Kamran Nazir Official

Kamran Nazir Official Kamran Nazir President Federal B Area Realtors Association
President All Karachi Realtors Alliance

23/05/2026

Kamran Nazir Mustafa Estate & Builders Australian Concept Infertility Medical Center Sardar Tahir Mehmood MAK Construction - Builders & Developers

🔴 *بریکنگ نیوز:* *کراچی  ایس بی سی اے نے بلڈنگ ریگولیشنز 2026 میں ترمیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا* 🏗️ *تعمیراتی شعبے پر ن...
20/05/2026

🔴 *بریکنگ نیوز:* *کراچی ایس بی سی اے نے بلڈنگ ریگولیشنز 2026 میں ترمیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا*

🏗️ *تعمیراتی شعبے پر نیا بوجھ، شہریوں کو مزید مہنگائی کا سامنا*

📢 کامران نذیر آفیشل کے مطابق، ایس بی سی اے نے مختلف فیسوں اور چارجز میں اضافے کی منظوری دے دی ہے، جس سے تعمیراتی لاگت میں خاطرخواہ اضافہ ہوگا۔

📌 *اسکروٹنی فیسیں (فی اسکوائر فٹ)*

قسم پرانی فیس نئی فیس
رہائشی منصوبے 16 روپے 17.50 روپے
کمرشل منصوبے 22 روپے 25.25 روپے
انڈسٹریل پلاٹ (میونسپل حدود میں) 20 روپے 22 روپے
انڈسٹریل پلاٹ (حدود سے باہر) 1.25 روپے 1.50 روپے

🛣️ *انفراسٹرکچر بیٹرمنٹ چارجز (تجویز کردہ)*

· عام علاقے: 55 روپے فی اسکوائر فٹ
· کلفٹن، کے ڈی اے اسکیم فائیو: 57.50 روپے فی اسکوائر فٹ
· ہائی ڈینسٹی زونز (مخصوص): 200 سے بڑھا کر 230 روپے فی اسکوائر فٹ

🏚️ *ڈیمولیشن پرمیشن فیس (دوگنا اضافہ)**
· رہائشی پلاٹ: 10,000 روپے (تجویز)
· کمرشل و انڈسٹریل: 20,000 روپے (تجویز)
· بغیر اجازت ڈیمولیشن پر 400% اضافی جرمانہ کی تجویز

🧾 *دیگر اہم اضافے*

· ڈی این پی فارم کی قیمت: 600 → 750 روپے
· ملٹی اسٹوری کمرشل سیل این او سی: 9.75 روپے فی اسکوائر فٹ
· رہائشی ملٹی اسٹوری فیس: 4 روپے فی اسکوائر فٹ
· ٹاؤن شپ اسکیم فیس (5 ایکڑ تک): 1,90,000 روپے
· ٹاؤن شپ فیس (10 ایکڑ سے زائد): 47,500 روپے فی ایکڑ

⚠️ *اہم تجویز*

· شق 25-1.8 (ہائیٹ ریلیٹڈ سیٹ بیکس) کو حذف کرنے کی سفارش

😟 *تعمیراتی حلقوں میں تشویش*

ماہرین کے مطابق، فیسوں میں اضافے سے تعمیراتی لاگت بڑھے گی اور شہریوں پر دوہرا مالی بوجھ پڑے گا۔

📄 نوٹیفکیشن کی تفصیلات

· دستخط کنندہ: ڈی جی ایس بی سی اے مزمل حسین
اطلاق: فوری طور پر نافذ العمل

✅ *کامران نذیر آفیشل – آپ کا مستند ذریعہ برائے شہری خبریں۔*
📢 *شیئر کریں اور اپنی رائے دیں۔*

19/05/2026

Kamran Nazir Mustafa Estate & Builders Australian Concept Infertility Medical Center Sardar Tahir Mehmood Irfan Raza Diaries Nazakat Ali Awan Clifton Defence Community Bilal Awan MAK Construction - Builders & Developers Adnan Nasir

17/05/2026



Kamran Nazir Mustafa Estate & Builders Australian Concept Infertility Medical Center Sardar Tahir Mehmood Irfan Raza Diaries Nazakat Ali Awan Adnan Nasir

14/05/2026

Kamran Nazir Mustafa Estate & Builders Australian Concept Infertility Medical Center Noman Rajput Sardar Tahir Mehmood Irfan Raza Diaries Kamran Nazir Official Nazakat Ali Awan

14/05/2026
13/05/2026

Kamran Nazir Mustafa Estate & Builders MAK Construction - Builders & Developers

12/05/2026

*وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی فیصلہ – کراچی میں رہائشی پلاٹوں کی کمرشل کیٹیگری میں تبدیلی پر پابندی ختم*

کراچی *(کامران نذیر آفیشل* ) – وفاقی آئینی عدالت نے شہر قائد کے عوام اور بلڈرز کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے رہائشی پلاٹوں کو کمرشل کیٹیگری میں تبدیل کرنے پر عائد پابندی ختم کر دی ہے۔ عدالت نے یہ اہم فیصلہ کراچی میں غیرقانونی تعمیرات سے متعلق ایک حساس کیس کی سماعت کے دوران سنایا۔

عدالت نے اپنے تحریری حکم میں واضح کیا کہ اگرچہ رہائشی پلاٹوں کی کمرشلائزیشن کی اجازت ہوگی، تاہم کسی بھی عوامی مقام (پارک، گراؤنڈ، اسکول، ہسپتال وغیرہ) کی حیثیت تبدیل نہیں کی جا سکے گی۔ یہ شرط عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے عائد کی گئی ہے۔

اس فیصلے کے تحت عدالت نے رہائشی پلاٹوں کی کمرشل کیٹیگری میں تبدیلی سے متعلق سابقہ عدالتی فیصلہ واپس لے لیا، جس کے تحت یہ پابستی عائد تھیں۔ اب بلڈرز اور پراپرٹی مالکان مخصوص ضوابط اور شرائط کی پابندی کرتے ہوئے اپنے رہائشی پلاٹوں کو کمرشل استعمال میں لا سکیں گے۔

ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ کراچی کی معیشت، کاروباری سرگرمیوں اور تعمیراتی شعبے کو فروغ دے گا، تاہم شہریوں کو امید ہے کہ عدالت کی جانب سے عوامی مقامات کے تحفظ کی شرط پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل کراچی میں غیرقانونی تعمیرات اور پلاٹوں کی کنورژن پر متعدد عدالتی پابندیاں عائد تھیں، جن کے باعث بلڈرز شدید مشکلات کا شکار تھے۔ وفاقی آئینی عدالت کے اس تازہ فیصلے کو تعمیراتی شعبے میں ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
ہم اپنے ناظرین کو اس حوالے سے مزید قانونی اور عملی پیش رفت سے آگاہ کرتے رہے گا۔
Kamran Nazir Mustafa Estate & Builders Sardar Tahir Mehmood Irfan Raza Diaries Nazakat Ali Awan

*وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی فیصلہ: سیکشن 7E کالعدم، پراپرٹی ٹیکس سے عوام کو بڑا ریلیف*  *تحریر: کامران نذیر* پاکستان می...
12/05/2026

*وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی فیصلہ: سیکشن 7E کالعدم، پراپرٹی ٹیکس سے عوام کو بڑا ریلیف*
*تحریر: کامران نذیر*
پاکستان میں ٹیکس قانون کی ایک متنازع شق سیکشن *7E* کو بالآخر وفاقی آئینی عدالت ( *Federal Constitutional Court* ) نے آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے ختم کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ *7 مئی 2026ء* کو سنایا گیا، چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس علی بقر نجفی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے یہ تاریخی فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے نہ صرف سیکشن *7E* کو کالعدم قرار دیا بلکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( *FBR* ) کی اس شق کو بحال کرنے کی تمام اپیلیں بھی خارج کر دیں۔

یہ فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس کے تحت *FBR* کی جانب سے سیکشن *7E* کے تحت کی گئی تمام کارروائیوں، نوٹسز اور سماعتوں کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے۔ عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا کہ ’’سیکشن *7E* کو روزِ اول سے انکم ٹیکس آرڈیننس کا حصہ تصور نہیں کیا جائے گا، اور اس کے تحت کیے گئے تمام اقدامات خلاف قانون ہیں۔‘‘

*سیکشن 7E کیا تھا؟*
سیکشن *7E* کو فنانس ایکٹ *2022* کے ذریعے ٹیکس سال *2023* کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔ اس شق کے تحت، مالیت 25 ملین روپے سے زائد غیر منقولہ جائیداد ( *نشستہ جائیداد* ) کی مالیت کا 5 فیصد حصہ ’’فرضی آمدن‘‘ تصور کر کے اس پر 20 فیصد ٹیکس لاگو کیا جاتا تھا، جو عملی طور پر جائیداد کی کل مالیت کا ایک فیصد بنتا ہے۔ اس قانون کا اطلاق ان پلاٹس پر بھی ہوتا تھا جو نہ تو استعمال میں تھے اور نہ ہی ان پر ترقی کے کوئی کام ہوئے تھے۔

اس قانون کے خلاف ملک بھر میں قانونی چیلنجز کا سامنا تھا۔ پشاور ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ نے اسے پہلے ہی کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسلام آباد اور لاہور ہائی کورٹ نے اسے آئین کے مطابق قرار دیا تھا۔

*فیصلے کی وجوہات اور قانونی پہلو*
وفاقی آئینی عدالت نے یہ فیصلہ سیکشن 7E کی ’’deemed income‘‘ (فرضی آمدن) کی بنیاد پر ٹیکس لگانے کے خلاف دلائل کو مانتے ہوئے دیا۔ عدالت کے مطابق، حقیقی آمدن کے بغیر کسی شہری پر ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا اور صرف جائیداد کی ملکیت کو آمدن تصور کرنا آئین کے خلاف ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ یہ شق دراصل ایک پراپرٹی ٹیکس ہے جسے انکم ٹیکس کا روپ دے کر نافذ کیا گیا، جو پارلیمنٹ کی قانون سازی کی صلاحیت سے ماورا ہے۔

مزید برآں، عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ یہ شق آئین کے *آرٹیکل 25* (مساوات) کی خلاف ورزی کرتی ہے کیونکہ یہ ٹیکس دہندگان کے درمیان غیر منصفانہ اور من مانی درجہ بندی پیدا کرتی ہے۔

*فیصلے کے اثرات*
اس فیصلے کے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر شامل ہے۔ اس شق کے تحت جائیداد رکھنے والوں کو ایک فیصد سالانہ ٹیکس ادا کرنا پڑتا تھا، چاہے انہیں اس جائیداد سے کوئی آمدنی نہ ہو رہی ہو۔ اب اس ٹیکس سے عوام کو ریلیف ملے گا۔

اس فیصلے کے بعد، *FBR* کی جانب سے اس شق کے تحت جاری کردہ تمام نوٹسز اور ٹیکس دہندگان کے خلاف کارروائیاں خودبخود ختم ہو جائیں گی۔

*وفاقی آئینی عدالت* کا یہ فیصلہ پاکستان کے ٹیکس قانون میں ایک سنگ میل ہے۔ اس نے واضح کر دیا ہے کہ حقیقی آمدن کے بغیر کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا اور قانون سازی کرتے ہوئے شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔

12/05/2026

Kamran Nazir Mustafa Estate & Builders Noman Rajput Australian Concept Infertility Medical Center MAK Construction - Builders & Developers

07/05/2026

کراچی کو صرف لوٹا جا رہا ہے کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔

Address

Karachi
75950

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kamran Nazir Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category