03/09/2026
بڑے باادب ہیں، اچھوں میں شمار رکھتے ہیں
لبوں پہ پھول ، دلوں میں خار رکھتے ہیں
بڑے خوش سخن و خوش لباس ہیں، لیکن
یہ اپنے باطن میں کتنے غبار رکھتے ہیں
لبوں پہ ذکرِ اخلاص و وفا لیکن
پسِ نقاب نیت میں انتشار رکھتے ہیں
کبھی جو وقت پڑے بدلتے ہیں چہرے
کرتے ہیں وار ہاتھوں میں پیار رکھتے ہیں
یہ شہرِ منافقت بھی خوب ہے، جہاں
جو جتنا مخلص ہو، اتنے ہی اغیار رکھتے ہیں