15/04/2026
*چینی|SUGER*
پاکستان میں رواں سیزن کے دوران چینی کی پیداوار اور دستیابی کے اعداد و شمار واضح طور پر ایک بڑے سرپلس کی نشاندہی کرتے ہیں۔ گنے سے تقریباً 76 لاکھ ٹن، چقندر سے 1 لاکھ ٹن، کیری فارورڈ 1 لاکھ ٹن اور امپورٹ 1 لاکھ ٹن ملا کر کل دستیاب چینی تقریباً 79 لاکھ ٹن بنتی ہے۔ اس کے مقابلے میں ملک کی سالانہ کھپت تقریباً 65 لاکھ ٹن ہے، جس کے مطابق قریباً 14 لاکھ ٹن چینی زائد بچتی ہے۔اگر 1 سے 2 لاکھ ٹن چینی برآمد بھی کر دی جائے تو بھی تقریباً 11 سے 12 لاکھ ٹن چینی ملک میں باقی رہے گی۔ اس طرح پورے سیزن میں جتنی بھی ایکسپورٹ ہوگی وہ مجموعی سرپلس 14 لاکھ ٹن سے کم ہی رہے گی۔موجودہ صورتحال میں واضح ہے کہ مارکیٹ میں چینی کی سپلائی زیادہ ہے، جس کی وجہ سے ریٹس پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔ مستقبل میں مارکیٹ کی سمت کا دارومدار ایکسپورٹ پالیسی اور مقامی طلب پر ہوگا، تاہم موجودہ اعداد و شمار کے مطابق چینی کا سرپلس بالکل واضح ہے۔
نوٹ )
اس طرح کی خبر فری میں کوئی بھی نہیں دیتا اپ کو کسی نہ کسی واٹس ایپ کے پیڈ گروپ میں جانا پڑتا ہے
روزانہ فری اپڈیٹ حاصل کرنے کے لیے ہمارے پیج کو لائیک ,فالو اور شئر
(ضرور کریں
شکریہ