Kashif Moin

Kashif Moin 
� Real Estate Developer | � Chief Editor | � Public Figure

18/11/2025
18/11/2025

تاحیات استثنا — غیر شرعی، غیر آئینی، غیر منصفانہ

تحریر: کاشف معین

تاحیات استثنا… کیا ایک اسلامی ملک میں خود کو قانون سے بالاتر قرار دینے کی کھلی کوشش نہیں؟
جب معتبر علما صاف کہہ چکے کہ یہ شق غیر شرعی ہے تو پھر سوال یہ ہے:
کیا غیر اسلامی شق آئین میں شامل کرنا توہینِ دین نہیں؟
اسلام میں تو کوئی حکمران بھی قانون سے اوپر نہیں—خلفائے راشدین تک نے کبھی اپنے لیے رخصت نہیں لی۔
آرٹیکل 227 واضح ہے: کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بن سکتا۔
پھر یہ کس بنیاد پر مانگا جا رہا ہے؟
اگر یہ شق غلط ہے، غیر شرعی ہے، تو اس پر اصرار کرنا ظلم بھی ہے اور گمراہی بھی۔
انجام ہمیشہ سخت ہوتا ہے۔
پاکستان اللہ کی امان میں رہے۔

#پاکستان #آئین #شریعت #عدل

🌍 زوہران ممدانی کو تاریخی کامیابی پر دلی مبارکباد! 🎉تاریخ رقم ہو گئی — زوہران ممدانی، مشہور فلم ساز میرا نائر اور معروف ...
05/11/2025

🌍 زوہران ممدانی کو تاریخی کامیابی پر دلی مبارکباد! 🎉

تاریخ رقم ہو گئی — زوہران ممدانی، مشہور فلم ساز میرا نائر اور معروف مفکر محمود ممدانی کے صاحبزادے، نیو یارک سٹی کے میئر منتخب ہو گئے ہیں۔ 🗽

یوگنڈا کے شہر کمپالا میں پیدا ہوئے، نیویارک میں پلے بڑھے، اور جنوبی ایشیائی و افریقی وراثت سے جڑے زوہران آج ایک نئی، با شعور اور انسان دوست قیادت کی علامت بن چکے ہیں۔

ان کا سفر — کوئنز کے عوامی کارکن سے لے کر نیو یارک کے پہلے جنوبی ایشیائی و مسلم میئر بننے تک — اس بات کا ثبوت ہے کہ جب عوام انصاف، برابری اور ہمدردی کے لیے متحد ہوتے ہیں تو دنیا بدل جاتی ہے۔

ان کی کامیابی یہ پیغام دیتی ہے کہ خوراک، رہائش اور عزتِ نفس انسان کا بنیادی حق ہیں — ایک ایسا منشور جو کراچی سے نیو یارک تک یکساں گونجتا ہے۔

یہ لمحہ صرف سیاسی نہیں بلکہ فکری اور انسانی ترقی کی جیت ہے — ایک فخر کا لمحہ تمام ترقی پسندوں کے لیے۔

🇵🇰🤝🇺🇸

05/11/2025

پورشن مافیا — لالچ، کرپشن اور تباہی کی داستان

✍️ تحریر: کاشف معین

کراچی میں ایک وقت تھا جب مشرف دورِ حکومت میں شہرِ قائد کو اور بالخصوص ایم کیو ایم کو بے پناہ اختیارات اور فنڈز دیے گئے۔ نعمت اللہ خان صاحب کے بعد مصطفیٰ کمال کے دورِ میئر میں کراچی واقعی ترقی کی منازل طے کرتا ہوا دنیا کے تیزی سے بڑھتے شہروں میں شامل ہو گیا۔ مگر اسی دور میں خاموشی سے ایک کالا دھندہ جنم لے چکا تھا — چھتوں کی خرید و فروخت کا۔

"ایک فلور اور ڈال لو، بیس لاکھ لگاؤ اور بیس لاکھ کمالو!"
یہ نعرہ عام ہوا تو دیکھتے ہی دیکھتے چند ریئل اسٹیٹ ایجنٹ، جنہیں نقشہ بنانا بھی نہیں آتا تھا، بلڈر بن گئے — اور یوں پورشن مافیا نے جنم لیا۔ اس مافیا میں علاقے کے سرگرم کارکن، چند “النگے تلنگے” ایس بی سی اے کے اندر گھسے ہوئے بدعنوان افسران، تھانے کے حصہ دار اور شکایت دبانے والے سب شامل تھے۔

اگر ضلع وسطی میں حساب لگایا جائے تو یہ مافیا بمشکل 1500 سے 2000 افراد پر مشتمل ہے، مگر ان کی حرکتوں نے 50 لاکھ آبادی کے ضلع کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔
جہاں پہلے 10 لوگ رہتے تھے، وہاں آج 200 ٹھونس دیے گئے ہیں۔
پانی ختم، سیوریج بند، پارکنگ غائب، پرائیویسی کا جنازہ، اور ہر گلی ایک دلدل میں بدل گئی۔

یہ چالاکی اور بے شرمی کا خطرناک امتزاج تھا —
چوری بھی، اور اوپر سے ڈھٹائی بھی۔
حرام کمائی کے تخت پر بیٹھ کر پورے شہر کی زندگی اجیرن کر دی گئی۔

آج جب ضلع وسطی میں غیر قانونی تعمیرات پر 98 فیصد قابو پا لیا گیا ہے، تو یہی پورشن مافیا بلبلا رہی ہے۔
بد دعائیں دے رہی ہے — مگر سچ یہ ہے کہ ضلع وسطی میں اب سکون اور ٹھہراؤ لوٹ آیا ہے۔

اس کامیابی پر انتظامیہ اور ان کی ٹیم یقینی طور پر خراجِ تحسین کی مستحق ہے — کیونکہ انہوں نے وہ کیا جسے کرنے کی ہمت برسوں کسی نے نہیں کی۔

05/11/2025
04/11/2025
04/11/2025

⚖️ پاکستان کا عدالتی نظام — انصاف، تاریخ اور آج کا منظرنامہ

پاکستان کی عدلیہ صرف عدالتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ ریاست کا وہ ستون ہے جو انصاف، آئین اور عوامی حقوق کا محافظ ہے۔
آزادی کے بعد ہمارا عدالتی نظام برطانوی دور کے قوانین سے وراثت میں ملا۔ کئی دہائیوں میں یہ نظام مارشل لاؤں، سیاسی دباؤ اور عدالتی بحالی کی تحریکوں سے گزرا۔

🕌 آج پاکستان کی عدلیہ تین بڑی سطحوں پر قائم ہے:
1️⃣ سپریم کورٹ — سب سے اعلیٰ عدالت، آئینی و قومی مقدمات سنتی ہے۔
2️⃣ ہائی کورٹس — صوبائی سطح پر انصاف فراہم کرتی ہیں۔
3️⃣ ضلع و ماتحت عدالتیں — عوامی سطح پر لاکھوں مقدمات روزانہ نمٹاتی ہیں۔

📊 موجودہ صورتحال میں ملک بھر میں تقریباً 22 لاکھ مقدمات زیرِ التواء ہیں۔
جبکہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں بھی ہزاروں مقدمات انصاف کے منتظر ہیں۔

⚔️ حالیہ دنوں میں عدلیہ آئینی ترامیم، سیاسی مقدمات، اور عدالتی خودمختاری کے سوالات کے باعث شدید دباؤ میں ہے۔
تاہم، ہر چیلنج کے باوجود عدلیہ پاکستان کے عوام کی امید کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

---

📢 انصاف صرف فیصلوں سے نہیں بلکہ آزاد عدلیہ، شفاف نظام، اور بروقت فیصلوں سے قائم ہوتا ہے۔
اب وقت ہے کہ ہم سب عدلیہ کی مضبوطی اور اصلاح کے لیے آواز اٹھائیں۔

---



-

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَکراچی میں ایک بار پھر انسانیت شرمندہ 💔ایک اور دل دہلا دینے والا واقعہ —دہشت گر...
04/11/2025

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
کراچی میں ایک بار پھر انسانیت شرمندہ 💔

ایک اور دل دہلا دینے والا واقعہ —
دہشت گرد ڈمپر کی زد میں آنے والا نوجوان شاہزیب ولد شاہد، گارڈن لشکری ولیج کا رہائشی، صرف 20 سال کا اور چار ماہ قبل شادی شدہ تھا۔
یہ معصوم نوجوان ایک نشے میں دھت ڈمپر کے نیچے آکر موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔
اس کی حاملہ بیوی اس وقت زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہے۔

افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ڈمپر ایسوسی ایشن صدر لیاقت محسود موقع پر پہنچا، جہاں اس کا جلا ہوا ڈمپر موجود تھا،
اور پولیس پروٹیکشن میں کھلے عام فائرنگ کرتا رہا۔
یہ عمل نہ صرف قانون بلکہ انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے۔

12 گھنٹے سے زائد گزر چکے ہیں — FIR 780-A درج ہو چکی ہے، مگر گرفتاری تاحال نہیں ہوئی۔
کیا سندھ حکومت اس بے خوفی کی سرپرستی کر رہی ہے؟
کب تک شہری مافیا اور طاقتوروں کے رحم و کرم پر رہیں گے؟

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:
👉 لیاقت محسود (ڈمپر ایسوسی ایشن صدر) کو فوری گرفتار کیا جائے۔
👉 متاثرہ خاندان کو مکمل انصاف اور تحفظ فراہم کیا جائے۔
👉 ایسے عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے جو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔













کراچی کی تباہ حال عمارتیں اور خاموش حکومت — لیاری سانحے کے بعد آباد کی چیخ پکار 2/2لیکن اصل خطرہ صرف ان چھ سو عمارتوں تک...
08/07/2025

کراچی کی تباہ حال عمارتیں اور خاموش حکومت — لیاری سانحے کے بعد آباد کی چیخ پکار 2/2

لیکن اصل خطرہ صرف ان چھ سو عمارتوں تک محدود نہیں بلکہ کراچی میں ساٹھ ہزار سے زائد ایسی عمارتیں موجود ہیں جو مکمل طور پر غیر قانونی ہیں نہ ان کے پاس کسی قسم کی منظوری ہے نہ انجینئرنگ مشورہ نہ کسی رجسٹرڈ بلڈر کا نام شامل ہے نہ کوئی نقشہ ہے اور نہ ہی کوئی حفاظتی معیار ان میں انتہائی ناقص اور غیر معیاری مواد استعمال کیا گیا ہے کراچی چونکہ ایک زلزلہ زدہ شہر ہے اگر خدا نخواستہ کوئی زلزلہ آیا تو یہ غیر قانونی عمارتیں تاش کے پتوں کی طرح گریں گی ان کا ملبہ ہٹانے میں ہی کئی ہفتے لگ سکتے ہیں اور تب یہ سوچنا بے فائدہ ہو گا کہ ہم نے پہلے قدم کیوں نہ اٹھایا آباد کا مؤقف ہے کہ ان تمام عمارتوں کا فوری سروے کیا جائے جو محفوظ بنائی جا سکتی ہیں انہیں معمولی فیس پر ریگولرائز کیا جائے جو خطرناک ہیں انہیں فوری طور پر منہدم کیا جائے اور دوبارہ تعمیر کیا جائے حکومت کو نئی خطرناک تعمیرات کو فوری طور پر روکنا ہوگا جن افسران، بلڈرز یا اداروں نے ان غیر قانونی تعمیرات کی اجازت دی یا آنکھیں بند رکھیں ان کے خلاف انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جائے انہیں ضمانت نہ دی جائے اور قانون کی مکمل گرفت میں لایا جائے رہائش کوئی آسائش نہیں بلکہ ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے ماضی میں حکومت نے ایف بی ایریا، ناظم آباد، گلشن اقبال، نارتھ کراچی جیسے علاقوں میں سستے پلاٹس دے کر ایک عام انسان کو گھر کا خواب پورا کرنے کا موقع دیا تھا مگر آج ایم ڈی اے اور ایل ڈی اے جیسے ادارے پچیس ارب روپے پانچ لاکھ شہریوں سے وصول کر کے انہیں پلاٹس دینے میں ناکام ہو چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ لوگ مجبوراً خطرناک، ناقص اور غیر قانونی عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں اب وقت آ چکا ہے کہ حکومت فوری طور پر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے جس میں آباد کو شامل کیا جائے پندرہ دن میں رپورٹ لی جائے اور اس پر جنگی بنیادوں پر عمل درآمد کیا جائے کیونکہ اگر آج بھی خاموشی رہی تو یہ مجرمانہ غفلت کل لاکھوں جانوں کو نگل سکتی ہے اور اگر کوئی آباد کا رکن یا سرکاری افسر اس جرم میں شریک ہو تو اس کے خلاف بھی انسداد دہشتگردی کے تحت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کوئی انسانوں کی جان و مال سے کھیلنے کی ہمت نہ کرے

کراچی کی تباہ حال عمارتیں اور خاموش حکومت — لیاری سانحے کے بعد آباد کی چیخ پکار 1/2کراچی میں ایسی سینکڑوں عمارتیں موجود ...
08/07/2025

کراچی کی تباہ حال عمارتیں اور خاموش حکومت — لیاری سانحے کے بعد آباد کی چیخ پکار 1/2

کراچی میں ایسی سینکڑوں عمارتیں موجود ہیں جو پچاس ساٹھ یا ستر سال پہلے تعمیر کی گئی تھیں اور اپنی عمر پوری کر چکی ہیں لیکن آج بھی ان میں لوگ رہنے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کے پاس اور کوئی متبادل نہیں ایس بی سی اے نے کچھ عمارتوں پر نوٹس ضرور لگایا ہے مگر یہ مسئلے کا حل نہیں کیونکہ جو لوگ ان عمارتوں میں رہتے ہیں وہ معاشی طور پر سخت مشکلات کا شکار ہیں ان کے پاس کہیں اور جانے کا کوئی راستہ نہیں اسی تناظر میں آباد نے حکومت سندھ کو ایک سنجیدہ تجویز دی ہے کہ جن عمارتوں کو خطرناک قرار دیا جا چکا ہے انہیں تین ماہ کے اندر اندر خالی کرایا جائے ان رہائشیوں کو دو سال کا کرایہ فراہم کیا جائے اور انہی جگہوں پر جدید اور محفوظ عمارتیں تعمیر کی جائیں جن میں پرانے رہائشیوں کو مفت فلیٹ دیے جائیں اضافی منزلات فروخت کر کے اخراجات پورے کیے جائیں اگر کسی خطرناک عمارت کا مالک خود تعمیر نو نہیں کرتا اور صرف اس انتظار میں ہے کہ عمارت گر جائے اور زمین اس کے ہاتھ آجائے تو حکومت کو چاہیے کہ ایسی عمارتوں کے لیے ایک اتھارٹی قائم کرے جس میں انہی رہائشیوں کو شامل کیا جائے اور یہی اتھارٹی اسی فارمولے پر عمارت تعمیر کرے اور اگر پھر بھی مالک یا رہائشی تعاون نہ کریں تو وہ زمین حکومت کی اس مجوزہ اتھارٹی کے نام منتقل کر دی جائے آباد نے پیشکش کی ہے کہ وہ ایسی چھ سو عمارتوں کو بغیر کسی معاوضے کے نئے سرے سے تعمیر کرے گا اضافی منزلات کی اجازت کے بدلے ان لوگوں کو نئے گھر بھی دیے جائیں گے اور دو سال کا کرایہ بھی دیا جائے گا تاکہ وہ سکون سے اپنی زندگی گزار سکیں










Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kashif Moin posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share