21/10/2022
آج ایک تیس سالہ بیوہ، دو بچوں کی ماں کے جنازے کو کندھا دے کر آ رہا ہوں جسے سوتیلے بیٹوں نے زہر کھلا کر قتل کر دیا
مرحومہ بی بی کا باپ جھکی کمر اور سفید داڑھی کے ساتھ گزشتہ چھے ماہ سے اپنی بیوہ بیٹی کے تحفظ میں ریاستی اداروں کے پاس درخواستیں کرتا رہا کہ اس کے میاں کے مرنے کے بعد اس کے سوتیلے بیٹے اور خاندان والے اس سے جائیداد ہتھیانے کے لیے مختلف طریقے سے اس پر اٹیک کر رہے ہیں، اسے زبردستی دوسری شادی پر مجبور کرنے سے لے کر ڈرانا ، دھمکانا، کریکٹر اسیسینیشن، فیزیکل تشدد اور ہراساں سمیت ظلم کی انتہا کرتے رہے، بلا آخر کل اسے زہر کھلا کر موت کے گھاٹ اتار دیاگیا.
یہ واقعہ ڈی جی خان کے ایک گاؤں درخواست جمال خان کا ہے اور گزشتہ چھے ماہ سے بیوہ کے باپ کی کہی باتوں اور اپنی بیٹی کے تحفظ کی جدوجہد کا میں خود چشم دید گواہ ہوں ... ریاست نے اس کے ساتھ جو کیا وہ سب ریکارڈ کا حصہ ہیں، دو یتیم نابالغ بچوں کی بیوہ ماں کے اس قتل پر آج اسی باپ کی بے بسی و نم آنکھوں نے اس ریاست اور اس کے ریاستی اداروں پر اس وقت میرا اعتماد ختم کر دیا جب میں نے آج سوشل میڈیا پہ شاہ رخ جتوئی کی ویکٹری والی یہ تصویر دیکھی.
اس بی بی کے جنازے کا میرے ذہن میں عکس اور اس ریاست کے انصاف کے سسٹم پہ طماچہ مارتی، شاہ رخ جتوئی کی ویکٹری والی تصویر دونوں نے ایک میسیج واضح کر دیا کہ انصاف بکتا رہے گا... آج شاہ رخ جتوئی بری ہوا ہے اور کل اس بیوہ عورت اور دو یتیم بچوں کی ماں کے قاتل بھی بری ہو جائیں گے... اور یہ پورا ملک یونہی دیکھتا رہے گا جیسے دیکھ رہا ہے، جیسے دیکھتا آ رہا ہے.
فقط مجھے کوئی اتنا بتا دے کہ اس بوڑھے باپ کو میں انصاف کے دروازوں پہ دستک دینے دوبارہ بھیجوں یا اسے کہوں کہ بس اب تو بھی بیٹی کے ساتھ دفن ہوجا۔