25/03/2024
جسطرح سڑک پر تڑپ تڑپ کر اس نوجوان نے جان دی۔خون میں لت پت۔
روح تڑپ گئی ایسا لگا جیسے اپنا بچہ ہے۔
یہ مجھے نہیں ہر شخص کو محسوس ہوا۔
یہ منظر پہلی دفعہ قوم نے دیکھا قسمت سے پہلی دفعہ کیمرے کی آنکھ نے یہ کرب ناک منظر محفوظ کر لیا۔
ہر آنکھ اشکبار ہے۔
اب کسی پولیس یا قانون کی ضرورت نہیں۔یہ کچھ نہیں کر سکتے۔
اب ضرورت ہے احساس ذمہ داری کی۔
اب بھی کوئی یہ ڈور بناتا ہے اور اپنے بچوں کو کوئی پتنگ اڑانے کی اجازت دیتا ہے اس جیسا سفاک کوئی نہیں کائنات میں۔
اور وہ ناقابل معافی ہے
اب ہر شخص کو اپنا رول ادا کرنا پڑے گا جہاں کوئی پتنگ اڑا رہا ہو اسکی ویڈیو بنا لے۔انکو بتائے یہ پولیس کو بھیج رہا ہوں۔اور کڑی نظر رکھے یہ دوبارہ تو نہیں شروع ہو گئے۔
آج سے دوسال پہلے میں فیصل آباد ایک سوسائٹی میں تھا بچے پتنگ اڑا رہے تھے ویڈیو بھی بنائی اور بعزتی بھی کی۔اور شام کو دوبارہ چیک کیا تو ایک گھر میں بچہ پتنگ لے کر جارہا تھا اس کے دروازے پر دستک دی اور واضح طور پر کہا رک جائے ورنہ یہ ویڈیو ہے پولیس کو دے دو گا۔اس کے بعد وہاں پتنگ نظر نہیں آئی۔اپکو تھوڑا سا ابنارمل رویہ اپنانا ہو گا۔اس سانحہ کے بعد اس کے علاوہ اب کوئی راستہ نہیں بچا۔
ایسا کرکے آپ کسی پر نہیں اپنے بچوں پر احسان کریں گے۔