09/07/2026
🚨 آخر بھسی اڈا کے عوام کا قصور کیا ہے؟ 🚨
کیا بھسی اڈا کے لوگ انسان نہیں؟ کیا ہمارے بچوں کی نیند، ہمارے بزرگوں کی تکلیف اور ہمارے مریضوں کی زندگیاں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں؟
تحصیل کمالیہ کا نواحی علاقہ بھسی اڈا ہر بار ہلکی سی بارش یا آندھی کے بعد اندھیروں کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ چک نمبر 728 گ ب کے قریب احتیاطی تدبیر کے طور پر بجلی کے جمپر کاٹ دیے جاتے ہیں، مگر افسوس کہ جب موسم معمول پر آ جاتا ہے تو انہیں دوبارہ جوڑنا شاید متعلقہ اہلکار اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتے۔
گزشتہ رات بھی یہی ہوا۔
آندھی تھم گئی، بارش رک گئی، گرد و نواح کے تمام علاقوں میں رات تقریباً 10 بجے بجلی بحال ہو گئی، مگر بھسی اڈا اور اس سے ملحقہ درجنوں آبادیوں کے ہزاروں لوگ پوری رات اندھیرے میں سسکتے رہے۔
شدید گرمی، حبس اور مچھروں کے باعث معصوم بچے روتے رہے، مائیں ہاتھ کے پنکھے جھلتے جھلتے تھک گئیں، بزرگ پسینے میں شرابور بے بسی سے آسمان کی طرف دیکھتے رہے، مریض ساری رات کروٹیں بدلتے رہے، مگر کسی ذمہ دار اہلکار کو ان کی تکلیف کا احساس نہ ہوا۔
یہ کوئی پہلی رات نہیں تھی، یہ ہر بارش کے بعد دہرایا جانے والا ایک دردناک المیہ ہے۔
آخر کب تک بھسی اڈا کے عوام کو صرف چند اہلکاروں کی غفلت اور لاپرواہی کی سزا ملتی رہے گی؟
ہم ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ، جناب عمر عباس میلہ صاحب، ایکسین واپڈا، ایس ڈی او اور تمام متعلقہ حکام سے انتہائی مؤدبانہ مگر پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، ذمہ دار اہلکاروں سے بازپرس کی جائے اور ایسا مؤثر نظام بنایا جائے کہ احتیاطاً جمپر کاٹنے کے بعد بجلی بحال ہوتے ہی فوراً دوبارہ جوڑے جائیں، تاکہ کسی علاقے کے شہری پوری رات اذیت نہ جھیلیں۔
ہمیں کوئی خصوصی رعایت نہیں چاہیے، صرف وہی سہولت چاہیے جو اسی ضلع کے دوسرے شہریوں کو حاصل ہے۔
خدارا! بھسی اڈا کے عوام کو بھی انسان سمجھا جائے۔ ہمارے بچوں کی سسکیوں، بزرگوں کی دعاؤں اور مریضوں کی تکلیف کا بھی احساس کیا جائے۔
خاموش رہنے والے لوگ کمزور نہیں ہوتے، لیکن جب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے تو ان کی آواز دور تک سنائی دیتی ہے۔
بھسی اڈا کے عوام انصاف چاہتے ہیں، احسان نہیں۔
✍️ظفر اقبال سٹھو اینکر پرسن بول لاہور ٹی وی