28/06/2026
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق اوپنر اور کوچ محسن حسن خان اور بالی ووڈ کی معروف اداکارہ رینا رائے کی شادی 1980ء کی دہائی کی مقبول ترین اور سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والی شادیوں میں سے ایک تھی۔ یہ کھیل اور فلمی دنیا کے ملاپ کی ایک ایسی داستان ہے جس نے اس دور میں دونوں ممالک کے میڈیا اور عوام کی بھرپور توجہ حاصل کی۔
رینا رائے اس وقت بھارتی سنیما کی ایک صفِ اول کی سٹار تھیں، جبکہ محسن خان پاکستان کرکٹ ٹیم کے ایک اسٹائلش اور مایہ ناز بلے باز تھے۔ دونوں کی ملاقاتیں ہوئیں جو محبت میں بدل گئیں اور انہوں نے 1983ء میں کراچی میں ایک نجی تقریب میں شادی کر لی۔ شادی کے بعد رینا رائے نے اپنے عروج پر پہنچے ہوئے فلمی کریئر کو خیرباد کہہ دیا اور پاکستان منتقل ہو گئیں۔
شادی کے بعد محسن خان نے خود بھی کرکٹ سے دوری اختیار کر لی اور فلمی دنیا میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے بھارتی فلم انڈسٹری (بالی ووڈ) میں قدم رکھا اور چند فلموں میں کام کیا، جن میں جے پی دتا کی فلم بٹوارہ (1989ء) اور مہیش بھٹ کی فلم ساتھی (1991ء) نمایاں ہیں۔
ان کے ہاں ایک بیٹی کی پیدائش ہوئی، جس کا نام انہوں نے جنت رکھا تھا (جسے بعد میں رینا رائے نے بدل کر صنم رکھ دیا)۔
وقت کے ساتھ ساتھ دونوں کے درمیاں اختلافات اور رہائش کے فیصلے پر نظریاتی دوریاں پیدا ہو گئیں۔ محسن خان اپنے خاندان کے ساتھ کراچی میں رہنا چاہتے تھے جبکہ رینا رائے کا دل ممبئی میں زیادہ لگتا تھا۔ انھی اختلافات کے باعث 1990ء کی دہائی کے آغاز میں ان کے درمیان طلاق ہو گئی۔
طلاق کے بعد شروع میں بیٹی کی کسٹڈی محسن خان کو ملی تھی اور صنم پاکستان میں ہی رہیں۔ تاہم، بعد میں جب محسن خان نے دوسری شادی کی، تو صنم کی پرورش کا حق رینا رائے کو مل گیا اور وہ اپنی بیٹی کو لے کر مستقل طور پر ممبئی منتقل ہو گئیں۔
آج بھی دونوں شخصیات ایک دوسرے کا انتہائی احترام کرتی ہیں۔ مختلف انٹرویوز میں محسن خان اور رینا رائے دونوں نے ہمیشہ ایک دوسرے کے بارے میں اچھے الفاظ کا استعمال کیا اور اپنی شادی کے ختم ہونے کی وجہ کسی دشمنی کو نہیں بلکہ حالات اور ترجیحات کے فرق کو قرار دیا۔
The marriage of Mohsin Hasan Khan, the former opener and coach of the Pakistan cricket team, and Reena Roy, the renowned Bollywood actress, was one of the most popular and widely discussed weddings of the 1980s. It was a classic tale of sports meeting cinema, capturing the immense attention of the media and the public in both nations during that era.
At the time, Reena Roy was a leading superstar of Indian cinema, while Mohsin Khan was a stylish and outstanding batsman for the Pakistan cricket team. Their meetings eventually blossomed into love, leading to a private wedding ceremony in Karachi in 1983. Following the marriage, Reena Roy bid farewell to her acting career at the peak of her success and relocated to Pakistan.
Mohsin Khan also distanced himself from cricket and decided to try his luck in the film industry. He stepped into Bollywood and acted in several films, most notably J.P. Dutta's Batwara (1989) and Mahesh Bhatt's Saathi (1991).
The couple was blessed with a daughter whom they initially named Jannat (later renamed Sanam by Reena Roy).
With time, cultural differences and conflicting views over their permanent residence began to create a rift between them. Mohsin Khan wished to live with his family in Karachi, whereas Reena Roy's heart remained tied to Mumbai. These growing differences ultimately led to their divorce in the early 1990s.
Initially, the custody of their daughter was granted to Mohsin Khan, and Sanam remained in Pakistan. However, after Mohsin Khan remarried, custody was transitioned to Reena Roy, who then permanently moved back to Mumbai with her daughter.
To this day, both personalities maintain the utmost respect for one another. In various interviews, Mohsin Khan and Reena Roy have always spoken fondly of each other, attributing the end of their marriage not to any animosity, but purely to differences in circumstances and priorities.