18/08/2020
*تعمیراتی صنعت کا پیہ چلنے لگا، ایف بی آر میں اربوں روپے مالیت کے 40 نئے پراجیکٹس رجسٹرڈ*
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے تعمیراتی شعبے کیلئے پیکیج کے اعلان کے بعد تعمیراتی شعبے نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک بھر میں اربوں روپے مالیت کے 40 نئے پراجیکٹس ایف بی آر کے سسٹم میں رجسٹرڈ ہوچکے۔
وزیراعظم عمران خان کے تعمیراتی شعبے کیلئے مراعاتی پیکیج کے اعلان کے بعد ملک بھر میں بلڈرز اور ڈیولپرز کی دلچسپی اسکیم کی طرف بڑھ گئی۔
ایف بی آر کا تعمیراتی صنعت کو دی جانیوالی ٹیکس مراعات و سہولیات سے فائدہ اٹھانے کیلئے سرمایہ کار سرگرم ہوگئے۔ ترجمان ایف بی آر کے مطابق ملک بھر میں 40 نئے پراجیکٹس اب تک ایف بی آر کے سسٹم میں رجسٹرڈ ہوچکے ہیں، جبکہ مزید 4812 پراجیکٹس نے آئرس (آئی آر آئی ایس) میں رجسٹرڈ ہونے کیلئے ڈرافت تیار کرلیا ہے۔
ایف بی آر نے بتایا کہ ایک پراجیکٹ کیلئے اپنی ڈکلیریشنز بھی جمع کرادی ہیں جبکہ 297 نے آئرس سسٹم میں اپنی ڈکلیریشن بھی تیار کرلی ہیں۔
ایف بی آر نے واضح کردیا ہے کہ صرف شرائط پوری کرنے پر ایف بی آر اسکیم سے فائدہ اٹھایا جاسکے گا، اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے بلڈرز، ڈیولپرز، پلاٹس اور ہاؤسنگ یونٹس کے خریداروں سے آمدنی کے ذرائع نہیں پوچھے جائیں گے۔
ترجمان ایف بی آر کے مطابق اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کے تحت فکسڈ ٹیکس کے نفاذ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، اس اسکیم سے ملک میں 1300 ارب روپے تک کی سرمایہ کاری کا امکان ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ کا اجلاس ہوا۔ ایف بی آر کی جانب سے اجلاس کے شرکاء کو تعمیرات کے شعبے میں فراہم کی جانیوالی سہولت کاری اور نئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
چیئرمین ایف بھی آر نے صوبہ بلوچستان میں تعمیرات کے نئے منصوبوں اور اسلام آباد میں نیو بلیو ایریا میں پلاٹوں کی نیلامی کے حوالے سے بھی بتایا۔
عمران خان نے ہدایت کی کہ تعمیرات کے شعبے کی ڈیجیٹلائزیشن پر بھرپور توجہ دی جائے۔ انہوں نے بلوچستان حکومت کی ٹیکسز کی شرح میں کمی کا بھی خیر مقدم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکسوں کو دیگر صوبوں کی سطح پر لانے کیلئے اقدامات کئے جائیں تاکہ پورے ملک میں یکساں شرح ٹیکس کو یقینی بنایا جاسکے۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت نے بھی تعمیراتی شعبے کو مراعات دینے کا فیصلہ کرلیا اور اعلامیہ بھی جاری کردیا۔
زرائع کے مطابق خیبرپختونخوا میں اب تعمیراتی شعبوں کو مزید مراعات دی جائیں گی۔ جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کنسٹرکشن انڈسٹریز پر ٹیکسز میں کمی کردی گئی ہے۔ اعلامیے کے مطابق زمین رجسٹریشن میں 6 کے بجائے 2 فیصد ٹیکس لیا جائے گا۔
کے پی کے حکومت نے صوبے میں کیپٹل ویلیوٹیکس اور رجسٹریشن فیس بھی ختم کردی گئی، لوگل گورنمنٹ ٹیکس سمیت اسٹمپ ڈیوٹی بھی اب نہیں ہوگی۔
اعلامیہ خیبر پختونخوا بورڈآف ریونیو کی جانب سے جاری کیا گیا۔ متعلقہ شعبوں کے افسران نے حکومت کے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مذکورہ اقدام سے شعبے کی ترقی ہوگی۔