13/03/2024
1970 تک پاکستان میں
30-40 امبانی ٹاٹا برلا سے بڑے صنعتکار بینکار بزنس جینئس تھے جنہوں نے ملک کی معیشت کو سنبھالا ہوا تھا ملک کوریا جاپان سے بہت آگے تھا مڈل ایسٹ کے ممالک کسی گنتی میں نہیں تھے۔ ان صنعتکاروں بینکاروں کو بائیس خاندان کا نام دے کر ٹارگٹ کیا گیا۔ ان میں سہگل گروپ نے کپڑے کی صنعت کو عروج دیا، داؤد گروپ ہیوی وہیکل اور زرعی مشنری کے بادشاہ تھے داؤد ہرکولیس ٹریکٹر ان کی پروڈکٹ تھی، ہارون خاندان چھوٹی مصنوعات ،اصفہانی سلہٹ کے چائے کے باغات کے مالک۔ ملک کی پہلی ائیرلائن قائم کی جو آج کی سب ائر لائنوں سے بہتر تھی، حبیب گروپ بینکنگ کے کنگ تھے ساٹھ کی دہائی میں ان کا حبیب پلازہ ایشیأ کی بلند ترین عمارت تھی ایشیأ میں پہلا IBM بینکنگ سسٹم اس بلڈنگ کی نویں منزل پر نصب ہوا. فینسی کپڑے کی صنعت نشاط گروپ کے پاس اور مختلف مصنوعات کے بانیتھے، لاہور بیکو یعنی بٹالہ انجینئرنگ سائیکل موٹرسائیکل اسمبل کرتے ان کی بیکو، ہرکولیس، سہراب، رستم سائیکل پورے ملک میں چلتیں، ۔ 1966 میں بیکو کے میاں لطیف کی فیکٹری وزٹ کرنے کوریا جاپان سے لوگ اتے تھے لاہور میں اج بھی بی کو سٹاپ مشہور ہے۔ لارنس پور وولن ملز کی سُوٹنگ دنیا میں نمبر ون. پوری صنعتی ریاست تھی جن کے مالک مشینری بنگلہ دیش لے گئے بھٹو صاحب نے ان 22 خاندانوں کے خلاف تحریک چلائی کہ ملک کی ساری دولت ان کے پاس ہے ان کے پیٹ سے نکالوں گا... ہم عوام ان کے خون کے پیاسے ہوا کرتے تھے۔ ہم نے ان مُحسن خاندانوں کے خلاف خُونی تحریک چلائ۔بھٹو صاحب خود بھی فیوڈل تھے اور فیوڈلز یعنی بڑے زمین داروں نے پاور میں آکر سب صنعت کاروں کی املاک بلا معاوضہ قومی ملکیت میں لے لیں۔لاہور کی بیکو اب پیکو بن کر تباہ ہوئ۔ سب جینئس خاندان تباہ و برباد ہوئے. بیکو کے میاں لطیف جرمنی چلے گئے، ، اصفہانی کنگال ہو گئے ان کے سلہٹ کے چائے کے باغات بنگلہ دیش لے گیا ائیرلائن پی آئی اے بن کر تباہ ہوئی، حبیب گروپ سے حبیب بنک چھین لیا گیا، سہگل گروپ نے کوہ نور جیسی بزنس ایمپائر پلاٹ بنا کر نیلام کر دی۔ کوہ نور جو پوٹھوہار کی ماں کہلاتی تھی، تباہ ہوئی. مشرقی پاکستان میں جنرل ایوب خان کے دور کے میمن سنگھ اور نرائن گنج بہت بڑے انڈسٹریل زون بنگلہ دیش کے کام آئے، کراچی سائیٹ انڈسٹریل اسٹیٹ جہاں گندھارا والے ہینو ٹرک بناتے شاہنواز لمیٹڈ شیورلیٹ اور مرسیڈیز اسمبلی کرتے. سب کچھ قومیا کر تباہ کر دیا گیا. ان خاندانوں میں سے اصفہانی کی بیٹی حسین حقانی کی اہلیہ امریکہ چلی گئ ۔بعد میں جنرل ضیاء نےصنعت کاروں کو ڈھونڈنا شروع کیا۔ اور پھر ایسے خاندانوں کو نواز دیا جن کا حقیقی طور پر کوئی نقصان ہی نہیں ہوا تھا یہاں سے طاقتور حلقوں اور بزنس مینز کا اشتراک شروع ہوا ہارون خاندان کے محمود اے ہارون گورنر سندھ بنایا۔ شریف خاندان بھی نوازا گیا اور اب اقتدار بھی ان نئے بزنس مینوں کو سونپ دیا ریاست کے کرتا دھرتا بزنس مین بن گئے اور بزنس مینوں کو پروٹیکشن دینے والے طاقتور حلقہ اس گٹ جوڑ نے اج تک عوام کو نقصان ہی نقصان پہنچایا
اصل میں عوام کو غلامی دینے والے خود تو اسمبلیوں میں پہنچ کے ایلیکٹیبلز بن گئے اور صنعتکاروں اور ملک کو تباہ کرکے لوگوں کو ان وڈیروں کا اور ملک کو آئی ایم ایف کا غلام بنا دیا گیا. یہ دہائیوں کی تباہی ہے کبھی وڈیرہ شاہی کبھی بزنس مین کبھی مقتدرہ کبھی اسلام کے نام پہ پاکستان لوٹ کھسوٹ کا شکار رہا اور پاکستان کے اکثر محسنوں کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں ہوا