21/10/2023
بات سنیں
*لوگوں کو لگتا تھا کہ یہودی بھول گئے مسجد الاقصی کو*
جناب والا وہ کبھی نہیں بھولتے، *نہ ہی اپنی نسلوں کو بھولنے دیتے ہیں*
*یہ بھولنے کی بیماری ہماری قوم کو ھے*
1920 میں جب خلافت عثمانیہ تاڑ تاڑ ہو گئی تھی نہ، تو جنرل گولڈ خود سلطان صلاح الدین ایوبی کی قبر پر آیا تھا اور ایوبی کی قبر پر اس نے لات مار کر کہا تھا
کہ
*Ayyubi !!! We are Back*
یعنی *اے صلاح الدین ایوبی! ہم پھر واپس آ گئے ہیں*
*6 صدیوں بعد بھی وہ اپنا انتقام لینا نہیں بھولے تھے*
کچھ عرصہ قبل یہودیوں نے احتجاج کے دوران جو بینر اٹھا رکھے تھے، اس پہ لکھا تھا کہ
*Khyber was your last chance*
*کہ فتح خیبر تمہارا آخری معرکہ تھا*
آپ کو پتہ ھے معرکہ خیبر حضرت علی علیہ السلام کی سربراہی میں کب ہوا تھا؟
*یعنی چودہ سو سال بعد وہ خلش اور وہ خنجر ان کے کلیجے سے نہیں نکلا، جو حضرت علی نے درہ خیبر اکھاڑ کر پیوست کیا تھا*
*لمحہ فکریہ ھے، آپ آج بھی اسرائیل کی ویڈیوز دیکھیں، ان کا بچہ بچہ ایک مشن پر ھے، ان کا بچہ بچہ جنگجو بننے کی تیاری کررہا ھے*
*اور ہم کبھی ٹک ٹاک اور کبھی ورلڈ کپ کے چکروں میں کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیتے ہیں*
اے اربابِ اختیار!
اے مردہ ضمیر حکمرانوں !
آباؤ اجداد کی قبروں پر ٹھوکریں مروانے والو!
کیا منہ دکھاؤ گے اپنے نبی کو اور ان مجاہدین اسلام کو،
*غیرت ھے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں*
*پہناتی ھے درویش کو تاج سردارا*
پر تمہارا غیرت سے کیا تعلق واسطہ
اقبال نے صحیح فرمایا تھا کہ
*کیا گیا ہے غلامی میں مبتلا تجھ کو*
*کہ تجھ سے ہو نہ سکی فقر کی نگہبانی*
مثال ماہ چمکتا تھا جس کا نشان وجود
خرید لی ہے فرنگی نے وہ مسلمانی