01/09/2024
*نذرانہ عقیدت بحضور شرف ملت*
تحریر
*محمد حبیب احمد سعیدی*
میں نے جب شعور کی منزل پر قدم رکھا تو خود کو عالم اسلام کی عظیم دینی درسگاہ جامعہ نظامیہ میں دین اسلام کے ستونوں
(مفتئی اعظم پاکستان علامہ مفتی محمد عبدالقیوم قادری ہزاروی،
رشید ملت علامہ محمد رشید نقشبندی،
شیخ الحدیث علامہ مفتی محمد گل احمد عتیقی،حافظ ملت علامہ حافظ محمد عبدالستار سعیدی،یادگار اسلاف مولانا غلام فرید ہزاروی،
ادیب شہیر علامہ مفتی محمد صدیق ہزاروی,
ادیب ملت علامہ محمد منشاء تابش قصوری،
علامہ مفتی یار محمد قادری،
مفتی اہلسنت مفتی عبدالطیف قاردی،علامہ ڈاکٹر فضل حنان سعیدی،امیرالم ج اھدین علامہ حافظ خ ادم حسین رضوی،استاذالقراء قاری ظہور احمد سیالوی،استاذالحفاظ قاری محمد ارشد بٹ،قاری محمد امتیاز قادری)
کے درمیان پایا
ہر پھول کی اپنی دلکش خوشبو تھی مگر ان میں ایک
سادہ سا لباس۔۔۔۔ سر پر ہر وقت عمامہ شریف سجائے۔۔۔۔۔۔۔ عینک پہنے۔۔۔۔ ماتھے پر سجدوں کا نشان لیئے۔۔۔۔۔۔۔ جیب میں ہر وقت قلم لٹکائے۔۔۔۔۔۔ہر وقت پڑھتے پڑھاتے ،لکھتے لکھاتے،ذکر کرتے کرواتے،تقریر کرتے سکھاتے،
،وعظ و تبلیغ کرتے کرواتے،عبادت میں مشغول نظامیہ کی دوسری منزل کی چھت پر خود سوئے ہوئے اور قلب اللہ کے ذکر میں مشغول پاؤں میں سادہ سا کھسہ پہنے داتا صاحب رح کے مزار کی طرف رواں دواں یا داتا صاحب کے قدموں میں بیٹھے اللہ اللہ کی ضرب سے مردہ دلوں کو جگاتے
یہ ہیں اہلسنت کی آبرو آن،شان،بان
استاذ العلماء محقق اہلسنت پیر طریقت رہبر شریعت شیخ الحدیث والتفسیر حضرت علامہ مولانا حاجی
*محمدعبدالحکیم شرف قادری*
بن مولانا اللہ دتہ بن نواز بخش رحمةاللہ علیھم اجمعین
آج اپکا یومِ وصال ہے آپ24 شعبان المعظم 1428ھ بمطابق یکم ستمبر دو ہزار سات(01/09/2007) دن دو بجے ہمیں داغ مفارقت دے گئے کچھ لوگ چاہ کر بھی نہیں بھولتے
فقیر کو آپکی زیارت اور خدمت کا کچھ موقع ملا
علم وعمل کا کوہِ ہمالیہ ہونے کے باوجود انتہائی عجز و انکساری کا مجسمہ تھے طالبعلم چاہے دورہ حدیث شریف کا ہوتا یا ناظرہ کا۔۔۔۔مولانا کہہ کے مخاطب فرماتے اور دو ہاتھوں سے مصافحہ فرماتے
آخری کچھ ایام بیماری کی وجہ سے صاحب فراش ہو گئے تو آپ کے دولت خانہ پر حاضری ہوتی ایک بار قبلہ
امیر الم ج اہ دین استاذ محترم علامہ حافظ خ ادم حسین رض وی کی قیادت میں ہماری کلاس حاضر ہوئی علالت کے باوجود دروازے تک تشریف لائے آپ نے فرمایا کہ
ترجمة القرآن مسجد نبوی میں اس دعاء کے ساتھ شروع کیا تھا کہ جب اختتام کروں تو کوئی نیک جماعت موجود ہو
دو دن سےآخری کچھ آیات رہتیں تھیں آج آپ لوگوں کی موجودگی میں مکمل کروں گا
قبلہ امیرالمجاہدین کی موجودگی میں تفسیر وحدیث کا سبق اعزازی طور پر ہماری کلاس کو پڑھایا
وصال سے دودن پہلے فون کر کے
صاحبزادہ علامہ عبدالمصطفی ہزاروی کو بلایااستاذِ محترم شیخ الحدیث علامہ حافظ عبدالستار سعیدی اور یادگار اسلاف علامہ غلام فرید ہزاروی کی قیادت میں حاضری ہوئی ذیادہ بول نہیں سکتے تھے
مجسمہ علم و عمل نے انتہائی عاجزی کا نمونہ پیش فرماتے ہوئےاخبار کےایک ٹوٹےپرلکھا کہ میری یہ حالت میرے اعمال کی شامت ہے اللہ اکبر
آپ 1364ھ/ 1944میں بمقام مرزا پور ضلع ہوشیارمیں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ماجد نے آپ کو خاص طور پر علومِ اسلامیہ کی تعلیم سے آراستہ کیا جن کی صلاحیتوں کا زمانہ معترف ہے۔ قیامِ پاکستان کے وقت آپ کا خاندان ہجرت کرکے لاہور پہنچا۔ آپ کے والد ماجد مستقل طور پر یہیں مقیم ہوگئے۔ اس وقت آپ کی عمر تقریباً چار سال تھی۔ آپ نے پرائمری تک تعلیم لاہور میں حاصل کی اور پھر
علومِ اسلامیہ کی تعلیم کےلیےآپ کو والدماجد نے
جامعہ رضویہ فیصل آباد میں داخل کرادیا، جہاں آپ نے حضرت محدثِ اعظم پاکستان علامہ محمد سردار احمد قادری رضوی رحمة اللہ علیہ کی نگرانی میں درس نظامی کا نصاب شروع کیا۔ خود ان سے منطق کا ابتدائی رسالہ صغریٰ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ فیصل آباد میں آپ نے
مولانا حافظ احسان الحق، سیّد منصور شاہ، مولانا حاجی محمد حنیف، مولانا حاجی محمد امین اور مولانا محمد عبداللہ جھنگوی رحمة اللہ علیہھم اجمعین کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا۔ بعد ازآں آپ سیال شریف پہنچے اور وہاں حضرت مولانا صوفی حامد علی رحمة اللہ علیہ مہتمم مدرسہ نعمانیہ رضویہ لیہ سے نحومیر پڑھی۔ متوسط کتب کی تعلیم کے لیے آپ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں حضرت علامہ مولانا
شیخ الحدیث غلام رسول رضوی رحمةاللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے علمی استفادہ کیا۔
جامعہ نظامیہ میں اگرچہ آپ نے حضرت مولانا نور محمد ، مولانا علامہ شمس الزماں قادری ، مولانا علامہ محمد ایوب اور مولانا علامہ غلام مصطفےٰ رحمة اللہ علیھم اجمعین سے بھی چند کتابیں پڑھیں، لیکن اکثر و بیشتر کتب کی تعلیم
شیخ الحدیث مولانا غلام رسول رضوی رحمةاللہ علیہ اور حضرت مفتی اعظم مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی رحمة اللہ علیہ
بانی،ناظمِ اعلیٰ وصدر تنظیم المدارس (اہل سنت پاکستان) سے حاصل کی۔
بعد ازاں آخری کتب پڑھنے کے لیئےآپ بندیال میں
ملک المدرسین
استاذالاساتذہ علامہ عطاءمحمد بندیالوی رحمةاللہ علیہ
کی خدمت میں حاضرہوئے۔ یہاں آپ نےتقریباًہرفن میں استفادہ کیا۔ آپ نے تدریسی زندگی کاآغاز 1965ء میں جامعہ نعیمیہ لاہور سےکیا۔ 1966ءمیں حضرت استاذ العلماء مولانا مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی رحمةاللہ علیہ نے آپ کو جامعہ نظامیہ رضویہ میں بلالیا۔
جہاں آپ نے 1967ء تک تدریسی فرائض انجام دیئے۔1968ء میں پیرِ طریقت حضرت صاحبزادہ محمد طیب الرحمان چھوہروی رحمةاللہ علیہ، آپ کو حضرت مفتی صاحب کی اجازت سے دارالعلوم اسلامیہ رحمانیہ ہری پور لے گئے، جہاں آپ نے صدر مدرس اور مفتی کی حیثیت سے چار سال تک کام کیا۔ دسمبر 1971ء میں مدرسہ اسلامیہ اشاعت العلوم چکوال کے منتظمین کی دعوت اور شدید اصرار پر چکوال آگئے۔ یہاں دوسال تک فرائضِ تدریس انجام دیئے۔1973ء میں آپ لاہور آئےاور دوبارہ جامعہ نظامیہ رضویہ میں صدرمدرس اور استاذ الحدیث مقرر ہوئے۔ ہری پور میں قیام کے دوران آپ نے وہاں کے بکھرے ہوئے سنی علماء کو جمع کیا اور جمعیت علماء سرحد، پاکستان کے نام سے ایک تنظیم قائم کی، آپ ہی کو جمعیت کا ناظمِ اعلیٰ مقرر کیا گیا اور دیگر تبلیغی امور کے علاوہ پہلی مرتبہ آپ کی قیادت میں ہری پور کے سنیوں نے امامِ اہلِ سنت مولانا الشاہ احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے یومِ رضا منایا۔ چکوال میں بھی آپ نے نوجوان اور فعال کارکنوں کو اکٹھا کرکے جماعت اہل سنت قائم کی اور وہاں کے لوگوں میں سنیت اور رضویت کی روح پھونک دی اور بڑی دھوم دھام سے یومِ رضا منایا گیا۔ مولانا عبدالحکیم شرف قادری نے ہری پور قیام کے دوران اپنی اشاعتی زندگی کا باضابطہ طور پر آغاز کیا۔تبلیغ و اشاعت کو وسعت دینے کے ارادے سے آپ نے دسمبر 1973ء میں جامعہ نظامیہ رضویہ میں حضرت مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی رحمة للہ علیہ، مولانا الحاج محمد منشا تابش قصوری اور مولانا الحاج محمد جعفر ضیائی رحمتہ اللہ علیہ کے تعاون سے مکتبہ قادریہ قائم کیا۔
آپ نے تدریس کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآہونے کے ساتھ ساتھ درجنوں کتب تصنیف فرمائیں
آپ نے ترجمہ القرآن عربی وفارسی کتب کے تراجم کے علاوہ متعدد تصانیف اور درجنوں کتب پر حواشی بھی لکھے ان میں سے چند چھپ کر مقبولیت حاصل کر چکی ہیں ذیل میں چند ایک کا نام۔۔۔۔
انوار الفرقان فی معانی القرآن،
من عقائد اہل السنہ،
عقائد و نظریات،
زندہ جاوید خوشبوئیں،
سدا بہار و لولہ انگیز خوشبوئیں،
اندھیرے سے اجالے تک ،
تعریب الدعوہ الی الفکر ،
مقدمات رضویات،
مقالات شرف،
ترجمہ قصیدہ بردہ،
ترجمہ دلائل الخیرات،
برکات آل رسول،
تعارف فقہ و تصوف،
25 مارچ 1970 کو آپ نے حضرت مفتیٔ اعظم پاکستان ابوالبرکات سیّد احمد رحمہ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت کا شرف حاصل کیااور تبرکاً سندِ حدیث بھی حاصل کی۔اسکے علاوہ بھی آپ کو پاک وہند اور مصر کے مشائخ سے خلافت ملی ہوئی تھی
1963ء میں آپ کی شادی ہوئی۔ اس وقت آپ کے تین صاحبزادےعلامہ ڈاکٹر ممتاز احمدسدیدی ،
علامہ مشتاق احمدقادری ، اورحافظ نثار احمدقادری اور دو صاحبزادیاں ہیں۔
آپ کے داماد علامہ حکیم محمد طاہر نزیر صاحب جامعہ نظامیہ کےفاضل اور ماہر طبیب اور مشہور خطیب ہیں حضرت کے نواسے ماشاءاللہ حفظ مکمل کرچکےہیں اللہ تعالیٰ آپ کی اولاد کو اسلاف کا نمونہ بنائے (آمین)
آپ کو تدریس سے بےحد لگاؤ تھا اپنے استاذ گرامی قدر قبلہ مفتی اعظم پاکستان کی طرح طلباء کو مدرس بننے کا شوق دلاتے رہتے
(یہی وجہ ہیکہ آج پاکستان کے اکثر مدارس میں درس نظامی کے اساتذہ میں سب سے ذیادہ تعداد جامعہ نظامیہ کے فضلاء کی ہے الحمدللہ)
ہمارے استاذ گرامی قدر علامہ دل محمد چشتی صاحب فرماتے ہیں کہ اگر دورہ حدیث شریف کی کلاس میں استاذ قبلہ شرف قادری صاحب روزانہ مدرس بننے پر زور نہ دیتے تو آج میں مدرس نہ ہوتا
اور خدا گواہ ہیکہ انکا یہ شوق بعد از وصال بھی جاری ہے
"(تدریس کی ابتداء میں میرے ساتھ یہ واقعہ ہوا تو میں نے اپنے ہمراز برادر اصغر علامہ قاری محمد طاہر عزیز باروی صاحب سے ذکر کیا آج جب میں مضمون لکھنے لگا تو انہوں نے کہا کہ وہ واقعہ بھی لکھو مگر میں نے انکار کیا تو انہوں نے کہا کہ اس میں تمہارا کیا کمال؟؟؟ یہ استاذ صاحب قبلہ کی کرامت بعد ازا وصال ہے لازمی ذکر کرو انکے کہنے پر)
مجھے یاد پڑتا ہیکہ میرا تدریس کا پہلا سال تھا میں روزانہ رات کو 12 نمبرکمرہ میں سوتا تھا
(جو پہلے قبلہ مفتی صاحب رح اور بعد میں حضور شرف ملت رح
کا کمرہ تھا)
کئی بار ایسے ہوا کہ فجر پڑھ کر سو گیا اور کلاس کا وقت ہونے لگا تو مجھے شرف صاحب کی آواز آتی اور کئی بار مفتی صاحب کی کہ ملاں
(دونوں بزرگ مجھے ملاں۔۔۔۔کہہ کر بلاتے تھے)
اٹھو پڑھانے نہیں جانا؟
اور میں بروقت کلاس میں پہنچ جاتا
آپ کی تدریسی زندگی میں بے شمار طلباء نے اکتسابِ فیض کیا، جن کا مکمل شمار اس چھوٹے سے مضمون میں ممکن نہیں
تاہم چند مشہور تلامذہ یہ ہیں:
شیخ الحدیث علامہ حافظ محمد عبدالستارسعیدی ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ،
مفتی اسلام مفتی منیب الرحمان ہزاروی
علامہ محمد عبدالمصطفی ہزاروی ناظم اعلی تنظیم المدارس اہلسنت و جامعہ نظامیہ رضویہ،
ادیب شہیر شیخ الحدیث علامہ محمد صدیق ہزاروی،
مولانا محمد بشیر سیالوی رحمةاللہ علیہ( لندن)
علامہ مفتی محمد اکبر ہزاروی (جنوبی افریقہ)
امیر الم ج اہدین شیخ الحدیث علامہ حافظ خ اد م حسین رض وی،
استاذالعلماء علامہ غلام نصیر الدین چشتی
شیخ الحدیث جامعہ نعیمیہ، مناظرابن مناظر علامہ محمد عبدالتواب صدیقی رح،
علامہ ڈاکٹر فضل حنان سعیدی
شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ رضویہ،
علامہ احسان اللہ قادری ناظم اعلی جامعہ غوثیہ پھام گلی اوگی،
علامہ محمد فاروق سعیدی مانسہرہ،
علامہ مفتی محمد حنیف چشتی لاہور،
خطیب اہلسنت علامہ حافظ محمدطاہرتبسم القادری استاذالحدیث جامعہ نظامیہ رضویہ،
مبلغِ یورپ شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ رضویہ
علامہ حافظ ظہیربٹ صاحب،
مفتی محمد رمضان سیالوی خطیب مسجد حضرت داتا صاحب،
خطیب برطانیہ علامہ حافظ محمد جمشید سعیدی لندن،علامہ مفتی محمد تنویر القادری مفتی جامعہ نظامیہ رضویہ،
علامہ مولانا محمد نصراللہ جان ہزاروی ناظم اعلی مدرسہ میرہ مانسہرہ، علامہ محمد اکرام اللہ بٹ سینئیر مدرس جامعہ نظامیہ رضویہ،
علامہ مولانا محمد صدیق نظامی خطیب پاک آرمی،
علامہ حافظ صاحبزادہ نصیر احمد ہزاروی ناظم اعلی مدرسہ نورجامعہ نظامیہ لاہور،علامہ سید غلام مصطفیٰ شاہ بخاری،علامہ مولانا مدد علی قادری،
علامہ محمد ایوب قادری(مرحوم) برطانیہ،
علامہ مولانا محمد لطیف چشتی بیلجیئم،
خطیب شعلہ بیان مفتی محمد اقبال چشتی،
علامہ مولانا خاور حسین سیالکوٹی (مرحوم)
خطیب دلپزیر علامہ محمد نواز بشیر جلالی،
استاذ العلماء علامہ قاری محمداحمد رضا سیالوی نائب ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ،
استاذِ محترم علامہ محمد واحد بخش سعیدی،
استاذ محترم علامہ حافظ دل محمد چشتی،
استاذالقراء علامہ قاری محمد ذوالفقاراحمد برسالوی،
حضرت علامہ انوارالرسول مرتضائی سنیئر نائب مرکزی صدر مجلس علماء نظامیہ پاکستان،
پیر طریقت علامہ مولانا محمد خلیل احمد مرتضائی ناظم اعلی جامعہ مرتضائیہ،
حضرت علامہ پروفیسر عون محمد سعیدی،
علامہ قاری محمد صدیق سعیدی لندن،
علامہ حافظ محمد شفیق سلطانی کوٹلی آذاد کشمیر
علامہ قاری محمد رفیق سعیدی،
علامہ محمد عثمان ہزاروی رضوی،
مفتی محمد اکمل قادری q t.v
علامہ محمد لیاقت اظہری کراچی، علامہ محمد آصف ہزاروی کراچی،
علامہ محمد سرداراحمد حسن سعیدی ناظم تعلیمات جامعہ رضویہ ضیاءالعلوم راولپنڈی،
علامہ قاری ملازم حسین سعیدی
علامہ مولانا عمران الحسن فاروقی سینئیر مدرس جامعہ نظامیہ رضویہ،
مولانا عزیز اللہ، ڈسٹرکٹ خطیب لاڑکانہ (سندھ)
مولانا غلام نبی، صدر مدرس مدرسہ حنفیہ سراج العلوم گوجرانوالہ،
مولانا احمد دین، صدر مدرس توگیرہ شریف،
قاری عبدالرشید، ناظمِ اعلیٰ مدرسہ شیراکوٹ لاہور
قاری عبدالرسول، کوٹ اُدّو
مولانا محمد رفیق چشتی، مؤلف شرح کریما
مولانا محمد عصمت اللہ
آزاد کشمیر،
صاحبزادہ حمید الدین دورریاں آزاد کشمیر۔
حضور شرف ملت علیہ الرحمہ نے کتابیں ہی پڑھیں ہیں اور کتابیں ہی پڑھائی ہیں انہیں ذندگی بھر کبھی کسی ایک حدیث میں بھی تردد یا شک نہیں ہوا ہمیشہ اپنے اساتذہ کے طریقے پر رہ کر ان ہی لکھی ہوئی کتب کے پابند رہے ہیں کسی بدمذھب بد عقیدہ کے پیچھے نہ نماز پڑھی ہے نہ کبھی انکے گن گائے ہیں
حضور شرف ملت علیہ الرحمہ کو آخری عمر میں بھی اپنے استاذ قبلہ مفتی اعظم علیہ الرحمہ کے سامنے ہم نے جب بھی دیکھا دو زانو ہو کر بیٹھتے ہیں دیکھا اسی ادب کا ثمر تھا کہ علم کا یہ کوہ ہمالیہ اپنا علم بچا کر لے گیا بڑے لوگوں کی یہ بڑی باتیں ہیں اسی طرح ہم نے کچھ چھوٹے لوگوں کو بھی دیکھا ہے جن کو علم کی ابجد آ جائے وہ تکبر سے پھٹنے لگتے ہیں اور پھر اسی پھٹنے کی وجہ سے ان پر پھٹکار پڑتی ہے اور بدمذھبوں کی جھولی میں جا گرتے ہیں
اللہ ہمیں *زہد کے کبر* سے محفوظ فرمائے