20/01/2025
تباکو نوشی یا سگریٹ نوشی کے تباہ کاریاں
تحریر یاسر دانیال صابری
کل میں جلال آباد مارکیٹ میں رات کے آٹھ بجے جا رہا تھا اچانک میری نظر دس سال کا بچے پر پڑی اس کے ہاتھ میں سگریٹ جلی ہوئی تھی مگر وہ اکھٹی ٹیم کے ساتھ جا رہا تھا مجھے عجیب لگا جیسے میرا اپنا بھائی سگریٹ پی رہا ہے۔اس سے پتہ چلتا ہے ہمارا معاشرہ بہت خراب ہوا ہے
محلے میں ہر دکاندار اس چیز کا بائیکاٹ کریں ۔ کل آغا راحت الحسینی صاحب نے برسی خطاب میں سگریٹ نوشی اور ہمارے معاشرے پر کئی منفی اثرات کا ذکر کیا اور والدین سے اپیل کیا کہ والدین نستوار اور سگریٹ نوشی چھوڈ دے اس نے کہا آج کا دشمن آپ کے بچوں کو نشہ آور چیزوں کی عادی بنانے پر آمدہ ہے جس کی وجہ سے آپ کے بچے خطرے کے دہانے پر کھڑے ہیں آپ سب کو مل کر اس کا خاتمہ کرنا ہوں گا۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ دشمن ہماری صحن کی دیوار فلانگ کر دروازے تک پہنچا ہے ۔میں سگریٹ نوشی کی تباہ کاریوں کچھ یوں ہیں
سگریٹ نوشی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ اس سے مختلف بیماریوں جیسے کہ دل کی بیماریاں، پھیپھڑوں کا کینسر، دمہ، اور سانس کی دوسری بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔ اس کے نتیجے میں لوگوں کی زندگی کا معیار متاثر ہوتا ہے اور صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔
سگریٹ کے دھوئیں سے نہ صرف سگریٹ نوش کرنے والے بلکہ ارد گرد کے لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں۔ جیسے دنیور میں نشہ عروج پر ہوں اسکا اثرات دیگر علاقوں میں ضرور ہو گا یہ فضائی آلودگی کا باعث بنتا ہے اور صحت کے خطرات میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔سگریٹ نوشی کے عادی افراد زیادہ رقم سگریٹ پر خرچ کرتے ہیں، جو ان کی مالی حالت کو متاثر کرتا ہے۔ مزید یہ کہ، سگریٹ نوشی کی وجہ سے بیماریوں کا سامنا کرنے والے افراد صحت کے علاج میں پیسے خرچ کرتے ہیں، جو کہ قوم کی معیشت پر بوجھ ڈالتا ہے۔سگریٹ نوشی سماجی تعلقات میں بھی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ غیر سگریٹ نوش افراد کی طرف سے اس کی مخالفت یا طویل مدت تک سگریٹ کے دھوئیں میں رہنے سے تعلقات میں دراڑ آ سکتی ہے۔
تمباکو کا استعمال پاکستان میں مختلف صحت کے مسائل کو جنم دے رہا ہے، جن میں دل کی بیماریوں، سانس کے امراض، کینسر اور دماغی امراض شامل ہیں۔ تمباکو کے استعمال سے ہر سال ہزاروں افراد کی زندگیوں کا نقصان ہوتا ہے، جیسا کہ 2017 میں 163,360 افراد کی موت تمباکو کے استعمال سے ہوئی۔
دوسرے ہاتھ کی تمباکو