SyedShayan.com

SyedShayan.com Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from SyedShayan.com, Head Office: 38/A-5 Happy Homes, Shayan Lane, Main Gulberg, Lahore.

آپ کے محلے کے موبائل ٹاور کا وہ پوشیدہ پہلو جسے ہم سب نظر انداز کر بیٹھے ہیںعام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ ملک بھر میں نظر...
19/11/2025

آپ کے محلے کے موبائل ٹاور کا وہ پوشیدہ پہلو جسے ہم سب نظر انداز کر بیٹھے ہیں

عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ ملک بھر میں نظر آنے والے موبائل ٹاور صرف موبائل کمپنیوں کے ہوتے ہیں، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔

پاکستان میں اس وقت چار بڑی موبائل فون کمپنیاں کام کر رہی ہیں: جاز، زونگ، ٹیلی نار اور یوفون۔
ان کمپنیوں کے پھیلتے ہوئے سسٹم کو سہارا دینے کے لیے پاکستان بھر میں فعال ٹاورز کی مجموعی تعداد تقریباً پچاس ہزار کے لگ بھگ بنتی ہے۔

لیکن ان تقریباً پچاس ہزار ٹاورز میں ایک بڑی تعداد اُن انفراسٹرکچر کمپنیوں کی بھی ہے جو صرف ٹاور بنا کر انہیں مختلف نیٹ ورکس کو کرائے پر دیتی ہیں۔
اس آرٹیکل کو اُردو میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں: https://www.syedshayan.com/re-blog3.php

▪️اس دیسی انگریز کا قصّہ جس نے ماڈل ٹاؤن لاہور کے خواب کو حقیقت بنا دیا۔قسط: 14جینٹلمینز کلب کے سنگ بنیاد کی تقریب کے دو...
18/11/2025

▪️اس دیسی انگریز کا قصّہ جس نے ماڈل ٹاؤن لاہور کے خواب کو حقیقت بنا دیا۔
قسط: 14

جینٹلمینز کلب کے سنگ بنیاد کی تقریب کے دوران پنجاب کے گورنر سر ایڈورڈ میکلیگن Sir Edward Douglas Maclagan نے اپنی تقریر میں لاہور کے مقامی شہریوں کے لیے جدید رہائشی ضروریات، کوآپریٹو ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے منصوبے کی اہمیت، اور حکومت کی محدود مگر اہم حمایت کو موضوع بنایا۔

پنجاب کے گورنر نے اپنی تقریر میں ایک نہایت اہم بات کی۔

“جس زمین کو ہم نے ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کو فروخت کیا، اس پر دراصل ایک گھنا جنگل آباد تھا جو ہمارے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا۔ یہ خطہ پنجاب کی قیمتی پلانٹیشنز plantations میں شمار ہوتا تھا، اس لیے ہم اسے چھوڑنے میں کافی تذبذب کا شکار تھے۔ آپ اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم آپ کے اس رہائشی منصوبے کو کس قدر اہمیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، کہ ہم نے اتنی قیمتی زمین کو اس منصوبے کے لیے قربان کرنے کے قابل سمجھا۔”

یہ تقریر Civil and Military Gazette کی 12 اپریل 1924 کی رپورٹ میں شائع ہوئی، جس کا حوالہ ڈاکٹر شمع عنبرین کے پی ایچ ڈی تھیسس (یونیورسٹی آف لیورپول 2014) میں بھی موجود ہے۔

ماڈل ٹاؤن لاہور کی یہ افتتاحی تقریب اپریل 1924 میں ان کی گورنری کے آخری عوامی فرائض میں سے ایک تھی۔ اس تقریب کے چند ہی ہفتوں بعد، سر ایڈورڈ میکلیگن نے گورنر پنجاب کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔ برطانوی سرکاری ریکارڈ Gazette of India (3 May 1924) کے مطابق، ان کا استعفیٰ 30 اپریل 1924 سے مؤثر قرار دیا گیا۔ تاہم انتظامی روایات کے مطابق انہوں نے عملی طور پر چارج اس وقت تک برقرار رکھا جب تک ان کے جانشین سر مالکم ہیلے (Sir Malcolm Hailey) نے جون 1924 میں عہدہ نہ سنبھال لیا۔

یوں ان کی گورنری کا دور سرکاری طور پر 31 مئی 1924 کو ختم ہوا، اور اسی روز نئے گورنر نے چارج سنبھال لیا۔ بعد ازاں، سر میکلیگن نے یکم دسمبر 1924 سے انڈین سول سروس سے اپنی ریٹائرمنٹ مؤثر کروائی، جس کی تصدیق Punjab Government Gazette میں شائع شدہ نوٹیفکیشن سے ہوتی ہے۔

میں نے قسط 8 میں یہ ذکر کیا تھا کہ گورنر پنجاب سر میکلیگن کو کراؤن لینڈ مقامی لوگوں کو رہائشی کالونی بنانے کے لیے دے دینے کی پاداش میں گورنری کے منصب سے ہاتھ دھونا پڑے۔ گورنر نے اپنی افتتاحی تقریر میں بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا تھا کہ انہوں نے یہ فیصلہ عوامی فائدے اور ایک ماڈل بستی کے قیام کے لیے کیا، اور وہ جانتے تھے کہ اس فیصلے سے کچھ حلقوں میں ناراضی اور اختلاف پیدا ہوگا۔ یہی اختلافات بعد میں اس حد تک بڑھے کہ انہیں اپنے عہدے سے الگ ہونے کا فیصلہ کرنا پڑا۔

واقعہ یہ ہے کہ برطانوی انتظامیہ کے دور میں برصغیر کی زمینوں کو دو بنیادی اقسام میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ایک ریونیو لینڈ، جو پہلے سے مقامی مالکان کے نام پر تھی اور محکمہ مال کے ریکارڈ میں بھی انہی کا نام درج ہوتا تھا۔ دوسری کراؤن لینڈ، جسے حکومت باضابطہ نوٹیفکیشن کے ذریعے ریاستی ملکیت قرار دیتی تھی، جیسا کہ وہ زمینیں جنہیں انگریزوں نے نہریں اور ریلوے بچھا کر خود آباد کیا، مثلاً لائلپور، یا اوکاڑہ اور منٹگمری کے آس پاس کے علاقے، رکھ، اور زرعی رقبے۔ ماڈل ٹاؤن کا علاقہ بھی نوٹیفائیڈ کراؤن لینڈ میں شامل تھا، اسی لیے اس زمین کو رہائشی کالونی کے لیے مخصوص کرنا اُس وقت کے سرکاری نظام میں ایک غیر معمولی فیصلہ تصور کیا گیا۔

لیکن گورنر پنجاب سر ایڈورڈ میکلیگن ہمیشہ یہاں کے مقامی لوگوں کی حمایت میں کھڑے نظر آتے تھے اور ان کے حق میں آواز بلند کرتے تھے۔

ابتدائی ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ سر ایڈورڈ میکلیگن کے والد اس وقت لاہور میں محکمہ تعمیرات عامہ PWD میں چیف انجینئر تھے اور گرمیوں میں اہلِ خانہ کے ساتھ حسبِ روایت پہاڑی مقام مری میں مقیم تھے۔ جب قیام کے دوران اگست 1864 میں ایڈورڈ میکلیگن کی پیدائش ہوئی اور اکتوبر میں خاندان دوبارہ لاہور لوٹ آیا۔

پنجاب اور مری کے اسی ماحول میں گزرا ہوا ابتدائی بچپن میکلیگن کو مقامی معاشرت اور زبان سے اس قدر مانوس کر گیا کہ پنجاب کے لوگوں کے ساتھ ان کا تعلق غیر معمولی طور پر بے تکلف تھا۔ وہ پنجابی اور اردو بآسانی بول اور سمجھ سکتے تھے۔

ان کا بچپن کا کچھ عرصہ یہاں گزرا تھا پھر وہ اعلی تعلیم کے لیے انگلینڈ گئے اور جب انہوں نے انڈین سول سروس ICS کا امتحان پاس کیا تو انہیں دوبارہ برٹش انڈیا بھیج دیا گیا اور یہاں انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر کی حیثیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور پھر چیف سیکریٹری پنجاب کے عہدے تک جا پہنچے۔

امرتسر 1919 کے جلیانوالہ باغ کے سانحے کے بعد، جب جنرل ڈائر کے حکم پر بے گناہ ہندوستانیوں کا قتل عام ہوا، تو پورے برصغیر کی فضا شدید کشیدہ ہو گئی تھی۔ انگریز حکومت کے خلاف غم و غصہ عروج پر تھا۔ ایسے ماحول میں تاج برطانیہ نے یہ فیصلہ کیا کہ پنجاب کے لیے ایسا گورنر مقرر کیا جائے جو یہاں کی معاشرت، زبان اور نفسیات کو سمجھتا ہو۔ یہی وہ بنیادی وجہ تھی کہ سر ایڈورڈ میکلیگن کو چیف سیکریٹری کے عہدے سے ترقی دے کر 1919 میں پنجاب کا گورنر بنایا گیا، کیونکہ وہ اس خطے کے ماحول سے غیر معمولی حد تک واقف تھے۔

میکلیگن کا اندازِ حکمرانی اس قدر ملنسار اور کھلا ڈھلا تھا کہ مقامی لوگ بلا جھجھک ان کے کمرے میں داخل ہو جاتے تھے، کبھی کسی کو ان کی طرف سے روکنے ٹوکنے کی ضرورت محسوس نہ کی گئی تھی۔ لوگ انہیں اپنا ہی سمجھتے تھے، بس ایک رنگت کا فرق ضرور موجود تھا۔ دیسی انگریز کی اصطلاح پہلی بار ہمارے ہاں ان کی شخصیت کی وجہ سے آئی تھی۔

میکلیگن کو یہ احساس رہتا تھا کہ ہم انگریز تو شاندار رہائش گاہوں میں رہتے ہیں مگر یہاں کے مقامی لوگ ان سہولتوں سے محروم ہیں۔ چنانچہ جب پڑھے لکھے نوجوان ان سے ملنے آتے تو وہ ان سے دوستانہ گفتگو بھی کرتے، مذاق بھی، اور ساتھ ہی انہیں حوصلہ دیتے کہ اپنی محنت سے آگے بڑھو، میں جہاں ممکن ہو تمہاری مدد کروں گا۔

چنانچہ یہی وجہ تھی کہ جب دیوان کھیم چند نے اپنا کوآپریٹو رہائشی منصوبہ پیش کیا تو دراصل گورنر میکلیگن ہی وہ شخصیت تھے جنہوں نے پس پردہ بھی اور لوگوں کے سامنے بھی ان کی بھرپور مدد کی۔ اور پھر معاملہ یہاں تک آن پہنچا کہ 11 اپریل 1924 کو گورنر میکلیگن نے ماڈل ٹاؤن کے رہائشیوں کی اولین سہولت کے لیے Gentlemen’s Club کا سنگ بنیاد رکھا اور ماڈل ٹاؤن لاہور عملی طور پر تعمیر کے مرحلے میں داخل ہوا۔ جون 1924 میں انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ قائم ہوا، سڑکوں، نکاسی آب اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر شروع ہوئی۔ دفتر مرکزی پارک اور جینٹلمینز کلب کے قریب بنایا گیا۔ سر گنگا رام خود سائٹ کا معائنہ کرتے رہے، جبکہ دیوان کھیم چند کی نگرانی میں انتظامی کمیٹی روزانہ پیش رفت رپورٹ کرتی تھی۔ یہ لاہور کے مضافات میں منظم شہری ترقی کا پہلا عملی تجربہ تھا۔

جاری ہے۔۔۔ باقی آئندہ قسط میں۔

▫️ کیا آپ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ ماڈل ٹاؤن لاہور میں سر ایڈورڈ میکلیگن کی آنر میں کوئی یادگار قائم کی جانی چاہیے؟
(اس قسط کے حوالے سے قارئین سے ایک سوال)

▫️ نئے گورنر پنجاب کے آنے پر ماڈل ٹاؤن لاہور پر کیا گزری، اس کا تذکرہ آئندہ اقساط میں کیا جائے گا۔

▪️ یہ مضمون ماڈل ٹاؤن لاہور پر میری زیرِ طبع کتاب
‏The Birth of Model Town in Colonial Lahore
“برطانوی لاہور میں ماڈل ٹاؤن کا جنم”
سے اخذ شدہ ہے۔

اس کتاب کی کچھ اقساط رئیل اسٹیٹ تھنک ٹینک اور ویب پورٹل SyedShayan.com پر دستیاب ہیں۔
اسی موضوع پر ایک جامع ڈاکیومنٹری بھی ریفرنس کے لیے تیاری کے آخری مراحل میں ہے۔

اگر کوئی فرد یا ادارہ تاریخی دستاویزات، تحقیقی مواد یا تصویری ریکارڈ شیئر کرنا چاہے تو میں انہیں خوش آمدید کہوں گا۔

یہ مواد تحقیقی استناد اور علمی استفادے کے لیے نہایت قیمتی ہوگا۔

ماڈل ٹاؤن کے موجودہ یا سابقہ رہائشی حضرات اگر اس تاریخی کتاب یا ڈاکیومنٹری کے لیے اپنی کوئی یاد، تصویر یا تاثرات شیئر کرانا چاہیں تو براہ کرم میرے ویب پورٹل پر جا کر بذریعہ ای میل مجھ سے رابطہ کریں۔

ویب پورٹل: SyedShayan.com

پنجاب میں شہروں کی زوننگ تبدیل کر کے دولت بنانے کا نیا کھیل: کس کو فائدہ، کس کو نقصان؟▫️ریذیڈنشل علاقوں کو کمرشل میں بدل...
15/11/2025

پنجاب میں شہروں کی زوننگ تبدیل کر کے دولت بنانے کا نیا کھیل: کس کو فائدہ، کس کو نقصان؟

▫️ریذیڈنشل علاقوں کو کمرشل میں بدلنے کا کاروبار
▫️کون فیصلے کر رہا ہے؟ کون فائدہ اٹھا رہا ہے؟
▫️اس کا شہر پر، ٹریفک پر، اور عام شہری پر کیا اثر ہو رہا ہے
▫️ایک رہائشی علاقے میں سرکاری و کمرشل دفاتر کا قائم ہونا یا تعلیمی اداروں کا کھل جانا زوننگ کی ناکامی کی نشانی ہے۔

میں گارڈن ٹاؤن لاہور کے ابوبکر بلاک میں رہائش پذیر ہوں۔ چند سال پہلے تک یہ ایک مکمل رہائشی علاقہ تصور ہوتا تھا، پُرسکون، صاف، محفوظ اور رہنے کے قابل۔ مگر پھر ایک دن میرے گھر سے صرف چار گھروں کے فاصلے پر حکومت کا Excise and Taxation Office کھول دیا گیا۔ اس کے بعد سڑک پر گاڑیوں کا ہجوم مستقل ہو گیا، لوگوں کی لائنیں لگنے لگیں، بنچوں پر بیٹھے ایجنٹوں نے پوری سڑک کو دفتر میں بدل دیا، اور آس پاس کے گھروں میں مکینوں کا داخل ہونا بھی مشکل ہو گیا۔

اس سے قبل کچھ کال سینٹرز اور میرج ہالز بھی یہاں قائم ہو چکے تھے یوں اس علاقے کی پرسکون، ہوادار رہائشی فضا اور گھنے درخت جو کبھی اس کی پہچان تھے، بتدریج ختم ہوتے گئے اور ان کی جگہ لوگوں کے ہجوم اور گاڑیوں کے ہر وقت کے شور شرابے نے لے لی۔

شہر کے ایک انتہائی قیمتی رہائشی علاقے میں تجارتی سرگرمیوں کا فائدہ نہ مجھے ہوا، نہ میرے پڑوسیوں کو۔ یہ فائدہ صرف اُن دو چار لوگوں کا ہوا جنہوں نے رہائشی علاقے میں اپنے گھر کمرشل سرگرمیوں کے لیے کرائے پر دیے۔ جنہیں یہیں رہنا تھا ان کو اب کئی مسائل کا سامنا تھا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کرایہ داروں کو کمرشل سرگرمیاں کرنے کی اجازت شہر کی ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے آخر کیسے دے دی، جبکہ میرا گھر اور آس پاس کے تمام گھر واضح طور پر شہر کے رہائشی زون میں آتے ہیں۔

ممکن ہے کچھ لوگ یہ پوچھیں کہ رہائشی زون کیا ہوتا ہے؟ تو آئیے اسے سمجھتے ہیں۔

زوننگ کا بنیادی مطلب ہے کہ کسی شہر یا علاقے کو نقشے پر تقسیم کر کے یہ فیصلہ کرنا کہ:

▫️کہاں صرف گھر بن سکتے ہیں
▫️کہاں دکانیں اور پلازے بن سکتے ہیں
▫️کہاں فیکٹری لگ سکتی ہے
▫️کہاں پارک، گرین ایریا یا اوپن اسپیس لازمی رہے گی
▫️کہاں اسکول، اسپتال، مسجد یا پبلک عمارت بنے گی
▫️اور کہاں ٹرانسپورٹ کا مرکزی نیٹ ورک، بس روٹس، سڑکیں اور ٹریفک کوریڈورز بنیں گے تاکہ شہر منظم، محفوظ اور قابلِ رہائش رہے۔

یہ تقسیم قانونی ہوتی ہے اور اسے شہر کا Land Use Plan یا Zoning Code کہا جاتا ہے۔

دنیا کے زیادہ تر میٹروپولیٹن شہروں میں زمین کو پانچ سے سات بنیادی زوننگ اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ شہر منظم طریقے سے ترقی کرے اور رہائشی، کمرشل اور ماحولیات کا توازن برقرار رہے۔ ان میں عام طور پر شامل ہوتے ہیں:
1. ریذیڈنشل زون
2. کمرشل زون
3. انڈسٹریل زون
4. گرین یا اوپن اسپیس زون
5. پبلک اور کمیونٹی زون

بعض بڑے شہروں میں اس کے ساتھ مکسڈ یوز اور اسپیشل پلاننگ ڈسٹرکٹ بھی شامل کیے جاتے ہیں، مگر بنیادی ڈھانچہ دنیا بھر میں تقریباً ایک جیسا ہوتا ہے، جو شہری ترقی، ٹریفک کے بوجھ کے حساب سے انفراسٹرکچر کی تقسیم اور مجموعی نظم و ضبط کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

▪️زوننگ کا بنیادی مقصد کیا ہے؟

ہر بڑے شہر میں زوننگ اس لیے کی جاتی ہے تاکہ شہر منظم، متوازن اور محفوظ طریقے سے ترقی کرے اور ہر جگہ وہی تعمیر ہو جو اس علاقے کے لیے موزوں ہو۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ رہائشی محلوں میں سکون برقرار رہے، کمرشل زون میں مناسب سڑکیں اور پارکنگ ہوں، اور فیکٹریاں آبادی سے دور رکھی جائیں۔ اسی طرح پارکس، گرین بیلٹ اور اوپن اسپیس محفوظ رہیں تاکہ شہریوں کو صاف ماحول اور کھلی جگہیں میسر رہیں۔ زوننگ ٹریفک کے بوجھ، سیوریج، بجلی اور پانی کے نظام کو متوازن رکھتی ہے اور یہ یقینی بناتی ہے کہ بغیر قانونی منظوری کے کوئی بھی مالک اپنی جگہ کے استعمال کو تبدیل نہ کر سکے۔ سادہ لفظوں میں، زوننگ شہر کو بے ترتیبی، افراتفری اور غیر منصوبہ بند تعمیرات سے بچانے کا بنیادی نظام ہے۔

(یاد رہے کہ ہر شہر میں زوننگ سے پہلے ایک باقاعدہ ماسٹر پلان بنایا جاتا ہے، جو 20 سے 25 سال کے لیے طے شدہ ہوتا ہے۔ اسے Statutory Master Plan یا Approved Master Plan کہا جاتا ہے اور دورانِ نفاذ اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اسی پلان کے تحت پورے شہر کی زوننگ، زمین کا استعمال اور ترقی کا نقشہ طے ہوتا ہے۔)

▪️زوننگ کی تبدیلی سے فائدہ کس کو ہوتا ہے اور نقصان کس کو؟ اصل بات جو عوام نہیں سمجھتے

زوننگ کی تبدیلی اس علاقے کے پراپرٹی مالکان کو وقتی خوشی ضرور دیتی ہے اور وہ سوچتے ہیں کہ اب ان کا گھر کروڑوں میں بکے گا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس “Change of Land Use” کا اصل فائدہ صرف چند مخصوص افراد کو ملتا ہے، جیسے ترقیاتی اداروں کے کچھ ملازمین جن کے پاس ہر پراپرٹی کی فائل ہے اور وہ پہلے سے پراپرٹی مالکان سے لین دین طے کر لیتے ہیں، منتخب ڈویلپرز، پراپرٹی گروپس اور مقامی سیاسی افراد،

جبکہ اس زوننگ سے نقصان پورے علاقے کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ایک رہائشی علاقہ جب “ریذیڈنشل زون” سے “کمرشل زون” میں تبدیل ہوتا ہے تو ابتدا میں قیمت بڑھتی ہے، مگر چند سال بعد ٹریفک کے دباؤ، شور، پارکنگ کی تباہی، سیوریج کے بیٹھ جانے، انفراسٹرکچر پر اضافی لوڈ اور گرین ایریاز کی تباہی پورے علاقے کو ناکارہ بنا دیتی ہے۔

ہاں، صرف مین روڈ پر واقع پراپرٹی کی قیمت ضرور بڑھتی ہے، لیکن اندرونی سڑکوں اور گلیوں کے گھروں کی قدر تیزی سے گرنے لگتی ہے۔ ان کے خریداروں کی تعداد محدود ہو جاتی ہے کیونکہ ان کی پراپرٹی کے اصل خریدار بھی اب وہی ہوتے ہیں جو مین روڈ پر فرنٹ کی پراپرٹی کے مالکان ہوتے ہیں، اور وہی لوگ جو کبھی قیمت بڑھنے پر خوش ہوتے تھے، چند ہی برسوں میں اس تبدیلی کے سب سے بڑے متاثرہ بن جاتے ہیں۔

▪️ہمارے ہاں زوننگ کے نام پر کیا ہو رہا ہے؟

پنجاب خصوصاً لاہور میں زوننگ کا عمل اپنی شہری منصوبہ بندی کی اصل حیثیت کھو کر ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ ’’Change of Land Use‘‘ کے نام پر رہائشی گھروں کو کمرشل، گرین بیلٹس کو کنکریٹ، اور اسکول و اسپتال کی زمینوں کو پلازوں میں بدلا جا رہا ہے۔ اس عمل کو Zoning Manipulation اور Unregulated Conversion کہا جاتا ہے، جس سے ماسٹر پلان غیر مؤثر ہو جاتا ہے اور شہر کی ساخت بگڑتی چلی جاتی ہے۔

رہائشی پلاٹس کو کمرشل قرار دیتے ہی ان کی قیمت چند دنوں میں دو سے تین گنا بڑھ جاتی ہے، جس سے Speculative Development تو بڑھتی ہے مگر شہری ضروریات پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور، فیصل آباد، ملتان، راولپنڈی اور دیگر شہروں میں زمین وہی رہتی ہے، مگر اس کی درجہ بندی بدلتے ہی پورا مارکیٹ ڈائنامکس بدل جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ شہر ایک منظم نظام کے بجائے بے ترتیب اور لالچ پر مبنی Real Estate Expansion کا شکار ہو گئے ہیں۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ زوننگ کی تبدیلی کے فیصلے عوامی سطح پر نہیں ہوتے۔ نہ کھلی سماعت (open hearing)، نہ اہلِ محلہ کی رائے، نہ پلاننگ کے اصول۔ پورا اختیار چند افراد پر مشتمل ’’Land Use Conversion Committee‘‘ کے پاس ہوتا ہے، جس کے پانچ سات لوگ پورے شہر کی قسمت کا فیصلہ کر دیتے ہیں۔ درخواست فائل بنتی ہے، رسمی نوٹ لگتا ہے، دستخط ہوتے ہیں اور ایک رہائشی زون کمرشل میں بدل جاتا ہے۔ عوام کو صرف تب خبر ہوتی ہے جب ریوڑیاں آپس میں بانٹی جا چکی ہوتی ہیں۔

▪️اس نظام کو درست کرنے کے لیے کمرشلائزیشن کا اختیار شہر کی ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے واپس لینا ہو گا۔

پنجاب میں زوننگ کے بگڑے ہوئے نظام کو درست کرنے کے لیے سب سے پہلے وہ قانونی فریم ورک نافذ کرنا ہوگا جو دنیا کے بڑے اور منظم شہروں میں بنیادی اصول سمجھا جاتا ہے۔ اس میں یکساں زوننگ ضابطہ، Unified Zoning Code، عوامی سماعت، ماحولیاتی اثرات کا تجزیہ، اور زمین کے استعمال سے متعلق ایک خود مختار اتھارٹی جسے Independent Land Use Authority کہتے ہیں شامل ہوتی ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں زوننگ کی کسی بھی تبدیلی کی منظوری تب تک نہیں دی جاتی جب تک دو بنیادی مراحل مکمل نہ ہو جائیں۔ پہلا مرحلہ عوامی اطلاع کا ہوتا ہے اور دوسرا مرحلہ کھلی سماعت کا، جہاں اس علاقے کے رہنے والے، وہاں کاروبار کرنے والے افراد اور متعلقہ شہری تنظیمیں آ کر اپنی رائے، اعتراضات اور تجاویز پیش کرتی ہیں۔ یہ شفافیت اس لیے ضروری سمجھی جاتی ہے کہ زوننگ کی ہر تبدیلی براہ راست شہری زندگی، ٹریفک، ماحول اور علاقے کے مستقبل پر اثر انداز ہوتی ہے۔

نیویارک، لندن، استنبول اور دبئی جیسے بڑے شہروں میں زمین کے استعمال میں تبدیلی یعنی
Land Conversion ایک معمولی عمل نہیں ہوتا۔ وہاں کوئی ترمیم تب ہی منظور کی جاتی ہے جب مکمل تحقیق یہ ثابت کر دے کہ اس تبدیلی سے علاقے کا ٹریفک متاثر نہیں ہوگا، پارکنگ کی گنجائش پوری ہے، گرین بیلٹس محفوظ رہیں گی اور بنیادی ڈھانچے پر کوئی غیر ضروری بوجھ نہیں پڑے گا۔
یہ فیصلہ بھی کسی ایک ادارے کا نہیں ہوتا۔ اس کے لیے ایک باقاعدہ شہری منصوبہ بندی بورڈ بیٹھتا ہے جس میں ٹاؤن پلانرز، ماہرینِ ماحول، قانونی ماہرین، انجینئرز اور علاقے کے نمائندے شریک ہوتے ہیں، اور سب کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔

پنجاب کے تمام شہروں میں بھی یہی طریقہ اختیار کرنا ناگزیر ہے۔ ہر مجوزہ تبدیلی پہلے عوام کے سامنے بذریعہ میڈیا پیش ہو، پھر تکنیکی ماہرین کے پینل کے سامنے آئے، اور آخر میں شہر کی مین سٹی کونسل (عوامی نمائندوں اور ٹیکنوکریٹس پر مشتمل اس ادارے کے قیام کی ضرورت پر میں جلد لکھوں گا) اسے منظور کر کے ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حوالے کرے۔ کمرشلائزیشن کا فیصلہ کرنے کا اختیار ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کے پاس ہونا ہی نہیں چاہئیے۔

جب تک زوننگ کا عمل واضح قانون، شفاف طریقہ کار، اور شہریوں کی باقاعدہ شمولیت کے بغیر چلتا رہے گا، شہر کمزور ہی رہیں گے اور طاقت چند بااثر ہاتھوں میں سمٹی رہے گی۔ (اختتام)

▪️اگر آپ اس موضوع پر اپنی رائے دینا چاہیں یا اگر آپ اپنے شہر کی بہتری میں اپنا کردار ادا کرنے کے خواہشمند ہوں تو رئیل اسٹیٹ تھنک ٹینک اور ویب پورٹل SyedShayan.com کے لنک کو پریس کر کے ویب پورٹل پر جا کر اپنی تجاویز ہمیں ای میل کر سکتے ہیں، جن کی مدد سے ہمارا تھنک ٹینک شہروں کی بہتری، پالیسی ریفارمز اور شہری منصوبہ بندی کے حوالے سے مزید مؤثر سفارشات تیار کر سکے گا۔

پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کی ترغیب کے لیے نیا خطرہ: ▪️گارنٹیڈ ریٹرن پراجیکٹس▫️جس میں ڈویلپرز خریدار کو...
14/11/2025

پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کی ترغیب کے لیے نیا خطرہ:
▪️گارنٹیڈ ریٹرن پراجیکٹس

▫️جس میں ڈویلپرز خریدار کو اپارٹمنٹ، آفس یا شاپ کی بکنگ کروانے پر ٪15 سے ٪18 سالانہ منافع دیتے ہیں
▫️ایسی اسکیموں میں سب سے زیادہ نقصان اوورسیز پاکستانیوں اور ریٹائرڈ پنشنرز کو ہوتا ہے
▫️اس آرٹیکل کے آخر میں 14 سوالات کی چیک لسٹ سنبھال کر رکھئے یہ آپ کی انوسٹمنٹ کو محفوظ رکھنے میں آپ کی مدد کرے گی

پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں ایک نیا جملہ عام ہو چکا ہے
“گارنٹیڈ ریٹرن” یا “کیش بیک اسکیم”۔

ہمارے ملک کے چند نامور رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز نے مارکیٹ سے پیسہ اکٹھا کرنے کے لیے یہ نئی روش اختیار کی ہے کہ وہ بلڈنگ پراجیکٹس میں سرمایہ کاروں کو 12 سے 18 فیصد سالانہ منافع دیتے ہیں۔

یہ دعوے بظاہر پرکشش لگتے ہیں، مگر معاشیات اور پاکستان کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ دونوں اس سے بالکل مختلف حقیقت دکھاتی ہیں۔

اصل صورتحال یہ ہے کہ پاکستان میں کمرشل پراپرٹی کی حقیقی Yield سات سے آٹھ فیصد جبکہ رہائشی املاک کی Yield پانچ سے چھ فیصد کو بہترین اور شاندار منافع سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ ایک نامکمل عمارت، بغیر کرایہ دار، بغیر کسی حقیقی Cash Flow کے، اور بغیر کسی آپریشنل سرگرمی کے آخر بارہ، پندرہ یا اٹھارہ فیصد Guaranteed Yield کہاں سے پیدا کر سکتی ہے؟

▪️یہ کس طرح کے پراجیکٹس ہیں؟

▫️1۔ مثال کے طور پر ایک مکسڈ یوز منصوبہ میں جس میں ریٹیل شاپس، آفس اسپیسز، اور رہائشی اپارٹمنٹس شامل ہیں۔ ڈویلپر نے اس پراجیکٹ کے لیے 15 فیصد سالانہ گارنٹیڈ کیش بیک کا وعدہ کیا ہے۔
یعنی اگر کوئی خریدار یونٹ خرید لے تو کمپنی اسے مخصوص مدت تک سالانہ 15 فیصد منافع دے گی، چاہے یونٹ کرائے پر دیا جائے یا نہیں۔

▫️2۔ یا ایک ہوٹل سویٹ ماڈل یا صرف کمرشل Retail Only
یہ زیادہ خطرناک شکل ہے۔
اس میں خریدار کو ایک مخصوص یونٹ جیسے شاپ یا ہوٹل سویٹ فروخت کیا جاتا ہے،
اور ڈویلپر کہتا ہے کہ ہم اسے خود آپریشن میں رکھیں گے (مثلاً بطور ہوٹل روم یا شوروم چلائیں گے)
اور آپ کو ہر مہینے یا سال 10 تا 20 فیصد ریٹرن دیں گے۔
یہاں عملاً خریدار مالک نہیں بلکہ سرمایہ کار بن جاتا ہے، اور ریٹرن صرف اس وقت جاری رہتا ہے جب تک نئے یونٹس فروخت ہوتے رہیں یا پراجیکٹ کے فنڈز بچتے رہیں۔

▫️3۔ یا پھر سروسڈ اپارٹمنٹ یا شیئرڈ اونر شپ ماڈل

اس میں ایک ہی اپارٹمنٹ کو کئی خریداروں میں بانٹ دیا جاتا ہے۔
ہر خریدار کو مخصوص مدت کے لیے استعمال یا ریٹرن کا وعدہ کیا جاتا ہے۔
لیکن چونکہ ملکیت مشترک اور آپریشن ڈویلپر کے ہاتھ میں ہوتا ہے،
اس لیے اکثر اوقات نہ منافع ملتا ہے نہ قبضہ، صرف وعدے باقی رہ جاتے ہیں۔

▪️ان منصوبوں کا مالیاتی ماڈل اور کیش فلو میکانزم کیا ہے؟ منافع کیسے دیا جاتا ہے؟
ان منصوبوں کا انویسٹمنٹ ماڈل بظاہر رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاری کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک پری پیڈ ریٹرن یا فنانشل اسکیم کا ڈھانچہ رکھتا ہے۔ اس ماڈل میں ڈویلپر تعمیر شروع ہونے سے پہلے ہی یونٹس فروخت کر کے سرمایہ اکٹھا کرتا ہے، خریدار کو اس امید پر قائل کیا جاتا ہے کہ منصوبے کی تکمیل یا مخصوص مدت کے بعد اسے باقاعدہ منافع ملے گا۔
مگر عملاً یہ منافع کرائے یا حقیقی آمدن سے نہیں بلکہ نئے خریداروں کے سرمایہ سے ادا کیا جاتا ہے، جس سے پورا نظام مسلسل فروخت کے تسلسل پر منحصر ہو جاتا ہے۔ چونکہ زیادہ تر کمپنیاں کوئی Escrow اکاؤنٹ یا شفاف فنڈ مینجمنٹ نظام نہیں رکھتیں، اس لیے ایک ہی اکاؤنٹ سے تعمیراتی اخراجات، مارکیٹنگ، اور “گارنٹیڈ ریٹرن” کی ادائیگیاں کی جاتی ہیں، جو بالآخر کیش فلو کے بحران میں بدل جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین معاشیات ایسے منصوبوں کو Ponzi-style Investment Model قرار دیتے ہیں، جہاں منافع صرف تب تک ممکن ہوتا ہے جب تک نئی فروخت جاری رہے۔

نئی فروخت یا بکنگ کی رقوم سے یہ منافع پرانے سرمایہ کاروں کو دیا جا رہا ہوتا ہے۔
یعنی پہلا خریدار اپنا منافع دوسرے کے پیسوں سے لیتا ہے، دوسرا تیسرے سے اور تیسرا چوتھے سے، اور یوں یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔
مگر جیسے ہی نئی سرمایہ کاری رکتی ہے، نظام زمین بوس ہو جاتا ہے۔

آپ نے ڈومینو گیم کا نام ضرور سنا ہوگا۔ یہ ایک سادہ سا کھیل ہے جس میں چھوٹی چھوٹی تختیاں قطار میں کھڑی کی جاتی ہیں۔ اگر آپ پہلی تختی کو ہلائیں تو وہ گرتی ہے، اور اس کے ساتھ دوسری، تیسری، چوتھی، یہاں تک کہ پوری قطار گر جاتی ہے۔

بالکل اسی طرح کا کھیل ہماری رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں پہلے بھی کئی بار کھیلا جاتا رہا ہے۔ اب یہ ایک نئی اسکیم کے نام سے شروع کیا گیا ہے۔

شروع میں سب کچھ مضبوط اور خوبصورت لگ رہا ہے۔ کمپنی یا ڈویلپر سے ملنے والا “گارنٹیڈ منافع” لوگ انجوائے کر رہے ہیں، کچھ عرصے تک سب کو وقت پر منافع ملتا بھی رہے گا۔

لیکن جب نئی رقم آنا بند ہو گئی اور لوگوں نے بکنگ سے ہاتھ کھینچ لیا،
تو پھر وہی ہوگا جو ڈومینو کے کھیل میں ہوتا ہے۔
پہلی تختی گرتی ہے تو اس کے ساتھ باقی ساری بھی گر جاتی ہیں۔
پہلا ڈویلپر ادائیگی نہیں کر پاتا،
دوسرا منصوبہ تاخیر کا شکار ہو جاتا ہے،
تیسرا، سرمایہ کار اپنے پیسے واپس مانگتے ہیں،
چوتھا، سرکاری ادارے انصاف کے نام پر کود پڑتے ہیں،
اور چند ہی مہینوں میں پورا پراجیکٹ ادھورا، متنازع اور منجمد ہو جاتا ہے۔

اس کے بعد دفتر بند، فون بند، وعدے بند۔
اشتہارات خاموش، ویب سائٹس غائب، اور وہ لوگ جو اعتماد کے ساتھ سرمایہ لگا رہے تھے، فائلیں ہاتھ میں لیے عدالتوں اور تھانوں کے چکر کاٹ رہے ہوتے ہیں۔

▪️پاکستانی قانون کے مطابق گارنٹیڈ ریٹرن اسکیموں کی قانونی حیثیت

پاکستانی قانون میں کسی بھی نجی کمپنی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ “Guaranteed Return” یا “Fixed Annual Profit” کا وعدہ کرے، جب تک کہ وہ SECP (سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان) کے تحت بطور Collective Investment Scheme یا Regulated Financial Product رجسٹرڈ نہ ہو۔ رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز چونکہ مالیاتی ادارے نہیں ہوتے، اس لیے ان کی جانب سے بارہ، پندرہ یا اٹھارہ فیصد “گارنٹیڈ منافع” کے دعوے قانونی طور پر مبہم اور غیر محفوظ تصور کیے جاتے ہیں۔

پاکستانی قوانین کے مطابق:

‏SECP Act 1997
کسی بھی کمپنی کو عوام سے پیسہ لے کر منافع کا پکا وعدہ کرنے کے لیے SECP سے پیشگی اجازت درکار ہوتی ہے، جبکہ رئیل اسٹیٹ پراجیکٹس عموماً یہ اجازت نہیں لیتے۔

‏Companies Act 2017
کوئی کمپنی ایسی اسکیم نہیں چلا سکتی جس میں منافع “Guaranteed” ظاہر کیا جائے، جب تک کہ اس اسکیم کی مالیاتی بنیاد شفاف ہو اور اس کی منظوری باقاعدہ ریگولیٹری اتھارٹی دے۔

▫️عالمی مارکیٹس میں رئیل اسٹیٹ گارنٹیڈ ریٹرن ماڈلز کی مثالیں پاکستان میں مت دیجئیے

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں “گارنٹیڈ ریٹرن” یا “سروسڈ اپارٹمنٹ” جیسے ماڈلز کئی دہائیوں سے موجود ہیں، اس طرح کے ماڈلز کو “Serviced Apartment Investment” یا “Buy-to-Let Scheme” کہا جاتا ہے۔
مگر وہاں یہ سخت قانونی نگرانی کے تحت چلتے ہیں۔ دبئی، ملائیشیا، ترکی اور برطانیہ میں ایسے منصوبے صرف اس وقت لانچ کیے جاتے ہیں جب متعلقہ ریگولیٹری اتھارٹی (جیسے RERA) سے باقاعدہ منظوری لی جا چکی ہو اور خریداروں کا سرمایہ ایک محفوظ Escrow اکاؤنٹ میں رکھا گیا ہو۔ ان ملکوں میں منافع اسی وقت دیا جاتا ہے جب منصوبے سے حقیقی کرایہ یا آپریشنل آمدن حاصل ہو۔

ان ممالک میں کوئی ڈویلپر عوام سے سرمایہ جمع نہیں کر سکتا جب تک کہ منصوبہ ریگولیٹری اتھارٹی سے منظور شدہ نہ ہو، خریداروں کا سرمایہ ایک محفوظ اسکرو اکاؤنٹ (Escrow Account) میں جمع نہ ہو، اور منصوبے کے لیے تھرڈ پارٹی انشورنس موجود نہ ہو جو کسی بھی مالی یا تعمیراتی ناکامی کی صورت میں خریدار کے سرمائے کی حفاظت کرے۔

اس کے برعکس پاکستان میں نہ کوئی مؤثر ریگولیٹری نظام ہے، نہ اسکرو اکاؤنٹس کا قانون، اور نہ ہی کسی قسم کی انشورنس یا انویسٹر پروٹیکشن میکانزم۔ لہٰذا اگر واقعی پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کو محفوظ سرمایہ کاری کا مرکز بنانا ہے تو ایک بااختیار رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جائے، ہر ڈویلپر کے لیے اسکرو اکاؤنٹ لازمی قرار دیا جائے، اور تھرڈ پارٹی انشورنس کو قانونی طور پر لازم کیا جائے۔ بصورت دیگر ایسے غیر ریگولیٹڈ منصوبے بند کر دینے چاہییں، کیونکہ یہ عوامی سرمایہ کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہیں۔
اگر یہ مضمون پڑھنے کے باوجود پھر بھی آپ ایسے پراجیکٹس میں انویسٹمنٹ کرنا چاہتے ہیں تو پھر ایک مہربانی کیجیے اپنے اوپر،
ڈویلپر یا بلڈر سے یہ 14 سوالات پوچھیں اگر وہ اس کے تسلی بخش جواب دے تو ٹھیک ہے، آپ کو اختیار ہے کہ آپ اس پراجیکٹ میں انویسٹمنٹ کر لیں۔

▪️سرمایہ کاری سے پہلے ڈویلپر سے پوچھے جانے والے 14 سوالات پر مشتمل سوالنامہ

1۔ آپ جو 12، 15 یا 18 فیصد “Guaranteed Return” دے رہے ہیں، اس کی اصل آمدنی (Income Source) کیا ہے؟
(کرایہ؟ کاروباری منافع؟ یا نئی بکنگ؟)

2۔ یہ Guaranteed Return آپ کتنے سال دیں گے؟
اور اس کے بعد کیا ہوگا؟

3۔ کیا یہ گارنٹی تحریری معاہدے (Agreement) کا حصہ ہے
یا صرف زبانی کلامی؟

4۔ کیا یہ منافع آپ اپنی کمپنی اکاؤنٹ سے دیں گے
یا خریداروں کی نئی ادائیگیوں سے؟

5۔ اگر نئی بکنگ رک جائے تو کیا آپ پھر بھی منافع دیں گے؟
اور کیسے دیں گے؟

6۔ آپ نے اس پراجیکٹ کے لیے SECP سے
کوئی منظوری (Approval) یا نان بینکنگ فنانس لائسنس لیا ہے؟

7۔ آپ جو Return دے رہے ہیں،
کیا اس کے لیے کوئی Insurance یا Guarantee Bond موجود ہے؟

8۔ یہ رقم کس بینک کے Escrow Account میں جمع رہے گی؟
کیا Escrow کی تفصیل تحریری طور پر دیں گے؟

9۔ پراجیکٹ کی موجودہ تعمیراتی پیش رفت (Progress) کیا ہے؟
کیا Independent Engineering Report موجود ہے؟

اور متعلقہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا approval plan میرے کنسلٹنٹ کو چیک کروائیے

10۔ کیا آپ گزشتہ کوئی پراجیکٹ مکمل کر چکے ہیں؟
اگر ہاں، تو وہاں کلائنٹس کو Yield کتنی مل رہی ہے؟

11۔ اگر آپ وعدہ پورا نہ کر سکے
تو سرمایہ کار کے پاس Exit کا کیا راستہ ہوگا؟
‏(Refund Policy، Buyback Policy، یا کچھ اور؟)

12۔ کیا آپ اس پراجیکٹ کی اصل Estimated Rental Yield دکھا سکتے ہیں؟
(پاکستان میں 6 سے 8 فیصد سے زیادہ ممکن نہیں۔)

13۔ اگر یہ پراجیکٹ اتنا منافع بخش ہے
تو آپ خود بینک کے سستے قرضے لے کر یہ کام کیوں نہیں کرتے؟
عوام کا پیسہ کیوں چاہیے؟

14۔ جس زمین پر آپ یہ پراجیکٹ بنا رہے ہیں، کیا یہ زمین آپ کی ملکیت میں ہے؟

اگر ہے تو رجسٹری اور انتقال (Mutation) کے اصل ڈاکومنٹس دکھائیے۔
اگر آپ کسی بلڈنگ پراجیکٹ میں سرمایہ کاری سے پہلے ان چودہ سوالات کی چیک لسٹ مکمل کر لیں تو میں ایک رئیل اسٹیٹ اینالسٹ کے طور پر پورے اعتماد سے کہتا ہوں کہ پاکستان کے کسی بھی شہر میں بلڈنگ انویسٹمنٹ کرتے ہوئے یہ چیک لسٹ آپ کو مالی نقصان/ فراڈ سے محفوظ رکھ سکے گی۔

▪️یہ مضمون عوامی مفاد کے تحت پاکستان کے رئیل اسٹیٹ تھنک ٹینک اور ویب پورٹل SyedShayan.com کی جانب سے شائع کیا جا رہا ہے۔
اگر آپ کو مزید تفصیلات یا وضاحت درکار ہو تو آپ ہمارے ویب پورٹل پر آ کر ہمارے انوسٹمنٹ ماہرین اور رئیل اسٹیٹ اینالسٹس کو ای میل کر کے مزید تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں۔
ویب پورٹل لنک: SyedShayan.com

▪️ ماڈل ٹاؤن لاہور پر پی ایچ ڈی کرنے والی خاتون آرکیٹیکٹ، ڈاکٹر شمع عنبرین سے خصوصی گفتگو اور ان کے تحقیقی تھیسس کا تجزی...
11/11/2025

▪️ ماڈل ٹاؤن لاہور پر پی ایچ ڈی کرنے والی خاتون آرکیٹیکٹ، ڈاکٹر شمع عنبرین سے خصوصی گفتگو اور ان کے تحقیقی تھیسس کا تجزیاتی مطالعہ: قسط 13

ڈاکٹر شمع عنبرین (Dr. Shama Anbrine) سے میرا پہلا رابطہ ایک خوشگوار تجربہ تھا۔

ماڈل ٹاؤن لاہور پر میری گیارہویں قسط، جس میں ڈاکٹر شمع عنبرین کا حوالہ بھی شامل تھا، جب میری ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پر شائع ہوئی۔ تو ٹھیک اُسی شام میرے موبائل فون پر ڈاکٹر شمع عنبرین کا پیغام موصول ہوا۔

انہوں نے لکھا تھا:
“آج فیس بک سے موصول ہونے والے کئی فارورڈ شدہ پیغامات کے ذریعے میں آپ کے صفحے تک پہنچی اور یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ کوئی ماڈل ٹاؤن لاہور پر تحقیق میں میری طرح دلچسپی رکھتا ہے۔ میں اس وقت متحدہ عرب امارات (UAE) میں مقیم ہوں، اس لیے اگر آپ کو رابطہ کرنا ہو تو Zoom یا WhatsApp پیغامات کے ذریعے آسانی سے ہو سکتا ہے۔”

اس پیغام کے بعد ہمارے درمیان ای میل ایڈریسز کا تبادلہ ہوا اور مورخہ 6 نومبر کو میری اُن سے موبائل فون پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

اس گفتگو میں انہوں نے جہاں ماڈل ٹاؤن پر ریسرچ کے دوران درپیش رکاوٹوں اور مشکلات کا ذکر کیا، وہاں یہ بھی ضروری قرار دیا کہ بحیثیت قوم ہمیں اپنے تاریخی ورثے (Heritage) کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

ماڈل ٹاؤن لاہور پر میری زیرِ تکمیل کتاب کی اقساط پر انہوں نے خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا اور بتایا کہ وہ پوری توجہ سے ان اقساط کا مطالعہ کر رہی ہیں۔

ڈاکٹر شمع عنبرین نے مزید بتایا کہ وہ آئندہ ماہ دسمبر میں لاہور میں مختصر قیام کریں گی، جس دوران وہ ماڈل ٹاؤن پر بنائی جانے والی میری دستاویزی فلم (Documentary) کے لیے بھی دستیاب ہوں گی۔

یہ بات تحقیقاً ثابت ہے کہ ماڈل ٹاؤن لاہور پاکستان کی واحد ہاؤسنگ سوسائٹی ہے جس پر مکمل اور جامع پی ایچ ڈی سطح کی تحقیق انجام دی گئی ہے۔

دیگر ہاؤسنگ سوسائٹیوں جیسے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (DHA)، بحریہ ٹاؤن، پی ای سی ایچ ایس کوآپ سوسائٹی کراچی، اور اورنگی ٹاؤن پراجیکٹ پر اگرچہ مختلف تحقیقی مطالعات موجود ہیں، مگر آج تک کسی بھی سوسائٹی کو بطور مکمل تاریخی کیس اسٹڈی نہیں لیا گیا۔ (اس کا تفصیلی ذکر میں آئندہ کی کسی قسط میں کروں گا۔)

یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ماڈل ٹاؤن لاہور ایک منفرد مثال (scholarly exception) ہے، جس پر ہونے والی تحقیق نے لاہور میں شہری ارتقاء، کوآپریٹو تحریک، اور نوآبادیاتی لاہور کی منصوبہ بندی کو نئے زاویوں سے سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔

ڈاکٹر شمع عنبرین (Dr. Shama Anbrine) کی پی ایچ ڈی تحقیق ، ماڈل ٹاؤن لاہور کی تاریخ پر ایک غیر معمولی علمی دستاویز ہے۔ یہ تحقیق دسمبر 2014 میں یونیورسٹی آف لیورپول (University of Liverpool) کے School of Architecture میں بعنوان
‏The Co-operative Model Town Society: History, Planning, Architecture and Social Character of an Indigenous Garden Suburb in Colonial Lahore
جمع کرائی گئی۔

اس کام کو پاکستان میں شہری تاریخ نویسی (Urban Historiography) کے میدان میں ایک سنگِ میل (landmark study) کی حیثیت حاصل ہے کیونکہ اس نے ماڈل ٹاؤن لاہور کو پہلی بار ایک مقامی فکری اور شہری تحریک کے طور پر متعارف کرایا، نہ کہ صرف ایک رہائشی منصوبے کے طور پر۔

ڈاکٹر شمع عنبرین کے مطابق، ماڈل ٹاؤن 1920 کی دہائی میں تقریباً دو ہزار ایکڑ (2000 acres) زمین پر تعمیر ہونے والا ایک ایسا منصوبہ تھا جو برطانوی گارڈن سٹی موومنٹ (Garden City Movement) اور کوآپریٹو اصولوں (Co-operative Principles) کا مقامی اور ہندوستانی اظہار تھا۔

ایبینیزر ہاورڈ (Ebenezer Howard) کے نظریات سے متاثر ہو کر اس منصوبے کو ایک ایسے متوسط اور تعلیم یافتہ طبقے نے عملی شکل دی جو نوآبادیاتی اقتدار کے تحت جدیدیت اور خود انحصاری کے خواب دیکھ رہا تھا۔ ماڈل ٹاؤن دراصل ان خوابوں کی مجسم تعبیر تھی۔

تحقیق کا تیسرا باب “The Founder; The Scheme” سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اسی حصے میں پہلی بار دیوان کھیم چند (Dewan Khem Chand) کو ماڈل ٹاؤن لاہور کے بانی کے طور پر پیش کیا گیا۔ ڈاکٹر شمع نے آرکائیول مواد، سرکاری ریکارڈز، اور اُس زمانے کی اخباری رپورٹس کا تقابلی جائزہ لے کر ثابت کیا کہ آزادی سے قبل ہی دیوان کھیم چند کا نام سرکاری اور سوسائٹی کے ریکارڈ سے مٹا دیا گیا، اور بعد ازاں ماڈل ٹاؤن کی بنیاد کا کریڈٹ غلط طور پر دوسری شخصیات جیسے سر گنگا رام، کرنل جمال الدین اور Sir Patrick Geddes کو دے دیا گیا۔ وہ لکھتی ہیں کہ:

‏There is no remembrance of this remarkable man, no street bears his name, no square recalls his vision, nor even a plaque exists to honour the genius who conceived it all.

(یعنی اس عظیم شخص کی کوئی یاد باقی نہیں رہی، نہ کوئی گلی، نہ چوک، نہ یادگاری تختی جو اس کے کارنامے کو خراجِ تحسین پیش کرے۔)
ڈاکٹر شمع نے دیوان کھیم چند کی سوانح عمری بھی بڑی محنت سے دوبارہ مرتب کی۔ جس میں وہ بتاتی ہیں کہ دیوان کھیم چند 1888 کے قریب پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ میں پیدا ہوئے، بعد میں کیمبرج یونیورسٹی اور مِڈل ٹیمپل (Middle Temple, London) سے تعلیم حاصل کی۔ 1906 سے 1911 تک انگلینڈ میں قیام کے دوران انہوں نے Town Planning Act 1909 کے مطالعے سے گہرا اثر لیا، اور وہیں ان کے ذہن میں لاہور میں ایک مثالی کوآپریٹو گارڈن ٹاؤن کے قیام کا تصور ابھرا۔ 1919 میں انہوں نے ایک پمفلٹ “Suburban Town of Lahore” کے عنوان سے شائع کیا، جو بعد میں ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے قیام کی فکری بنیاد ثابت ہوا۔

1921 میں انہوں نے The Co-operative Model Town Society (CMTS) قائم کی، اور 1922 میں زمین کے حصول، ڈیزائن کے مقابلے (Design Competition)، اور سوسائٹی کی رجسٹریشن جیسے مراحل مکمل ہوئے۔

ڈاکٹر شمع کے مطابق، ماڈل ٹاؤن محض ایک رہائشی کالونی نہیں تھی بلکہ ایک سماجی تجربہ (social experiment) تھا جو جدیدیت، مذہبی ہم آہنگی، اور شہری وقار کے امتزاج سے تشکیل پایا۔ سوسائٹی کے ابتدائی اراکین میں مسلمان، ہندو، سکھ اور عیسائی سب شامل تھے۔ یہ اُس زمانے میں لاہور کی سب سے زیادہ کاسموپولیٹن (cosmopolitan) بستی تھی۔ تاہم، 1947 کی تقسیم نے اس خواب کو چکناچور کر دیا۔ 85 فیصد سے زائد غیر مسلم رہائشیوں کو ہجرت کرنی پڑی اور بانی دیوان کھیم چند بھی ممکنہ طور پر اسی ہجرت کے دوران ہندوستان چلے گئے۔ اس کے بعد اُن کا نام تاریخ کے صفحات سے یکسر غائب ہو گیا، یہاں تک کہ ماڈل ٹاؤن کے رہائشیوں میں بھی ان کا ذکر ناپید ہو گیا۔

ڈاکٹر شمع عنبرین کی تحقیق کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے آرکیٹیکچر (Architecture) اور شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) کے ذریعے نوآبادیاتی اور مقامی ثقافت کے cultural exchange کو واضح کیا۔ وہ دکھاتی ہیں کہ کس طرح مغربی نظریات جیسے گارڈن سٹی اور آرٹ ڈیکو (Art Deco) کو مقامی مذہبی اور ثقافتی طرزِ تعمیر کے ساتھ ہم آہنگ کر کے ایک منفرد “Indigenous Indian Bungalow” اسٹائل سامنے آیا۔ اس امتزاج نے ماڈل ٹاؤن کو نہ صرف لاہور بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں شہری منصوبہ بندی کی ایک منفرد مثال بنا دیا۔

تحقیق کے آخری حصے میں ڈاکٹر شمع پاکستان میں شہری تاریخ نویسی (Urban Historiography) کی کمی پر روشنی ڈالتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہمارے شہروں کی منصوبہ بندی، معمارتی شناخت، اور سماجی ارتقاء پر اکیڈمک سطح پر بہت کم کام ہوا ہے، جسے اب از سرِ نو دستاویزی شکل دینے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماڈل ٹاؤن کی اصل روح اُس کی کوآپریٹو اساس تھی، جو شہری زندگی میں شمولیت، اشتراک اور اجتماعی فلاح کے تصورات کو فروغ دیتی تھی۔

ڈاکٹر شمع عنبرین کی یہ تحقیق دراصل ایک “reconstruction of forgotten urban memory” ہے۔ ایک ایسا علمی کارنامہ جس نے لاہور کی تاریخ میں گم ہو جانے والے باب کو دوبارہ زندہ کر دیا۔ اس نے ثابت کیا کہ ماڈل ٹاؤن لاہور ایک indigenous garden suburb تھا، جسے مقامی وژن، فکری جدوجہد اور سماجی ہم آہنگی کے خواب نے جنم دیا۔

جاری ہے۔۔۔ باقی آئندہ قسط میں۔

▫️کیا آپ پاکستان کی کسی ایسی ہاؤسنگ اسکیم یا رہائشی علاقے کے بارے میں جانتے ہیں جسے پی ایچ ڈی تحقیق کے لیے منتخب کیا گیا ہو؟ (اس قسط کے حوالے سے قارئین سے ایک سوال)

▪️یہ مضمون ماڈل ٹاؤن لاہور پر میری زیرِ طبع کتاب
The Birth of Model Town in Colonial Lahore
“برطانوی لاہور میں ماڈل ٹاؤن کا جنم”
سے اخذ شدہ ہے۔
اس کتاب کی کچھ اقساط رئیل اسٹیٹ تھنک ٹینک اور ویب
پورٹل SyedShayan.com پر دستیاب ہیں۔
اسی موضوع پر ایک جامع ڈاکیومنٹری بھی ریفرنس کے لیے تیاری کے آخری مراحل میں ہے۔

اگر کوئی فرد یا ادارہ تاریخی دستاویزات، تحقیقی مواد یا تصویری ریکارڈ شیئر کرنا چاہے تو میں انہیں خوش آمدید کہوں گا۔

یہ مواد تحقیقی استناد اور علمی استفادے کے لیے نہایت قیمتی ہوگا۔
ماڈل ٹاؤن کے موجودہ یا سابقہ رہائشی حضرات اگر اس تاریخی کتاب یا ڈاکیومنٹری کے لیے اپنی کوئی یاد، تصویر یا تاثرات شیئر کرانا چاہیں تو براہِ کرم میرے ویب پورٹل پر جا کر بذریعہ ای میل مجھ سے رابطہ کریں۔

ویب پورٹل: SyedShayan.com

Address

Head Office: 38/A-5 Happy Homes, Shayan Lane, Main Gulberg
Lahore
54660

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SyedShayan.com posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share