21/01/2026
لکھنؤ میں پہلی بار بلدیہ کے انتخابات ہوئے تو اپنے وقت کی مشہور طوائف "دلرُبا جان" چوک سے امیدوار بنی۔
اس کے خلاف الیکشن لڑنے کو کوئی تیار نہیں تھا۔ ان دنوں ایک مشہور طبیب تھے، حکیم شمس الدین۔ چوک میں ان کا مطب تھا۔ بڑے باعزت و نیک نام تھے۔ دوستوں نے انھیں زبردستی الیکشن میں "دلربا جان" کے مقابلے میں کھڑا کر دیا۔
"دلربا جان" کی انتخابی مہم نے زور پکڑا۔ روزانہ سر شام چوک میں محفلیں سجنے لگیں۔ جدن بائی جیسی اپنے زمانے کی مشہور رقاصاؤں کے پروگرام ہونے لگے اور محفلوں میں بےتحاشہ بھیڑ ہونے لگی۔ اس وقت حکیم صاحب کے ساتھ چند دوست ہی ہوا کرتے تھے جنہوں نے انھیں الیکشن میں جھونک دیا تھا۔
اب حکیم صاحب کو غصہ آیا کہ تم لوگوں نے مجھے مار دیا، میری شکست یقینی ہے۔ دوستوں نے ہمت نہیں ہاری اور نعرہ دیا:
"ہے ہدایت چوک کے ہر ووٹر شوقین کو
"دل دیجئے دلربا کو، ووٹ شمس الدین کو"
جواب میں "دلربا جان" نے یہ نعرہ دیا:
" ہے ہدایت چوک کے ہر ووٹر شوقین کو
دلربا کو ووٹ دیجئےنبض شمس الدین کو
خوش قسمتی سے حکیم صاحب کا نعرہ کامیاب ہوا اور وہ الیکشن جیت گئے۔
لکھنؤ کی تہذیب کے مطابق دلربا جان نے حکیم صاحب کو گھر پر جاکر مبارکباد دیتے ہوئے کہا:
" میں الیکشن ہار گئی، آپ جیت گئے، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا مگر آپ کی جیت سے ایک بات تو ثابت ہو گئی کہ لکھنؤ میں مرد کم اور مریض زیادہ ہیں"
(منقول)