Red Line Pakistan TV

Red Line Pakistan TV "Welcome to Red Line Pakistan Tv -
Your Source for Global Insights! Family Vlog Channel ��

امر۔یکہ نے ایران کے اندر فسادات کو ہوا دینے کے لیے ایلون مسک کی اسٹار لنک سٹلائیٹس کو سائبر وارئیرز کے لیے انٹرنیٹ فراہم...
18/01/2026

امر۔یکہ نے ایران کے اندر فسادات کو ہوا دینے کے لیے ایلون مسک کی اسٹار لنک سٹلائیٹس کو سائبر وارئیرز کے لیے انٹرنیٹ فراہم کرنے پر لگایا۔ آسمان میں ہزاروں سیٹلائیٹس بچھائے گئے، جیسے کسی نے زمین کے اوپر ایک ڈیجیٹل جال تان دیا ہو، تاکہ ایران کے اندر بیٹھے لوگ براہِ راست امریکی سرورز سے جڑ سکیں، اپنے نیٹ ورک کو بائی پاس کر کے ویڈیوز، پیغامات اور سائبر حملے جاری رکھ سکیں۔

ایران نے فوراً فریکوئنسی جام کی، سگنلز دبانے کی کوشش کی، الیکٹرانک وارفیئر متحرک کی۔ مگر پہلے تین دن تک، ساری کوششوں کے باوجود، ایران صرف بیس فیصد سگنلز ہی جیم کر سکا۔ اسٹار لنک کسی ہائیڈرا کی طرح تھا، ایک لنک گرتا تو دوسرا کھڑا ہو جاتا۔ امریکی نیٹ ورک بدستور چلتا رہا اور ایران کے اندر ڈیجیٹل محاذ گرم رہا۔

پھر اچانک کچھ ایسا ہوا جسے دنیا نے کھلے آنکھوں نہیں دیکھا۔ پردے کے پیچھے ایک نیا باب کھلا۔ ایک ایسی طاقت خاموشی سے میدان میں اتری جس نے فریکوئنسیوں کا نقشہ پڑھا، سیٹلائیٹ راستے ٹریس کیے، اور الیکٹرانک وار کو ایک نئے درجے پر پہنچا دیا۔ کوئی اعلان نہیں ہوا، کوئی شور نہیں مچا، مگر آسمان میں کچھ بدل چکا تھا۔

اگلے ہی لمحے ایران میں صرف مقامی انٹرنیٹ ہی نہیں بلکہ ایلون مسک کی آٹھ ہزار اسٹار لنک سٹلائیٹس کے سگنلز بھی لڑکھڑانے لگے۔ وہ نیٹ ورک جو تین دن تک ناقابلِ شکست دکھائی دے رہا تھا، اچانک اندھا ہونے لگا۔ لائیو کنکشن ٹوٹ گئے، سائبر چینلز خاموش ہو گئے، اور آسمان سے آنے والی ڈیجیٹل سپلائی کٹنے لگی۔

تب دنیا کو اندازہ ہوا کہ ایران اب صرف زمینی طاقت نہیں رہا۔ وہ اس مقام تک پہنچ چکا ہے جہاں وہ امریکی سیٹلائیٹ سگنلز تک کو جیم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، وہ بھی چند دنوں کے اندر۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا، یہ ایک پیغام تھا۔

کہ آنے والی جنگیں ٹینکوں اور میزائلوں سے نہیں، بلکہ فریکوئنسیوں، سیٹلائیٹس اور ڈیجیٹل لہروں پر لڑی جائیں گی۔ اور اس جنگ میں کچھ طاقتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو نام لیے بغیر، خاموشی سے، پورا توازن بدل دیتی ہیں۔

1 نومبر 1922ء کو سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا۔ یہ وہ عظیم سلطنت تھی جو تقریباً 623 سال تک قائم رہی اور تین براعظموں ایشیا،...
05/11/2025

1 نومبر 1922ء کو سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا۔ یہ وہ عظیم سلطنت تھی جو تقریباً 623 سال تک قائم رہی اور تین براعظموں ایشیا، یورپ اور افریقہ پر پھیلی ہوئی تھی۔ اس 600 سالہ دور میں عثمانی سلطانوں نے اسلام، انصاف، علم اور تہذیب کو پوری دنیا میں پھیلایا۔ لیکن وقت کے ساتھ دشمنوں کی سازشوں، اندرونی کمزوریوں اور پہلی جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کی وجہ سے سلطنت بہت کمزور ہو گئی۔ جنگ کے بعد مصطفیٰ کمال اتاترک نے انقرہ میں ایک نئی حکومت بنائی اور کہا کہ اب ترکی بادشاہت نہیں بلکہ عوام کی حکومت ہوگی۔ پھر 1 نومبر 1922ء کو ترکی کی اسمبلی نے فیصلہ کیا کہ سلطنت اور خلافت دونوں ختم کر دی جائیں۔ اس کے بعد آخری عثمانی سلطان محمد ششم وحید الدین نے تخت چھوڑا اور ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ یوں ایک عظیم سلطنت ختم ہو گئی۔ مگر خلافت کو عارضی طور ختم نہیں کیا گیا بلکہ ایک علامتی خلیفہ عبد المجید کو مقرر کیا گیا تا کہ مسلمانوں میں غصہ نہ پھیلے۔ مگر پھر 3 مارچ 1924ء کو مصطفیٰ کمال اتاترک کی حکومت نے خلافت عثمانیہ کو بھی ختم کر دیا۔ اسی کے ساتھ اسلامی خلافت کا وہ طویل اور روشن دور مکمل طور پر ختم ہو گیا جو صدیوں تک امت مسلمہ کو ایک مرکز کے تحت جوڑے رکھتا تھا۔ یہ دن مسلمانوں کے لیے انتہائی دکھ بھرا تھا، کیونکہ خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے ساتھ امت مسلمہ کا عالمی اتحاد بھی ٹوٹ گیا 😢۔

اور امت یتیم ہوگئی اور ظلم وستم کا دور شروع ہوا جو کہ تاحال جاری ہے
😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭

🟠 متحدہ عرب امارات کے پاس ایک بھی سونے کی کان نہیں ہے، پھر بھی یہ دنیا کے سب سے بڑے سونا برآمد کرنے والے ممالک میں شامل ...
04/11/2025

🟠 متحدہ عرب امارات کے پاس ایک بھی سونے کی کان نہیں ہے، پھر بھی یہ دنیا کے سب سے بڑے سونا برآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔

🔶 صرف 2022 میں افریقہ سے دبئی میں 400 ٹن سے زیادہ سونا اسمگل ہوا، جس کی مالیت 30 ارب ڈالر تھی۔

🔶 دبئی میں ہر سونے کی بار خون سے لدی ہے، یہ افریقہ کے زخمی ممالک سے چوری کیا گیا سونا ہے۔

🟠 *ترکیے میں ہاتھ سے لکھا ہوا دنیا کا سب سے بڑا قرآنِ پاک تیار۔* *استنبول : ایک سابق عراقی سنار نے ترکیے میں 6 سال کی مح...
04/11/2025

🟠 *ترکیے میں ہاتھ سے لکھا ہوا دنیا کا سب سے بڑا قرآنِ پاک تیار۔*

*استنبول : ایک سابق عراقی سنار نے ترکیے میں 6 سال کی محنت کے بعد دنیا کا سب سے بڑا ہاتھ سے لکھا ہوا قرآنِ پاک تیار کر لیا ہے، جس کے صفحات کی لمبائی 4 میٹر اور چوڑائی ڈیڑھ میٹر ہے۔*

*ترک میڈیا کے مطابق 1971 میں پیدا ہونے والے علی زمان، جن کا تعلق عراق کے شہر سلیمانیہ سے ہے ، بچپن ہی سے اسلامی خطاطی کے شوقین تھے انہوں نے 2013 میں سنار کا پیشہ چھوڑ کر مکمل طور پر خطاطی کو اپنایا۔*

*2017 میں وہ اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ ترکیے کے شہر استنبول منتقل ہوگئے تاکہ اپنی اس عظیم تخلیق پر کام جاری رکھ سکیں۔*

*علی زمان نے ہاتھ سے دنیاکا سب سے بڑا قرآن پاک تیار کرنے کی ٹھانی اور استنبول کی محرمہ سلطان مسجد کے ایک چھوٹے سے کمرے میں روزانہ کئی گھنٹے کام کرتے رہے۔*

*یہ منصوبہ مکمل طور پر خود فنڈڈ تھا۔ اگرچہ 2023 میں صحت کے مسائل کے باعث انہیں کچھ عرصہ رکنا پڑا، مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔*

*آخر کار اب علی زمان نے 6 سال کی انتھک محنت کے بعد دنیا کا سب سے بڑا ہاتھ سے لکھا ہوا قرآنِ پاک تیار کرلیا ہے۔جسے انہوں نے روایتی (Reed Pen) سے ہاتھ سے تحریر کیا۔قرآن پاک کے صفحات کی لمبائی 4 میٹر اور چوڑائی ڈیڑھ میٹر ہے۔*

*علی زمان نے کسی جدید آلے کا استعمال نہیں کیا بلکہ ہر حرف کو نہایت محنت اور باریکی سے خود لکھا ترک میڈیا کے مطابق یہ قرآنِ پاک دنیا کے سب سے بڑے سابقہ نسخے سے بھی بڑا ہے، جس کی لمبائی تقریباً 2.28 میٹر اور چوڑائی 1.55 میٹر تھی۔*

*علی زمان کو مختلف ممالک جیسے شام، ملائیشیا، عراق اور ترکیہ میں خطاطی کے کئی بین الاقوامی ایوارڈز مل چکے ہیں۔*

*انہیں 2017 میں ترکیے کے انٹرنیشنلHilye-i Serif مقابلے میں صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے “Distinction” ایوارڈ بھی دیا گیا۔*

*علی زمان کا کہنا ہے ایسا کچھ بہترین تخلیق کرنا ایک خوشی کی بات ہے جو بہت کم لوگ کر سکتے ہیں۔*

*انہوں نے بتایاکہ خاندان کا ارادہ ہے کہ قرآن پاک کے اس نسخے کو ترکیہ میں ہی محفوظ رکھا جائے تاکہ یہ اسلامی خطاطی کی تاریخی روایت کو اجاگر کرتا رہے۔*

تحــــــــــریک لبــــــــــیک پاکستان کے رکن شوری سید سرور سیفی صاحب  کی مکمل پریس کانفرنس مذاکراتی ٹیم میں، میں بھی شا...
04/11/2025

تحــــــــــریک لبــــــــــیک پاکستان کے رکن شوری سید سرور سیفی صاحب کی مکمل پریس کانفرنس

مذاکراتی ٹیم میں، میں بھی شامل تھا۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ مذاکرات تو ہوئے ہی نہیں۔ سوشل میڈیا پہ ایک حکومتی نمائندہ کہہ رہا ہے کہ مذاکرات ہوئے ہی نہیں،
جبکہ محسن نقوی کہہ رہا ہے کہ آخری رات تک مذاکرات ہوئے ہیں۔
مذکرات کے بارے میں اگر کسی نے بات کی بھی ہے تو یہی کہ غیر آفیشل مذاکرات "ہوں گے"، تو کیا آپ اس کو مذاکرات کہیں گے؟
مذاکرات تو وہ ہوتے ہیں کہ جب آفیشل ہوں اور بندے با اختیار ہوں۔ جبکہ ان لوگوں کے پاس کوئی اختیار ہی نہیں تھا

: رات کے آخری پہر ہمیں مذاکرات کے لیے بلایا گیا۔ مذاکراتی ٹیم وہاں پر پہنچی مذاکرات کے لیے تو وہاں جو ذمہ داران بیٹھے تھے ان کے ساتھ ہم نے گفتگو شروع کی۔ جب گفتگو شروع کی تو *انہوں نے کہا بس گفتگو اور مذاکرات یہی ہیں کہ آپ فوری طور پر اعلان کریں، مارچ کو ختم کریں اور جائیں۔

ہم نے کہا آپ نے ہمارے اتنے بندے شــــــــــہید کر دیئے، ہمارا جرم کیا تھا؟
ہم تو صرف اظہار یکجہتی کے لیے نکلے تھے۔ ہم نے نہ کوئی لڑائی والی بات کی ہے نہ کوئی ایسا معاملہ ۔

جب ہم نے ان کی صورتحال دیکھی کہ یہ تو کسی بات پہ نہیں آ رہے تو ہم نے کوشش کی کہ شاید ہم ان کو بات سمجھانے میں کامیاب ہو جائیں۔ ہم نے ان سے کہا کہ بھئی ہمارا امریکہ ایمبیسی کوئی جانا ضروری نہیں ہے، یہ کوئی فرض واجب بھی نہیں ہے۔ اگر جیسے آپ کہہ رہے ہو ملک کے حالات خراب ہیں تو ہم یہیں پر اس کو وائنڈ اپ کر دیتے ہیں۔
قریب تھانوں میں ہمارے بندے ہیں ان کو آپ چھوڑ دیں، ہم شــــــــــہداء کے لیے اور غــــــــــزہ کے شہداء کے لیے فاتحہ شریف پڑھ کر چلے جائیں گے۔


وہ جو مذاکرات کے لیے بیٹھے تھے انہی میں سے ایک بندے نے کہا کہ اس کا تو ہمارے پاس اختیار ہی نہیں ہے۔ اب آپ اندازہ کریں کہ جو مذاکرات کے لیے بیٹھے ہیں ان کے پاس اتنا بھی اختیار نہیں ہے، تو اپ اس کو مذاکرات کہیں گے کیا کہیں گے؟

ہم نے کہا کہ ہمیں آدھے گھنٹے کی مہلت دیں تاکہ ہم اپنے امیر محترم سے بات کر کے واپس آ جائیں تو انہوں نے کہا ٹھیک ہے آپ لوگ جلدی جائیں۔
جب ہم پولیس کے ناکے پر پہنچے تو انہوں نے ہمیں روک لیا، پھر ہم نے مذاکراتی کمیٹی سے رابطہ کیا جس میں ہوم سیکرٹری بھی تھے، چیف سیکرٹری بھی تھے اور بھی ساتھی تھے۔ ہم نے ان سے رابطہ کیا تو پھر انہوں نے فون پہ کسی بندے کو بتایا تو پھر انہوں نے ہمیں جانے دیا۔
مارچ سے چار کلومیٹر دور ہم نے دیکھا کہ ہر طرف فورسز ہی فورسز ہیں ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ یہ پورے ملک پر چڑھائی کرنے والے ہیں۔
یہ بس ایک طرف کی فورسز تھی، آگے جو فورس ہے وہ علیحدہ ہے جو سائیڈوں پہ فورس تھی وہ علیحدہ تھی۔

جب ہم نے فورسز کی ہائی مشینریز دیکھی، ان کے تیور دیکھے تو امیر محترم کو فون کیا اور ان کو بتایا کہ ان کے عزائم بہت خطرناک ہیں۔ یہ کسی صورت نہیں رکیں گے اور ہزاروں لوگوں کو شــــــــــہید کر دیں گے۔
تو امیر محترم نے ہمیں کہا کہ آپ لوگوں کو اختیار ہے آپ جو فیصلہ کریں گے وہ من و عن قبول کیا جائے گا۔

امیر محترم نے کنٹینر پر اعلان فرمایا اور حضرت علامہ مولانا فاروق الحسن صاحب جو کہ رکن شوریٰ ہیں انہوں نے بھی اعلان کیا۔ جس اعلان کو پوری دنیا نے سنا۔

ہم نے مذاکراتی کمیٹی سے رابطہ کیا کہ آپ صرف 10 سے 15 منٹ کے لیے فورسز کو پیچھے کر دیں، ہم آپ کے پاس آتے ہیں ہمارے پاس اختیار ہے ہم یہ مارچ ختم کرنے کا اعلان کر دیتے ہیں اتنے میں شیلنگ شروع ہو گئی اور بہت خطرناک طریقے سے انہوں نے شیلنگ شروع کر دی۔

ہم نے مذاکراتی ٹیم کو فون کر کے کہا کہ آپ شیلنگ بند کروائیں۔ ہم آپ کے پاس آ کر بیٹھ کر یہاں سے مارچ ختم کرنے کا اعلان کر دیتے ہیں تو انہوں نے پہلے تو انکار کیا کہ کوئی شیلنگ نہیں ہو رہی پھر اتنی دیر میں فائرنگ بھی شروع ہو گئی اور یہ سب کچھ ہمارے سامنے ہو رہا تھا، فائرنگ ہمارے سامنے ہو رہی تھی، شیلنگ ہمارے سامنے ہو رہی تھی۔ وہاں دھوئیں کے بادل اٹھ رہے تھے
پھر مذاکراتی ٹیم نے کہا کہ اب آپ کو ہمارے پاس آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تو ہم نے کہا کہ صحیح ہے ہم آپ کے ساتھ بیٹھے بغیر ہی سٹیج پر جا کر ختم کر دیتے ہیں۔

ہم نے کہا کہ خدارا! یہ ظلم رکوائیں تو وہ کہنے لگے کہ کچھ نہیں ہو رہا۔ پھر شہادتوں پر شہادتیں ہو گئیں اور انہوں نے ہماری کوئی بھی بات نہیں مانی اور پھر پوری دنیا نے یہ منظر دیکھا کہ کس طرح سفاکانہ اور ظالمانہ طریقے سے انہوں نے لاشیں گرا دی۔

: جو ہمارے لوگ شہید ہوئے وہ یقیناً راہ فلســــــــــطین کے شہداء ہیں اور یہ شہدائے ختمِ نبوّتﷺ ہیں کیونکہ قــــــــــادیانی یہ چاہتے تھے کہ تحریک لبــــــــــیک والوں کی آواز کو بند کر دیا جائے۔

مذاکرات کے دوران بھی مذاکراتی ٹیم کے ایک بندے نے کہا کہ قــــــــــادیانیوں کی راہ میں جو سب سے بڑی رکاوٹ ہے وہ آپ ہیں۔

ہمیں نہیں پتہ تھا کہ کچھ ایسے افراد ،کچھ ایسے قــــــــــادیانی پیچھے ہیں جو پُش کر رہے ہیں اور پنجاب حکومت ہمارے اوپر یہ ظلم کے پہاڑ ڈھا رہی ہے۔

: بہرحال ٹرمپ کو، نیتن یاہو کو خوش کرنے کے لیے اور قــــــــــادیانیوں کو خوش کرنے کے لیے یہ سب کچھ کیا گیا۔ تحریک لبــــــــــیک یا رسول اللہ پاکستان کا قتل عام کیا گیا۔ اللہ رب العزت تمام کارکنان کو محفوظ رکھے اور اللہ تبارک و تعالی حفاظت فرمائے۔


ہم تو اہل فلســــــــــطین کے لیے اخلاص کے ساتھ درود و سلام پڑھتے ہوئے نکلے تھے اور میں مسلمانوں کو یہ کہوں گا۔ اب کوئی کافــــــــــر یہ نہیں کہے گا کہ مسلمانوں اٹھو! شرم کرو میدان عمل میں آؤ اور آ کے دنیا کو بتاؤ کہ ٹرمپ نے پہلے بھی ایک معاہدہ کروایا تھا اور پھر اس معاہدے سے مکر گئے اب دوبارہ یہ جو معاہدہ ہوا ہے آپ اتنا احتجاج کرتے، میدان عمل میں آتے تاکہ دوبارہ اس معاہدے سے پھر نا جاتے۔
لیکن آج دیکھ لیں آج بھی وہ معاہدے سے پھر گئے، انہوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کر دی۔

: میں یہ پوری پاکستانی قوم سے کہوں گا کہ وہ مرتے دم تک اس خــــــــــون لیگ سے یہ سوال کرتے رہیں کہ جو غــــــــــزہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے نکلے تھے ان کا خون تم نے کیوں بہایا؟
تم نے گولی کیوں چلائی؟
آخر کیا جرم تھا ان لوگوں کا کہ جن کے پاس کوئی اسلحہ نہیں تھا،لیکن تم ان پر سیدھی گولیاں برساتے رہے ہو؟
یہ فقط ٹرمپ اور نیتن یاہو کی خوشنودی کے لیے کیا گیا ہے۔

: اب بھی اگر تم میں شرم ہے اور اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے تو شہداء ہمارے حوالے کر دو اور اعلان کرو کہ ہم اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے اور ہزاروں مسلمانوں کا قــــــــــاتل ٹرمپ اور نیتن یاہو کی مذمت میں اسمبلی میں قرارداد پیش کرو کیونکہ دوسری بار ٹرمپ اور نیتن یاہو نے امن معاہدے کی دھجیاں اڑا دی ہیں اور مسلمانوں کا قتل عام شروع کر دیا ہے۔

تحــــــــــریک لبــــــــــیک یا رسول اللہ پاکستان کے کارکنان سے یہ کہوں گا کہ اللہ رب العزت سے کامل امید رکھیں۔ انشاءاللہ العزیز وقت ضرور بدلے گا اور جب یہ وقت کا پہیہ گھومے گا تو ان شاءاللہ العزیز یہی ظالم شکنجے میں آئیں گے۔

آخر میں میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ جنہوں نے ہمارے شہداء کو یاد رکھا، ایصال ثواب کیا۔ بالخصوص میں شکریہ ادا کرنا چاہوں گا مفتی اعظم پاکستان استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی منیب الرحمن صاحب اور ان کی پوری ٹیم اور تمام تنظیمات اہل سنت بالخصوص استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا پیر سید مظہر سعید کاظمی صاحب، حضرت علامہ مولانا قاری زوار بہادر صاحب، سینیٹر حافظ محمد مشتاق صاحب، تمام صحافی برادران تمام وکلاء اور علمائے اہلسنت اور عوام اہل سنت کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ وزیراعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی صاحب کاجنہوں نے اسمبلی فلور پر شہداء کو یاد رکھا اور انہیں ایصال ثواب کیا۔

: اسی طرح جس کسی نے بھی ہم مظلوموں کے حق میں آواز اٹھائی اور قــــــــــاتل نواز حکومت کی مذمت کی ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ قــــــــــاتل حکومت کے خلاف شہدائے ختم نبوّتﷺ اور شہدائے فلســــــــــطین کے لیے ایک طاقتور آواز بند کر ابھریں گے تاکہ قــــــــــاتل حکومت سے حساب لیا جا سکے کہ گولی کیوں چلائی۔؟

میں تحریک لبــــــــــیک پاکستان کے کارکنان سے کہوں گا کہ اپنے آپ کو محفوظ رکھیں اور اس بات کا پختہ یقین رکھیں کہ جن مالکوں کا ہم کام کرتے ہیں وہ ہمیں بے آسرا نہیں چھوڑیں گے۔

انہیںﷺ جانا انہیںﷺ مانا نہ رکھا غیر سے کام
للہ الحمد کہ میں دنیا سے مسلمان گیا

ہمارے ساتھ کوئی مزاکرات نہیں ہوئے اس کے باوجود ہم مارچ ختم کرنے لگے تھے لیکن ہمیں مارچ ختم نہیں کرنے دیا گیا ۔

رکن شوری تحریک لبــــــــــیک پاکستان
سیدسرور شاہ سیفی

اس پریس کانفرنس کو ہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کریں فیسبک پر شیئر کریں فیسبک کی طرف سے کوئی وارننگ نہیں آئے گی

حقیقت کی تلاش

‏دو جرنیلوں کی ہوس اقتدار اور معدنیات کے لالچ نے سونا معدنیات سے مالامال سوڈان کو لہولہان کر دیا۔سوڈانی فوج (SAF) کا ڈکٹ...
04/11/2025

‏دو جرنیلوں کی ہوس اقتدار اور معدنیات کے لالچ نے سونا معدنیات سے مالامال سوڈان کو لہولہان کر دیا۔
سوڈانی فوج (SAF) کا ڈکٹیٹر جرنیل عبدالفتاح برہان اور فوج کے ذیلی ادارے ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کا سفاک جرنیل حمدان دقلو المعروف حمیدتی

⚔️ یہ لڑائی اقتدار، وسائل اور عسکری ساخت کے کنٹرول کی ہے: 2013 میں صدر عمر البشیر کے حکم پر تشکیل دی گئی، بعدازاں اس فورسRSF کو فوج میں ضم کرنے کا منصوبہ تھا مگر تب تک RSF غیر قانونی طور پر سونا، قیمتی معدنیات نکالنے اور ملک کے وسائل پر قابض مسلح گروہ بن چکا تھا جس سے تصادم شدت اختیار کر گیا۔
جرنیلوں کی ہوس اقتدار، سونے اور معدنیات کا حصول، نسلی، علاقائی تنازعات اور عرب ممالک کے مفادات نے اس کو مزید بگاڑ دیا ھے
🌐 عرب ممالک اور دیگر طاقتوں کا کردار:
متحدہ عرب امارات سوڈان سے سستا سونا اور قیمتی معدنیات حاصل کرنے کے بدلےRSF کو ہتھیار، ڈرون، فنڈز اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کر رہا ھے
۔🇸🇦 سعودی عرب جنرل برہان کی فوجی حکومت (SAF) کو سپورٹ کرتا ھے، سعودی عرب کو بحرِ احمر کے ساحل اور دریائے نیل پانی کے مفادات عزیز ہیں

۔ 🇪🇬 مصر بھی ڈکٹیٹر برہان کی فوج (SAF) کی حمایت کرتا ہے، نیل کے پانی، سرحدی تحفظ اور داخلی سیاسی کنٹرول مصر کے مفادات ہیں
ان دو جرنیلوں اور عرب ممالک کے شیطانی کھیل کی وجہ سے اب تک ڈھائی لاکھ سے زائد افراد ہلاک اور لاکھوں بےگھر ہو چکے ہیں جنہیں خوراک اور ادویات بھی میسر نہیں
صرف ریاستِ خَرطُوم (Khartoum State) میں کم از کم 61,000 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں سے تقریباً 26,000 ہلاکتیں براہِ راست تشدد کی وجہ سے تھیں۔

مسلمانوں کے خلاف انگریزوں کی سازشیں جو آج یہ پاکستان کے ظالم حکمران پوری کر رہے ہیں
03/11/2025

مسلمانوں کے خلاف انگریزوں کی سازشیں جو آج یہ پاکستان کے ظالم حکمران پوری کر رہے ہیں

کراچی والے انعام کے حقدار ہیں۔ نبیل ظفر
02/11/2025

کراچی والے انعام کے حقدار ہیں۔
نبیل ظفر

ننگے پاؤں درخت کو چھونا  ایک تجربہ جو صرف 15 منٹ میں آپ کی زندگی بدل سکتا ہے کیا آپ نے کبھی ننگے پاؤں زمین پر چل کر کسی ...
01/11/2025

ننگے پاؤں درخت کو چھونا ایک تجربہ جو صرف 15 منٹ میں آپ کی زندگی بدل سکتا ہے
کیا آپ نے کبھی ننگے پاؤں زمین پر چل کر کسی درخت کے تنے کو چھوا ہے؟
اگر نہیں، تو شاید آپ نے فطرت کی سب سے گہری طاقت کو ابھی تک محسوس ہی نہیں کیا۔
یہ محض ایک روحانی تجربہ نہیں — بلکہ ایک سائنسی حقیقت ہے کہ درختوں اور زمین سے براہِ راست رابطہ انسان کے جسم، دماغ اور روح پر حیرت انگیز اثرات ڈالتا ہے۔
جب آپ ننگے پاؤں کسی درخت کے نیچے کھڑے ہوتے ہیں، تو آپ کا جسم زمین کی قدرتی توانائی (Earth Energy) کو جذب کرتا ہے۔ یہ وہی توانائی ہے جو صدیوں سے انسان، جانور اور پودوں کے درمیان زندگی کا توازن برقرار رکھے ہوئے ہے۔
درخت نہ صرف ہمیں آکسیجن دیتے ہیں بلکہ وہ ہماری منفی توانائی، ذہنی دباؤ اور تھکن کو بھی جذب کر لیتے ہیں — جیسے کوئی قریبی دوست ہمارے دکھ سن کر بوجھ ہلکا کر دیتا ہے۔
درخت کو چھونے کا عمل صرف جسمانی رابطہ نہیں بلکہ ایک روحانی گفتگو ہے۔
جب آپ اپنی ہتھیلیاں درخت کے کھردرے تنے پر رکھتے ہیں، تو آپ اس کی دھڑکن کو محسوس کر سکتے ہیں — ایک خاموش مگر جاندار دھڑکن جو زمین کے اندر سے آتی ہے۔
یہ دھڑکن آپ کے دل کی دھڑکن کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتی ہے، اور چند منٹوں میں آپ کے اندر ایک غیر معمولی سکون، شکرگزاری اور جینے کی نئی لہر دوڑنے لگتی ہے۔
تحقیقات کے مطابق، ننگے پاؤں زمین سے جڑنے (Earthing) سے جسم میں Cortisol کی سطح کم ہوتی ہے، دل کی دھڑکن متوازن رہتی ہے، نیند بہتر ہوتی ہے، اور انسان کا موڈ حیرت انگیز طور پر خوشگوار بن جاتا ہے۔
اور جب آپ کسی درخت کے ساتھ یہ لمحہ گزارتے ہیں، تو آپ فطرت کے ساتھ وہ بندھن دوبارہ جوڑ لیتے ہیں جو جدید زندگی کی مصروفیات نے توڑ دیا ہے۔
انسان اور درخت کا رشتہ صدیوں پرانا ہے۔
درخت نے ہمیشہ ہمیں سایہ، آکسیجن، لکڑی، پھل اور دوائیں دیں — مگر آج کے انسان نے فطرت سے اپنا رشتہ کمزور کر لیا ہے۔
ہم اینٹوں کے شہروں میں قید ہیں، مصنوعی ہوا میں سانس لیتے ہیں، اور اپنی روح کو اس قدرتی سکون سے محروم کر بیٹھے ہیں جو درخت ہمیں بلا شرط دیتے ہیں۔
اگر آپ روز صرف 15 منٹ ننگے پاؤں درخت کے ساتھ گزاریں تو یقین کیجیے، آپ کا جسم ہلکا، ذہن پرسکون، اور دل شکر سے لبریز ہو جائے گا۔
درخت کو گلے لگائیے، اس سے بات کیجیے، اور محسوس کیجیے کہ یہ فطرت آپ سے کتنی محبت کرتی ہے۔
درخت صرف زمین کے پودے نہیں، بلکہ انسان کے دل کے مرہم ہیں۔
منقول
#قراةالعین زینب ایڈووکیٹ

1984 کی اس اشتعال انگیز تصویر نے امریکی سیاست کے منظرنامے پر گویا آئینہ رکھ دیا تھا۔ یہ صرف ایک عکس نہیں تھا، بلکہ طاقت،...
31/10/2025

1984 کی اس اشتعال انگیز تصویر نے امریکی سیاست کے منظرنامے پر گویا آئینہ رکھ دیا تھا۔ یہ صرف ایک عکس نہیں تھا، بلکہ طاقت، دولت اور محرومی کی کہانی تھی۔ ایک طرف نفیس سوٹ پہنے شخص، چمچماتی گاڑی کے پاس کھڑا، اور دوسری طرف ایک بے گھر انسان، جس کے پاس نہ چھت تھی، نہ تحفظ۔ یہ منظر کسی ناول کا منظرنامہ نہیں، بلکہ اُس معاشی فلسفے کی حقیقی تصویر تھا جسے اُس وقت امریکہ کے صدر رونلڈ ریگن "ترقی کا فارمولا" قرار دے رہے تھے۔

ریگن کے معاشی نظریے کو ’’ٹریکل ڈاؤن تھیوری‘‘ کہا جاتا تھا۔ اس کے مطابق امیر افراد اور بڑی کمپنیوں پر ٹیکس میں کمی کی جائے تو وہ سرمایہ کاری کریں گے، کاروبار بڑھے گا، نوکریاں پیدا ہوں گی، اور یوں دولت نیچے کی سطح تک پہنچے گی۔ ایک خواب فروش نعرہ، جو کاغذ پر بہت حسین دکھائی دیتا تھا۔ لیکن حقیقت میں یہ دولت نیچے نہیں، بلکہ اوپر ہی اوپر جمع ہوتی گئی، جیسے پانی کسی پہاڑی چشمے سے بہنے کے بجائے پتھر کی چوٹی پر جم جائے۔

1980 کی دہائی میں امریکہ میں بڑے بینکاروں اور کارپوریٹ مالکان کی دولت بے مثال رفتار سے بڑھی۔ اسٹاک مارکیٹ چمکی، وال اسٹریٹ پر جشن تھا، محلات آباد ہو رہے تھے۔ لیکن سڑکوں پر بے گھر لوگوں کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ رہی تھی۔ سرکاری فلاحی اخراجات کم کر دیے گئے، سماجی پروگرام محدود ہوئے، ذہنی صحت اور رہائش کے منصوبے سکڑ گئے۔ لاکھوں لوگ جنہیں حکومت کے حفاظتی جال نے پکڑنا تھا، وہ براہِ راست فٹ پاتھ پر آ گرے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب معاشی انصاف کا کھوکھلا دعویٰ بے نقاب ہوا۔

یہ پوسٹر محض تصویری طنز نہیں تھا، بلکہ متوسط طبقے اور غریب عوام کی صدا بن گیا۔ اس نے ایک پورے معاشی بیانیے کو چیلنج کیا۔ اس نے بتایا کہ ترقی محض جی ڈی پی کے اعداد و شمار یا اسٹاک مارکیٹ کے اشاروں میں نہیں ہوتی۔ ترقی وہ ہوتی ہے جب معاشرے کے کمزور ترین فرد تک آسائش، وقار اور تحفظ پہنچے۔ جب دولت چند ہاتھوں میں قید ہو جائے اور باقی معاشرہ اُس کی جھلک کے منتظر کھڑا رہے، تو ایسی ترقی صرف اعداد کی فریب کاری بن جاتی ہے۔

آج بھی یہ تصویر ایک سوال بن کر زندہ ہے۔ کیا واقعی دولت اوپر سے نیچے ٹپکتی ہے؟ یا پھر یہ نظریہ اُن لوگوں نے گھڑا تھا جو اپنی دولت کو ’’ترقی کے نام پر‘‘ محفوظ رکھنا چاہتے تھے؟ یہ تصویر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ معاشی پالیسیاں صرف حساب کتاب نہیں ہوتیں، ان کے پیچھے انسانی کہانیاں، خواب اور ٹوٹے ہوئے زندگیوں کی تصویریں چھپی ہوتی ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری صرف سرمایہ بڑھانا نہیں، انسانوں کو عزت دینا بھی ہے۔

یہ پوسٹر آج بھی ہمیں جھنجھوڑتا ہے، اور یہ پیغام دیتا ہے:
معاشیات کا اصل معیار وہ شخص ہے جو سڑک پر بیٹھا آخری امید کے سہارے زندہ رہنے کی کوشش کر رہا ہے۔ معاشرہ تبھی مہذب ہوتا ہے جب اس کے سب سے کمزور انسان کو بھی جینے کا حق ملے، صرف وعدہ نہیں۔

Address

Islamabad
45000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Red Line Pakistan TV posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category