05/02/2026
ایپسٹین خود ایک غریب شخص تھا جسے اسرائیل نے انتہائی امیر ظاہر کر کے بڑے بڑے نامور سیاستدانوں کو بلیک میل کروایا۔ آپ فلم The Spy دیکھیں تو وہاں بھی آپ کو نظر آ جائے گا کہ کس طرح اسرائیل ایک عام شخص کو امیر اور بڑھا چڑھا کر دکھاتا ہے اور لوگوں میں اثر و رسوخ قائم کرتا ہے اور شام میں ایک نامور سیاستدان بن جاتا ہے۔ یہ سب حقیقت پر مبنی فلم ہے اور سب کو ضرور دیکھنی چاہیے۔
ایپسٹین کا کردار بھی کچھ یوں ہی ہے۔ ایپسٹین اور ان کی پارٹنر دونوں ریکروٹنگ اور ٹریفکنگ میں مصروف ہوتے تھے۔ ان کے جزیرے پر جو بھی gatherings ہوتی تھیں اور جن لوگوں کو بلایا جاتا تھا وہ بغیر کسی اسٹریٹیجک پلاننگ اور مقصد کے نہیں ہوتا تھا۔
عمران خان کو کب اور کس جگہ ریکروٹ کیا گیا، جس کا ذکر ہے کہ گھسلین میکسویل، جو ایپسٹین کے پراجیکٹس کی ریکروٹر تھیں، نے عمران خان کو اپروچ کیا۔۔ کچھ اسپانسر کمپنیوں کو بھی عمران خان کو اسپانسر کرنے کو کہا۔ یہ وہ اسٹیپس تھے جو اسرائیل کی طرف سے پلانڈ تھے۔ وہ بہت اچھے دوست بنے۔
یاد رہے کہ ایپسٹین اور میکسویل بغیر کسی اسٹریٹیجک مقصد کے کسی کے ساتھ دوستی نہیں کرتے۔ ایپسٹین فائلز میں ایپسٹین کی عمران خان کیساتھ فون کالز اور اسکے ساتھ میٹنگز کا ذکر ہے سوال یہ ہے کہ کیوں ایپسٹین اور اسکی شریک جرم gizlainn Maxwell کیساتھ عمران خان کی اتنی دوستی تھی ؟
ایپسٹین کی فائلز میں عمران خان کی mindset کو خطرناک کہا گیا اور ایسے extremist دماغ recruitment کے لیے بہت بہترین ہوتے ہیں۔
آپ جب کسی دہشت گرد تنظیم کو دیکھیں تو وہ کبھی نارمل، شائستہ، امن پسند لوگوں کو ریکروٹ نہیں کرتے بلکہ کوئی ایسا نوجوان جو پریشان ہو، لوگوں سے شدید جلتا ہو، کسی بھی قیمت پر بہت بڑا آدمی بننا چاہتا ہو، اور اس کا دماغ ہر وقت کسی کے ساتھ مقابلے میں ہو، تو ایسے نوجوانوں کو بہترین recruits سمجھا جاتا ہے۔ عمران خان کی کہانی کچھ یونہی شروع ہوتی ہے۔
آپ سب نے عمران خان کو پرانی ویڈیوز میں سنا ہوگا کہ وہ کبھی سیاست میں نہیں آنا چاہتے تھے، لیکن پھر step by step کیسے عمران خان پروجیکٹ لانچ ہوا — پہلے گولڈ اسمتھ، پھر عمران خان نے سیاست میں بھی آنے کا اعلان کیا، لندن سوسائٹی کا شیر بھی گولڈ اسمتھز نے کہلوایا! یہ ایک حقیقت ہے۔پھر ایک تیر سے دو شکار: شوکت خانم جو کہ اسرائیلی فنڈنگ کی ایک پاکیزہ راہ بنا، ساتھ ہی عمران خان کی credibility میں بھی ایسا ایک نیک کام شامل کرنا تھا۔
فلم The Spy میں اسرائیلی ایجنٹ شام کے جنرل سے تعلقات قائم کرنے کے لیے بھرپور کوشش کرتا ہے اور اس طرح وہ اسرائیلی ایجنٹ ایک جنرل کی زور سیاست میں اہم وزارت حاصل کر لیتا ہے۔ یاد رہے اس ایجنٹ کو اس مقام تک پہنچنے میں 15، 20 سال لگ جاتے ہیں۔
عمران کی کہانی کچھ ایسا ہی موڑ لیتی ہے کہ جنرل پاشا اور حمید گل کی favour حاصل کرنے میں عمران خان کامیاب ہو جاتا ہے۔ ایپسٹین فائلز ایک بھیانک حقیقت ہیں اور ان کے تمام تر پروجیکٹس سے پردہ اٹھ چکا ہے۔ ان پروجیکٹس میں جو فنڈنگ ہوتی ہے اس کا مقابلہ کوئی بھی ملک نہیں کر سکتا۔
یہی آپ کو ہیرو بناتے ہیں اور یہی آپ کو زیرو۔ آپ شاہد آفریدی یا کسی اور ایتھلیٹ کی مثال لے لیں تو ان کو بمشکل 20، 30 لاکھ کا donation سال میں مل جاتا ہے، لیکن عمران خان کی پی ٹی آئی پارٹی اکاؤنٹ میں کروڑوں کی اسرائیلی اور بھارتی فنڈنگ موجود ہے — کیوں؟
باہر ملکوں میں کوئی کمپنی کسی سیاسی پارٹی کو فنڈنگ نہیں کر سکتی، یہ قانون کے خلاف ہے۔ لیکن اسرائیل اور بھارت کی ایسی state funded کمپنیاں جن کا کام ہی عمران خان جیسے پروجیکٹس اور پروپیگنڈا ہوں، وہ ایسے کاموں کے لیے unlimited funding resources رکھتی ہیں اور فنڈ کرتی ہیں۔
باہر ملکوں میں آپ شوکت خانم ہسپتال کو دیکھیں تو آپ کو پتا چلے کہ اس کے باہر ملکوں میں بورڈ کے ممبرز کون ہیں۔ ہماری عوام نادان ہیں۔ ایپسٹین جیسے لوگوں کو پتا ہے کہ غریب عوام بڑی بڑی گاڑیوں سے متاثر ہوتی ہے، اس لیے یہاں پر اگر کسی ایجنٹ کو بڑے لیول پر introduce کرنا ہو تو انتہائی امیر دکھانا ہوتا ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے عمران خان سے متعلق بالکل سچ کہا تھا۔ یہ پی ٹی ایم، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے تمام مکمل فنڈڈ ہیں۔ پی ٹی ایم کے لیے تو باہر ملکوں میں، جن کا میں نام نہیں لوں گی، مکمل campaign شروع ہے۔ ان کی support کے links پر ذرا research کریں تو آپ کو حقیقت واضح نظر آ جائے گی