18/07/2025
*ڈسٹرکٹ کیماڑی بلدیہ ٹاؤن چیئرمین سے درد بھری اپیل*
(*سروے رپورٹ ڈسٹرکٹ کیماڑی پریس کلب* )
*کیا کوئی ہے جو بلدیہ ٹاؤن کی حالتِ زار پر نظر ڈالے؟*
*بلدیہ ٹاؤن… ضلع کیماڑی کا ایک ایسا علاقہ جو برسوں سے نظرانداز ہوتا چلا آ رہا ہے۔ یہ علاقہ، جہاں ہزاروں خاندان رہائش پذیر ہیں، آج بھی زندگی کی بنیادی سہولیات کو ترس رہا ہے۔*
*یہاں نہ صاف پانی میسر ہے، نہ گلیوں کی صفائی، نہ سڑکیں قابلِ استعمال، اور نہ ہی گٹروں کا کوئی مستقل نظام۔*
*علاقے کی گلیاں گندگی کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ گٹر کا پانی سڑکوں پر بہتا نظر آتا ہے، مین ہولز اکثر ابل رہے ہوتے ہیں اور ان کا پانی گھروں کے اندر تک داخل ہو رہا ہے۔ بعض مقامات پر سڑکیں ایسی شکستہ ہیں کہ مریضوں کو اسپتال لے جانا بھی ایک چیلنج بن چکا ہے*۔
*یونین کونسلز (UCs) کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ عوام کے ووٹ سے منتخب ہونے والے نمائندے انتخابات کے بعد جواب کوئی کام نہیں کرواتے ہیں۔ عوام دن بہ دن بدحال ہوتی جا رہی ہے، لیکن کوئی سننے والا نہیں۔*
*بلدیہ ٹاؤن کے نوجوان تعلیم و روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہیں۔ خواتین محفوظ ماحول نہ ہونے کے باعث گھروں میں محصور ہیں۔ بزرگ افراد ہر روز بڑھتی ہوئی گندگی، تعفن اور بے انتظامی کو دیکھ کر دل گرفتہ ہیں۔*
*سوال یہ ہے: کیا بلدیہ ٹاؤن بھی کراچی کا حصہ ہے؟*
*کیا یہاں یہ لوگ نہیں؟*
*کیا یہ لوگ ووٹ نہیں دیتے؟*
*کیا ان کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ خاموشی سے سب کچھ برداشت کرتے آئے ہیں*
*بلدیہ ٹاؤن کی عوام اب خاموش نہیں!*
*بلدیہ ٹاؤن کے ہر گھر سے، ہر گلی سے، ہر چوک سے ایک ہی صدا آ رہی ہے:*
*ہمیں انصاف چاہیے ہمیں سہولیات چاہئیں ہمیں بھی جینے کا حق چاہیے!‘‘*
*چیئرمین بلدیہ ٹاؤن، ایم پی ایز، ایم این اے اور بلدیاتی نمائندوں سے اپیل ہے:*
*خدارا اس علاقے پر رحم کریں۔ صرف وعدے اور دعوے نہیں، عملی اقدامات کریں*
*ہمیں گلیوں کی صفائی چاہیے، سڑکوں کی مرمت چاہیے، گٹروں کا باقاعدہ نظام چاہیے، صاف پانی، روشنیاں، پارکس، اسپتال*، *اور اسکولز چاہییں*
*کیا یہ سب صرف پوش علاقوں کے لیے ہیں*
*بلدیہ ٹاؤن کے باسی کب تک پسماندگی کی سزا بھگتیں گے*
*کب تک ہمارے بچے گندے پانی میں کھیلیں گے*
*کب تک بیمار لوگ ایمبولینس نہ پہنچنے کے باعث سڑکوں پر دم توڑتے رہیں گے*
*کب تک ماں باپ اپنے بچوں کو اندھیرے میں پڑھانے پر مجبور ہوں گے*
*بلدیہ ٹاؤن کی عوام آج متحد ہے*
*ہم خاموش تماشائی نہیں رہیں گے*
*ہم آواز اٹھائیں گے، میڈیا پر، سوشل میڈیا پر، پریس کانفرنسز میں، احتجاجی مظاہروں میں*
*ہم ہر اس دروازے پر دستک دیں گے جہاں سے انصاف کی امید ہو*
*اب بات صرف بلدیہ ٹاؤن کی نہیں، یہ پورے شہر کے نظام کی آزمائش ہے*
*یہ تحریر، یہ اپیل، صرف کاغذی نہیں، بلکہ دلوں کی آواز ہے کیا آپ اس آواز کو سنیں گے*
*کیا آپ ایک بار ان گلیوں کا دورہ کریں گے جہاں عوام گھٹن اور گندگی کے درمیان جینے پر مجبور ہے کیا آپ اس وعدے کو پورا کریں گے جو آپ نے ووٹ مانگتے وقت کیا تھا*
*ہم امید کرتے ہیں کہ یہ صدا رائیگاں نہیں جائے گی*
*بلدیہ ٹاؤن کو اس کا حق ملے گا*
*اور اگر نہ ملا، تو عوام خود اپنی قسمت بدلنے کے لیے نکلے گی*
*کیونکہ*
*خاموشی اب جرم ہے… آواز اٹھانا فرض ہے*