11/01/2026
موضوع: الیکشن سے فرار کے بے بنیاد الزام کے خلاف حقائق پر مبنی مؤقف
میں، سید مبشر حسین، بطور امیدوار جنرل سیکریٹری، تاجر ویلفیئر گروپ، تاجر برادری اور معزز صحافیوں کے سامنے یہ وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ ہمارے مخالف گروپ تاجر تحفظ گروپ کی جانب سے یہ کہنا کہ تاجر ویلفیئر گروپ الیکشن سے بھاگ رہا ہے، سراسر بے بنیاد، گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ تاجر تحفظ گروپ کو الیکشن سے باہر کرنے کا فیصلہ تاجر ویلفیئر گروپ نے نہیں بلکہ الیکشن بورڈ نے ضابطۂ اخلاق اور تحریری شواہد کی بنیاد پر کیا۔
الیکشن بورڈ کے سامنے یہ بات واضح طور پر ثابت ہوئی کہ تاجر تحفظ گروپ:
1. ضابطۂ اخلاق کے شک نمبر 02 پر پورا نہیں اترا، جس کے مطابق الیکشن لڑنے کے لیے امیدوار کا کم از کم تین سالہ باقاعدہ تاجر ہونا لازمی ہے، جبکہ مطلوبہ مدت اور قابلِ قبول ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔
2. ضابطۂ اخلاق کے شک نمبر 06 کی بھی صریح خلاف ورزی کی گئی، جس میں واضح طور پر درج ہے:
ون بزنس، ون ووٹ، ون شٹر
مگر عملی صورتحال اس کے برعکس پائی گئی۔
3. سب سے سنگین اور ناقابلِ تردید حقیقت یہ ہے کہ تاجر تحفظ گروپ نے الیکشن میں حصہ لینے کے لیے الیکشن بورڈ کے ضابطۂ اخلاق پر دستخط ہی نہیں کیے، جو انتخابی قوانین کے تحت ایک بنیادی اور ناقابلِ معافی خلاف ورزی ہے۔
ان تمام حقائق کی بنیاد پر الیکشن بورڈ نے اپنے آئینی و انتظامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے تاجر تحفظ گروپ کو نااہل قرار دیا۔
اس قانونی فیصلے کے بعد الیکشن سے باہر ہونے کے عمل کو “الیکشن سے بھاگنا” قرار دینا درحقیقت اپنی نااہلی کو چھپانے کی ناکام کوشش ہے۔ ہم واضح الفاظ میں یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں کہ:
الیکشن سے کوئی نہیں بھاگا، بلکہ قانون نے ان لوگوں کو روکا جو قانون پر پورا نہیں اترتے تھے۔
تاجر ویلفیئر گروپ اور میں بطور امیدوار جنرل سیکریٹری آج بھی شفاف، منصفانہ اور ضابطے کے مطابق الیکشن کے حامی ہیں، مگر قانون شکنی، غلط بیانی اور غیر قانونی دباؤ کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
ہم سمجھتے ہیں کہ تاجر برادری کا مستقبل شور، الزامات اور غیر ذمہ دارانہ بیانات میں نہیں بلکہ قانون، اصول اور شفافیت میں ہے، اور ہم اسی مؤقف پر مضبوطی سے قائم ہیں۔
⸻امیدوار برائے جنرل سیکرٹری تاجر ویلفیئر گروپ سید مبشر حسین شاہ