Nauman official

Nauman official اللہ جو کرتاھے۔ بھترین کرتاھے۔ ��

سوره الانفال ایت نمبر 2۔ «سورة الْاَنْفَال» حاشیہ نمبر :2یعنی ہر ایسے موقع پر جب کہ کوئی حکم الہٰی آدمی کے سامنے آئے اور...
28/03/2026

سوره الانفال ایت نمبر 2۔
«سورة الْاَنْفَال» حاشیہ نمبر :2
یعنی ہر ایسے موقع پر جب کہ کوئی حکم الہٰی آدمی کے سامنے آئے اور وہ اس کی تصدیق کر کے سر اطاعت جھکا دے ، آدمی کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے ۔ ہر اس موقع پر جب کہ کوئی چیز آدمی کی مرضی کے خلاف ، اس کی راۓ اور تصورات و نظریات کے خلاف ، اس کی مانوس عادتوں کے خلاف ، اس کے مفاد اور اس کی لذت و آسائش کے خلاف ، اس کی محبتوں اور دوستیوں کے خلاف اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی ہدایت میں ملے اور آدمی اس کو مان کر فرمان خدا و رسول کو بدلنے کے بجائے اپنے آپ کو بدل ڈالے اور اس کی قبولیت میں تکلیف انگیز کر لے تو اس سے آدمی کے ایمان کو بالیدگی نصیب ہوتی ہے ۔ اس کے برعکس اگر ایسا کرنے میں آدمی دریغ کرے تو اس کے ایمان کی جان نکلنی شروع ہو جاتی ہے ۔ پس معلوم ہوا کہ ایمان کوئی ساکن و جامد چیز نہیں ہے ، اور تصدیق و عدم تصدیق کا بس ایک ہی ایک مرتبہ نہیں ہے کہ اگر آدمی نے نہ مانا تو وہ بس ایک ہی نہ ماننا رہا ، اور اگر اس نے مان لیا تو وہ بھی بس ایک ہی مان لینا ہوا ۔ نہیں ، بلکہ تصدیق اور انکار دونوں میں انحطاط اور نشوونما کی صلاحیت ہے ۔ ہر انکار کی کیفیت گھٹ بھی سکتی ہے اور بڑھ بھی سکتی ہے ۔ اور اسی طرح ہر اقرار و تصدیق میں ارتقاء بھی ہو سکتا ہے اور تنزل بھی ۔ البتہ فقہی احکام کے اعتبار سے نظام تمدن میں حقوق اور حیثیات کا تعین جب کیا جائے گا تو تصدیق اور عدم تصدیق دونوں کے بس ایک ہی مرتبے کا اعتبار کیا جائے گا ۔ اسلامی سوسائٹی میں تمام ماننے والوں کے آئینی حقوق و واجبات یکساں ہوں گے ، خواہ ان کے درمیان ماننے کے مراتب میں کتنا ہی تفاوت ہو ۔ اور سب نہ ماننے والے ایک ہی مرتبے میں ذمی یا حربی یا معاہد و مسالم قرار دیے جائیں گے ، خواہ ان میں کفر کے اعتبار سے مراتب کا کتنا ہی فرق ہو ۔

سورہ یوسف ایت 33 نیچے ایت کی تفسیر موجود ہے دعاؤں میں یاد رکھیں اور اگے شیئر کریں شکریہ(آیت 33) ➊ «قَالَ رَبِّ السِّجْنُ...
27/03/2026

سورہ یوسف ایت 33 نیچے ایت کی تفسیر موجود ہے دعاؤں میں یاد رکھیں اور اگے شیئر کریں شکریہ

(آیت 33) ➊ «قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَيَّ …:» یوسف علیہ السلام کے لیے یہ سخت امتحان کا وقت تھا، ان کے سامنے ایک طرف معصیت، یعنی اللہ کی نافرمانی ہے جس کے نتیجے میں ان کی ہر طرح ناز برداری ہوتی۔ دوسری طرف مصیبت ہے جو قید کی صورت میں ہے اور عزیز مصر کی بیوی قسم کھا کر (لام تاکید اور نون تاکید قسم کا فائدہ دیتے ہیں) اپنی حکم عدولی کی صورت میں قید کروانے کا عزم ظاہر کر رہی ہے۔ اس امتحان میں اللہ کے خاص بندے کبھی معصیت الٰہی کو ترجیح نہیں دیتے، بلکہ مصیبت قبول کرکے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «[ سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللّٰهُ فِيْ ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَ شَابٌّ نَشَأَ فِيْ عِبَادَةِ رَبِّهِ، وَ رَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللّٰهِ اجْتَمَعَا عَلٰی ذٰلِكَ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ طَلَبَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَ جَمَالٍ فَقَالَ اِنِّيْ أَخَافُ اللّٰهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ أَخْفَی حَتّٰی لاَ تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِيْنُهُ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللّٰهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ ] [بخاری، الأذان، باب من جلس فی المسجد ینتظر الصلاۃ…: 660۔ مسلم: 1031 ]» ”سات آدمی ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ اس دن اپنے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہو گا: (1) عادل حکمران۔ (2) وہ نوجوان جس نے اللہ کی عبادت میں نشوو نما پائی۔ (3) وہ آدمی جس کا دل مسجدوں سے اٹکا ہوا ہے۔ (4) وہ دو آدمی جنھوں نے اللہ ہی کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کی، اسی پر جمع ہوئے اور اسی محبت پر جدا ہوئے۔ (5) وہ آدمی جسے کسی اثر و رسوخ اور حسن و جمال والی عورت نے اپنی طرف بلایا مگر اس نے کہا: میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔ (6) وہ آدمی جس نے صدقہ کیا اور اس قدر چھپا کر دیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہوئی کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا دیا۔ (7) وہ آدمی جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہ پڑے۔“ یا اللہ! تو اپنے فضل سے ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرما۔::➋ «” يَدْعُوْنَنِيْۤ “» اور «” كَيْدَهُنَّ “» (جمع مؤنث کے صیغوں) سے پوری مجلس دعوت گناہ دینے کے لیے آراستہ کرنا ثابت ہوتا ہے، جیسا کہ بالتفصیل اوپر گزرا۔ «” اَصْبُ “ ” صَبَا يَصْبُوْ“» سے ہے جس کا معنی مائل ہونا ہے۔ اصل میں «”اَصْبُوْ“» تھا، «” وَ اِلَّا تَصْرِفْ“» کا جواب ہونے کی وجہ سے واؤ گر گئی۔ اس آیت سے دو نہایت اہم سبق ملتے ہیں، ایک یہ کہ اگر اللہ تعالیٰ مدد نہ کرے اور اس کی دستگیری نہ ہو تو کوئی شخص بھی اپنے آپ کو گناہ سے، خصوصاً عورتوں کے فتنے سے نہیں بچا سکتا، دوسرا یہ کہ جب کوئی شخص اپنے علم کے مطابق عمل نہیں کرتا تو وہ اور جاہل برابر ہیں۔ یہ ہے یوسف علیہ السلام کی پیغمبرانہ شان، اپنی طہارت اور پاک دامنی کا قطعاً دعویٰ نہیں کیا، بلکہ اپنے آپ کو حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز قرار دیتے ہوئے یہی فرمایا کہ عفت و پاک دامنی پر ثابت قدم رکھنا اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے، وہ اگر توفیق نہ دے گا تو میں نفس اور شیطان کے فریب میں آ کر گناہ کی طرف مائل ہو جاؤں گا۔

11/05/2025

غزوہ احد میں ایک اہم واقعہ یہی تھا کہ کچھ مسلمان صحابہؓ کو یہ گمان ہوا کہ جنگ ختم ہو چکی ہے اور کفار شکست کھا چکے ہیں۔ خاص طور پر تیراندازوں کا وہ دستہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبلِ احد کے ایک مقام پر تعینات کیا تھا، اُنہیں سختی سے ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اپنی جگہ نہ چھوڑیں، چاہے دشمن جیتے یا ہارے۔

لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمان مالِ غنیمت جمع کر رہے ہیں اور دشمن پسپا ہو چکا ہے، تو ان میں سے اکثر نے یہ سمجھا کہ جنگ ختم ہو گئی ہے، اور وہ اپنی جگہ چھوڑ کر نیچے آ گئے۔ صرف چند افراد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر قائم رہنے کی کوشش کی۔

اسی موقع کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے کفارِ مکہ کے سپہ سالار خالد بن ولید (جو اُس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے) نے پیچھے سے حملہ کیا، جس سے مسلمانوں کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی زخمی ہوئے۔

یہ واقعہ ایک عظیم سبق ہے کہ نبی کی اطاعت اور نظم و ضبط کی پابندی کس قدر اہم ہے، اور وقتی فائدے یا خوش فہمی کیسے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

تھجد کی طاقت💪 ❤❤❤
26/09/2023

تھجد کی طاقت💪 ❤❤❤

Address

Pakistan In Menwali Panjab
Jandawala
Y K

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nauman official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category