دی وائس آف باجوڑ –
باجوڑ کی تازہ خبریں، عوامی مسائل، اور حقیقی آواز آپ تک۔ بااعتماد اور غیر جانبدار
10/08/2025
باجوڑ 😢
کیا آپ کو کچھ یاد ہے کچھ دن قبل باجوڑ جرگہ سے پہلے اس شخص نے بندوق لہراکر کچھ کہا تھا اور ایک دوسرا شخص وزیراعلی کے گھر کو گرانے کی بات کررہا تھا اور تیسرا شخص آپریشن کو کاروائی کا نام دیکر جواز فراھم کررہا تھا چوتھا شخص آپریشن ہونے کی صورت میں وزیراعلی کو گھر بھیجنے کا کہہ رہا تھا سب فراڈ دھوکہ باز اور ڈرامہ ہیں ہوشیار رہیں
05/08/2025
اسے گماں ہے کہ میری اُڑان کچھ کم ہے،
مجھے یقین ہے کہ یہ آسمان کچھ کم ہے
قوم کا عظیم رہبر
قیدِ ناحق کے 2 سال!
05/08/2025
مراد سعید کا پیغام |5 اگست 2025
05/08/2025
Pti
04/08/2025
وزیراعلی خیبرپختونخوا علی گنڈاپور نے آج باجوڑ جرگہ طلب کرلیا
قبائلی عمائدین کے ساتھ امن و امان کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی جائے گی، اس کے بعد گرینڈ جرگہ منعقد کیا جائے گا جس کے سفارشات متعلقہ فورم کو پیش کی جائیں گی، خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف
04/08/2025
شیخوپورہ پنجاب میں 5 اگست تحریک کی موبلائزیشن کیلئے سینکڑوں افراد سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں،
5 اگست حقیقی آزادی تحریک کا نقطہ عروج ہوگا
04/08/2025
Release Imran Khan
04/08/2025
عمران خان اگر چاہے تو ایک دن میں ڈیل کرکے باہر آ سکتا ہے لیکن وہ صرف قوم کی حقیقی آزادی کیلئے قید ہے ، اب وقت ہے سب کو نکلنا ہی ہوگا ،
قاسم خان سوری
یہ عمران خان کو نہیں ہرا سکتے ، اللہ نے عمران خان کو ہر میدان میں سرخرو کیا ہے ، پچھلے دو سالوں میں عمران خان واحد قیدی ہے جو ایک مرتبہ بھی بیمار نہیں ہوا ، حالانکہ قید میں اس سے زیادہ ظلم بھی کسی کے ساتھ نہیں ہورہا ،
قاسم خان سوری5 اگست کے خوف میں مین لیڈرشپ کو دہشتگرد قرار دے کر 10 - 10 سال سزائیں سنائی گئی ہیں ایسا دنیا میں کہیں نہیں ہوا، پی ٹی آئی کا خوف ان کے سر چڑھ گیا ہے،
قاسم خان سوری
04/08/2025
04/08/2025
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اہم پیغام (۲ اگست، ۲۰۲۵)
“تمام پاکستانیوں کو ملک پر مسلط ظلم کے نظام کے خلاف حقیقی آزادی کی تحریک کا حصہ بننا چاہیے تاکہ ہم حقیقی معنوں میں ایک آزاد قوم بن سکیں۔ ہم یکجا ہو کر مقابلہ کریں گے تو یہ ظلمت کا نظام ضرور زمین بوس ہو گا۔
پانچ اگست کو شروع ہونے والی تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ملک میں جمہوریت اپنی اصل روح کیساتھ بحال نہیں ہو جاتی۔ اب عوام نڈر ہو چکے ہیں، ہر خوف کا بت ٹوٹ چکا ہے- 5 اگست کے بعد 14 اگست کی تاریخ بھی اس سلسلے میں اہم ترین ہے۔ 14 اگست 1947 کو ہم نے بیرونی غلامی سے آزادی حاصل کی تھی۔ اب ہمیں غلامی کی اس سے بھی بدتر صورتحال کا سامنا ہے جہاں تمام اداروں کو اپاہج کر کے سارے بنیادی حقوق معطل کر دئیے گئے ہیں۔ جیسے ہمارے آباؤاجداد نے انگریزوں کے خلاف جدوجہد کر کے آزادی حاصل کی تھی ہمیں بھی اس کرپٹ نظام سے آزاد ہونا ہے اور غلامی کو ٹھکرانا ہے۔
پیپلز پارٹی اور نون لیگ عاصم منیر کے لیے ویسا ہی کٹھ پتلی کا کردار ادا کر رہی ہیں جیسا ق لیگ نے مشرف کے لیے کیا تھا۔ ان کا کردار سیاسی جماعت کا نہیں اسٹیبلشمنٹ کے پولیٹیکل فرنٹ کا ہے۔ اسی آڑ میں کرپشن اور لوٹ مار کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
77 سال لگا کر پاکستان میں مشکل سے چند ادارے کھڑے ہوئے تھے- یہاں بار بار مارشل لاء لگتے رہے جس نے اس عمل کو دشوار بنایا مگر پھر بھی ادارے موجود تھے لیکن عاصم منیر کے مارشل لاء نے صرف اپنے اقتدار کی طوالت کے لیے ان اداروں کو بھی ایک ایک کر کے تباہ کر دیا ہے۔ سب سے پہلے انتخابی فراڈ کر کے عوام کا ووٹ چوری کیا گیا اور چوروں کو ملک پر مسلط کر کے جمہوریت کا خاتمہ کیا گیا۔ پھر میڈیا کا گلا گھونٹا گیا، ملک میں بدترین سنسر شپ لگائی گئی۔ اور اب عدلیہ کو چھبیسویں آئینی ترمیم کر کے ایک سرکاری ادارہ بنا دیا گیا ہے۔ اوپر سے لکھی لکھائی سزائیں ججز کے ہاتھ میں تھما دی جاتی ہیں۔ جج خود اسکا اعتراف کرتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے جو ہمیں تھما دیا جاتا ہے ہم اسی پر سائن کر کے دے دیتے ہیں۔ اس وقت ملک میں عدلیہ مکمل مفلوج ہے۔ یہاں کینگرو کورٹس چل رہی ہیں جو ہر طرح سے قانون کی دھجیاں بکھیر رہی ہیں۔ ان عدالتوں سے انصاف کی کوئی توقع نہیں ہے۔ یہ عدالتیں قانون کی نہیں صرف عاصم لا کی پیروی کرتی ہیں۔ اسی کے مطابق سب ٹرائل چلیں گے اور سزائیں ہوں گی۔ یہ سب ٹرائل آن ریکارڈ ہیں آج نہیں تو کل سب پر حقیقت عیاں ہو گی کہ کس جج نے انصاف کی پیروی کے بجائے یزیدِ وقت کی پیروی کی۔
راولپنڈی، لاہور، سرگودھا اور فیصل آباد کی عدالتوں کے ذریعے ہمارے پارٹی رہنماؤں، ممبران اسمبلی اور کارکنان کو جھوٹے کیسز میں سزائیں دلوا کر ہماری تحریک کا راستہ روکنے کی ایک اور ناکام کوشش گئی ہے۔ حق پرستی کی پاداش میں سزاؤں کی حق دار ٹھہرنے والی پارٹی لیڈرشپ اور کارکنان کو خصوصی خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
سکندر سلطان راجہ نے ہائیکورٹ کی اپیلوں کا انتظار کیے بغیر ہمارے ممبران اسمبلی کو نا اہل قرار دیا۔ تاریخ جب لکھی جائے گی سکندر سلطان راجہ کا نام سیاہ ترین حروف میں درج ہو گا۔ اس شخص نے ڈیڑھ سال میں 17 سیٹوں والی جماعت کو دو تہائی اکثریت دلوانے میں سب سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ملک کا نظام ان کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے جنھوں نے عوام کا ووٹ اور پیسہ دونوں چرایا۔ جو لوگ آئین اور جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہوئے ان کو جیلوں میں ڈال دیا گیا تاکہ اس ملک میں کوئی جمہوریت کا نام لیوا نہ ہو۔
ہمارے جو ممبران اسمبلی ناجائز طریقے سے نااہل کیے گئے ہیں ان کی جگہ ضمنی انتخابات میں کسی کو کھڑا نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ ان لوگوں نے کئی طرح کی مشکلات جھیل کر انتخاب لڑا تھا اور مسلسل تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے رہے۔ لہذا ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف حصہ نہیں لے گی۔
علی امین کو واضح پیغام دیتا ہوں کہ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں وفاق کو ایک اور فوجی آپریشن کی ہرگز اجازت نہیں دینی چاہیئے۔ فوج اور عوام کے آمنے سامنے آنے سے فوج کا ادراہ تباہ ہوتا ہے۔ آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ وہاں کے نظام کے مطابق بات چیت سے مسائل حل کریں۔ افغانستان ہمارا مسلمان ہمسایہ ملک ہے۔ ان کے ساتھ بھی تعلقات بہتر ہونے چاہئیں اور مسائل پر بیٹھ کر بات کرنی چاہیے-“
Be the first to know and let us send you an email when Voice of Bajaur
posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.