا: میں جدید ہوں، میں مذاکرات کار ہوں، مجھ سے برابری سے بات ہو سکتی ہے۔ لوزان کانفرنس 1923 میں ترکی کے مندوب عصمت اینونو نے وہی اصول برتا۔ مغربی طاقتوں سے بات ہوئی تو مغربی لباس میں۔ پیغام: ہم تمھاری زبان سمجھتے ہیں۔
چرچل جنگ کے دوران فوجی وردی پہنتا تھا حالانکہ وہ فوجی نہیں، سیاست دان تھا۔ پیغام: قوم جنگ میں ہے اور میں اس کا سپاہی ہوں۔ جنگ ختم ہوئی تو سوٹ پہنا۔ پیغام بدل گیا: اب تعمیر کا وقت ہے۔ اسی طرح ڈی گال نے 1940 میں لندن سے فرانسیسی مزاحمت کی قیادت کرتے ہوئے ہمیشہ فوجی وردی پہنی۔ 1958 میں جب صدر بنے تو سویلین لباس اختیار کیا۔ وردی نے ان کی جنگجو شناخت قائم کی۔ سوٹ نے ان کی ریاستی شناخت۔
سادات جب 1977 میں تاریخی طور پر اسرائیل گئے تو فوجی وردی میں طیارے سے اترے۔ پیغام: میں فاتح ہوں، 1973 میں لڑ کر آیا ہوں، اب امن کے لیے آیا ہوں مگر میری طاقت یاد رکھنا۔ کیمپ ڈیوڈ مذاکرات میں سویلین لباس میں تھے۔ پیغام: اب بات ہو رہی ہے۔
اب فیلڈ مارشل منیر کی دونوں تصویریں دوبارہ دیکھیں۔
قالیباف رات کو آیا۔ ایران جنگ لڑ رہا ہے۔ 40 دن بمباری سہی ہے۔ ہزاروں شہری مارے گئے ہیں۔ پل ٹوٹے ہیں۔ یونیورسٹیاں تباہ ہوئی ہیں۔ بجلی گھر بمباری کا نشانہ بنے ہیں۔ قالیباف اپنے ساتھ 168 بچوں کی تصویریں لے کر آیا ہے۔ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ جنگ بندی نازک ہے۔ خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ لبنان پر بمباری جاری ہے۔
اس لمحے فیلڈ مارشل نے فوجی وردی پہنی ہے۔ پیغام قالیباف کو ہے: میں تمھارا بھائی ہوں مگر سپاہی بھائی ہوں۔ میں تمھارا درد سمجھتا ہوں کیونکہ میں خود سپاہی ہوں۔ تم جنگ سے آئے ہو اور میں جنگ سمجھتا ہوں۔ مگر اس وردی میں ایک اور پیغام بھی ہے: پاکستان بھی فوجی طاقت ہے۔ ایٹمی طاقت ہے۔ جب دو سپاہی ملتے ہیں تو ان کے درمیان ایک خاموش اعتماد ہوتا ہے جو سویلین لباس میں نہیں آتا۔ اور ایران کے پاسداران انقلاب کی قیادت سے فوجی وردی میں ملنا ایک واضح اشارہ ہے: ہم ایک زبان بولتے ہیں۔
پھر وینس دن کو آیا۔ ایئر فورس ٹو سے۔ امریکی طاقت کی علامت۔ سرخ قالین۔ پروٹوکول۔ مگر فیلڈ مارشل نے سوٹ پہنا ہوا ہے۔ ٹائی لگی ہوئی ہے۔ مسکراہٹ ہے۔ پیغام وینس کو ہے: میں سفارت کار ہوں۔ میں تمھاری زبان بولتا ہوں۔ میں جنگ لڑنے نہیں، معاہدہ کرنے آیا ہوں۔ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے لکھا تھا کہ فیلڈ مارشل منیر نے جون 2025 میں وائٹ ہاؤس لنچ کے لیے بھی سویلین لباس پہنا تھا، فوجی وردی نہیں۔ واشنگٹن ایگزامنر نے لکھا کہ اسلام آباد نے ٹرمپ کی "فوجی سخت جان آدمیوں سے محبت" کو سمجھا مگر لباس سویلین رکھا تاکہ امریکی پروٹوکول کا احترام ہو۔ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ مغرب سے آیا ہوا کوئی بھی سربراہ مملکت لیول کا بندہ ہوگا، جنرل صاحب اسے سوٹ میں ملیں گے، یہ مغرب کا جمہوریت کے حوالے سے پروٹوکول ہے. یاد کریں جب پرویز مشرف نے تختہ الٹا تو صدر کلنٹن، جنرل مشرف کو ملے تو شرط یہ تھی کہ یونیفارم میں ملاقات نہیں ہوگی.
ایک اور پہلو بھی ہے۔ ایران سے فوجی وردی میں ملنا اس لیے بھی ضروری تھا کیونکہ ایران کا وفد جنگ زدہ ملک سے آ رہا ہے۔ ان کے شہر تباہ ہو رہے ہیں۔ ان کے بچے مر رہے ہیں۔ اگر فیلڈ مارشل سوٹ اور ٹائی میں ملتا تو یہ ایران کی تکلیف سے بے حسی کا تاثر دیتا۔ فوجی وردی کہتی ہے: میں سمجھتا ہوں کہ تم کس حال میں ہو۔ میں بھی سپاہی ہوں۔ میں نے بھی مئی 2025 میں جنگ لڑی ہے۔ تمھارا درد میرے لیے اجنبی نہیں ہے۔ یاد رہے جب سعودی کراؤن پرنس محمد بن سلمان کے ساتھ فیلڈ مارشل کی ملاقات ہوئی تو وہ یونیفارم ملبوس تھے، تاکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے سٹیٹمنٹ دی جاسکے کہ امتحان کی گھڑی میں ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں.
امریکہ سے سوٹ میں ملنا اس لیے ضروری تھا کیونکہ امریکہ جنگجو کے طور پر نہیں، مذاکرات کار کے طور پر آیا ہے۔ وینس خود جنگ کا مخالف رہا ہے۔ ٹرمپ نے خود کہا تھا کہ وینس کا "کم جوشیلا" نقطہ نظر ہے۔ سوٹ میں ملنا وینس کو باعزت جگہ دیتا ہے: تم سپاہی نہیں ہو، تم مذاکرات کار ہو، اور میں بھی اس میز پر مذاکرات کار ہوں۔
ایشیا ٹائمز نے لکھا تھا کہ فیلڈ مارشل منیر نے "سپاہی اور سفارت کار" کا دوہرا کردار اختیار کیا ہے۔ دونوں تصویریں اس دوہرے کردار کی مکمل عکاسی ہیں۔ ایران سے سپاہی ملا۔ امریکہ سے سفارت کار ملا۔ ایک ہی آدمی۔ دو زبانیں۔ دو پیغام۔ دونوں درست۔
طاقت کا اصل فن یہ نہیں کہ آپ کتنے مضبوط ہیں۔ طاقت کا اصل فن یہ ہے کہ آپ ہر فریق سے اس کی زبان میں بات کر سکیں۔ اتاترک نے یہ فن سمجھا تھا۔ سادات نے سمجھا تھا۔ چرچل نے سمجھا تھا۔ آج فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سمجھا ہے۔ ہر وہ بندہ جو لیڈرشپ کا طالب علم ہے،؛ اسے یہ سمجھنا ہوتا ہے.
دو تصویریں۔ ایک رات۔ ایک دن۔ ایک وردی۔ ایک سوٹ۔ مگر پیغام ایک ہی ہے:ثالث کے طور پر ضروری ہے اسلام آباد سب کی زبان بولتا ہو کیونکہ جو سب کی زبان بولتا ہے وہی درمیان میں بیٹھتا ہے۔ اور جو درمیان میں بیٹھتا ہے وہی تاریخ لکھتا ہے۔
عارف انیس