Rania's writes

Contact the business

Rania's writes 📚 لفظوں میں بسا ایک جہاں
✨ محبت، احساس اور خوبصورت کہانیاں
🖋️ روز نئے ناولز اور دلچسپ اقساط
💫 دل سے لکھی گئی تحریریں، دل تک پہنچنے کے لیے
(6)

بد_تمیز_عشقتحریر_ردابہ_نورین ✍ زینب کی کہانی ایسی کوئی دنیا سے ہٹ کے بھی نہیں تھی.. وہ بھی عام لڑکیوں جیسی لڑکی تھی.. کچ...
15/10/2026

بد_تمیز_عشق
تحریر_ردابہ_نورین ✍


زینب کی کہانی ایسی کوئی دنیا سے ہٹ کے بھی نہیں تھی.. وہ بھی عام لڑکیوں جیسی لڑکی تھی.. کچی عمر کی... کچے ذھن کی... آنکھیں کھولی تو ماں باپ سر پے نہ تھے... جب بابا کا انتقال ہوا توحسین اس وقت 14 سال کے تھے ماں اور بہن کی زمیداری ان کے کندھوں پے آگئی تھی.. لیکن کچھ مہینے بعد ہی اماں دونوں بہنوں کو ان کے سپرد کر کے خود بھی چلی گیں.. وقت گزرتا گیا حسین کامیابی کی منزلیں پار کرتے بڑے بزنس مین بن گئے، لوگ انھیں دیکھتے تو عش عش کر اٹھتے.. وہ مثالی بیٹے اورمثالی بھائی بن گئے تھے سب کے لئے...اگرچہ کلثوم کو بھی حسین نے ہمیشہ لاڈ پیار سے رکھا لیکن زینب جو ان سے کئی سال چوٹی تھی اس کو وہ بیٹی سمجھنے لگے تھے. وہ زینی کو ہمیشہ ویسے ہی ٹریٹ کرتے جیسے ایک باپ اپنی بیٹی کو کر سکتا تھا. وہ اس کا اتنا خیال کرتے اتنی پرواہ کرتے کہ کبھی کبھی لوگ بھی یہی سمجھ بیٹھتے کے شاید وہ ان کی بیٹی ہیں.. پیار کرنے والے بہن بھائی نے زینب کو بہت محنت سے پلا تھا وہی کل دنیا تھے اس کی.. حسین نے ہمیشہ اس کو ہتھیلی کا چھالا بنا کر رکھا.. اس کی ہر جائز نہ جائز کو مانا. منہ سے نکلنے سے پہلے ہر خواھش کو پورا کیا جاتا اور یہی بات کلثوم کو ڈرانے لگی تھی وہ کبھی کسی بات سے مانا کرتی تو زینب سیدھا حسین کے پاسس شکایات لے کر پہنچ جاتی. اور حسین بنا کسی تاخیر اس کی بات مان لیتے. بے جا لاڈ پیار نے اس میں بہت سے کمیاں پیدا کر دی تھیں... جن میں جب سے بڑی کمی احساس کمتری کی تھی.. اور اس کا پہلا وار تب ہوا جب حسین نے شاہینہ سے شادی کی اگرچہ یہ شادی کوئی عشقی ماشقی والی نہ تھی لیکن پھر بھی اس میں حسین کی رضامندی شامل تھی. شاہینہ ان کی پورانی محلے دار ہونے کی حصیت سے وہ سب انھیں جانتے تھے. جب شادی کا مرحلہ آیا تھا تو کلثوم نے شاہینہ بیگم کا نام لیا جو ان کی دوست، دکھ درد کی ساتھ تھیں.. اس پے زینی کو بھی کوئی اعتراض نہیں تھا، اس لئے اس مرحلے میں بھی حسین نے اپنی بہنوں کی پسند کو اہمیت دی.. شادی سے پہلے زینب بھابھی آنے کے خیال سے بہت خوش تھی لیکن شادی کے کچھ دن بعد ہی شاہینہ اور زینب میں اختلافات شروع ہو گئے.. جس کی واضح وجہ حسین کی بٹی ہوئی توجہ تھی. لیکن شاہینہ بیگم نے کمال ضبط کا مظاہرہ کیا اور ثابت کیا کہ ان انتیتخاب کسی لہٰذ سے بھی گھاٹے کا سودا نہیں ہے. وہ زینب کی ہر غلطی کو نظر انداز کرتی گیں. اگر کبھی کلثوم یا حسین کچھ کہنا بھی چاہتے تو بچی ہے آہستہ آہستہ سمبھل جائے گی کہہ کے ٹال دیتی. شاہینہ نے اس کی ہر بری اور خراب عادت کو ناسمجھی کہ کر ٹال دیا اور انکی یہی خوبی حسین کے دل میں ان کی محبت اور گہری کرتی چلی گئی.. لیکن پھر ایک وقت آیا کہ یہی چوٹی چوٹی غلطیاں جو نظر انداز کر رہے تھے جمع ہوتے ایک پہاڑ کی شکل اختیار گر گیں تھیں.. جسے نہ نظرانداز کیا جا سکتا تھا اور نہ ہی نظروں سے اوجھل کیا جاتا سکتا تھا... پھر انہی دنوں عثمان دنیا میں آیا حسین کو لگا انکی دنیا مکمل ہو گئ ہے.. سب کچھ تھا ان کے پاس گھر... بیوی...بیٹا... بہن اور ان کی لاڈلی بیٹی... لیکن وہ نہیں جانتے تھے ان کی بیٹی جیسی بہن دل میں نفرتوں کا لاوا لئے بیٹھی ہے... اگرچہ عثمان میں تو زینی کی جان بستی تھی لیکن اس حوالے سے بھی وہ شاہینہ کوئی اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں تھیں.. وہ جتنا زینی کی حرکتوں کو نظر انداز کرتیں، زینی اتنا ہی ان سے بدتمیزی کرنے لگتی... گھر کا محول دن با دن خراب ہو رہا تھا اور اب وقت آگے تھا کہ زینی کو احساس دلایا جائے پر وہ جب بھی اسے سمجھانے کی کوشش کرتے وہ پہلے سے زیادہ بگڑ جاتی... پھر ایک بعد ایک کئی مرحلے آے جہاں زینب خود کو اکیلا سمجھنے لگی خاص طور پے کلثوم کی شادی کے بعد کیوں جب بھی اسے حسین کی عدم موجودگی کا غم گھیرتا وہ کلثوم کے پاس جا پہنچھتی لیکن اب وہ بھی ممکن نہں رہا تھا اور اس معاملے میں بھی وہ قصوروار شاہینہ کو ہی سمجھتی تھیں.. پہلے حسین سے اور اب کلثوم سے دوری نے اس زندگی کو جھنجوڑ کے رکھ دیا.. وہ خود کو تنہا سمجاھنے لگی تھی اس لئے ہر چیز سے کٹ کے رہ گئی تھی.. اور تنہائی نے اس کے دماغ کو شیطان کا گھر کر دیا تھا... ........................................
رانیہ نے ڈر سے آنکھیں میچ لیں تھیں جبکہ شانزے کے چہرے پے ہنسی پہلی... باقی سب لوگ جو سانس روکے منظر میں گم ہو گئے تو واپس حال کی طرف لوٹے... ہر طرف شور کی آواز تھی تقریبن سب ہی لوگ رانیہ کے ڈر جانے کا مذاق اڑا رہے تھے. رانیہ نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولی اور سامنے کھڑے لوگوں کو دیکھ کر اس سے انتہائی صدمہ لگا تھا..
جبکہ شازنے نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑا اور اس میں آرڈر کی جانے والی چیزوں کے بل کے پیسے پکڑاے تھے...
چیرٹی کرنے کا اتنا شوک ہے تو پہلے کمانا سیکھو، باپ کے پیسوں پے عیاشی ہوتی ہے چیرٹی نہیں سمجھیں مس ڈرپوکے... شانزے نے اس کی تھوڑی دیر پہلے والی کیفیت پے چوٹ کی تھی..
رانیہ کا دماغ بہک سے اوڑ گیا تھا.. اتنے لوگوں کے سامنے اس کی بےعزتی جو ہوئی تھی... لیکن ابھی وہ کچھ کہنے کی کنڈیشن میں نہیں تھی.. اور شانزے وہاں سے یہ جا وہ جا ہوئی تھی...
اس نے ہاتھ میں پکڑے پیسوں کو موروڑا تھا... تمہیں تو میں دیکھ لوں گی شانزے سمجھتی کیا ہو خود کو. .....................................
زینب کی تنہائی پسندی سے یہ ہوا کے گھر میں رہنے والی ہر وقت کی نوک جھوک ختم ہو گئی تھی. وہ سارا وقت اپنے کمرے میں بند رہتی.. انہی دنو گھر میں یوسف کی آمد ہوئی اگر چہ زینی عثمان کی طرح یوسف کو بھی بہت چاہتی تھیں پر اس سے بھی ان کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں ای تھی. اور یہ بات مسٹر اینڈ مسزز حسین کے لئے خوشگوار نہیں تھی، وہ دونوں ہی اس کی طرف سے پریشان تھے. کہ کیسے وہ زینی کو کسی ایکٹیویٹی میں انوولوے کریں کیوں کے وہ جب بھی کوئی آوٹنگ پلان کرتے تو وہ کالج کا بہانہ کر کے مانا کر دیتی... پر جیسے ہی ایگزمز ہوے حسین اپنے ساتھ اسے فیکٹری لیجانے لگے... وہ جب تک فیکٹری میں رہتے وہ ساتھ ہی رہتی ادھر سے ادھر گھومتی پھرتی... آہستہ آہستہ اس کا انداز بدلنے لگے تو پہلے کی طرح ہنسنے بولنے لگی اگرچہ ابھی بھی وہ شاہینہ کو اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں تھی پر پھر معملات قدرے بہتر تھے دوسری طرف شاہینہ جو اس پے قطعے رازمند نہیں تھیں کے وہ ایسے فیکٹری جائے اس میں اتنی مثبت تبدیلی کے بائیس خاموش ہو گیں... وہ اتنی پر کشش تھی کہ کوئی بھی اس کی طرف آسانی سے اٹریکٹ ہو جاتا گورا رنگ... کالے بال اور کالی سیاہ آنکھیں جو دیکھنے والو کو سحرزدہ کر دیتیں اور بات شاہینہ کو فکر میں مبتلا کرتی تھی ایک تو کچی عمر اوپر سے کچی سوچ.... پھرانہی دنوں ایک حیرت انگیز واقعی پیش آیا، زینی کے لیے رشتہ آیا تھا. اور تب پہلی بار سب کو احساس ہوا کے وہ بھی اس عمر میں داخل ہو گئی تھی جب نازوک کلیاں کھلنے لگتی ہیں اوران کی مہک دور دور تک پھل جاتی ہے... رشتہ نیحیات ہی مناسب تھا حسین اور شاہینہ کو اس پے کوئی اعتراض نہیں تھا پھر جب انہوں نے کلثوم سے بات کی تو وہ بھی فورن راضی ہو گیں. رشتہ نہایت ہی موزوں تھا. پر حسین کو جھٹکا تب لگا جب زینی نے رشتے سے انکار کیا بلکے خود اپنی پسند سے بھی اگاہ کر دیا...
حسین روایتی بھائی نہیں تھے لیکن رشتہ اتنا اچھا تھا کہ وہ جواب بھی نہیں دینا چاہتے تھے لیکن زینی بھی اپنی زد پے آڑ گئی تھی.. حسین سمیت سبی نے اس کو سمجھایا پر وہ نہ مانی.. بلاآخر حسین کو ہی رشتے والوں کو جواب دینا پڑا کیوں کہ وہ زینی کا دل نہیں توڑنا چاہتے تھے. مجبورن وہ زینی کے بتاے ہوے رشتے پے رضامند ہوے... وہ حسین کی فیکٹری کے ساتھ بطور ڈیلر کام کر رہا تھا..
لیکن اس سے مل کے ان کے پیروں تلے زمین نکل گئی تھی... وہ آدمی عمر میں حسین سے سے بھی بڑا تھا پہلی بار انھیں اپنی بہن کی دماغی حالت پے شک ہوا تھا انہوں نے اس رشتے کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا اور جب یہ بات زینب کو پتا چلی تو اس نے عجیب طوفان بد تمیزی برپا کر دیا تھا...................................
زینی... بیٹا تم میری بات سمجھ نہیں رہی ہو... وہ شخض تمہارے قبل نہیں ہے میری بچی... حسین اس کی منت کی تھی...
کیا سمجھوں بھائی صاف صاف کیوں نہیں کہتے کے آپ مجھے خوش دیکھنا ہی نہیں چاہتے، آپ چاہتے ہیں کے میں ہمیشہ اپ کی غلام بن کے رہوں جو آپ کہیں وہ میں کروں... وہ میرے قابل ہے یا نہیں اس فیصلہ کرنے والے اپ کون ہوتے ہیں...
شٹ اپ زینی یہ کیسے بول رہی ہو تم بھائی ہیں ہمارے... ہمارا اچھا برا اور کون سوچے گا... کلثوم کو جھٹکا لگا تھا وہ جانتی تھیں کے ہمیشہ سے زبان کی کڑوی رہی ہے پر وہ زہر اگلتی ہے اس کا احساس اب ہوا تھا.
باجی... پلیز اپ ان معملات سے دور رہے ہیں تو بہتر ہے... بھائی کے پاسس ان کی بیوی وہ اس کا اچھا بھلا سوچیں.. زینی نے شاہینہ کو خام خہ لاتڑا تھا. وہ جو پاس ہی عثمان اور یوسف کو لئے بیٹھیں تھیں.
اور ویسے بھی میں نے شادی کا فیصلہ کر لیا ہے... یہ میری لائف ہے اور میں اپنا اچھا برا بہتر سمجھ سکتی ہوں.
ہاں.. بیٹا تم ٹھیک کہ رہی ہو پر وہ تمہارے لائق نہیں ہے.
اوہ - تو اپ کو میری خوشی چاہیے ہی نہیں...
ایسا نہیں ہے بیٹا.. اگر وہ اچھا انسان ہوتا تو میں ہرگز انکار نہ کرتا... وہ لالچی انسان ہے تم نہیں سمجھ پارہیں..
اچھا - تو اصل بات تو آپ نے اب کی ہے... آپ مجھے کچھ نہیں دینا چاہتے نہ دیں مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن میں اس کے بغیر ہرگز زندہ نہیں رہ سکتی...
زینی بھاگتی ہوئی لان کی طرف گئی تھی اور خود پے جلدی جلدی پیٹرول ڈالنے لگی لیکن اس پہلے کے وہ خود کو آگ لگاتی کلثوم اور شاہینہ پہنچ گئے تھے وہ دونوں اسے روکنے کی کوشش کر رہی تھیں...
پاگل ہو گئی ہو زینی ہوش میں آؤ کیا کر رہی ہو یہ... کلثوم نے اسے کندھوں سے پکڑ کے جھنجوڑا تھا...
نہیں آنا مجھے ہوش میں... کیا کروں گی ہوش میں اکر نہیں ہیں وہ میرے بھائی نہیں ہیں آپ میری بہن آپ سب دشمن ہیں میرے چلی جائیں یہاں سے چھوڑ دیں مجھے میں مر جانا چاہتی ہوں... یہ سب آپ کی وجہ سے ہوا آپ نے چھن لیا ہے مجھ سے سب کچھ میرا.. وہ اپ پاگلوں کی طرح شاہینہ پے چیخ رہی تھی...
بس کرو زینی کیا ہو گیا ہے... تم کیوں کچھ تو خیال کرو اپنا نہیں تو ہمارا خیال کرو... کلثوم بولتے بولتے رو پڑی تھیں...
کیوں کروں میں آپ کا خیال... کسی نے میرا خیال کیا ہے... باپ کہتے ہیں نہ وہ خود کو میرا تو باپ بن کے دیکھاتے وہ تو بھائی بھی نہ بن سکے... جلتے ہیں میری خوشیوں سے... نہیں ہیں وہ میرے کچھ بھی... زینب آپے سے باہر ہو رہی تھی اس کا سمبھالنا شاہینہ اور کلثوم کے بس کی بات نہیں تھی... دروازے میں کھڑے حسین بہت دیر اس کو دیکھ رہے تھے پھر جیسے وہ ایک فیصلے پے پہنچ گے انہوں نے آگے بڑھ کر زینی کو اپنے سینے سے لگا یا تھا..
نہیں ہیں آپ میرے بھائی... نہیں ہیں..
ہاں ٹھیک ہے... نہیں ہوں تمہارا بھائی.. بس اب چپ.. بلکل چپ.. ان کی آنکھوں سے آنسو نکلے تھے اور کلثوم کو لگا ان کا دل بھائی کے آنسوں میں ڈوب رہا ہے... بھائی جان وہ بس اتنا ہی بولیں تھیں... اس سے زیادہ کی ہمت کہاں تھیں ان میں..
نہیں ہیں آپ میرے بھائی... زینی ابھی بھی ایک ہی بات بولے جا رہی تھی..
ہاں نہیں ہوں تمہار بھائی ٹھیک ہے... حسین اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما تھا اب میری بات غور سے سنوں انہوں نے اس کے آنسو صاف کیے تھے... زینب نے ہاں میں سر ہلایا تھا...
میں نے تمہیں بہت سمجھایا... بہت کوشش کی کہ تم مان جاؤ پر تم نہیں مانیں... اب وہ ہو گا جو تم چاہو گی... ٹھیک ہے... حسین نے اس کا چہرہ اوپر کیا... زینی نے پھر ہاں میں سر ہلایا تھا...
لیکن...!!! لیکن...!! اس کے بعد کی ہر زمیداری تمہاری ہو گی... اپنا اچھا برا... سکھ اور دکھ تم خود دیکھو گی... حسین کے الفاظ نے باقی دو لوگوں کی سمعاتوں پے گویا بم گرایا تھا...
حسین اپ کیا کہ رہے ہیں بچی ہے نہ سمجھ ہے ہم بات کر سکتے ہیں.... شاہینہ نے آگے بڑھ کر کہنا چاہا پر حسین نے ہاتھ کے اشارے سے انھیں روک دیا تھا...
بس... تم لوگ شادی تیاری کرو...
#جاری ہے۔

بد_تمیز_عشق
تحریر_ردابہ_نورین ✍


شاہینہ اور کلثوم نے کتنا سمجھایا تھا حسین کو پر اس معملے میں انہوں نے کسی کی ایک نہ سنی اس لئے نہ چاہتے ہوے بھی دونوں نے شادی کی تیاری مکمل کر لی تھی. اگرچہ حسین اس شادی کے لئے دل سے رضامند نہیں تھے پر زینی کی زد نے انھیں مجبور کر دیا تھا. آج تک اس کی کوئی زد ٹالی نہیں گئی تھی تو اب کیسے ممکن تھا کے انکارہو جاتا... پر زینی اس بات سے لاعلم تھی کے اس بار جو خواہش اس نے کی ہے اسے پورا کرنے میں حسین ہلکان ہو گئے تھے...
رسم دنیا نبھانے کے لئے گھر میں نکاح کی تقریب رکھی تھی اور بہت خاص لوگوں کو بلایا گیا تھا. حالانکہ اپنی شیزادی جیسی بہن کے لئے انہوں نے شہزادے کے خواب دیکھے تھے محلوں کا جشن سوچا تھا. لیکن کچھ خوابوں کی قسمت صرف خواب رہنا ہی ہوتا ہے. جیسے کے زینب کے معملے میں ہوا تھا. نکاح کی تیاریاں مکمل کر لیں گیں تھیں. تقریب چوٹی تھی پر پھر بھی ہر لہٰذ سے مکمل تھی. کمی تھی تو صرف ان ارمانوں کی جو حسین کے دل میں رہ گئے تھے. اور اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا کے ان ارمانوں کو دل کے کسی کونے میں ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا جاتا...
اور پھر وہ وقت بھی اکر گزر گیا جس نے زینی کو سب سے پریا کر دیا تھا. ہلکا کام والا لال جوڑے اور ہلکے ہلکے میک اپ میں بھی اس کا روپ چودہویں کے چاند کی طرح چمک رہا تھا. جس کی روشنا نے دیکھنے والوں کی آنکھیں چندھیا تھیں. سب لوگ اس کے سجے سنورے روپ کو دیکھ کر عش عش کر رہے تھے. اپنی خواہش کے پورا جانے پے اس کا چہرہ مزید نکھار گیا تھا. ڈھیروں سکون وہ اپنے اندر پھیلا محسوس کر رہی تھی جس کا اندازہ اس کی آنکھوں سے باخوبی لگایا جا سکتا تھا. دیکھنے والوں کی نظریں تو مانو اس پے جم کے رہ گیں تھیں پر نہیں دیکھا تو حسین نے اور دیکھتے بھی کیسے جسے اتنے نازوں سے پالا ہو اس کو اس طرح سے رخصت ہوتے وہ کیسے دیکھ سکتے تھے. پر زینی کو اب پرواہ بھی کہاں تھی. اس کے لئے تو اپنی خواہش کا پورا ہو جانا ہی بہت تھا. لیکن وہ یہ بھول گئی تھی کہ اپنوں کا دل دکھا کر کب کون خوشی سے جی پایا ہے. رخصتی کے وقت کلثوم اس سے مل کر رو پڑیں تھیں نہ چاہتے ہوے بھی شکوہ زبان پے آگے تھا. زینی تم نے ہمارے ساتھ ہی نہیں بلکے اپنے ساتھ بھی ظلم کیا ہے. شاہینہ بیگم ملنے کے لئے آگے بڑھیں پر زینی نے انھیں نظر انداز کر دیا وہ آج بھی سب کا زمیدار ان کو ہی سمجھتی تھی. وہ آہستہ آہستہ چلتی حسین کے پیچھے آکھڑی ہوئی تھی. کتنی دیر وہ انتظار کرتی رہی پر حسین نے اس کی طرف رخ نہیں کیا وہ جو سمجھی تھی کے رخصتی کے وقت بھائی سے مل کے اپنا دل ہلکا کر لے گی مگراس کا ارمان دل میں رہ جانے والا تھا.
بھائی جان... زینی نے حسین کو پکارا تھا. اس سے پہلے کے وہ کچھ کہتی حسین نے کچھ پیپرز اور ایک بیگ زینب کی طرف بڑھیا تھا.
یہ کچھ پراپرٹی کے پیپرز ہیں اور کچھ چیزیں جو میں نے تمہاری شادی کے لئے لیں تھیں... کچھ کمی ہے تو بتاسکتی ہو.. میں تمہاری ہر ضرورت پوری کروں گا.. میں امید کرتا ہوں کے تم اپنی انے والی زندگی میں اتنی ہی خوش رہو گی جتنا تم نے سوچا ہے... زندگی میں کبھی کوئی ضرورت پڑے تو بلا جھجگ کہنا... میں ہمیشہ تمہاری ضروریات پوری کروں گا. کہہ کے حسین رکے نہیں تھے. پر زینی کو لگا کسی نے اس کے کانوں میں سیسہ انڈیل دیا ہے اس نے کیا سوچا تھا اور کیا ہو گیا تھا... اس کو تو لگا تھا وہ حسین کو مانا لے گی پر نہیں... وہ اکیلی ہو گئی تھی اور اب گھر کی دہلیز اکیلے پار کرتے پہلی دفع اسے احساس ہوا تھا کے وہ کیا چھوڑے جا رہی ہے........................................
وہ چلی گئی یہ جانے بغیر کے میرے دل پر کیا قیامت گزری ہے... اس نے کبھی پلٹ کر نہیں دیکھا کتنا انتیظار کیا میں نے اس کا پر وہ نہیں ای... اور اس کا خیال کبھی اس دل سے گیا ہی نہیں.. حسین کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے پر کس میں بھی اتنی ہمت نہ تھی کہ آگے بڑھ کر انھیں صاف کر دے عثمان کی حالت تو ایسی تھی کے کاٹو تو خون نہ نکلے....
شاہینہ اور یوسف الگ فکرمند تھے... جبکہ حسین اپنی دھن میں تھے... برسوں سے درد سینے میں قید کر رکھا تھا آج آنسوؤں اور الفاظوں میں اس کا بیان ہو جانا ہی بہتر تھا..
وہ چلی گئی پھر کبھی واپس نہ انے کے لئے... وہ جانتی تھی میں ناراض ہوں پر وہ یہ بھی جانتی تھی کے کچھ بھی ہو جائے اگر وہ مجھے مناے گی تو میں ماں جاؤں گا... پر وہ نہیں آئ کتنا ڈھونڈا میں نے اس سے... پر وہ نہیں ملی... شانزے کو دیکھا تو لگا میری زینی کھڑی ہو گئی ہے میرے سامنے... وہی روب جماتا انداز، وہی غصہ بھری آواز، وہی نہیں نقش ، میں قابو نہیں رکھ سکا خود پے اس لئے اسے ڈھونڈنے لگا... پرکہاں ڈھونڈو میں اس کو....
روز... ہر روز یہ بات ستاتی ہے میری بہن میری جان... جسے میں نے زمانے کے گرم سرد سے بچا کے رکھا... اس نے خود کو جلتی آگ میں دھکیل دیا
اور میں بے بس تمشائی بن گیا. اپنی بیٹی کو روک نہیں سکا... اسے نہیں بتا سکا کے میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں..
لیکن غلطی اس کی نہیں تھی غلطی میری تھی...میں اپنی ذیمداری نہیں نیبھا سکا. میں وہ سب نہیں کر سکا جو کوئی باپ اپنی اولاد کے لئے کرتا ہے... میں ایک اچھا بھائی نہں بن سکا.... حسین کے آنسوؤں میں روانی آگئی تھی.. شاہینہ نے ان کی طرف بڑھنا چاہا تھا تبھی اپنے پیچھے کلثوم کی آواز سنائی دی تھی.
نہیں بھائی جان آپ بہت اچھے بھائی ہیں.. کلثوم جو جانے کب آئیں تھیں اور کیا کیا سن چکی تھیں... حسین کے گھٹنوں پے سر رکھ کے رو پڑیں تھیں. آپ ایسا نہ کہیں بھائی جان بس وہ وقت ہی ایسا تھا.. آپ کی غلطی نہیں ہے... آپ نے تو باپ سے بڑھ کرہمیں پلا ہے.. ساری خواہشیں پوری کی دن رات کی پرواہ کے بغیر... حسین نے انھیں اپنے سنے سے لگایا تھا... جب کے کلثوم ان کی آنکھوں سے آنسو صاف کر رہی تھی.. آپ جانتے ہیں آپ اس دنیا کے سب سے اچھے بھائی ہیں.. پریشان نہ ہوں بھائی وہ مل جائے گی ہم سب ہیں نہ آپ کے ساتھ...
محول بدل رہا تھا تھوڑی دیر پہلے جو صف ماتم بچھا تھا اب وہ سمٹ رہا تھا. عثمان خود کو کافی حد تک کومپوز کر چکا تھا اس لئے حسین کے پاس آیا..چہرے پے شرمندگی کے اثرات اتنے واضح تھے کے ایک نظر میں پڑھے جا سکتے تھے.
پاپا کیا آپ اپنے نکمے بیٹے کو معاف کر سکتے ہیں... عثمان کا سر جھک گیا تھا...
حسین تڑپ گئے تھے اس کے انداز پے وہ تو ہمیشہ ان کے لئے باعث فخر رہا ہے تو پھر کیسے ہو سکتا ہے کے وہ ان کے سامنے سر جھکا کے کھڑا ہوا تھا... جبکہ یوسف کو بھی شدید جھٹکا لگا تھا. حسین نے اپنے بیٹے کو گلے لگایا تھا... اور یہ تو ان کی ذات کی خوبی دی تھی معاف کر دینا... وہ بڑی سے بڑی بات یہ کہ کے معاف کر دیتے تھے کہ الله راضی رہتا ہے ان لوگوں سے جو دوسروں کو ان کی غلطیوں پے معاف کرتے ہیں...
عثمان باپ کے گلے لگ کے رو رہا تھا... پاپا پلز مجھے معاف کر دیں میں نے آپ کو غلط سمجھا... پر مجھے نہیں پتا تھا کہ آپ کسی تکلیف سے گزر رہے ہیں... مجھ سے غلطی ہو گئی پاپا... مجھے آپ کو سمجھنا چاہیے تھا.. پلز مجھے معاف کر دیں...
بس میرا بچا غلطیاں سب سے ہوتی ہیں لیکن اچھا یہی ہے کہ معافی مانگ لی جائے اور معاف کر دیا جائے اس سے پہلے کے بہت دیر ہو جائے... اور یہ بات عثمان بہت اچھی طرح جان گیا تھا کے وہ کس دیر کے بارے میں بات کر رہے ہیں...
نہیں بابا ابھی اتنی بھی دیر نہیں ہوئی، ہم سب مل کے ڈھونڈیں گئے چھوٹی پھوپھو کو...
اور انھیں گھر لیں آیئں گئے. یوسف نے بات میں ٹکڑا جوڑا تھا کلثوم اور شاہینہ دونوں کے چہرے پے اطمینان تھا...
ویسے پاپا ایک بات پتا ہے آپ کو بھائی نے کتنی چالاکی سے میری جگہ لینے کی کوشش کی ہے....
میں نے... ؟؟؟ میں نے کب کوشش کی عثمان جو اس حملے کے لئے تیار نہیں تھا.... حیران رہ گیا...
بس بس بھائی...زیادہ معصوم نہ بنیں ابھی آپ نے کہاں نہیں "نکما بیٹا"... تو زیادہ فری مت ہوں پاپا کا نکما بیٹا میں ہوں اور ہمیشہ میں ہی رہوں گا... آپ تو پاپا کے اچھے بیٹے ہیں نہ... یوسف کی بات پے سب ہنس پڑے تھے وہ ایک اداسسی جو محول پے طاری تھی ختم ہو گئی تھی...
اور ہاں بھائی ایک بات اور یوسف نے دروازے کی طرف بڑھتے ہوے کہا... وہ میں سوچ رہا تھا کہ آپ کی بارات لیجانے کے بجاے بلوا کر آپ کی رخصتی کر دیں گئے وہ کیا ہے نہ آپ آج کل لڑکیوں سے زیادہ اچھا روتے ہیں.... وہ شرارت سے کہتا اوپر بھگا تھا... جب کے عثمان بھی تیزی سے اس کے پیچھے گیا تھا...
اور باقی تینوں انھیں مسکراتا دیکھ کر ہی خوش ہو رہے تھے اور یہ تو اس گھر کی روایت تھی ایک کی خوشی میں سب خوش... اب اگر اس منظر میں کمی تھی تو صرف زینب کی....................................
دیش انسان کہاں تھا تو... محسن نے اس سے پین کھنچ کے مارا تھا...
او... محسن... ہاے... یوسف اس کو دیکھ بولا....
تیرے ہاے کی تو... ایسی تیسی... یہی ابھی تجھ پے پڑے گی... محسن کے ارادے خاصے مشکوک تھے... اس لئے یوسف پیچھے ہوا تھا... دیکھ میں تجھے سب سمجھتا ہوں... یوسف نے پھر سے کوشش کی...
تو سمجھاے گا مجھے.... تو سمجھ.... کہ تیرے لئے میں نے اتنا بڑا رسک لیا... اس نے دوسرا پین مارا تھا....
یار روک تو... میری بات تو سن یوسف نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا محسن نے بورڈ مارک اس کی طرف پھنکا.... منہ بند رکھ اپنا اور تو میری بات سن.... تیرے لئے میں نے ایڈمن بلاک میں گھس کر اسے فون کیا.... اسے آنے کے لئے منایا....
پوری رات تو نے میری بیکار کی پوچھ پوچھ کے وہ آے گی یا نہیں...اور صبح کو تو خود نہیں آیا... ساتھ ہی اس نے اپنی نوٹ بک کیھنچ کے ماری تھی... جبکہ یوسف اس بار بھی اس کے حملے سے بچ گیا تھا... پتا نہیں وہ نشانہ صحیی نہیں لگا رہا تھا یا پھر یوسف ہی اتنا اچھا ڈیفنڈر تھا کہ ہر بار بچ جاتا تھا...
اچھا بابا معاف کر دے غلطی ہو گئی... کچھ مثلا ہی ایسا ہو گیا تھا... یوسف نے کان پکڑتے بولا تھا...
یوسف کے چہرے پے کوئی لہر اکر گزری تھی...
توجانتا ہے کل کتنا ہنگامہ ہوا تھا یہاں.... تیری والی اور رانیہ کل دوبار آمنے سامنے ہوئی... ایک بار وہاں تمہارے حجرے میں اس کا اشارہ سهیڑیوں کی طرف تھا... اور دوسری بار کینٹین میں محسن کافی سیریس تھا...
تو پھر.... یوسف نے غور سے دیکھا تھا...
تو پھر یہ کہ چراغوں میں روشنی نہ رہی.... محسن نے تپ کے جواب دیا تھا...
ارے یار وہ تو تیری اس عجیب صورت پے بڑا بڑا لکھا ہے یہ بتا چراغ کسی کے تھے... یوسف جھنجلایا تھا...
مقابل اگر شانزے حسان ہو تو چراغ کس کے ہو سکتے ہیں...؟؟؟ محسن نے الٹا سوال کیا..
وہ دونوں تالی مار کے ہنسے تھے.................................................
شانزے یونیورسٹی آگئی تھی، اور اب ہر اس جگہ بہانے سے جا رہی تھی جہاں یوسف ہو سکتا تھا پر یوسف آج بھی کہیں نظر نہیں آرہا تھا... اسے شدید غصہ آرہا تھا پر بیکار تھا... صبا جو کافی دیر سے اسے نوٹ کر رہی تھی بول پڑی...
کیا مثلا ہے تمہارے ساتھ...؟؟ ہو سکتا ہے یوسف آج بھی نہ آیا ہو...
شانزے کا منہ حیرت سے کھل گیا تھا اس نے تو ایک لفظ بھی نہیں بولا تھا تو پھر کیسے صبا نے سب جان لیا تھا.
نہیں میں یوسف کو کیوں ڈھونڈوں گی ؟؟ شانزے نے کمزور آواز میں کہا...
دیکھو شانزے میں بچی نہیں ہوں... اور الله کے کرم سے میری آنکھیں بھی کام کرتی ہیں. کل بھی تمہاری نظریں یوسف کو ڈھونڈ رہی تھیں.. اور آج بھی تم ہر جگہ جا چکی ہو جہاں وہ ہو سکتا تھا پر.. اب مجھے بتاؤ ماجرا کیا ہے... صبا نے کرے تیور سے اسے دیکھا تھا.
کچھ نہں لمبی کہانی ہی پھر کبھی شانزے نے بات ٹالی تھی،
کوئی بات نہیں میرے پاس بھی بہت وقت ہے.. صبا نے ڈھٹائی کی انتہا کو چھوا تھا. اور مجبورن شانزے کو اپنی کدناپنگ سے لے بعد تک کی ساری بات اسے بتانی پڑی.... بس یہی قصہ ہے میں اس کا شکریہ ادا کر کے اس قصے کو یہیں ختم کرنا چاہتی ہوں... پریشانی اس کے چہرے پی صاف ظاہر تھی..
صبا کو اپنی معصوم لڑاکا دوست پی بےتحاشا پیار اور ترس آیا تھا... کیوںکہ جس قصے کو ختم کرنے کی وہ بات کر رہی تھی وہ نہ شروع اپنی مرضی سے ہوتا ہے اور نہ ختم.... لیکن فلحال کچھ بول کے وہ شانزے کو پریشان نہیں کر سکتی تھی. اور بہتر یہی تھا کہ وہ خود اپنی کیفیت کو پہچانے.. اچھا تم پریشان مت ہو، یہ بھی تو مکین ہے کہ یوسف آج آیا ہی نہ ہو. صبا نے اسے ڑےلَش کرنے کی کوشش کی..
نہیں وہ یونیورسٹی آیا ہے... شانزے اس کی بات سے انکار کیا تھا.
تمہیں کیسے پتا..؟؟؟ صبا کو تجاسوس ہوا تھا.
وہاں پارکنگ میں اس کی کوئیک کھڑی ہے... شانزے نے پارکنگ کی طرف اشارہ کیا..
شازنے وہاں اور بھی کوئیک کھڑی ہیں تمہیں کیسے پتا وہ اس کی ہے... سب کو حیرت ہوئی تھی..
گاڑی کے نمبر سے.. APA 321 اس کی ہی گاڑی کے نمبر ہے.. شانزے نے نو.بتایا تھا...
سیریسلی..!!! شانزے یو ارے امپوسسبل....صبا کا حیرت سے برا حال تھا.
میں نے ایسا کیا کر دیا..؟؟
تمہیں اس کی گاڑی کا نمبر تک یاد ہے...
ہاں..!! تو اس میں کون سی بڑی بات ہے. اتنی بار اس کی گاڑی پے نظر پڑتی ہے رہ گیا یاد ؟؟ شانزے کچھ الجھی تھی.
تو یہ کہ شانزے حسان، اس یونیورسٹی کے کتنے لوگوں کی گاڑیوں کے نمبر تمہیں یاد ہیں، سب چھوڑو مس کلثوم تو تمہاری فوریٹ ہیں انہی کی گاڑی کا نمبر بتا دو... صبا نے اٹھتے ہوے کہا...
جبکہ شانزے دل ہی دل میں مس کلثوم کی گاڑی کا نمبر یاد کرنے کی کوشش کرنے لگی...........................................
کیا ہوا آج بڑی مصروف ہو، ماہرہ نے اسے مخاطب کرتے ہوے کہا،
بس یار ایک فائل ہے اس پے ہی کام کر رہی ہوں، سنا ہے آج عثمان باس آرہے ہیں تو سوچا ہر چیز پہلے سے کر لوں وہ کب کیا مانگ لیں کچھ پتا نہیں ہے. اریزے نے فائل پے جھکے ہوے ہی جواب دیا.
ہاں..!! یہ تو ہے عمیر کی نسبت عثمان باس کافی مشکل پسند ہے. ہزار کیڑے مکوڑے نکل کر کوئی چیز وک کرتے ہیں...
ماہر نے اس انداز سے کہا اریزے کو ہنسی آگئی..
لگتا ہے ابھی تک نہیں ورنہ ہنسی کی آواز پے بھی غصہ آجاتا... اریزے نے ہستے ہوے کہا.
نہیں آگے ہوں گئے بس تمہاری طلبی نہیں ہوئی ہے ابھی تک. بڑے پنچوئل ہیں نہیں اتے تو نہیں اتے اور جب آتے ہیں تو ٹائم پے... تم بغیر گھڑی دیکھ بھی وقت کا پتا لگا سکتی ہو.. اب وہ دونو ماہرہ کی بات پے ہنس رہی تھیں اور وہ ایسی ہی تھی سب کو ہنسانے والی لیکن قسمت کی خرابی عین اس وقت عثمان اپنے روم سے نکلا...
اریزے کی ہنسی اتنی دلکش تھی کے وہ اس کو روک کے دیکھنے پے مجبور ہو گیا تھا. جب کے ماہرہ وہاں سے کھسک گئی تھی اور اریزے کی ہنسی کو بریک لگیا تھا. لاسٹ ٹائم ہوئی عزت افزائی اسے اچھی طرح یاد تھی. جبکہ عثمان اس کا جائزہ لینے میں مصروف تھا، کچھ تھا اریزے میں جو اسے ہمیشہ متوجہ کرتا تھا.ایسا نہیں تھا کہ اسنے کوئی خوبصورت لڑکی نہیں دیکھی تھی، جس کلاس سے ان کا تعلوق تھا وہاں ایسی شکلیں عام تھی اور جن کی نہیں ہوتی تھیں وہ تراش خراش سے بنوا لیتی تھیں پر پھر اریزے سب سے مختلف تھی.
سر کچھ چاہیے آپ کو اریزے نے بلاخر پوچ ہی لیا تھا..
جی... میرے روم میں آیئں.. عثمان کو اپنی حالت پے شدید غصہ آیا تھا..
چلو اریزے مادام... U & U کارپوریشن اور اس کے مضافات میں تمہاری پیشی کا وقت ہوا چاہتا ہے... اس نے خود کلامی کی تھی. اور دھڑکتے دل کے ساتھ دروازے پے دستک دی..
کم ان... اپنی روب جماعتی بھری آواز میں اجازت دی تھی.
مس اریزے مجھے امید ہے آپ کی ورکنگ کمپلیٹ ہو گی تو پلیز مجھے فائل دے دیں تا کے میں دیکھ سکوں..
اس نے آیات لکرسی کا ورد کرتے ہوے فائل عثمان کو پکڑائی تھی. اور اب وہ بغور اس کا جائز لینے میں مصروف تھا.
اریزے کو لگا جیسے جیسے وہ فائل کو دیکھ رہا ہی اس کا موڈ اوف ہوتا جا رہا تھا. اسے اپنا سانس روکتا ہوا لگا آج پھر اس کی کلاس پاکی تھی.
آپ کا فورمیٹ اچھا ہے، پرآپ کی اور آل ورکنگ میں مسٹیکز ہیں، کہیں پے اسٹاک آوٹ ہوا ہے تو ان نہیں ہو رہا اور جہاں ان ہوتا نظر آرہا ہے وہاں پے آوٹ کا کوئی ذکر نہیں ایسے تو پتا نہیں چلے کا رمیننگ کونٹیٹی کتنی ہے. گریڈز کی نمبرنگ بھی آپ نے منشن نہیں کی تو پتا کیسے چلے گا کے کون سے گریڈ کی بات ہو رہی ہے.
مارے گئے، وہ سر نیچے کے انگلیاں مڑوڑ نے میں مصروف تھی جیسے فائنل ایگزم کے رزلٹ کے وقت فیل ہونے والے بچے کھڑے ہوتے ہیں.
لوٹس نمبرز بھی مسنگ ہیں، آرڈر لیتے ہوے اگر آپ کے پاسس لوٹس نمبر نہیں ہیں تو پھر آپ کو کیسے یاد رہے گا کے کون سی لوٹس سے میٹریل جائے گا.
اب وہ شرمندگی سے ہونٹ بھینچ رہی تھی.
ایئرلی پلاننگ کی بات کریں تو آپ کی شیٹ کی سب سے بڑی مسٹیک یہ ہے کس کسٹمر نے کس سیزن میں کتنا کنزیوم کیا پتا ہی نہیں چل رہا. تو پھر اپ کمینگ سیزن کے لئے فورکاسٹنگ کیسے ہو گی. اور اس کے بغیر یہ قطعی بےکار ہے.
اف الله... اریزے کو اپنی حماقتوں پے چکر سا آیا تھا، اور ساتھ اپنی بےعزتی پے رونا آیا، آفٹر آل یہ اس کی پہلی پروفیشنل بےعزتی تھی.
عثمان نے بھرپور نظر اس پے ڈالی. اور پھر تشویش بھری نظروں سے دیکھتے ہوے فائل اس کی طرف بڑھائی..
امیزنگ... اگر کام میں غلطیاں ہو تو کیا ایسے بدحواس ہو جاتے ہیں ؟؟ عثمان نے گہری سانس لی تھی.
دیکھو اریزے... کوئی بھی ایک دن میں کچھ نہیں سیکھ لیتا، محنت کرنی پڑتی ہے، اپنی غلطیوں سے سیکھنا پڑتا ہے،
غلطیاں کرنا کوئی غلطی نہیں ہوتی بلکے اپنی غلطیوں سے نہ سیکھنا غلطی ہے. اس لئے آپ غلطیاں ضرور کیجئے لیکن ان کی اصلح بھی کریں اور جب کوئی آپ کی غلطیوں کی نشاندہی کرے تو اس کو غور سے سنے. تاکے اگلی دفعہ کسی کو کچھ کہنے کی ضرورت نہ پڑے.
میں اب جاؤں ؟؟ اس نے ابھی تک نظرین جھکائی ہوئی تھی وہ بار بار پلکیں جھاپک رہی تھی جیسے آنسوؤں کو روکنے کی کوشش کر رہی ہو.
جی ضرور... مگر آخری غلطی بھی سنتی جائیں جب کبھی کوئی رپورٹ آپ بنائیں تو اس پے اپنے نام کے ساتھ سگنیچر کا کالم بھی بنایا کریں.
اف.. بےاختیار اس کے منہ سے نکلا تھا جبکہ عادت سے مجبور ہو ہاتھ ماتھے پے مارا تھا. میں خیال کروں گی سر اگلی دفعہ آپ کو کوئی شکایات نہیں ہوگی.
اوکے.. عثمان نے اپنی مسکراہٹ دباتے ہوے کہا تھا. جبکہ اریزے تیزی سے روم سے بھر نکل گئی تھی اسے ڈر تھا کے کہیں پھر کوئی غلطی اس کے آڑے نہ آجاے......................................
شانزے تھک ہار کے اپنی مخصوس جگہ کی طرف چل دی تھی، اتنا تو وہ جانتی تھی کہ یوسف آیا ہے تو پھر کہاں چھپ کے بیٹھا.. وہ اپنے خیالوں میں چل رہی تھی یہ الگ بات ہے کے اس کے خیال اتنے زور دار تھے کے دوسرے لوگ بھی آسانی سن سکتے تھے..
گھر کیا چھوڑا احسان کر دیا مجال ہے ایک بار پالت کے خبر بھی لی ہو... کوئی حد نہیں ہے اس لڑکے کی..کوئی ایسا کرتا ہے کیا.. ایک نمبر کا بدتمیز انسان ہے.. اپنے علاوہ کسی کی کوئی پرواہ نہیں... مجال ہے جو کہیں نظر آیا ہو پتا نہیں کہاں چھپ کے بیٹھ گیا ہے، صبح سے ڈھونڈھ رہی ہوں... وہ اپنے آپ سے باتوں میں مصروف تھی تبھی فرش پے گرا پانی نہیں دیکھ پائی اس لئے سلپ ہوئی لیکن اس سے پہلے گرتی اس نے خود کو کسی کے مضبوط حصار میں پایا تھا...
ایک منٹ کو وہ پلکیں جھپکنا بھول گئی تھی، ووہی تھا دشمن جان جسے صبح سے ڈھونڈ رہی تھی.. دونوں کی نظریں کچھ پل کے لئے ایک دوسرے پے جم گئی تھی. شانزے کو جلدی اپنی غلطی کا احساس ہوا وہ خود کو اس کی بازوں کے احصار سے نکالے کی کوشش کرنے لگی جبکہ یوسف اسے اپنی پرسنل پراپرٹی سمجھتے ہووے چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھا.
۔

بد_تمیز_عشق
تحریر_ردابہ_نورین ✍


جس لڑکی سے مجھے پیار ہو گا وہ دنیا کی حسین لڑکی ہو گی اس کی اپنی آواز کانوں میں گنجی تھی. جب وہ میری طرف دیکھ گی تو تو ہوا میں خوشبو پیھل جائے گی... اسے لگا ہر طرف خوشبو بھکر رہی ہے شانزے کی سانسوں کی خوشبو وہ ہوا میں محسوس کر سکتا تھا. یوسف نے اس کے چہرے پے آتی لاٹوں کو کان کے پیچھے کیا تھا اسے ان لاٹوں کی مداخلت بہت زہر لگی تھی. اس نے بغور شانزے کے چہرے کو دیکھا تھا، کھلا کھلا چہرہ، غصے اور معصومیت کے ملے جلے احساس لئے اسے بہت پیارا لگا تھا. ایک عجیب دلکشی تھی اس چہرے پے بلا شبہ وہ خوبصورت لوگوں میں شامل ہوتی تھی. لیکن ایسا بھی نہ تھا کہ وہ آخری حسین لڑکی ہو لیکن کچھ تھا اس میں جو اسے خاص بناتا تھا... ہاں..!!! اس کی کالی سیاہ مقناطیسی آنکھیں جو دیکھنے والوں کو سحرزادہ کرتیں تھیں. یہی اسے دوسروں سے منفرید کرتی ہیں اتنی کالی آنکھیں تو اس نے کبھی نہیں دیکھیں تھیں. وہ جب بھی انھیں دیکھتا تھا ایک عجیب احساس اس جگڑ لیتا تھا. جیسے یوسف کی نظریں تھیں کے جم کے رہ گیں تھیں، جبکہ شانزے کی نظریں جھک گیں تھیں. یوسف کو جلدی اپنی حالت کا اساس ہوا تھا. اپنے جذبات پے قابو پاتے ہوے مصنوعی غصے سے شانزے سے بولا.
تمہارے دماغ کے سکریو ڈھیلے ہیں یہ تو مجھے پتا ہے لیکن یہ ہیڈ لائٹ جیسی آنکھیں کیا ان کے سارے سکریو بھی تمہارے دماغ کی طرح ڈھیلے ہیں ؟ ہر بار بچانے نہیں آؤں گا سمجھیں. اس نے اپنا کالرجھاڑا تھا.
ایکسٹیوز می...!!! میں نے تمہیں انویٹیشن نہیں بھیجا تھا کے مسٹر یوسف میر میں مثبت میں پڑنے والی ہوں او اور اکر مجھے بچاؤ، تم خود آے تھے... وہ کہ کر لائبریری کی طرف بڑھ گئی تھی. شانزے کو کتنی دیر یقین نہیں آیا تھا اپنی آنکھوں پر لیکن یوسف کی باتوں نے تو جیسے آگ ہی لگا دی تھی اس لئے شانزے نے ساری مروت سائیڈ میں رکھتے ہوے کہا تھا. حالانکہ کتنی دن سے وہ سب جملے رٹ رہی تھی جو اس نے یوسف کو کہنے تھے پر اس کو دیکھتے ہی جیسے وہ سب بھول بھال گئی تھی گجنی کے عامر خان کی طرح اس لئے چپ چاپ کھسکنے میں ہی آفیت جانی...
یوسف کے ہونٹوں پی ہنسی پہلی تھی اس سے پہلے کے وہ لائبریری میں داخل ہوتی وہ اس کے سامنے آکھڑا ہوا تھا.
کیا مثلا ہے اب...؟؟؟ شانزے اکتائی تھی.. دراصل وہ نہیں چاہتی تھی کے یوسف اس کے دل کا راز پا لے.
لسن... کیا ہم بغیر لڑے، سکون سے دو منٹ بات کر سکتے ہیں..؟؟؟ یوسف کی آنکھوں میں محبتوں کے رنگ پہلے تھے.
اور شانزے کے لئے ان سے بچنا مشکل ہو رہا تھا، وہ جتنا گریز کر رہی تھی اتنا ان کی نظریں تک ر رہی تھیں.
کر سکتے ہیں اگر تم اپنا یہ دی گریٹ والا ایٹیٹیوٹ سائیڈ میں رکھ دو تو...
اوکے تو رکھ دیا... یوسف نے مثنوی انداز میں بولا.
اس کے انداز پے ہنسی آئ، اب بولو بھی... شانزے مزید ان میں دیکھ نہ سکی اس لئے نظریں چرا گئی تھی جبکہ یوسف کو اس کا نظریں چرانا بڑا دلکش لگا تھا. وہ کیا کہنا چاہتا تھا شانزے کی مسکراہٹ دیکھ کر سب بھول گیا تھا.
بولو بھی کیا ہوا، شانزے نے اس کے سامنے ہاتھ لہرایا تھا..
ہاں..!! وہ...!! کیسی ہو تم..؟؟ کہاں تھیں اتنے دن سے ؟؟ یوسف کو بات کرنے کے لئے اس سے اچھا جملہ نہیں ملا تھا.
واہ کیا انداز ہے جناب کا... بڑی جلدی خیال آگیا، شانزے نے دل میں سوچا. میں ٹھیک ہوں اور ویسے آپ کی معلومات میں اضافہ کر دوں کہ میں کل بھی آئ تھی پر آپ غائب تھے... آخر کے لفظ کافی چبا کر ادا کیے گئے تھے..
اوہ - تو تم مجھے مس کر رہی تھیں... یوسف نے جان بوجھ کر مس کا ورڈ یوز کیا تھا.. جب کے خود دیوار سے ٹیک لگے اطمینان سے اس پاس کے نظارے کر رہا تھا.
یو نو وہاٹ... انسان بلی پال لے پر خوشفہمی نہ پالے... وہ لائبریری کی طرف بڑھی تھی.
اچھا تو پھر صبح سے ڈھونڈنے کی کوئی خاص وجہ، ابھی کچھ دیرپہلے شاید کچھ ایسی آواز آرہی تھی یہیں کہیں سے... وہ بھی ڈھیٹ ابن ڈھیٹ تھا اتنی آسانی سے ہار کیسے مان لیتا...
شانزے کو بریک لگا تھا، اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ یوسف سب سن چکا ہے. تو کیا وہ اس کا انتیظار کر رہا تھا اور یہ انکشاف شانزے کے اوسان خطا کرنے کے لئے کافی تھا... وہ اصل میں... میں... شانزے کے لفظ اس کا ساتھ نہیں دے پا رہے تھے..
کیا ؟؟؟ یوسف نے اس کی کالی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا تھا. شانزے کی ایسی حالات دیکھ کر اسے کافی مزہ آرہا تھا. کیونکہ اب سے کچھ دیر پہلے والی شانزے کہیں غائب ہو گئی تھی. اس کا سارا اعتماد ہوا ہوگیا تھا. اس کے چہرے پے اطراف لکھا تھا...
وہ اصل میں... میں اس دن کے لئے تمہیں تھنکس بولنا چاہ رہی تھی. شانزے نے بلاآخر اپنی بات مکمل کی تھی.
اوہ.... تو اب بول دو... یوسف نے بظاھر لاپرواہی سے کہا تھا. لیکن شانزے کی ہارٹ بیٹ مس ہوئی تھی. کچھ پل کے لئے تو لگا کے یوسف اس کے دل کا راز پا گیا ہے..
کیا...؟؟؟ بہت ہمت کر کے شانزے نے جھجکتے ہوے کہا تھا.
وہ جو شانزے حسان کہنا چاہتی ہے پر کہ نہیں پا رہی... یوسف وہاں روکا نہیں تھا وہ جو جانا چاہتا تھا جان چکا تھا وہ جو کہنا چاہتا تھا بنا کچھ کہے بھی کہہ گیا تھا، اور شانزے اسےتب تک دیکھتی رہی تھی جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہں ہو گیا تھا،تو بلاآخرآگہی کا لمحہ اکر گزر گیا تھا.. خاموشی سے... اور نئی داستان کی بنیاد رکھ دی گئی تھی. دو دلوں کی داستان... محبت کی داستان.. .............................................
کیا ہوا اسلم کس بات کے لئے پریشان ہے. کیوں ادھر سے ادھر غصہ کرتا پھر رہا ہے. اماں نے اسلم کو ٹوکا تھا جو چیزیں یہاں سے وہاں پٹخ رہا تھا. اماں تو چپ کر جا تو نہیں سمجھے گی کیا مثلا ہے، ماں ہو تیری ایسے نہیں تجھے اتنا بڑا کیا. اماں نے لاڈ سے اس کے سر پے ہاتھ پھیرا تھا، وہ صاحب ہے جو زینب کا پتا کرنے آتا ہے اس نے کل آنا تھا پر نہ تو وہ آیا اور نہ اس کا کوئی فون آیا اتنے مہینوں میں کبھی ایسا نہیں ہوا تھا، کہیں ایسا تو نہیں اس کو سب پتا چل گیا ہو میرے سونے کا انڈا دینے والی مرغی میرے ہاتھ سے نکل گئی ہو. اسلم نے پریشانی کے علم میں اماں کو بولا تھا. جبکہ اماں حقہ بقہ سی رہ گیں تھیں. ان کا بیٹا لالچ کے دلدل میں پھسا تھا یہ تو وہ جانتی تھیں پر اس حد تک یہ تو انہوں نے کبھی غور ہی نہیں کیا تھا. دیکھ اسلم بیٹا اتنا لالچ اچھا نہیں ہے. تو بتا کیوں نہیں دیتا سب کچھ اس کو مجھے تو بڑا بھلا آدمی لگتا ہے. برا ترس آتا ہے بیچارے پر کیا بیتے گی اس پے جب اسے پتہ چا لے گا.
اوہو اماں اب تو اپنا سبق نہ شروع کر دینا. ہزار دفع کہا یہ تیرے سبق آج کل نہیں چلتے. آج کل صرف پیسہ چلتا ہے پیسہ اسلم ماں کی بات سے متفق نہیں تھا. میں جانتی ہوں سبق پرانا ہے پر بیٹا ہرزمانے کے لئے دیا گیا سبق ہے یہ، نئی بنیادیں وہی لوگ رکھتے ہیں جو اس راز سے واقف ہوں کے ماضی میں بیٹھ جانے والی بنیادوں کی کیا وجہ تھی. دیکھا بیٹا الله کی لاٹھی بےآواز ہے کسی کا صابر نہیں آزماتے میرے بچے، صبر کرنے والا صبر کر کے اگربھول بھی جائے لیکن الله کسی کا صابر رائیگاں نہیں جانے دیتا وہ سب یاد رکھتا ہے. دکھی دل سے نکلی آہ تو سیدھا عرش پے پہنچتی ہے. اماں یہ دیکھ میں تیرے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں اس نے سچ میں ہاتھ ہی جوڑے تھے. اس کا صبر پڑے نہ پڑے پر تیری چیکچک ضرور پڑ گئی ہے، تبھی صاحب نہیں آیا. اور یاد رکھنا اماں اگر وہ نہ آیا نہ تو ہم سب بھوکے مریں گئے. اس نے تقریبن ماں کو دھکہ دیا خود باہر نکل گیا تھا. اماں اور آمنہ دونوں ہی ایک دوسرے کا منہ دیکھتی رہ گیں تھیں. میں ڈرتی ہوں آمنہ کہیں اس کا لالچ ہمارے آگے ہی نہ آجاے. تو سمجھا اسے بیٹا. انہوں نے پاسس بیٹھی بہو کو بارے مان سے کہا تھا جو ان کی ہی طرح پریشان تھی جانتی ہوں اماں پر وہ آپ کی نہیں سنتے تو میری کہاں سنیں گئے. لیکن پھر بھی میں بات کرنے کی کوشش کروں گی.. اس نپسس بیٹھے اپنے بیٹے کے منہ میں آخری نوالہ ڈالا تھا. .................................................
عثمان ناشتے کے لئے آیا تو حسین بھی وہاں موجود تھے. شاہینہ اور حسین شاید کسی اہم موزو پے بات کر رہے تھے تبھی دونوں کافی سیریس نظر آرہے تھے کیوں یہ بات وہ اب بہت اچھی طرح جانتا تھا.
خیریت ہے پاپا آپ گئے نہیں ابھی تک ؟؟ عثمان نے چیرکھنچ کر بیٹھا تھا.
ہاں.. بس نکل رہا تھا. وہ آج مجھے اسلم سے ملنے جانا ہے. کافی دن سے جا نہیں پایا.
اسلم ؟؟ کون اسلم پاپا ؟؟ عثمان نے چاے کا کپ منہ سے لگایا تھا.
بیٹا وہی تو ہے جو مجھے زینی کے بارے میں تھوڑی بہت انفورمیشن دے پایا ہے. انہوں نے اس کی بات کی وضاحت کی تھی صاف ظاہر تھا وہ نہیں چاہتے پھر کوئی غلط فہمی ہو. حسین کی آواز میں اتنی بیچارگی تھی کہ عثمان چاہ کر بھی نظر انداز نہیں کر پایا. اسے پاپا سے شرمندگی ہوئی تھی.یہی وجہ تھی کہ وہ مزید کچھ کہ نہیں پا رہا تھا.
پاپا مجھے آپ سے کچھ بات کرنی تھی. حسین آفس کے لئے نکل رہے تھے کہ عثمان نے آواز دی.
آجاؤ- ساتھ میں چلتے ہیں بات بھی ہوجاے گی. حسین دروازہ سے باہر نکل گئے تھے. عثمان پیچھے چل پڑا تھا. اسے پہلے کے ڈرائیور اپنی سیٹ سمبھلتا عثمان ڈرائیونگ سیٹ پے براجمان تھا. رحمان آپ میری گاڑی لے کے آفس آجائیں، آج کے لئے میں ہی پاپا کا ڈرائیور ہوں اس نے پاپا کو مسکرا کر دیکھا تھا کیوں پاپا ٹھیک ہے نا.
وہ دونوں اب شہر کی مصروف ترین شاہراہ پے موجود تھے، تمہیں کچھ بات کرنی تھی حسین اپنے بیٹے کی مشکل آسان کرتے ہوے بولے. پاپا میں آپ سے زینب آئ مین زینب پھوپھو کے بارے میں بات کرنا چاہ رہا تھا. عثمان نے جھجکتے ہوے کہا تھا. وہ ایک ایک لفظ سمبھال سمبھال کے ادا کر رہا تھا، پہلے ہی وہ کافی تکلیف دے چکا تھا اب مزید کوئی دکھ پہنچے یہ اس کو گوارہ ہی کب تھا.
ہاں بیٹا ضرور بولو کیا بولنا چاہتے ہو. حسین نے اسے حوصلہ دیا تھا.
پاپا میں چاہتا ہوں کے میں بھی آپ کے ساتھ اسلم سے ملنے چلوں، اگر آپ کو اعتراض نا ہو پاپا میں چاہتا ہوں کہ ہم مل کے پھوپھو کو ڈھونڈے پلیز پاپا..
حسین کے لب ہی نہیں بلکے آنکھیں بھی مسکرائیں تھیں ایک سکون تھا جو ان کے چہرے پے پہل گیا تھا. اور وہی سکون عثمان نے اپنے اندر بھی محسوس کیا تھا اسے اپنے سوال کا جواب مل گیا تھا.............................................
کہاں تھے تم ؟؟ کل بھی غائب رہے اور آج بھی جب سے آے ہو غائب ہو. رانیہ نے یوسف کو کڑے تہواروں سے دیکھا تھا..
کہاں ہونا تھا... بس یہاں ہی ہوں.. کچھ کام تھا اس لئے کل نہیں آسکا... اور ابھی بس لائبریری تک ہی گیا تھا، لیکن تم تو ایسے پوچھ تاج کر رہی ہو جیسے پولیس میں ہو گئی ہو اور میں کوئی فرار مجرم. یوسف نے تپے ہوے انداز میں جواب دیا تھا.
رانیہ کو ہنسی آگئی تھی نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا.. اصل میں کافی دیر سے تمہیں ڈھونڈھ رہی تھی لیکن تم مل نہیں رہے تھے.ہاں کیوں کہ میں نے سلیمانی ٹوپی پہن لی تھی... یوسف کا انداز ابھی بھی کافی ٹپ ہوا تھا.
اچھا موڈ ٹھیک کرو- تمہیں کچھ بتانا ہے، سنا ہے اسٹوڈنٹ ویک سٹارٹ ہو رہا ہے اس کے بعد فائنل پیپرز ہیں اس کے بات گرینڈ پارٹی اور پھر ہم یونیورسٹی سے آزاد رانیہ نے گول گھومتے ہوے دونوں بازو ایسے پہلاے تھے جیسے کھلے آسمان پے کوئی پرندہ اپنے پر پہلا رہا ہو.
ارے واہ سٹوڈنٹ ویک - پارٹیسپٹ کرنے کی لاسٹ ڈیٹ کیا ہے. اس کی اتنی لمبی لسٹ میں یوسف کو صرف ایک یہی بات قابیلے غور لگی تھی.جس سے اس کا موڈ بھی بحال ہو گیا تھا.
وہ تو میں نہیں جانتی پر سنا ہی ایک دو دن میں آناوسمینٹ کر دی جائے گی آڈیٹوریم میں.
خبر لائیں وہ بھی آدھی ادھوری.. یوسف نے کمینٹ پاسس کیا تھا..
یوسف میں تمہاری دوست ہوں جاسوس نہیں ہوں... اب کی بار رانیہ کو برا لگا تھا.
اچھا چلو خیر ہو گئی... دیکتے ہیں پھر کون کون ہیں کمپیٹیشن میں یوسف نے کچھ سوچتے ہوے کہا تھا..
کوئی بھی ہو مجھے یقین ہے جیتو گئے صرف تم... رانیہ کے لہجے میں بے پناه محبت تھی اس کی لو دیتی آنکھیں کسی کو بھی چونکا دیتی پر یوسف تو جیسے اندھا ہو گیا تھا اسے یہ سب نظر کہاں آتا تھا، یا پھر وہ جن کیے بھی انجان تھا اور اب شانزے کے ہوتے ہوے تو سوال ہی نہیں ہوتا کیے وہ کسی اور کی طرف توجہ دے پھر چاہے وہ رانیہ ہی کیوں نہ ہو. پر رانیہ کو اس سب کی خبر ہی کہاں تھیں. وہ دونوں ہی خیالوں میں گم تھے وہ الگ بات ہے کے یوسف شانزے کے اور رانیہ ، یوسف کے خیالوں میں گم تھی.
۔

بد_تمیز_عشق
تحریر_ردابہ_نورین ✍


عثمان اور حسین دونوں اسلم کے دروازے پے کھڑے تھے، عثمان پے حیرتوں کا پھاڑ ٹوٹ تھا کے اس کی پھوپھو یہاں ایسے کسی علاقے میں ہو سکتی ہیں. لیکن فلحال خاموشی کے علاوه کوئی چارہ نا تھا.
بار بار دروازہ بجانے پر اسلم نے دروازہ کھولا تھا اور وہ عثمان کو دیکھ کر گھبرا گیا تھا کیوں کے آج سے پہلے حسین ہمیشہ اکیلے آتے تھے.
صاحب یہ اپنے ساتھ کس کو لاے ہو. اسلم نے ڈرتے ہوے پوچھا تھا.
گھبراؤ نہیں یہ میرا بیٹا ہے. حسین اس کی گھبراہٹ بھانپ گئے تھے.
کیا صاحب آپ نے اتنے دن لگا دیے آنے میں اسلم نے بات شروع کی تھی.
ہاں وہ کچھ مسلے تھے. تو ان کی واضح سے مصروف رہا. تم بتاؤ کوئی خبر ہے، زینب ملی تمہیں ؟؟ حسین کی آواز میں بیچنی تھی.
خبر تو ہے میرے پاس... پر آپ تو جانتے ہو نہ جب تک پیٹ میں کچھ نہ جائے تو.... خبر نکلتی نہیں ہے مجھ سے... اسلم نے کمینگی سے کہا تھا..
دیکھو اسلم... میں تمہیں پہلے ہی اتنے پیسے دے چکا ہوں لیکن آج تک تم مجھے ایک بھی ڈھنگ کا ثبوت نہں دے سکے سواے اس کی چند پرانی چیزوں کے آخر کب تک میں تمہیں ایسے ہی پیسے دیتا جاؤں... اگر تم جانتے ہو تو آخر بتاتے کیوں نہیں کہ وہ کہاں ہے.
صاحب میرا کام کرنے کا یہی سٹائل ہے بنا پیسوں کے مجھ سے کام نہیں ہوتا..
آپ امیروں کا بھی عجیب ہے پہلے تو اپنی عورتیں سمبھلتی نہیں ہیں پھر انھیں یوں گلیوں بازاروں میں ڈھونڈتے پھرتے ہو... اور صاحب آپ کو تو معلوم ہونا چاہیے نہ کے گھر سے بھاگی اورات کو ڈھوڈنا اتنا آسان نہیں ہوتا وہ تو راہ چلتے پھول کی طرح ہوتی ہے جس کو آتا جاتا ہر شخص سونگھتا ہے... اسلم نے اپنی ساری حدیں پار کر دیں تھی.
جانے خون کا اثر تھا یا کیا ، عثمان جس نے ایک بار بھی پاپا اور اسلم کے درمیان مداخلت نہیں کی تھی اس کے ایسے الفاظ برداشت نہیں کر سکا اس نے بڑھ کر اسلم کا گریبان پکڑا تھا، منہ سمبھال کے بات کرو ورنہ تمہارا منہ توڑ گا سمجھے..
میں نے کچھ غلط نہیں کہا صاحب.. آپ خود ڈھونڈھ رہے ہو اسے...
بات بگڑتی اس سے پہلے ہی حسین نے عثمان کا ہاتھ پکڑا تھا وہ اب دونوں کو الگ کر رہے تھے. بھاگی نہیں تھی میری بہن... بھاگی نہیں تھی وہ... حسین کی آواز اتنی سخت تھی کے عثمان کے ساتھ اسلم ہی حیران رہ گیا تھا اس نے آج تک حسین کو التجہ کرتا ہی دیکھا تھا.
ٹھیک ہے صاحب بھاگی ن

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rania's writes posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Rania's writes:

Shortcuts

Share