26/03/2024
کل شام اک ویڈیو وائرل ہوئی جس جس میں دیکھا گیا ہے کہ اک پولیس والا اک شخص پر تشدد کر رہا ہے سورسز سے معلوم ہوّا کہ یہ شخص جسکو مارا جا رہا ہے وہ ایک پروفیشنل ڈاکو ہے اور منشیات کا کاروبار ب کرتا ہے پشاور کے مختلف پولیس اسٹیشنز میں اِس پر تقریباً ۱۵ سے زیادہ FIRs رجسٹر ہیں۔ مانا کے پولیس آفیسر نے بےحد ظلم کیا اور انسانیت کے خلاف کام کیا جو کے نہیں ہونا چاہیے تھا یہ تو کہانی کا اک پہلو ہے اگر ہم دوسرا رُخ دیکھیں تو معلوم ھوتا ہے کے جو بزرگ دُوسری تصویر میں وینٹیلیٹر میں دکھ رہا یہ اک چَوکیدار تھا جو کہ تاتارا کے علاقہ میں اپنی ذمداری نبھا رہا تھا کے یہ ڈاکو جو اس تصویر میں دکھ رہا ہے چوری کی غرض سے آیا اور اس معصوم بزرگ کو قتل کر کے بھاگ گیا اور یہ بیچارہ غریب ۳ جوان بیٹیوں کا باپ تھا اس بنا پر پولیس آفیسر نے اسکودیکھا تو پہچان گیا اور اپنے جذبات پے قابو نہ رکھ پایا جب کے اصول کے مطابق اک پولیس آفیسر میں بہت صابر ہونا چاہئے پر بدقسمتی سے وہ بھی اک انسان تھااور ظالم کو دیکھ کر قابو میں نہ رہ سکا۔ آج بہت سے لوگ سوشیل میڈیا پر سکالر بنے ہیں کہ کچھ کہ رہے ہیں کے ٹھیک ہوّا کچھ پولیس کو بُرا بھلا کہہ رہے ہیں میں بس اتنا کہنا چاہو گا کہ پولیس کو ایسا نہیں کِرنا چاہئے تھا لیکن ایسے لوگوں کا ہونا بھی ہمارے معاشرے اور بچوں کے لئے خطرہ ہے ہر بار پولیس ایریسٹ کرتی ہے اور یہ عدالت سے ریہا ہو کر آ کے پھر وارداتِ کرتے ہیں اور پھر ہم میں سے اک مخصوص طبغہ پولیس کو بولتا ہے اور آج کسی آفیسر نے جرآت کی تو اسکو ہم اِتنا ذلیل کر رہے ہیں کے اگلی بار کوئی بھی پولیس والا آپکی help کرنے سے ڈرے؟ مانا کے قانون ہاتھ میں لینا جرم ہے لیکن ایسے عادی مجرم کو چور دینا سبق دیئے بغیر تاکے اگلا گِھر آپکا یا میرا ہو ان جیسے لوگو کے لئے؟