28/03/2026
سوره الانفال ایت نمبر 2۔
«سورة الْاَنْفَال» حاشیہ نمبر :2
یعنی ہر ایسے موقع پر جب کہ کوئی حکم الہٰی آدمی کے سامنے آئے اور وہ اس کی تصدیق کر کے سر اطاعت جھکا دے ، آدمی کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے ۔ ہر اس موقع پر جب کہ کوئی چیز آدمی کی مرضی کے خلاف ، اس کی راۓ اور تصورات و نظریات کے خلاف ، اس کی مانوس عادتوں کے خلاف ، اس کے مفاد اور اس کی لذت و آسائش کے خلاف ، اس کی محبتوں اور دوستیوں کے خلاف اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی ہدایت میں ملے اور آدمی اس کو مان کر فرمان خدا و رسول کو بدلنے کے بجائے اپنے آپ کو بدل ڈالے اور اس کی قبولیت میں تکلیف انگیز کر لے تو اس سے آدمی کے ایمان کو بالیدگی نصیب ہوتی ہے ۔ اس کے برعکس اگر ایسا کرنے میں آدمی دریغ کرے تو اس کے ایمان کی جان نکلنی شروع ہو جاتی ہے ۔ پس معلوم ہوا کہ ایمان کوئی ساکن و جامد چیز نہیں ہے ، اور تصدیق و عدم تصدیق کا بس ایک ہی ایک مرتبہ نہیں ہے کہ اگر آدمی نے نہ مانا تو وہ بس ایک ہی نہ ماننا رہا ، اور اگر اس نے مان لیا تو وہ بھی بس ایک ہی مان لینا ہوا ۔ نہیں ، بلکہ تصدیق اور انکار دونوں میں انحطاط اور نشوونما کی صلاحیت ہے ۔ ہر انکار کی کیفیت گھٹ بھی سکتی ہے اور بڑھ بھی سکتی ہے ۔ اور اسی طرح ہر اقرار و تصدیق میں ارتقاء بھی ہو سکتا ہے اور تنزل بھی ۔ البتہ فقہی احکام کے اعتبار سے نظام تمدن میں حقوق اور حیثیات کا تعین جب کیا جائے گا تو تصدیق اور عدم تصدیق دونوں کے بس ایک ہی مرتبے کا اعتبار کیا جائے گا ۔ اسلامی سوسائٹی میں تمام ماننے والوں کے آئینی حقوق و واجبات یکساں ہوں گے ، خواہ ان کے درمیان ماننے کے مراتب میں کتنا ہی تفاوت ہو ۔ اور سب نہ ماننے والے ایک ہی مرتبے میں ذمی یا حربی یا معاہد و مسالم قرار دیے جائیں گے ، خواہ ان میں کفر کے اعتبار سے مراتب کا کتنا ہی فرق ہو ۔