ہائے معصومہ ہائے شام ہائے معصومہ ہائے زندان

ہائے معصومہ ہائے شام ہائے معصومہ ہائے زندان Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from ہائے معصومہ ہائے شام ہائے معصومہ ہائے زندان, Real Estate, مجلس دربار بابا شہید بادشاہ کبیل نزد چک شیعاں گوجر خان, Gujar Khan.

انشاء اللہ 12صفر مورخہ 27جولائ ماتمی جلوس الحاج راجہ محمد عجب صاحب کے گھر سے بر آمد ہو کر مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا شام د...
18/07/2026

انشاء اللہ 12صفر مورخہ 27جولائ ماتمی جلوس الحاج راجہ محمد عجب صاحب کے گھر سے بر آمد ہو کر مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا شام دربار بابا شہید بادشاہ پر اختتام پذیر ہو گا 13صفر مورخہ 28جولائ مجلس عزاء ٹھیک 8بجے شروع ہوگی تمام مؤمنین سے بھر پور شرکت کی استدعا ہے

09/07/2026

انشاء اللہ مجلس عزاء 13صفرالمظفر بسلسلہ شہادت بیبی سکینہ بنت الحسین علیہ السلام دربار بابا شہید بادشاہ کبیل نزد چک شیعاں تعصیل گوجرخان
#عزاداری Chakwal Azadari Rawalpindi Azadari Zakir Shafqat Abbas Gondal Zakir Naheed Abbas Jag offical Zakir Sarosh Ansar Bukhari

مجلس عزاء 12/13صفرالمظفر دربار بابا شہید بادشاہ کبیل نزد چک شیعاں تعصیل گوجرخان بسلسلہ شہادت حضرت بیبی سکینہ بنت الحسین ...
05/07/2026

مجلس عزاء 12/13صفرالمظفر دربار بابا شہید بادشاہ کبیل نزد چک شیعاں تعصیل گوجرخان بسلسلہ شہادت حضرت بیبی سکینہ بنت الحسین علیہ سلام
انشاءاللہ حسب سابق 12 صفرالمظفر جلوس علم حضرت عباس ع و شبیہ ذوالجناح حضرت امام حسین علیہ السلام بوقت 9 بجے صبح الحاج محمد عجب مرحوم کے گھر سے برآمد ہو کر منازل طے کرتے ہوئے دربار بابا شہید بادشاہ کبیل پر اختتام پذیر ہو گا
13صفرالمظفر مجلس عزاء ٹھیک 8 بجے شروع ہو جائے گئ جو مرضی امام زمانہ علیہ سلام جاری رہے گی اور اختتام پر تابوت سکینہ بنت الحسین علیہ السلام برآمد ہو گا
تمام سادات و مومنین و مومنات شرکت کی استدعا ہے

2 محرم الحرام 61 ہجری وہ سنگِ میل ہے جہاں سے مصائبِ آلِ محمدؑ کا ایک نیا اور باقاعدہ باب شروع ہوتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب نو...
17/06/2026

2 محرم الحرام 61 ہجری وہ سنگِ میل ہے جہاں سے مصائبِ آلِ محمدؑ کا ایک نیا اور باقاعدہ باب شروع ہوتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب نواسہِ رسول، جگر گوشہِ فاطمہؑ، سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اپنے وفادار اصحاب اور پردہ نشین مستورات کے ہمراہ دشتِ کربلا کی تپتی ہوئی زمین پر پہنچے۔
کتبِ تواریخ اور مستند مقاتل (مثلاً *مقتل ابی مخنف، الارشاد از شیخ مفید، لھوف از سید ابن طاؤس*) کے آئینے میں اگر ہم اس دن کے حالات اور مصائب کا جائزہ لیں، تو یہ صرف ایک سفر کی انتہا نہیں بلکہ حق و باطل کے معرکے کا باقاعدہ آغاز تھا۔
1. گھوڑے کا رک جانا اور زمینِ کربلا کا انتخاب
جب امام عالی مقام کا قافلہ حر بن یزید ریاحی کے ایک ہزار سواروں کے محاصرے میں آگے بڑھ رہا تھا، تو 2 محرم کو اچانک امامؑ کا گھوڑا ایک مقام پر آ کر رک گیا۔ آپؑ نے گھوڑا بدلا، لیکن دوسرے گھوڑے نے بھی قدم آگے بڑھانے سے انکار کر دیا۔ روایات کے مطابق آپؑ نے یکے بعد دیگرے سات یا آٹھ گھوڑے بدلے، مگر سب نے قدم روک لیے۔
امامؑ سمجھ گئے کہ یہی منزلِ مقصود ہے۔ آپؑ نے وہاں کے مقامی قبیلے (بنی اسد) کو بلا کر اس زمین کے نام دریافت کیے۔ انہوں نے کہا: غاضریہ، شاطئ الفرات، نینوا... امامؑ نے پوچھا: کیا کوئی اور نام بھی ہے؟ ایک بوڑھے شخص نے عرض کیا: "مولا! اسے کربلا بھی کہتے ہیں"۔
جیسے ہی امامؑ نے 'کربلا' کا نام سنا، آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور آپ نے فرمایا: *"اللہم إنی أعوذ بک من الکرب والبلاء"* (خدایا! میں کرب اور بلا سے تیری پناہ مانگتا ہوں)۔ پھر اپنے اصحاب سے فرمایا: *"یہی کرب و بلا ہے، یہی ہمارے اونٹ بیٹھنے کی جگہ ہے، یہی ہمارا خون بہائے جانے کا مقام ہے، اور یہی ہماری قبروں کی جگہ ہے۔ میرے نانا رسول اللہﷺ نے مجھے یہی بتایا تھا"*۔
2. شرافتِ نفس اور حقِ ملکیت: زمین کی خریداری
امام حسین علیہ السلام نے اس دشت میں پہنچ کر زہد و تقویٰ اور شریعت کی ایک لازوال مثال قائم کی۔ آپؑ نہیں چاہتے تھے کہ جس زمین پر آپؑ اور آپ کے انصار کا خون بہے اور جہاں آپ کے مزارات بنیں، وہ غصبی یا کسی کی ملکیتی ہو۔ چنانچہ 2 محرم ہی کو آپؑ نے بنی اسد سے وہ زمین **ساٹھ ہزار (60,000) درہم** میں باقاعدہ خریدی۔
خریداری کے بعد آپؑ نے وہ زمین انہی کو واپس ہدیہ کر دی، مگر تین شرائط رکھیں: زائرین کی مہمانی کرنا، ان کے گھوڑوں کو چارہ دینا، اور معرکے کے بعد شہداء کے اجسادِ مطہرہ کی تدفین کرنا۔
3. خیموں کی تنصیب اور آلِ عباؑ پر اداسی کا سایہ
جب امامؑ کے حکم پر خیمے نصب کیے جا رہے تھے، تو عصر کا وہ منظر کتبِ مقاتل (خصوصاً *دمعہ ساکبہ*) میں انتہائی دلدوز لکھا گیا ہے۔ جب مستوراتِ اہل بیتؑ اونٹوں سے اتر رہی تھیں، تو غازی عباس علمدارؑ، علی اکبرؑ اور قاسمؑ پردے کا حصار بنائے کھڑے تھے۔
شریکۃ الحسین سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے جب اس ویران جنگل کو دیکھا تو ان کا دل ہول اٹھا۔ انہوں نے رو کر اپنے بھائی سے کہا: *"برادر! اس زمین پر آتے ہی میرا دل ہول رہا ہے، ایسا لگتا ہے کہ کوئی بڑی مصیبت آنے والی ہے"*۔ امامؑ نے اپنی بہن کو ڈھارس بندھائی اور صبر کی تلقین کی۔
4. سفیرِ کربلا کی غربت کا غم
اگرچہ جنابِ مسلم بن عقیلؑ 9 ذوالحجہ کو کوفہ میں شہید ہو چکے تھے، لیکن 2 محرم کو کربلا کی زمین پر کوفہ سے آنے والے مسافروں کے ذریعے مسلمؑ کے جسمِ اطہر اور سرِ مبارک کے ساتھ روا رکھی گئی بے حرمتی کی تفصیلی خبریں امامؑ تک پہنچیں۔ جب یہ خبریں خیموں میں پہنچیں تو کہرام مچ گیا۔ جنابِ مسلمؑ کی کمسن یتیم بیٹی جنابِ حمیدہؑ اپنے بابا کی غربت کو یاد کر کے رونے لگیں۔
اسی رقت آمیز ماحول میں امام حسینؑ نے کربلا کی مٹی کو ہاتھ میں لے کر سونگھا، تپتی ریت پر بیٹھے اور رو کر فرمایا:
> *"وا مُسلِماہ! وا اَخاہ! وا اَہْلَ بَیْتاہ! کاش میرے بھائی مسلم دیکھ سکتے کہ آج آلِ محمدﷺ کس غربت کے ساتھ اس ویران جنگل میں قید کر دیے گئے ہیں..."*
>
# # # 5. محاصرے کا آغاز اور اصحاب کا اعلانِ وفاداری
2 محرم کو کربلا میں صرف حر بن یزید ریاحی کا **1,000 کا لشکر** موجود تھا، جس نے امامؑ کے خیموں کو گھیر رکھا تھا اور فرات کے پانی سے دور رہنے کا اشارہ دے دیا تھا (اگرچہ باقاعدہ پانی 7 محرم کو بند ہوا)۔ اسی دن ابنِ زیاد کا خط بھی امامؑ کو ملا جس میں اس نے بیعت یا قتل کی دھمکی دی تھی، جسے امامؑ نے مسترد کر دیا۔
امامؑ نے اپنے اصحاب کو جمع کر کے اپنا معروف خطبہ دیا اور فرمایا کہ جو جانا چاہتا ہے چلا جائے، کیونکہ یہ لشکر صرف میرے خون کا پیاسا ہے۔ لیکن زہیر بن قین، بریر اور دیگر اصحابِ باوفا تڑپ اٹھے اور بولے: *"مولا! اگر ہمیں ہزار بار بھی قتل کر کے جلایا جائے، تب بھی ہم آپ سے جدا نہیں ہوں گے"*۔
# # # حاصلِ کلام:
2 محرم الحرام کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حق کے راستے پر چلنے والوں کے پاؤں کبھی لڑکھڑاتے نہیں، چاہے سامنے موت کا سمندر اور پیاس کا دشت ہی کیوں نہ ہو۔ امام حسین علیہ السلام نے کربلا کی تپتی ریت پر خیمے لگا کر کائنات کو بتا دیا کہ سجدہِ معبود اور بقائے دین کے لیے گھر بار اور جان کی قربانی کتنی مقدم ہے۔
آج کربلا کی یہ مٹی گواہ ہے کہ یزیدیت اپنے تمام تر لشکروں (جو اگلے دنوں میں ہزاروں تک پہنچ گئے) کے باوجود مٹ گئی، اور حسینؑ اپنے 72 جانثاروں کے ساتھ آج بھی دلوں پر راج کر رہے ہیں۔
**السلام علیک یا ابا عبد اللہ الحسینؑ وعلی الارواح اللتی حلت بفنائک۔**

: یکم محرم الحرام اور غریبِ وطن کی تنہائیاِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ...عزادارو! محرم کا چاند افق پر نمو...
17/06/2026

: یکم محرم الحرام اور غریبِ وطن کی تنہائی
اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ...
عزادارو! محرم کا چاند افق پر نمودار ہو چکا ہے، آسمان سے خون کی برسات شروع ہے اور کائنات میں ایک بار پھر زہرہؑ کے لال کی مظلومیت کا ماتم بپا ہے۔ آئیے تاریخ کی ان اوراق کو پلٹتے ہیں جب پندرہ سو سال پہلے، یکم محرم الحرام کی تپتی ہوئی دھوپ اور سرد راتوں کے سائے میں، رسولؐ کا کنبہ ایک ایسے موڑ پر کھڑا تھا جہاں سے غربت، پیاس اور تنہائی کا سفر شروع ہوتا ہے۔
۱۔ وہ غریبِ وطن جس کا کوئی مددگار نہ تھا
مقاتل کے راوی لکھتے ہیں کہ یکم محرم الحرام کو امام حسین علیہ السلام کا مظلوم قافلہ **"قصرِ بنی مقاتل"** نامی منزل پر پہنچ چکا تھا۔ کوفہ اب بیعتِ یزید کے قید خانے میں بدل چکا تھا، مسلم بن عقیلؑ کی شہادت کی خبریں دلوں کو زخمی کر چکی تھیں۔
اس مقام پر امامِ مظلومؑ کی غریبی کی انتہا دیکھیے! سبطِ رسولؐ خود چل کر عبید اللہ بن حر جعفی کے خیمے میں تشریف لے جاتے ہیں۔ ایک امام، ایک نبی کا نواسا، اس لیے اتمامِ حجت کر رہا تھا کہ کوئی کل کو یہ نہ کہے کہ حسینؑ نے مجھے پکارا نہیں تھا۔ امامؑ نے فرمایا: *’’ابنِ حر! آؤ، میری نصرت کرو اور اپنے گناہوں کا کفارہ پا لو۔‘‘* لیکن دنیا کی محبت اندھی ہوتی ہے۔ اس نے اپنی تلوار اور گھوڑا پیش کیا، تو غریبِ وطن نے ایک سرد آہ بھری اور فرمایا: *’’ابنِ حر! جب تم اپنی جان ہی ہمارے نام پر قربان نہیں کر سکتے، تو ہمیں تمہاری تلوار یا گھوڑے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘*
سوچئے! اس یکم محرم کو مولا حسینؑ کے دل پر کیا گزری ہوگی، جب لوگ ان کا ساتھ چھوڑ رہے تھے اور دشمن کا گھیرا تنگ ہو رہا تھا۔
۲۔ معصوم بچوں کا اضطراب اور حُر کا پہرا
عزادارو! یکم محرم وہ دردناک دن ہے جب آلِ رسولؐ کی پاک بیبیوں اور معصوم بچوں پر نفسیاتی ظلم کا آغاز ہوا۔ حُر بن یزید ریاحی کے ایک ہزار سواروں نے امامؑ کے قافلے کو چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا۔ ابنِ زیاد کا حکم آ چکا تھا کہ: *’’حسینؑ پر گھیرا تنگ کر دو، انہیں کسی پانی کے چشمے یا آباد بستی کے قریب نہ رکنے دیا جائے، انہیں چٹیل میدان کی طرف دھکیلو۔‘‘*
تصور کیجئے! تپتا ہوا صحرا ہے، یکم محرم کا سورج آگ برسا رہا ہے، اور فرات کا بہتا ہوا پانی نظر آ رہا ہے لیکن حُر کی فوج امامؑ کے گھوڑوں کا رخ موڑ رہی ہے۔ خیموں کے پردوں سے جنابِ زینبؑ اور امِ کلثومؑ یہ منظر دیکھ رہی ہیں۔ معصوم بچے، جنابِ سکینہؑ اور کمسن علی اصغرؑ، گھوڑوں کی ٹاپوں کی خوفناک آوازیں سن کر ماؤں کی گود میں سہم رہے ہیں۔ غریبِ وطن کی بیبیاں اب سمجھ رہی تھیں کہ اب وطن واپسی کے سارے راستے بند ہو چکے ہیں۔
۳۔ ایک باپ کا اپنے جوان بیٹے کو موت کی خبر سنانا
یکم محرم کا سب سے رقت آمیز اور خون رلا دینے والا منظر وہ ہے، جب قصرِ بنی مقاتل سے روانگی کے وقت غریبِ وطن، امام حسین علیہ السلام کو گھوڑے کی پیٹھ پر ہی ہلکی سی اونگھ آئی۔ جب آنکھ کھلی تو امامؑ زار و قطار رو رہے تھے اور زبان پر یہ کلمات تھے: **"اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ..."**
امامؑ کا ۱۸ سالہ جوان بیٹا، شبیہِ پیغمبر، جنابِ علی اکبرؑ آگے بڑھا۔ اپنے بابا کو یوں روتا دیکھ کر تڑپ گیا اور عرض کی: *"بابا جان! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، اس وقت انا للہ پڑھنے کا کیا سبب ہے؟"*
امامؑ نے اپنے جوان بیٹے کے چہرے کو دیکھا، جس کی زلفیں رسولِ خداؐ جیسی تھیں، اور رو کر فرمایا: *"بیٹا! میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک سوار کہہ رہا ہے کہ یہ قافلہ آگے بڑھ رہا ہے اور موت اس کا تعاقب کر رہی ہے۔ میرے لعل! یہ ہماری شہادت کی خبر ہے"۔*
دلوں کو تھام لیجئے! ایک مظلوم باپ اپنے ۱۸ سالہ کڑیل جوان کو کہہ رہا ہے کہ تم مرنے والے ہو! لیکن علی اکبرؑ کا جواب سنئے، جوان نے مسکرا کر پوچھا: *"بابا جان! کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟"* امامؑ نے فرمایا: *"ہاں بیٹا! ہم حق پر ہیں"*۔ علی اکبرؑ نے عرض کیا: *"بابا! تو پھر ہمیں موت کی کوئی پرواہ نہیں، چاہے موت ہم پر آ گرے یا ہم موت پر جا پڑیں"۔*
آہ! یکم محرم کا دن اسی غربت اور سائے میں گزرا۔ امامؑ نے اپنے صحابہ کو جمع کر کے فرما دیا تھا کہ: *’’میں موت کو سعادت اور ظالموں کے ساتھ جینے کو ذلت سمجھتا ہوں‘‘*۔ صحابہ نے بھی وفاداری کی قسمیں کھائیں، لیکن بیبیوں کے دلوں کا اضطراب بڑھتا جا رہا تھا۔ یکم محرم کا سورج جب غروب ہو رہا تھا، تو آلِ محمدؐ کے خیموں میں ایک عجیب خاموشی اور حزن و ملال کا سماں تھا۔ پانی کا ذخیرہ ختم ہو رہا تھا، دشمن کی تعداد بڑھ رہی تھی، اور غریبِ وطن تپتے ہوئے دشت میں اپنی آخری منزلِ کربلا کی طرف بڑھ رہا تھا، جہاں اگلے ہی دن یعنی ۲ محرم کو اس مظلوم قافلے کے خیمے اکھاڑ کر چٹیل زمین پر لگا دیے جانے تھے۔
**أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ۔**
**صلی اللہ علیک یا مظلوم یا ابا عبداللہ الحسینؑ۔**
*فیس بک کے لیے ہیش ٹیگز:*
#محرم۱۴۴۸ #کربلا

انشاءاللہ
17/06/2026

انشاءاللہ

Address

مجلس دربار بابا شہید بادشاہ کبیل نزد چک شیعاں گوجر خان
Gujar Khan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ہائے معصومہ ہائے شام ہائے معصومہ ہائے زندان posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category