Mian Shahid Islam

  • Home
  • Mian Shahid Islam
Call Website Contact the business

Mian Shahid Islam Value Marketing

*پاکستان کو جشن نہیں، عزمِ تعمیر بھی چاہیے**تحریر: میاں شاہد اسلام*چودہ اگست کا دن صرف چراغاں کرنے، قومی پرچم لہرانے اور...
13/08/2026

*پاکستان کو جشن نہیں، عزمِ تعمیر بھی چاہیے*

*تحریر: میاں شاہد اسلام*

چودہ اگست کا دن صرف چراغاں کرنے، قومی پرچم لہرانے اور ملی نغمے سننے کا دن نہیں، یہ اپنے ماضی کو یاد کرنے، حال کا دیانت داری سے جائزہ لینے اور مستقبل کے لیے اجتماعی عہد کرنے کا دن بھی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کسی اتفاق کے نتیجے میں وجود میں نہیں آیا، بلکہ اس کے پس منظر میں ایک طویل سیاسی جدوجہد، بے مثال قربانیاں اور ایک آزاد، خودمختار اور باوقار ریاست کا عظیم خواب تھا۔ اہلِ وطن کو یومِ آزادی مبارک ہو، مگر اس مبارکباد کے ساتھ ہمیں خود سے یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ کیا ہم نے پاکستان کو وہ ملک بنا دیا ہے جس کا خواب قائداعظم محمد علی جناحؒ اور تحریکِ پاکستان کے کارکنوں نے دیکھا تھا؟
قیامِ پاکستان کے وقت وسائل محدود اور مسائل بے شمار تھے، لیکن قوم کے حوصلے بلند، قیادت مخلص اور منزل واضح تھی۔ لاکھوں مہاجرین خالی ہاتھ پاکستان پہنچے مگر ان کے دل امید، عزم اور جذبۂ تعمیر سے معمور تھے۔ آج ہمارے پاس مضبوط ریاستی ادارے، زرخیز زمین، قدرتی وسائل، ایٹمی صلاحیت، وسیع منڈی، اہم جغرافیائی محلِ وقوع اور نوجوانوں کی بڑی آبادی موجود ہے۔ اس کے باوجود ہم معاشی کمزوری، سیاسی عدم استحکام، مہنگائی، بے روزگاری، قرضوں، تعلیمی پسماندگی، توانائی کے بحران، بدعنوانی، آبادی میں بے ہنگم اضافے اور کمزور طرزِ حکمرانی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔
پاکستان کا بنیادی مسئلہ وسائل کی کمی سے زیادہ ترجیحات، منصوبہ بندی، تسلسل اور دیانت دارانہ عمل کا فقدان ہے۔ ہم نے بارہا پالیسیاں بنائیں لیکن حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ قومی منصوبوں کی سمت بھی تبدیل ہوتی رہی۔ ترقی یافتہ ممالک کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہاں ریاستی پالیسیاں افراد اور حکومتوں کے بجائے قومی مفادات کے تابع رہتی ہیں۔ پاکستان کو بھی ایسی ہی قومی سمت درکار ہے جس پر تمام سیاسی جماعتیں، ریاستی ادارے، کاروباری طبقہ، دانشور، علما اور ذرائع ابلاغ متفق ہوں۔
معاشی خودمختاری کے بغیر سیاسی آزادی ہمیشہ دباؤ کا شکار رہتی ہے۔ قرض لے کر روزمرہ اخراجات پورے کرنا کسی بھی ریاست کے لیے مستقل حکمتِ عملی نہیں ہو سکتی۔ ہمیں اپنی معیشت کو درآمدات، غیر پیداواری اخراجات اور بیرونی قرضوں کے گرد گھومنے کے بجائے پیداوار، برآمدات، صنعت، زراعت، تحقیق اور ہنرمند افرادی قوت کی بنیاد پر استوار کرنا ہوگا۔ ٹیکس کا منصفانہ نظام قائم کیا جائے، طاقتور طبقات کو حاصل غیر ضروری مراعات ختم ہوں اور ریاستی وسائل کا استعمال مکمل شفافیت کے ساتھ کیا جائے۔ کفایت شعاری کا آغاز عام شہری سے نہیں بلکہ حکمران اشرافیہ اور سرکاری اداروں کی بالائی سطح سے ہونا چاہیے۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن افسوس کہ ہم متعدد بنیادی غذائی اشیا بھی بیرونِ ملک سے منگوانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ کسان کو معیاری بیج، سستی بجلی، پانی، جدید مشینری، زرعی تحقیق اور منڈی تک براہِ راست رسائی فراہم کی جائے۔ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کا خاتمہ کیے بغیر کسان خوشحال ہو سکتا ہے نہ صارف کو ریلیف مل سکتا ہے۔ زرعی پیداوار کو خام حالت میں فروخت کرنے کے بجائے اس کی مقامی سطح پر تیاری اور قدر افزائی کے ذریعے برآمدات بڑھائی جا سکتی ہیں۔
تعلیم کسی بھی ترقی یافتہ معاشرے کی پہلی سیڑھی ہے، لیکن ہمارے ہاں لاکھوں بچے آج بھی اسکولوں سے باہر ہیں۔ ایک طرف جدید سہولتوں سے آراستہ تعلیمی ادارے ہیں اور دوسری طرف ایسے سرکاری اسکول بھی موجود ہیں جہاں بنیادی سہولتیں، تربیت یافتہ اساتذہ اور معیاری نصاب تک دستیاب نہیں۔ ہمیں محض ڈگریاں تقسیم کرنے کے بجائے ایسی تعلیم فراہم کرنا ہوگی جو کردار، تخلیقی صلاحیت، تحقیق، سائنسی فکر اور عملی مہارت پیدا کرے۔ فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کو قومی ترجیح بنائے بغیر نوجوانوں کو باعزت روزگار فراہم نہیں کیا جا سکتا۔
صحت کے شعبے کی صورتِ حال بھی فوری توجہ چاہتی ہے۔ کسی غریب خاندان کے لیے ایک سنگین بیماری معاشی تباہی کا سبب بن جاتی ہے۔ صاف پانی، متوازن غذا، بنیادی مراکزِ صحت، ماں اور بچے کی نگہداشت اور بیماریوں سے بچاؤ پر سرمایہ کاری کی جائے تو بڑے اسپتالوں پر دباؤ بھی کم ہو سکتا ہے۔ صاف پانی اور صحت کی سہولت ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اسے خیرات یا سیاسی احسان نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
پاکستان کو ترقی یافتہ بنانے کے لیے قانون کی یکساں حکمرانی ناگزیر ہے۔ جس معاشرے میں طاقتور کے لیے الگ اور کمزور کے لیے الگ قانون ہو، وہاں اعتماد، سرمایہ کاری اور استحکام پیدا نہیں ہو سکتا۔ فوری اور سستے انصاف کی فراہمی، پولیس اور عدالتی اصلاحات اور اداروں کو سیاسی مداخلت سے محفوظ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بدعنوانی صرف رشوت لینے کا نام نہیں؛ اختیارات کا ناجائز استعمال، سفارش، اقربا پروری، سرکاری وقت اور وسائل کا ضیاع بھی بدعنوانی کی صورتیں ہیں۔
سیاسی استحکام کا راستہ مکالمے، برداشت اور آئینی بالادستی سے نکلتا ہے۔ سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی اور تنقید کو غداری قرار دینے کا رویہ ختم ہونا چاہیے۔ حکومت اور حزبِ اختلاف دونوں کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ریاست محاذ آرائی سے نہیں، آئین کی پاسداری اور جمہوری تسلسل سے مضبوط ہوتی ہے۔ قومی معاملات پر سنجیدہ اتفاقِ رائے پیدا کرنا کمزوری نہیں بلکہ بالغ سیاسی شعور کی علامت ہے۔
ہمیں اپنے نوجوانوں کو مایوسی، بے مقصدیت اور نفرت سے بچانا ہوگا۔ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی نوجوان نسل ہے، مگر یہی قوت اس وقت مسئلہ بن سکتی ہے جب اسے معیاری تعلیم، ہنر، روزگار اور آگے بڑھنے کے مساوی مواقع میسر نہ ہوں۔ خواتین کو تعلیم، کاروبار اور روزگار کے محفوظ مواقع فراہم کیے بغیر آدھی آبادی کو قومی ترقی میں مؤثر شریک نہیں بنایا جا سکتا۔ نوجوانوں اور خواتین کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا کسی ایک طبقے کی بہبود نہیں بلکہ قومی معیشت کی ضرورت ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، سیلاب، خشک سالی اور شدید گرمی اب مستقبل کے خدشات نہیں رہے بلکہ موجودہ حقیقت بن چکے ہیں۔ نئے آبی ذخائر، بارش کے پانی کا تحفظ، جنگلات میں اضافہ، شمسی توانائی کا فروغ اور شہروں کی بہتر منصوبہ بندی ہماری قومی سلامتی کا حصہ ہونے چاہئیں۔ قدرتی وسائل کو بے احتیاطی سے استعمال کرنا آنے والی نسلوں کے حق پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف ہے۔
ریاست کی ذمہ داری اپنی جگہ، لیکن شہری بھی قومی فرائض سے بری الذمہ نہیں۔ ٹریفک قانون کی خلاف ورزی، ٹیکس چوری، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی، صفائی سے غفلت، سفارش اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا بھی ملک کو کمزور کرتے ہیں۔ پاکستان صرف حکومت، پارلیمان یا اداروں کا نام نہیں؛ پاکستان ہم سب ہیں۔ جب تک ہم اپنی ذات، گھر، کاروبار، دفتر اور معاشرتی رویوں میں دیانت، نظم و ضبط اور ذمہ داری پیدا نہیں کریں گے، محض نعروں سے تبدیلی نہیں آئے گی۔
چودہ اگست ہمیں امید دلاتا ہے کہ جس قوم نے ناممکن حالات میں ایک آزاد وطن حاصل کیا، وہ اپنے مسائل پر قابو بھی پا سکتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ ہم شخصیات کے بجائے اصولوں، وقتی مفادات کے بجائے قومی ترجیحات اور تقسیم کے بجائے اتحاد کو اختیار کریں۔ ہمیں ایسا پاکستان تعمیر کرنا ہے جہاں کسی بچے کا مستقبل اس کے والدین کی دولت سے طے نہ ہو، کسی مریض کو علاج کے لیے اپنی جمع پونجی نہ بیچنا پڑے، کسی نوجوان کو روزگار کے لیے وطن چھوڑنے پر مجبور نہ ہونا پڑے اور کسی شہری کو انصاف کے حصول کے لیے برسوں انتظار نہ کرنا پڑے۔
آئیے، اس یومِ آزادی پر صرف پاکستان سے محبت کا اظہار نہ کریں بلکہ اس کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالنے کا عہد بھی کریں۔ پاکستان ہمیں ورثے میں ضرور ملا ہے، مگر ایک مستحکم، خوشحال، تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ پاکستان اپنی آنے والی نسلوں کو دینا ہماری ذمہ داری ہے۔ یہی آزادی کا حقیقی جشن، قربانیوں کا درست اعتراف اور قائداعظمؒ کے پاکستان سے سچی وفاداری ہوگی۔
پاکستان زندہ باد!
#14اگست

#پاکستان #قائداعظم


#تعلیم
#نوجوان























News HDMian Shahid IslamMian Shahid IslamDHA Lahore Residents

*ماں کے پیٹ میں 5 ماہ کے بچے کی کامیاب سرجری، زندگی ابھی ہاری نہیں**تحریر: میاں شاہد اسلام*دنیا میں بعض خبریں صرف ایک وا...
07/08/2026

*ماں کے پیٹ میں 5 ماہ کے بچے کی کامیاب سرجری، زندگی ابھی ہاری نہیں*

*تحریر: میاں شاہد اسلام*

دنیا میں بعض خبریں صرف ایک واقعہ نہیں ہوتیں بلکہ انسانی عقل، تحقیق اور امید کے سفر کا نیا باب کھول دیتی ہیں۔ برطانیہ اور امریکا سے آنے والی حالیہ خبر بھی انہی میں سے ایک ہے، جہاں ڈاکٹروں نے رحمِ مادر میں موجود ایک بچے کی کامیاب سرجری کرکے اسے نئی زندگی دی۔ بظاہر یہ ایک طبی کامیابی ہے، لیکن حقیقت میں یہ اس بات کا اعلان بھی ہے کہ سائنس اب وہاں پہنچ رہی ہے جہاں زندگی کو جنم لینے سے پہلے بھی محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ خبر صرف ڈاکٹروں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے خوش آئند ہے۔
برطانیہ کی 29 سالہ مائزی سیویج اور ان کے شوہر جوش فرنچ اپنے پہلے بچے کی آمد کے منتظر تھے۔ حمل کے بیسویں ہفتے تک سب کچھ معمول کے مطابق تھا، مگر ایک معمول کے اسکین نے ان کی خوشیوں کو تشویش میں بدل دیا۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچے کو گیسٹروشیسس نامی پیدائشی بیماری لاحق ہے، جس میں ناف مکمل طور پر نہیں بنتی اور بچے کی آنتیں جسم سے باہر نشوونما پاتی ہیں۔ یہ ایک پیچیدہ بیماری ہے، جس میں پیدائش کے بعد فوری اور کئی مرتبہ متعدد سرجریوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔
اس بار ڈاکٹروں نے روایتی طریقہ اختیار کرنے کے بجائے ایک نیا راستہ چنا۔ حمل کے چھبیسویں ہفتے میں رحمِ مادر ہی میں بچے کی سرجری کی گئی اور باہر موجود آنتوں کو دوبارہ پیٹ کے اندر منتقل کر دیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بچہ صحت مند حالت میں پیدا ہوا اور آج پانچ ماہ کی عمر میں معمول کے مطابق نشوونما پا رہا ہے۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ تھیو دنیا کا صرف تیسرا بچہ ہے جسے اس منفرد کلینیکل ٹرائل سے فائدہ پہنچا۔ اس ایک کامیابی نے مستقبل کی طب کے کئی نئے دروازے کھول دیے ہیں۔
یہ کامیابی اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ گیسٹروشیسس اگرچہ ایک نایاب بیماری ہے، مگر اس کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق برطانیہ میں ہر سال تقریباً تین ہزار میں سے ایک بچہ اس بیماری کا شکار ہوتا ہے۔ پیچیدہ صورتوں میں بچوں کو کئی ماہ انتہائی نگہداشت میں رہنا پڑتا ہے، مصنوعی غذا دینا پڑتی ہے اور بعض اوقات آنتوں کی پیوندکاری بھی کرنا پڑتی ہے۔ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ جدید طبی سہولتوں کے باوجود بھی ہر دس میں سے ایک بچہ جانبر نہیں ہو پاتا۔ یہی اعداد و شمار اس نئی سرجری کی اہمیت کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔
اس واقعے کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ طب میں انقلاب اچانک نہیں آتا۔ اس کے پیچھے برسوں کی تحقیق، مسلسل تجربات اور سائنسی جستجو ہوتی ہے۔ آج اگر ڈاکٹر رحمِ مادر میں ایک ننھے سے بچے کی جان بچانے میں کامیاب ہوئے ہیں تو یہ صرف جدید مشینوں کا کمال نہیں بلکہ ان محققین کی محنت کا نتیجہ ہے جنہوں نے برسوں اس خواب کو حقیقت بنانے کے لیے کام کیا۔ ترقی یافتہ ممالک اسی لیے آگے ہیں کہ وہاں صحت کے شعبے میں تحقیق کو اخراجات نہیں بلکہ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔
یہ خبر پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی ایک پیغام رکھتی ہے۔ ہمارے ہاں قابل اور باصلاحیت ڈاکٹر موجود ہیں، لیکن جدید تحقیق، خصوصی طبی مراکز اور جدید آلات کی کمی اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ دیہی علاقوں میں آج بھی بہت سی حاملہ خواتین بنیادی طبی معائنے تک سے محروم رہ جاتی ہیں، جس کے باعث کئی پیچیدہ بیماریاں بروقت تشخیص نہیں ہو پاتیں۔ اگر تحقیق، تربیت اور جدید طبی سہولتوں پر سنجیدگی سے سرمایہ کاری کی جائے تو بعید نہیں کہ مستقبل میں ایسی کامیابیاں پاکستان کے اسپتالوں سے بھی دنیا کی سرخیاں بنیں۔
تھیو کی کہانی صرف ایک بچے کی زندگی بچنے کی خبر نہیں، بلکہ اس حقیقت کی علامت ہے کہ جب انسان علم کو اپنی سب سے بڑی طاقت بنا لیتا ہے تو ناممکن دکھائی دینے والے خواب بھی حقیقت بن جاتے ہیں۔ آج یہ کامیابی دنیا کے صرف تیسرے بچے تک محدود ہے، لیکن ممکن ہے آنے والے برسوں میں یہی طریقہ ہزاروں بچوں کی زندگی بچانے کا معمول بن جائے۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ ہر بڑی طبی دریافت ابتدا میں ایک غیر معمولی واقعہ ہوتی ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہ عام علاج بن جاتی ہے۔
یہ خبر ہمیں ایک اور حقیقت بھی یاد دلاتی ہے کہ ترقی صرف بلند عمارتوں، شاہراہوں یا بڑے منصوبوں کا نام نہیں۔ اصل ترقی وہ ہے جو انسان کی زندگی آسان بنائے، بیماری کو شکست دے اور مایوس والدین کی آنکھوں میں دوبارہ امید جگا دے۔ رحمِ مادر میں ہونے والی یہ کامیاب سرجری اسی امید کا استعارہ ہے، جو یہ یقین دلاتی ہے کہ جب علم، تحقیق اور انسانیت ایک ساتھ سفر کریں تو زندگی جنم لینے سے پہلے بھی موت کو شکست دے سکتی ہے۔
#سائنس #تحقیق #صحت
Shahid IslamMian Shahid IslamValue News HD

Address


Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+9242111150150

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mian Shahid Islam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mian Shahid Islam:

Shortcuts

  • Want your business to be the top-listed realtor/realty service?

Share