Advocate Jasmine safdar

Advocate Jasmine safdar Family and property cases expert from karachi
advocate high court

18/06/2026

Law and order

ماہرین کے مطابق اے آئی چیٹ بوٹس سے گفتگو میں غیر ضروری شائستگی کے الفاظ استعمال کرنے سے کمپیوٹنگ توانائی کی کھپت بڑھ جات...
17/06/2026

ماہرین کے مطابق اے آئی چیٹ بوٹس سے گفتگو میں غیر ضروری شائستگی کے الفاظ استعمال کرنے سے کمپیوٹنگ توانائی کی کھپت بڑھ جاتی ہے۔ ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر صارفین ایسے اضافی الفاظ کم استعمال کریں تو سالانہ 87 سے 98 گیگا واٹ آور تک بجلی بچائی جا سکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق چیٹ بوٹس ہر لفظ کو ٹوکنز کی صورت میں پراسیس کرتے ہیں، لہٰذا زیادہ الفاظ زیادہ توانائی استعمال کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کروڑوں صارفین کی جانب سے روزانہ استعمال ہونے والے اضافی الفاظ مجموعی طور پر توانائی کی کھپت میں نمایاں اضافہ کرتے ہیں۔


Disclaimer: This report is based on publicly available statements and media reports. Readers are encouraged to verify information through official sources.

17/06/2026

پیدائشی امیر

17/06/2026
17/06/2026

13/06/2026

ایشال فاطمہ کیس : مجھے گھر نہ لے جاؤ میری ماں کیا کہے گی ۔۔۔!! کچھ مصدقہ حقائق سابق ایس پی پولیس فرحت عباس کاظمی کی زبانی ۔۔۔۔اپنے ذرائع کا حوالہ دے کر فرحت عباس کاظمی نے ایشال فاطمہ کی موت سے پہلے اور اب تک کے حالات بیان کیے ہیں ۔۔۔ سابق پولیس افسر کے بقول ۔۔۔1۔ یہ بات درست ہے کہ 2 ہفتے قبل بھی ایشال فاطمہ کئی روز گھر سے غائب رہی اور پھر خود واپس آگئی حالانکہ انکے والد نے انکے لاپتہ ہونے کی اطلاع پولیس کو کردی تھی ، 2۔ افسوسناک موت سے ایک ہفتہ قبل ایشال فاطمہ خلیل الرحمٰن نامی اپنے دوست کے ساتھ فیصل آباد کے شاپنگ مال میں دیکھی گئی اور رات انہوں نے ایک فور سٹار ہوٹل کے کمرے میں گزاری ۔ 3۔ خلیل الرحمٰن اور ایشال فاطمہ کچھ عرصہ پہلے ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے لیکن جب فاطمہ ڈیفنس لاہور میں اپنی ایک دوست کی سالگرہ پارٹی میں گئی تو وہاں اسکی ملاقات اپنے شہر کے خلیل سے ہوئی یوں ایک جیسے شوق رکھنے کے باعث دونوں کی دوستی گہری ہوتی چلی گئی ۔ 4۔ آخری بار جب ایشال اپنے گھر سے نکلی تو اس نے ماں کو کہا کہ وہ اپنی سہیلی دعا کے گھر جارہی ہے ، یہ دعا کے گھر پہنچی بھی تھی مگر وہاں سے اسکا پروگرام خلیل کے ساتھ جانے کا تھا خلیل نے اسے دعا کے گھر کے سامنے سے پک کیا اور اسے ایک گھر میں لے گیا جو اسکے کسی دوست کا تھا مگر اسکی چابی خلیل کے پاس تھی ۔ 5۔ کچھ دیر تک خلیل کے ساتھ حسیب حسن اور ہمیس نامی دوستوں نے قیام کیا مگر پھر وہ ایک شادی میں چلے گئے اور پیچھے ایشال اور خلیل اکیلے رہ گئے ۔۔۔ باقی دوست رات ایک بجے واپس آئے تو دیکھا کہ ایشال اور خلیل اپنے کمرے میں ڈیک لگا کر گانے سن رہے ہیں اور ہلا گلا کر رہے ہیں ۔۔۔۔6، اسی گھر میں صبح ایشال کی طبیعت خراب ہو گئی وہ کبھی بے ہوش کبھی نیم بے ہوش ہو جاتی ۔اس موقع پر شوگر کی مریضہ کو دوا اور معالج کی ضرورت تھی مگر اسکے دوستوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ان میں سے زیادہ تر کی رائے تھی کہ ایشال کی ماں کو فون کرکے اسکی طبیعت خرابی کا بتایا جائے اور پھر اسے اسکے گھر ڈراپ کیا جائے لیکن ایشال نے انہیں منع کردیا ، پھر گھبراہٹ میں دوستوں نے کسی جاننے والے ڈاکٹر سے رائے مانگی لیکن اس نے خود آنے سے انکار کردیا تو انہوں نے خود ایشال کو ایک ڈرپ بھی لگا دی ، یہ ڈرپ لگنے کے بعد ایشال کی طبیعت اور خراب ہو گئی ۔ اس دوران دو دن گزر گئے یہ سب دعا کرتے رہے اور اپنے طور پر جتن کرتے رہے کہ کسی طرح ایشال ٹھیک ہو جائے ۔ 7۔پھر ایشال کی بے ہوشی کے وقفے زیادہ ہونے لگے تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ اسے اسکے اپنے گھر پہنچایا جایا مگر راستے میں ایشال کو اس بات کا پتہ چلا تو وہ چیخنے لگی اور کہاں میرے گھر والے کیا سوچیں گے ۔ پھر یہ لوگ اسے اس پرائیویٹ ہسپتال میں لے گئے جہاں کے عملے نے لڑکی کی حالت غیر دیکھ کر پولیس کو اطلاع کی اور پولیس نے ہی ایشال فاطمہ کو سرکاری ہسپتال منتقل کیا ۔ 8۔ ایک اعلیٰ پولیس افسر نے اطلاع ملنے پر ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ لڑکی کا بہترین علاج کیا جائے ڈاکٹروں نے بھر پور کوشش کی لیکن شوگر لو یا ہائی ہونے اور بلڈ پریشر گرجانے سے ایشال فاطمہ انتقال کر گئی ۔ 9۔ ابتدائی پوسٹ ۔مارٹم رپورٹ میں لڑکی سے اجتماعی زیا۔دتی یا تش۔دد کی علامات نہیں ملیں ۔ 10 ۔ چاروں ملزمان خلیل ، حسیب ، حسن اور ہمیس پولیس کی حراست میں ہیں ، وہ نشا آور ادویات کے استعمال سے انکاری نہیں مگر وہ رضاکارانہ طور پر ڈی این اے کروانے کو تیار ہیں اس دعوے کے ساتھ کہ انہوں نے لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیا۔دتی نہیں کی ۔۔۔ لڑکی نے جو کچھ کیا اپنی مرضی سے کیا ۔ اب تک کی ان تحقیقات کے بعد پولیس کو ڈی این اے اور تفصیلی میڈیکل رپورٹ کا بھی انتظار ہے جسکے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ ملزمان کا اس سارے قصور میں کتنا قصور ہے ۔ اگر ملزمان گناہ گار یا ق۔تل میں ملوث نکلے تو انہیں انجام سے کوئی نہیں بچا سکتا لیکن اگر وہ بے قصور ہیں تو پولیس بے گناہوں کو قربانی کا بکرا بنانے سے معذرت خواہ ہے ہے ۔۔۔۔

دوسروں کی پریشانی ہم وکلہ خود لیتے ہیں نہ تنخواہ نہ پینشن صرف توکل اللہ تعالیٰ کی ذات پر...!
12/06/2026

دوسروں کی پریشانی ہم وکلہ خود لیتے ہیں نہ تنخواہ نہ پینشن صرف توکل اللہ تعالیٰ کی ذات پر...!

25/02/2026

Well explained

hat trick completed , once again failed in interview 🫣✌️✌️
22/07/2024

hat trick completed , once again failed in interview 🫣✌️✌️

If you have any query regarding this, so contact me through my inbox or WhatsApp
05/10/2023

If you have any query regarding this, so contact me through my inbox or WhatsApp

Address

Fareed Chamber
Karachi
74700

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Jasmine safdar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Advocate Jasmine safdar:

Share

Category