07/10/2025
"اجنبیوں کو اپنے گھر کی خوشبو نہ سونگھنے دیں!"
ہمارے گاؤں میں ایک شخص "گاما" ہوا کرتا تھا۔ جب بھی اُس کا دل کسی خاص چیز کھانے کو چاہتا، خاص طور پر صبح کی چائے اور پراٹھے، تو وہ چند مخصوص گھروں کا رخ کرتا۔
وہ صبح سویرے کسی گھر کے باہر جا کھڑا ہوتا اور جھاڑو دیتی عورت کو دور سے آواز دیتا:
"نیک بخت! تم نے زندگی بھر محنت کی ہے۔ تم جیسی عورت کی قدر نہیں کی گئی، یہ گھر تم نے سنوارا، یہ تمہاری عظمت ہے!"
پھر شوہر کی طرف مڑ کر کہتا: "تم خوش نصیب ہو کہ تمہیں ایسی بیوی ملی!"
یہ سن کر بیوی، شوہر کی شکایتوں کا دفتر کھول دیتی، اور گاما ماتھے پر ہاتھ رکھ کر ہمدردی ظاہر کرتا۔
خاتون پھر ہاتھ دھو کر پوچھتی: "چائے پیو گے؟"
گاما مسکرا کر کہتا: "صرف چائے؟ نہیں، تمہارے ہاتھ کے پراٹھے تو آج بھی یاد ہیں، لیکن تم تھکی ہوئی لگ رہی ہو، اس لیے زحمت نہ دو۔"
اور پھر تعریفوں کی مٹھاس میں لپٹے ہوئے، خاتون لذیذ پراٹھے اور چائے لے آتی۔ گاما مزے سے کھاتا، چادر جھاڑتا اور اگلے شکار کی طرف نکل جاتا۔
بعد میں وہی دو پراٹھے ایسے تنازعے اور بداعتمادی کا بیج بو جاتے کہ کئی ماہ، کئی سال تک ان گھروں میں رنجشیں، بدگمانیاں اور تلخیاں جنم لیتیں۔
بدقسمتی سے، آج بھی ہمارے معاشرے، بلکہ تعلیم یافتہ خاندانوں میں ایسے ہی "گامے" موجود ہیں۔ وہ لوگ جو بظاہر ہمدرد بنتے ہیں، مگر اندر ہی اندر خوشحال گھروں میں زہر گھولتے ہیں۔
شادی صرف ایک تقریب نہیں بلکہ ایک خاندان، ایک نسل، ایک نظام کو آگے لے جانے کی کوشش ہے۔ اس میں زندگی کے اتنے نشیب و فراز آتے ہیں کہ صرف سچے جذبے، سمجھداری، اور ایک دوسرے کا ساتھ ہی ان کا حل ہوتا ہے۔
لیکن کچھ لوگ محض اپنے وقتی فائدے، زبان کی چٹخارے یا دوسروں کو کمتر دکھانے کی ہوس میں کسی کے ذاتی معاملات میں دخل دیتے ہیں اور بے خبری میں وہ دراڑ ڈال جاتے ہیں جو برسوں کی محنت سے بنی دیوار کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔
یہ "مخلص رشتہ دار" یا "پیارے دوست" کے روپ میں آتے ہیں، ہنستے ہیں، مشورے دیتے ہیں، اور جب جاتے ہیں تو پیچھے صرف بداعتمادی، پریشانی اور ٹوٹ پھوٹ چھوڑ جاتے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ ہم اکثر سچ کو "بدتمیزی" سمجھتے ہیں، اور منافقت کو شرافت کا لبادہ پہنا دیتے ہیں۔ ہم مغرب کی مثالیں تو دیتے ہیں، مگر نہ ان جیسا نظم و ضبط اپناتے ہیں، اور نہ ہی اپنے مذہب کی اصل تعلیمات پر چلتے ہیں۔
یاد رکھیں، ایک خاندان کی مضبوطی صرف پیسوں یا تعلیم سے نہیں بلکہ اس بات پر ہے کہ کون سے لوگ آپ کے آس پاس بیٹھتے ہیں، کس کو آپ دل کی بات سناتے ہیں، اور کس کو آپ اپنے کچن کی خوشبو محسوس کرنے دیتے ہیں۔
اگر وقت پر ہم نے یہ فیصلہ نہ کیا کہ کس کو اپنے گھر کے اندر آنے دینا ہے، تو پھر ہمیں یہ شکایت بھی نہ ہو کہ ہانڈی کیوں خراب ہو گئی۔
اس لیے وقت رہتے احتیاط کریں۔ کیونکہ بعض لوگ صرف دو پراٹھوں کی قیمت پر آپ کا سکون، عزت، اور گھر برباد کر سکتے ہیں..!