Watan-e-Pakistan

Contact the business

Watan-e-Pakistan Alhamdulillah♥️
(5)

17/09/2026

Pak Army Zindabad
I Love Pakistan ♥️



آو ، سعودیوں کو گالیاں دیں ۔۔۔۔ایک عام مسلمان کو سعودیوں سے کیا لینا دینا لیکن اتنا تو ہے کہ کبھی جدہ سے مکہ تک کا ستر ک...
17/09/2026

آو ، سعودیوں کو گالیاں دیں ۔۔۔۔

ایک عام مسلمان کو سعودیوں سے کیا لینا دینا لیکن اتنا تو ہے کہ کبھی جدہ سے مکہ تک کا ستر کلومیٹر کا سفر خون میں ڈوبا ہوتا تھا مغربی عرب کے بدو قبائل کا پیشہ حاجیوں کے قافلوں کو لوٹنا ہوتا ۔ دنیا بھر سے حاجی جدہ کی بندرگاہ پر اُترتے ، پھر وہاں رکے رہتے ، جب چار پانچ سو افراد کا قافلہ ہو جاتا تو تب ہی ستر کلومیٹر کا سفر شروع کیا جاتا ، ورنہ یہ موت کی راہگزار تھی کہ جس پر اکیلے جانا خودکشی جانی جاتی ۔۔
ہمارے ہندوستان میں رواج تھا کہ جب کوئی حج کو جاتا تو خاندان بھر سے اپنے گناہ معاف کروا کے جاتا اور معاف کر کے جاتا کیونکہ حج پر جانا گویا میدان جنگ میں جانا تھا کہ بندہ واپس آئے آئے نہ آئے نہ آئے ۔
لیکن کیا یہ سفر قافلے کی صورت میں محفوظ رہتا؟
نہیں ، تب بھی ڈاکو آتے، اور وہ بھی لشکر کی صورت میں آتے اور لوٹ مار کرتے ۔ تب عثمانی سلطنت تھی کہ جس کا حصہ حجاز بھی تھا لیکن تمام تر شوکت و سطوت کے باوجود وہ اس قتل و غارت کو روک نہ پائے ۔

حاجی منصب علی خان نے 1870 کے سفرنامے میں لکھا ہے کہ بدو قبائل دیسی بندوقوں سے فائرنگ تک کرتے ، تلواروں سے قتل کرتے اور حاجیوں کو شہید کر دیتے جو باقی بچتے ان کے کپڑے تک اتار لیتے اور تپتے صحرا میں مرنے کے لیے چھوڑ دیتے ۔
نواب سکندر بیگم کے بھوپال کی خاتونِ اول تھیں ، انہوں نے بھی لکھا کہ جدہ سے مکہ کی مسافت کے دوران چور اور لٹیرے چٹانوں کے پیچھے گھات لگا کر بیٹھتے ۔ ایک واقعہ میں لکھا کہ عثمانی گورنر کی فوج کے باوجود قافلے پر حملہ ہوا ، حاجیوں کو مارا تمام اسباب لوٹ لیا ۔
نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ نے اپنے سفر کے حال میں یہ لکھا کہ جب تک بدوً قبیلوں کو بھاری رقم نہ دی جائے سلامتی سے گزرنا ناممکن ہے اور جو رقم دینے سے انکار کرے گویا وہ اپنی موت کے پروانے پر دستخط کرتا ہے ۔۔
لیکن !
کمال یہ ہوا کہ جب حجاز کا اقتدار شاہ عبدالعزیز ابن سعود نے سنبھالا تو انہوں نے صرف اتنا کیا کہ قتل کے بدلے قتل اور چور ڈکیت کے ہاتھ پاؤں کاٹنے کی سزا نافذ کر دی ، جو خالصتاً اسلامی سزا تھی ۔ پھر یہی نہیں شاہ عبدالعزیز نے اس قوم کی کایا پلٹ دی ۔ ایسی تربیت کی کہ جو حاجیوں کو لوٹتے تھے وہ حاجیوں کے خدام ہو گئے ۔ یہ موٹروے گاڑیاں تو اب کچھ عشروں کا قصہ ہے شاہ عبدالعزیز کے دور سے لے کر کئی برس تک یہی اونٹ تھے صحرا تھا اور جدہ اور مکہ کا راستہ تھا ۔۔۔۔ لیکن محفوظ ترین راستہ تھا اکیلا حاجی بھی محفوظ تھا کہ جہاں پانچ سو حجاج کا قافلہ غیر محفوظ رہتا ، وہاں اب اکیلا حاجی سفر کر رہا ہے اور جو اس کو لوٹتا تھا اور کاٹتا تھا وہی اس کا محافظ ہو گیا ۔
ہم دنیا بھر کے مسلمانوں کا سعودی حکومت سے کیا لینا دینا ؟
حرم محفوظ ہے ، حرم کے راستے محفوظ ہیں اور کیا چاہیے ۔
بطور پاکستانی تو خیر پھر بھی سعودی عرب پاکستانیوں کے لیے ہمیشہ نفع مند ثابت ہوا ہے بھلے ہم مزاجاً ایسے ہیں کہ کھاتے بھی ہیں گالیاں بھی دیتے ہیں ۔۔
اس وقت بھی سعودی عرب میں اوورسیز پاکستانی دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ موجود ہیں سب سے زیادہ زرِمبادلہ ہم کو وہاں سے آتا ہے جو تقریباً نو سے دس ارب ڈالر سالانہ ہوتا ہے اور مجموعی ترسیلاتِ زر کا ایک چوتھائی ، جس سے پاکستان کی معیشت نمو پاتی ہے ۔۔
پھر مشکل مشکل وقت میں بھی پاکستان کے لیے سب سے زیادہ جو ملک کار آمد ہوا وہ سعودی عرب ہی رہا ۔۔امریکہ کو ہم نے ایف سولہ طیاروں کے پیسے دیے اور پیسے لے کر مکر گیا ۔ ہم نے تقاضا کیا تو بولا پیسے بھی واپس نہیں کرنے طیارے بھی نہیں دینے ، ہاں ان پیسوں کی گندم لے لو۔
سعودی عرب نے یہ طیارے پاکستان کو لے کر دیے ۔۔۔ امریکہ نے کہا اب پیسے اتنے نہیں اتنے ہوں گے تو اضافی پیسے بھی اپنی جیب سے دیے اور وہ طیارے ان کی بھی حفاظت کرتے ہیں جو سعودی عرب کو گالیاں نکالتے ہیں ۔۔
پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کر دیا ، دنیا نے پاکستان کی معیشت کا دھماکہ کر دیا ۔۔۔ سخت پابندیاں لگ گئیں ، سعودی عرب نے دو سال کے لیے پوری مملکت پاکستان کو تیل ہی فری کر دیا ۔۔۔کیا دنیا کی تاریخ پہ کوئی بھی سال موجود ہے کہ 25 کروڑ آبادی کے ملک کو دوسرا ملک فری تیل دے رہا ہے ؟
اس تیل سے ان کی بھی گاڑی چلتی تھی جو پھر گاڑی پر بیٹھ کر دفتر جاتے اور پہلی خبر سعودی عرب کے خلاف فائل کرتے ۔
چلیے حکومتوں کو تو اپنی ضرورتیں ہوتی ہیں ، مجبوریاں ہوتی ہیں ، سعودی عوام کی بات کر لیجیے ۔۔۔۔ ہمارے یہاں چند افراد کی کہانیاں پہنچتی ہیں جن کو کفیل اپنے ظلم کا شکار بناتے ہیں ۔۔۔۔ لیکن جب زلزلہ آیا، تو سعودی عوام نے پاکستان کے زلزلہ زدگان کے لیے جو چندہ اکٹھا کیا تھا وہ اپنی جگہ ریکارڈ ہے ۔۔۔ کہتے ہیں صرف ریاض میں سعودی خواتین نے اتنا زیور دیا کہ جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ۔۔سعودی حکومت نے 573 ملین ڈالر یعنی سوا دو ارب سعودی ریال کی امداد فراہم کی تھی ۔۔۔جس میں شاہ عبداللہ کے حکم پر 133 ملین ڈالر [ چھتیس ارب ] فوری طور پر نقد دیے گئے تھے ، جسے زلزلہ زدہ علاقے میں ہسپتال ، سکول اور سڑکیں بنانے کے لیے استعمال کیا گیا ۔۔بعد میں یہ امداد 573 ملین ڈالر تک کر دی گئی تھی جبکہ سعودی ٹیلی تھون یعنی عوامی سعودی مہم جس میں سعودی عرب کے عوام اور شاہی خاندان نے مل کر رقم جمع کی تھی یہ اس کے علاوہ تھی ۔۔کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک شاہی خاندان اور عوام مل کر کروڑوں ڈالر جمع کریں اور ہمیں بھجوا دیں اور ہم ان کو گالیاں دیں ؟ ۔

منقول

Address

Islamabad
Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Watan-e-Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Watan-e-Pakistan:

Shortcuts

Share