10/06/2026
(season 02)
امثال جو اس کے رویے سے پریشان ہو گئی تھی آفس میں آ کر اسے فون کرنے لگی کہ دوسری طرف سے کاٹ دیا گیا ۔دوبارہ ملایا تو نمبر بند تھا ۔
"پتہ نہیں اسے کیا ہوا ۔ اچھا بھلا بیٹھا تھا۔" موبائل ٹیبل پر رکھ کر وہ فائلیں اٹھا کر دیکھنے لگی۔ تقریبا دو گھنٹے بعد عادل اسے لینے آیا ۔ اس کے آنے تک وہ کام نمٹا چکی تھی ۔باہر نکل کر اس نے شاپنگ کا شور مچا دیا اور عادل کو مانتے ہی بنی ۔اسے لیے وہ ایک شاپنگ مال میں آیا ۔اپنے اور عادل کے لیے شاپنگ کرنے کے بعد امثال اسے لیے ایک بے بی گارمنٹس شاپ میں آئی
"یہاں سے کیا لینا ہے ۔"عادل نے حیرت سے پوچھا
"اپنے بھتیجوں کے لیے شاپنگ کرنی ہے ۔"
"کدھر ہیں ؟"عادل کی حیرانگی شدید ہوئی
"کون ؟"اس کے آگے چلتی امثال نے پلٹ کر دیکھا
"تمہارے بھتیجے؟"
"اوہو بھئی ۔ ابھی نہیں آئے مگر مجھے ان کی شاپنگ کرنی ہے۔ شہری بھائی اورعدی کے علاوہ اب تو اللہ پاک نے امان بھائی کو یہ خوشی دی ہے تو گھر میں تین تین بے بی آ رہے ہیں ۔میں تو ان کی ڈھیروں چیزیں لوں گی ۔" وہ زبان کے ساتھ ساتھ ہاتھوں کو بھی حرکت دیتے ہوئے سامنے لٹکے کپڑوں میں سے کپڑے نکال نکال کر کہ اسے پکڑا رہی تھی
"میرے ہاتھ آلریڈی فل ہیں اب ان کو کیسے پکڑوں ؟" اس کو خود پر کپڑے لادتے دیکھ کر عادل نے دہائی دی اور ہمیشہ کی طرح امثال نظرانداز کر گئی ۔بل پے کر کہ باہر نکلے تو عادل کے ہاتھ میں کافی تعداد میں شاپر جمع ہو چکے تھے
"یہ دن بھی آنا تھا علاقے کا ایس پی شاپنگ بیگ پکڑے بیوی کے قدموں پر قدم رکھے چلا آرہا ہے ۔"وہ بڑبڑاتا اس کے پیچھے آ رہا تھا کہ یک دم امثال کے قدموں کو بریک لگی ۔پیچھے آتا عادل اس سے ٹکراتے ٹکراتے بچا
"کیا ہوا؟ پھر کچھ یاد آ گیا؟"
"میرا موبائل اندر رہ گیا۔ تم رکو میں لے کر آتی ہوں ۔"وہ جلدی سے اندر بھاگی ۔وہ موبائل اٹھائے واپس آئی تو وہ دو تین لڑکیوں کے ساتھ کھڑا باتیں کر رہا تھا ۔وہ جو ان کے جواب میں بس ہوں ہاں کیے جا رہا تھا اس کو آتا دیکھ کر اس نے مسکرا مسکرا کر ان کا حال چال پوچھنا شروع کر دیا ۔امثال کے تیور ایک دم سے بگڑے
"کیا ہو رہا ہے ؟کون ہو تم لوگ ؟"
"ہم سر سے ہیلو ہائے کر رہے تھے۔ پچھلے دنوں انہیں ٹی وی پر دیکھا تھا ۔ ہم تو ان کی فینز ہی ہو گئی تھیں ۔ "ان میں سے ایک نے نزاکت سے کہا
"ہو گئی؟ چلو نکلو یہاں سے ۔"امثال نے سنجیدگی سے کہا
"ارے ابھی کہاں۔ ابھی تو ہم نے سر کے ساتھ سیلفیز بنوانی ہیں ۔" دوسری نے کیمرہ کھولتے ہوئے کہا
"محترمہ یہ اتنے بھی مشہور نہیں جو آپ کو سیلفی کا بخار ہو رہا ہے ۔چلیں شاباش جائیں کسی اور کے ساتھ سیلفیز لیجیے گا ۔" اس نے شعلے اگلتی آنکھوں سے عادل کو گھورا جو اس کی نظر میں مسکراہٹ سجائے خوش اخلاقی کے تمام ریکارڈ توڑ رہا تھا درحقیقت وہ اس جیلسی پر مسکرا رہا تھا
"آپ ہماری بھی ان سے دوستی کروا دیجیے نہ ۔ یقین کریں صرف ٹی وی پر دیکھ کر ہی ہم تینوں کا یہ زبردست قسم کا کرش بن چکے ہیں ۔"پہلی نے اسے شائد عادل کا دوست سمجھ کر اپنا سیکرٹ شئیر کیا تھا ۔مارے غصے کے امثال کا چہرہ سرخ ہوا ۔ عادل نے بہت مشکل سے اپنا قہقہ روکا کہ گرم لوہے پر چوٹ لگا کر اپنی شامت نہیں لا سکتا تھا اس کوئی بھروسہ نہیں تھا کہ وہ وہیں شروع ہو جاتی
"لو ! عادی تمہارے لیے ایک دم سے اکھٹی تین کا بندوبست ہو گیا ہے ۔"اس نے اپنا غصہ دباتے ہوئے طنز کیا
"آپ کا تعارف ؟"سیلفی والی کو شائد کچھ گڑبڑ کا احساس ہو ا۔ اس لیے جلدی سے پوچھا
"تم لوگوں کی مشترکہ سوکن ۔" اس نے عادل کا بازو پکڑتے ہوئے جتایا تو وہ تینوں شرمندہ ہوئیں
"سوری میم ۔وہ ہم بس ایسے ہی ۔"تیسری جو خاموش کھڑی جلدی سے بولی
"خداحافظ۔" وہ اس کا بازو پکڑتے ہوئے مال سے لیے نکل گئی
"توبہ ہے آج کل کی لڑکیاں کتنی ایڈوانس ہوگئی ہیں ۔شرم و حیا تو رہی نہیں ۔کیسے ایک بندے کی بیوی کو کہہ رہی ہیں ہماری دوستی کروا دو یہ ہمارا کرش ہے ۔" ان کی نقل اتارتے گاڑی میں بیٹھی اور سارا غصہ دروازے پر نکالا
"یہ منہ ہی منہ میں کیوں ہنس رہے ہو ۔کھل کر ہنس لو بہت مزہ آیا ہے نہ تمہیں ۔"پارکنگ میں لوگوں کی موجودگی کا خیال کر کہ اس نے صرف گھورنے پر اکتفا کیا ۔بہت کنٹرول کے باوجود بھی اس کی ہنسی چھوٹ گئی
"مجھے نہیں پتہ تھا میری بیوی مجھ سے اتنا پیار کرتی ہے کہ لڑکیوں کا صرف بات کرنا برداشت نہیں کر سکی۔"
"وہ بات نہیں کر رہی تھیں ۔سیدھا سیدھا لائن مار رہی تھیں تم پر ۔"اس نے دانت پیسے
" میں ان میں سے ہی کسی کے ساتھ شادی کر لیتا تو یہ تو مجھ دیکھ دیکھ کر ہی جیتی ۔میری ہر بات مانتیں ۔ تم تو کچھ سمجھتی ہی نہیں ہو ۔"اس نے مصنوعی آہ بھری
"چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات۔ ہنہ۔" اس نے سر جھٹکا ۔ اس کا بگڑا موڈ دیکھ کر اس نے خاموشی میں ہی عافیت جانی ۔ڈرائیونگ کرتے ہوئے وہ گاہے بگائے اس کے اس پر بھی نظر ڈال لیتا جو تھوڑی تھوڑی دیر بعد بڑبڑا رہی تھی
"ویسے ان میں سے زیادہ خوبصورت کون تھی ۔" غصے سے ماتھے پر پڑے بل اور سختی سے بھینچے ہوئے اس کے ہونٹ دیکھ کر عادل کی زبان میں پھر سے کھجلی ہوئی
"چپ چاپ گاڑی چلاؤ ایسا نہ ہو کہ میں بھول جاؤں کہ ہم پبلک پلیس پر ہیں۔" اس نے خونخوار انداز میں گھورتے ہوئے کہا
"اوکے میں چپ ہوں کچھ نہیں بول رہا ۔"اس نے ایک ہاتھ سے سٹیرنگ سنبھالتے ہوئے دوسرے سے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھی
"تمہاری لیے بہتر بھی یہی ہے ۔"کہتی ہوئی وہ کھڑکی کی جانب رخ موڑ گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امثال عائشہ کو لے کر عدید کے گھر آئی تھی ۔اس کی شکائیت کے بعد وہ روز کا ایک آدھ چکر لگا لیتی ۔ عائشہ صبح سے ہی ڈل محسوس کر رہی تھی اس لیے امثال آتے ہوئے اسے بھی ساتھ لے آئی ۔ سانیہ اور شامین بھی ان کے پیچھے آ گئی ۔امثال اپنی کل کی شاپنگ انہیں دکھا رہی تھی
"یہ کیا کرنی تھی ؟"سانیہ نے چھوٹی سی ہیل اٹھا کر دیکھتے ہوئے کہا
"یہ میری بھیتجی پہنے گی۔"
"تمہاری بھتیجی پیدا ہوتے ہی ہیل پہن کر واک کرے گی ۔" شامین ہنستے ہوئے بولی
"ایسا ہوتا تو نہیں ہے مگر چونکہ ژلے کی بھتیجی ہو گئی تو کچھ بھی امید کر سکتے ہیں ۔"سانیہ نے چوڑیوں کا ڈبہ اٹھاتے ہوئے کہا
"او اگر بیٹا ہوا تو پھر اس کا کیا کرو گی۔" عائشہ نے کہا
"اس بار نہ سہی کبھی نہ کبھی ہو گئی نہ تب پہن لے گی ۔"اس نے اٹھا کر پیک کر کے ڈبے میں رکھی
"تم سب کی بیویاں میرے پاس عدی کے گھر ہیں ۔جس جس کو چایئے آ کر لے جائے ۔" امثال نے ٹائپ کر کہ سب کو سینڈ کر دیا
"لو بھئی میں نے تم سب کے شوہروں کو میسج کر دیا ہے کہ اپنی بیویاں آ کر لے جاؤ۔" اس نے موبائل رکھتے ہوئے کہا ۔کچھ ہی دیر وہ سب وہیں لاونج میں جمع ہو گئے تھے ۔سب سے آخر میں شہریار اندر آیا
"تم لوگ آج یہاں ڈیرہ لگائے بیٹھے ہو۔ "
"یہ لیں بھابھی آپ کے شوہر آپ کو ڈھونڈتے ہوئے آ گئے ۔انہیں تو میں نے میسج بھی نہیں کیا تھا ۔"امثال نے عائشہ کو چھیڑا
"ہاں بھئی میں نے سوچا کہ کہیں میری بیوی کو کڈنیپ کر کہ ہی نہ لے جاؤ ۔تمہارا پتہ ہی کہاں چلتا ہے کب کیا کر جاؤ۔"شہریار مسکرایا
"اب آپ کی بیوی اتنی بھی کوئی حور پری نہیں۔ جس کو میں کڈنیپ کر لوں گی۔"
"میری نظر سے دیکھو تمہیں حور پری سے بھی بڑھ کر نظر آئے گی۔" شہریار نے صوفے پر ٹیک لگاتے ہوئے کہا
"بھائی آپ سر عام اپنی بیوی کی تعریف کر رہے ہیں ۔"امثال نے آنکھیں پھاڑیں
"ہاں تو اپنی بیوی کی ہی کر رہا ہوں اور بیوی کی تعریف کرنا کوئی گناہ تو نہیں ۔"اس نے لاپرواہی سے کہا
"اللہ اللہ میرا بھائی کتنا شریف ہوا کرتا تھا ۔آپو آپ نے انہیں کیا بنا دیا ۔"امثال عائشہ کی طرف گھومی
"مم۔۔۔ میں نے کیا کیا ہے ۔"وہ جو پہلے ہی ان کی باتوں سے خجل ہو رہی تھی اس کے حملے پر بوکھلا کر رہ گئی
"بس کر دو ژلے شہری بھائی نے صرف تعریف ہی کی ہے ۔عادل لالہ کی طرح نہیں جو ہر وقت تمہارے پیچھے پیچھے ہوتے ہیں ۔ "سانیہ نے عائشہ کو گھرا پا کر کہا
"تم زن مریدی بھی کہہ سکتی ہو۔ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ زن مریدی کرتا ہے اور ڈنکے کی چوٹ پر کرتا ہے ۔"دریاب نے عادل کی طرف دیکھ کر آنکھ دباتے ہوئے کہا
"زن مریدی میں تو آپ بھی کسی سے کم نہیں ، فرق صرف اتنا ہے کہ عادی سب کے سامنے بھی میرے نخرے اٹھاتا ہے جب کہ آپ اکیلے میں زن مریدی کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں ۔"امثال نے دوبدو جواب دیا اور سانیہ نے اس لمحے کو کوسا جب اس نے عائشہ کی سائیڈ لی تھی
"تم ۔ تمہیں شرم نہیں آتی کسی کی پرسنل میں گھستے ہوئے ۔"سانیہ اس پر چڑھ دوڑی
"اوہ بی بی لاونج کسی کی پرسنل میں نہیں آتا ۔ اس رات میں پانی لینے نیچے آئی تھی تو دریاب بھائی نوالے بنا بنا کر کھلا رہے تھے ۔ "
"ہاں تو کھانا ہی کھلا رہے تھے نہ ،سینڈل تو نہیں پہنا رہے تھے نہ اور نہ میرے بال بناتے ہیں۔اور نہ ہی کچن میں میرے لیے روٹیاں بناتے ہیں۔" ۔سانیہ نے تنک کر کہا تو جہاں وہ کھسیائی۔ وہیں عادل بھی سر پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا
"کیا مطلب؟ "صدام نے پوچھا
"باقی سب تو ٹھیک ہے مگر یہ روٹیاں بنانے والا کیا چکر ہے بھئی ۔"دریاب سانیہ کی طرف متوجہ ہوا
"کچھ دن پہلے کچ آآآآآ ۔"اس کو بولتا دیکھ کر امثال نے زور سے اس کی کمر میں چٹکی کاٹی تو چیخی
چ"ھوڑو نہ شادی کے بعد جتنا میں جان پائی ہوں شاہ ہاوس کے سارے کے سارے لڑکے ایک سے بڑھ کر ایک زن مرید ہیں ۔"امثال نے بات بدلی
"مگر ان سب میں ابھی تک ٹاپ لسٹ میں ہمارے ایس پی صاحب ہی ہیں۔" امان نے عادل کے کندھے پر ہاتھ رکھا
"توبہ ہے تم سب تو میرے شوہر کے پیچھے ہی پڑ گئے ہو۔"امثال نے اسے گھورا۔ عائشہ لوگ سدرہ کے پیچھے کچن میں چلی گئی تھیں
"مجھے نہیں پتہ آپ سب بیویوں والے ہو گئے ہیں۔ مجھے بھی میری بیوی چایئے ۔"بازل نے کہا
"کیوں تمہیں بھی زن مریدی لسٹ میں آںا ہے ۔"امثال نے ہنستے ہوئے کہا
"رک تجھے میں بیوی لا کر دیتا ہوں ۔پتا نہیں میری معصوم بہن تم جیسے فتنے کے ساتھ کیسے گزارا کرے گی ۔"عادل نے اس کی جانب ہاتھ گھمایا وہ جلدی سے پیچھے ہٹا
"آآ میری شونا بھائی میرا بھی بہت دل کہ میری تیسری بھابھی بھی آ ہی جائے مگر ہائے یہ ظالم سماج۔ ایک دو نہیں پورے تین سال صبر کرلو۔ ابھی تو اسکا تیسرا سمیسٹر شروع ہوا ہے ۔"امثال نے ٹھنڈی آہ بھری ۔ اس کے ساتھ ہی بازل نے بھی آہ بھری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"آپی ایک بات پوچھوں آپ سے۔ "بیسن چھانتے ہوئے صوفیہ نے سدرہ اور عائشہ کو مخاطب کیا
"ہاں پوچھو ۔"
"آپ لوگوں کو برا نہیں لگتا۔ آئی مین جیسے عدید بھائی اور شہری بھائی ژلے کو لے کر ٹچی ہیں ۔ہر وقت لاڈ اٹھانا ،فرمائشیں پوری کرنا اور ان کی اتنی محبت پر جیلسی فیل نہیں ہوتی۔"
"ہمیں ہمارے حصے کا پیار ،عزت، وقت مان غرضیکہ وہ سب کچھ مل جاتا ہے جس کی تمنا ہر لڑکی کرتی ہے تو جیلسی کس بات کی ۔اور سچ کہوں تو مجھے شہریار میں جو چیز سب سے زیادہ اٹریکٹ کرتی ہے وہ ان کی امثال سے محبت ہے ۔جو بندہ اپنی بہن کو لے کر اتنا حساس ہو سکتا ہے اس کی ہر بات کو حرف آخر سمجھتا ہو۔اس کی بڑی سے بڑی شرارت کو یوں اگنور کر دے جیسے سرے سے ہو ہی نہیں ۔وہ اپنی بیوی کو لے کر کتنا سنجیدہ ہوگا ،اور صرف شہریار میں ہی نہیں عدید بھائی اور بازل میں بھی یہی چیز موجود ہے ۔اپنے سے منسلک رشتوں کو وہ نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ ان کو بیلنس بھی رکھتے ہیں ۔سدرہ کا تو نہیں جانتی مگر ان گزرے مہینوں میں مجھے آج تک شہریار سے کوئی شکائت نہیں ہوئی ۔میں یہ نہیں کہہ رہی کہ وہ پرفیکٹ ہیں ۔ سوائے اللہ کی زات کے پرفیکٹ کوئی بھی نہیں ہوتا ۔چھوٹی موٹی شکائتیں تو زندگی کا حصہ ہوتی ہیں مگر کم از کم مجھے ژلے کو لے کر کبھی کوئی شکائت نہیں ہوئی ۔ تم لوگوں کا تو پتا نہیں مگر مجھے اس پاگل لڑکی سے آج تک کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ الٹا آج کل بقول اس کے ایک اچھی نند اور بھابھی بن کر میرا خیال رکھ رہی ہے۔" عائشہ آخر میں ہنسی
"یہاں تو وہ اتنا آتی ہی نہیں ۔آج کل بھی سائیں کے شکوہ کرنے کی وجہ سے آ جاتی ہے اس لیے مجھے بھی اس سے کیا مسئلہ ہو گا۔" سدرہ نے کہا
"پہلی بھابھیاں دیکھ رہی ہوں جو نند کی تعریف کر رہی ہیں۔" صوفیہ مسکراتے ہوئے بولی
"کیا ہو رہا ہے سب اکھٹی ہو کر کس کی برائیاں کیے جا رہی ہو ۔"امثال نے کچن میں اینٹری دی
"تمہاری بھابھیاں تمہاری غیبتیں کر رہی ہیں ۔" شامین نے چائے کپوں میں ڈالتے ہوئے کہا
"امپاسبل عائشہ آپو اور میری برائی میں مان ہی نہیں سکتی اور رہی سدرہ آپو تو نو نیور۔" اس نے اٹل انداز میں دائیں بائیں سر ہلایا
"اچھا اچھا یہ چائے لے جا کر سب کو دے آؤ ۔ "شامین نے بدمزہ ہوتے ہوئے ٹرے اسے پکڑائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ٹیرس پر کھڑا کسی گہری سوچ میں گم تھا۔ اس کے زہن میں ایک ایک کر امثال سے ہوئی تمام ملاقاتیں گھوم رہیں تھیں۔ وہ نیچے سٹڈی میں آیا اور لیپ ٹاپ آن کر کہ اس میں موجود اسکی تصاویر دیکھنے لگا ۔ساری کی ساری اس کی بے خبری میں لی گئی تھیں ۔ کسی میں وہ کھانا کھا رہی تھی تو کسی میں ہنس رہی تھیں زیادہ تر فارم ہاوس کی تھیں ۔ایک تصویر میں وہ ہنستے ہوئے بازل کو کھینچ رہی تھی ۔ کلوز شاٹ کی وجہ سے اس کا ڈمپل صاف نظر آ رہا تھا ۔اس کا ہاتھ بے اختیار لیپ ٹاپ کی سکرین پر گیا تھا
"تمہارے اس ڈمپل میں ، میں خود کو کہیں گم ہوتا محسوس کرتا ہوں ۔" وہ بار بار اس کے ڈمپل پر انگلی رکھتا اور اٹھا لیتا ۔ عجیب دیوانوں سی حالت ہو رہی تھی ۔اگلے ہی لمحے اسے اپنی آخری اور بھیانک ملاقات یاد آئی تو سارا فسوں ٹوٹا ۔غم و غصہ نئے سرے سے جاگا
"تم نے دھوکہ دیا ہے مجھے امثال شاہ ۔ یو آر اے چیٹر۔" اس نے زور سے لیپ ٹاپ بند کیا
"صرف شکل سے معصوم دکھتی ہو ۔ جھوٹی ہو تم۔ مجھ سے جھوٹ بولا ،اتنی بڑی بات چھپائی مجھ سے ۔اور تمہیں اس کی سزا ملے گی ۔"بڑبڑاتے ہوئے اٹھ کر وہ ٹہلنے لگا
"سزا تو تمہیں ضرور ملے گی ۔"سٹڈی سے نکل کر اپنے کمرے میں آیا ۔واش روم جا کر منہ ہاتھ دھو کہ چینج کیا ۔ سائیڈ دراز سے ریوالور نکال کر گولیاں چیک کی اور بیک پر لگایا۔ نیچے آ کر لاونج میں رکھے فون سے امثال کو فون کیا
"کہاں ہو؟ مجھے تم سے ملنا ہے ۔"
"ٹھیک ہے ۔ویٹ کرنا میں آ رہا ہوں ۔" سپاٹ لہجے میں کہتا فون بند کرتا وہ گاڑی لے کر نکل گیا ۔۔این جی او پہنچا تو امثال آفس میں اس کا ہی ویٹ کر رہی تھی ۔ آج پہلی بار تھا کہ اس کو رو برو پا کر ہونٹوں پر مسکراہٹ کی بجائے آنکھوں میں نفرت ابھری تھی
"کیسے ہو ۔"امثال نے خوشدلی سے پوچھا
"اس بات کو چھوڑو تمہیں تمہارے شوہر نے آنے کیسے دیا ۔"وہ بیٹھنے کی بجائے چلتا ہوا اس کی طرف آیا ۔
"کیا عافین عالم کو بھول گیا ہے؟ ۔کیا بھول گیا ہے کہ عافین عالم اس کی لاڈلی کی جان لے سکتا ہے ۔" اس کا بدلا انداز دیکھ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی
"کیا مطلب میں سمجھی نہیں؟"
"میں کس لیے ہوں میں سمجھاتا ہوں نہ ۔ تم شائد جانتی نہیں تمہارا شوہر جس سے تمہیں چھپائے ہوئے ہے وہ کوئی اور نہیں میں ہوں ۔ وہ میں ہی تھا جس نے تمہارے شوہر کو تھانے جا کر تمہاری جان کی دھمکی دی تھی اور وہ بھی میں ہی تھا جس نے تمہارے ڈرائیور کا مرڈر کروایا تھا۔" جیسے جیسے وہ انکشاف کرتا جا رہا تھا۔ ویسے ویسے امثال زرد پڑتی جا رہی تھی
"عافین تت تم ۔" اس کی آنکھوں میں غصہ اور نفرت دیکھ کر وہ اٹکی
"ہاں ڈیئر میں اور اب میں ہی تمہیں اس دنیا سے بھی رخصت کروں گا ۔"اس نے بیک سے پسٹل نکالتے ہوئے سرد لہجے میں کہا
"عافی ۔۔ مم۔۔۔۔ میری اس سب میں کیا غلطی ۔"وہ پیچھے ہٹتے ہوئے بولی
"تمہاری غلطی یہ کہ تم اس کمینے ایس پی کی بیوی ہو ،میرے سب سے بڑے دشمن کی لاڈلی ، اس کی محبت اور جب تک وہ تڑپے گا نہیں مجھے چین نہیں آئے گا ۔ "عافین نے پسٹل اس کی طرف کر ٹریگر پر ہاتھ رکھا
"عافین لسن ۔۔۔۔۔ میری بات سنو ۔۔۔۔۔۔تمہارا عادی سے جو بھی جھگڑا ہے اس کو آآآآ ۔"اس کی بات پوری ہونے سے پہلے عافین نے ٹریگر دبا دیا اور اس کے حلق سے چیخ بلند ہوئی ۔اس نے اپنے پیٹ پر رکھے خون میں لت پت ہاتھ کو دیکھا اور لڑکھڑاتے ہوئے زمین پر گری
"عافی ہم دوست تھے نہ ۔" امثال کی بند ہوتی آنکھوں اور آواز میں بے یقینی اور دکھ تھا ۔اس کو آنکھیں بند کرتا دیکھ کر وہ ہوش میں آیا ۔ اس کے پیٹ سے خون نکلتا دیکھ کر اس کے ہاتھ سے پسٹل چھوٹا۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کے زمین پر پڑے وجود کو دیکھ رہا تھا ۔ جوتے کی ٹھوکر سے پسٹل کو دور کرتا وہ اس کی طرف آیا
"ژلے اٹھو۔ ایم سوری مجھ سے غلطی ہو گئی ۔"اس کے پاس بیٹھتے ہوئے اس کا گال تھپتپھایا
"پلیز نہ کرو نہ۔ اٹھ جاؤ ۔"ٹیبل پر سے پانی کا گلاس اٹھا کر اس نے اس کے منہ پر چھڑکا اور گلاس وہیں رکھ کر اس کو دوبارہ آواز دینے لگا اس نے زرا سے آنکھیں کھول کر دیکھا اور اس کی گردن ایک طرف ڈھلک گئی ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے.
(season 02)
"ژلے ۔"وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا تھا۔اس کا پورا جسم پسینے سے شرابور تھا ۔اس نے سائیڈ لیمپ پر ہاتھ مارتے ہوئے لائٹ آن کی اور جگ سے پانی گلاس میں انڈیلا ۔ہاتھ کانپنے کی وجہ سے آدھے سے زیادہ پانی نیچے بہہ گیا تھا ۔پانی پی کر اس نے خالی گلاس وہیں پھینک دیا
"یا اللہ اتنا بھیانک خواب ۔مم میں ایسا کیسے کر سکتا ہوں ؟خواب میں بھی کیسے کر سکتا ہوں؟ میں اس کی جان کیسے لے سکتا ہوں؟" وہ منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بڑبڑایا ۔دراز سے پسٹل نکال کر کھڑکی کی طرف آیا اور پوری قوت سے باہر اچھال دی
"سوری رئیلی سوری میری وجہ سے تم ہرٹ ہوتی رہی ہو۔" الماری سے اس کی تصویر نکال کر دیکھتے ہوئے کہا ۔ وہ ریسٹورینٹ کی تصویر تھی جس میں وہ ہنستے ہوئے بازل کے سامنے سے پلیٹ اٹھا رہی تھی
"کاش تم مجھے پہلے مل گئی ہوتی ۔کاش میں کچھ ماہ پہلے پاکستان آ گیا ہوتا۔"
"تمہارا یہ ڈمپل بہت پیار ہے جب جب دیکھتا ہوں میری دل دھڑک اٹھتا ہے ۔" اس کی تصویر پر ہاتھ پھیرتے وہ اداسی سے مسکرایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"تم واپس ڈیوٹی جوائن کر رہے ہو ۔"امثال کمرے داخل ہوئی تو عادل یونیفارم پہنے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا تھا
" کافی دن ہوگئے ہیں ۔اب تو تم بھی تنگ آ چکی ہو تو میں نے سوچا کہ چلا جاتا ہوں ۔"اس نے خود پر پرفیوم چھڑکتے ہوئے کہا
"ہاااا ۔۔ میں کب تنگ آئی تم سے ۔بلکہ مجھے لگتا ہے تم مجھ سے تنگ آ چکے ہو ۔"امثال نے اس کی کیپ اٹھا کر اپنے سر پر رکھی
"یہ کس نے کہہ دیا تم سے ۔"اس کی طرف گھوما
"بس مجھے لگا اور اس دن کیسے ان لڑکیوں کو دیکھ کر خوش ہو رہے تھے ۔"امثال کو وہ لڑکیاں پھر سے یاد آگئیں تھیں
"انسان خوبصورتی دیکھ کر خوش ہی ہوتا ہے ۔چاہے وہ چیزیں ہوں یا انسان ۔وہ بھی خوبصورت تھیں اوپر سے میری فینز بھی تو خوشی تو ہوتی ہے نہ۔"
"تمہارا مطلب ہے میں خوبصورت نہیں ہوں ۔"اس نے کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے گھورا تو اس نے اثبات میں سر ہلادیا
"تو تمہیں کیا لگا کہ تمہارے لیے کوئی آسمان سے حور اترے گی ۔جیسے تم ہو شکر کرو یہ بھی مل گئی۔ ورنہ تمہیں کون دیتا اپنی بیٹی ۔وہ تو میں تھی جس نے دادا جانی کی بات کا مان رکھتے ہوئے نکاح کے لیے ہامی بھر لی ورنہ کوئی پاگل ہی ہوتی جو تم سے شادی کرتی ۔"اس نے کیپ سیٹ کر کہ سیلفی لیتے ہوئے بے نیازی سے کہا
"تو مطلب میں تمہیں پاگل ہی سمجھوں ۔"عادل اس کی بات لیپٹ کر اسی کو واپس کی
"چھوڑو اس بات کو یہ بتاؤ کیپ کیسی لگ رہی ہے ۔"موبائل رکھ کر اس کی طرف اس کی مڑی
"بہت اچھی لگ رہی ہے ۔"اس کا گال کھینچتے ہوئے الماری سے پسٹل نکال کر چیک کرنے لگا
"عادی ۔"وہ اس کے پیچھے الماری کے پاس آئی
"ہوں۔" اس نے مصروف انداز میں جواب دیا
"مجھے بھی ایس پی بننا ہے ۔"پسٹل کو ہولسٹر میں رکھتے ہوئے اس کے ہاتھ تھمے۔ اس کی بیوی کے دماغ میں نئے نئے خیالات آتے ہی رہتے تھے ۔ وہ بھی کافی حد تک عادی ہوگیا تھا اس لیے دوبارہ سے اپنے کام میں مصروف ہوگیا
"کیوں بزنس ایسوسیشن نے تمہیں نکال ہے دیا ہے؟"
"نہیں نہ مجھے بننا ہے۔ تم مجھے بتاؤ کیسے بنتے ہیں ۔مطلب کو نسا فارم فل کرنا ہوتا ہے ۔"
"کم آن ژلے! لوگوں کے پولیس محکمے کے بارے میں پہلے ہی کچھ اچھے خیالات نہیں ہیں ۔تم تو جوائن کر کہ تابوت میں آخری کیل ہی ٹھونک دو گی ۔"عادل نے مسکراتے ہوئے اس کے سر سے کیپ اتاری
"تمہارا مطلب ہے میں پاگل ہوں ؟"اس نے اسے گھورا
"ہنی بار بار ایسی باتیں نہیں پوچھا کرو اور نہ ہی مجھے بتاتے ہوئے اچھا لگتا ہے ۔"اس کا گال تھپتھپاتا وہ باہر کی جانب بڑھا
"عادی ! "وہ اس کے پیچھے سے چیخی
"کیا ہوا ! "اس نے مڑ کر حیرانی سے استفسار کیا
"میں بات کر رہی ہوں اور تم اگنور کر کہ جا رہے ہو ۔ یہ اتنی جلدی تھانے جانے کی ہی ہے یا کہیں اور بھی ٹائم دیا ہوا ہے۔"وہ مشکوک ہوئی۔
"لا حول ولا قوۃ ۔"اس نے زیرلب پڑھا
"کہو کیا رہ گیا ہے؟"وہ واپس آ کر بیٹھا
"خود تو جا رہے ہو اور میں؟ میں کب آزاد ہوں گی۔"
"کچھ دن اور صبر کر لو۔"
"میں نہیں کر رہی ویٹ ۔ تمہارا جو بھی مسئلہ ہے اسے نمٹاؤ اور اگر تم سے نہیں نمٹ رہا تو مجھے بتاؤ میں خود ہی دیکھ لیتی ہوں ۔بلکہ ایک کام کرو زرا اس صاحب سے تعارف تو کرواؤ جو میرا نام استمعال کر کہ تمہیں بلیک میل کر رہا ہے ۔میں بھی تو دیکھوں کون سی شکل ہے ۔"امثال نے سنجیدگی سے کہا ۔وہ تو اپنی بیوی کی جرات دیکھ کر رہ گیا
"اس کی ضرورت نہیں ہے۔ میں خود دیکھ لوں گا۔"
"خاک دیکھ لو گے دو مہینے ہونے کو آئے ہیں اور تم سے ایک بندہ ہینڈل نہیں ہو رہا ۔تمہاری جگہ میں ہوتی تو اب تک اس جیسے دس کسی کھاتے لگا چکی ہوتی ۔"اس نے سر جھٹکا
"دیکھو ژلے یہ کوئی چھوٹا موٹا کیس تو ہے نہیں کہ ایف آئی آر کاٹی تفتیش کی اور عدالت میں پیش کر دیا ۔ایسے لوگ بہت پاورفل ہوتے ہیں۔ بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے ان پر ہاتھ ڈالو تو ان کے پاس بچ نکلنے کے ایک سو ایک راستے ہوتے ہیں ۔جس نے کریم چچا پر اٹیک کیا تھا وہ بندہ بھی غائب تھا ۔کل ہی سوہا کا فون آیا تھا کہ وہ پکڑا گیا ہے آج وہیں جا رہا ہوں اور بھی کچھ ثبوت ہاتھ لگے ہیں ۔زیادہ دن نہیں لگیں گے بس کچھ ہی دن کی بات ہے ۔سمجھنے کی کوشش کرو۔ میری اپنی خیر ہے مگر تمہارا رسک نہیں لے سکتا۔"اس نے تفصیل بتاتے ہوئے آخر میں اسے سمجھانا چاہا
"میں کیا کروں۔ میرا بہت سا کام پینڈنگ میں ہے ۔ کتنے دنوں سے بازی اکیلا سنبھال رہا ہے وہ کیا کیا دیکھے اور بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جن کو وہ اکیلا نہیں دیکھ سکتا۔ بہت حرج ہو رہا ہے ۔شاہ ہاوس سار الٹا پڑا ہے ۔ورکرز کا تو تمہیں پتہ ہی ہے۔"
"اچھا ٹھیک ہے چلی جانا مگر آج نہیں کل ۔کام کے علاوہ میں تمہیں ادھر ادھر گھومتا نہ دیکھوں ورنہ پھر کہیں باہر نہیں جانے دوں گا ۔"عادل نے طویل سانس لیتے ہوئے کہا
"اب میں جاؤں یا کچھ اور رہتا ہے ۔"وہ اٹھتے ہوئے بولا
"انسپکیٹر سوہا کہا کرو ۔تمہاری بہن نہیں لگتی جو نام لے کر بلاتے ہو۔" اس نے منہ بنایا
"اور کچھ ؟ عادل نے سر کو خم دیتے ہوئے پوچھا
"نہیں بس تھینک یو۔ تم نہ بہت اچھے ہو ، یونیفارم میں اور بھی اچھے لگ رہے ہو۔"
"بٹرنگ ۔" اس کی ناک دباتے ہوئے وہ زور سے ہنسا
"کوئی نہیں۔ سچی بول رہی ہوں۔" اس نے برا مناتے ہوئے کہا
"مجھے پتہ ہے تم جھوٹ بول رہی ہو ۔جب بھی تمہیں کوئی کام ہوتا ہے ایسے ہی مکھن لگاتی ہو۔ بعد میں تو کون اور میں کون۔"
"میں سچ بول رہی ہوں ۔"اس نے اپنی بات پر زور دیا
"پتہ ہے نہ پولیس کو اپنی سچائی کا ثبوت دینا پڑتا ہے اگر تم بھی سچ بول رہی ہو تو ثبوت دو ۔"اس نے خاصی سنجیدگی سےکہا
"کیسا ثبوت ؟تم بتاؤ میں لا کر دیتی ہوں ۔" اس کی ایکسئاٹمنٹ پر اس کا قہقہ لگانے کو جی چاہا
"روز میں تمہیں خدا حافظ کہتا ہوں آج تم مجھے کہو تو مانوں گا ۔" عادل نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا
"لو اس میں کیا بڑی بات ہے۔ ابھی کہہ دیتی ہوں خدا حافظ ۔اس نے کہنے کے ساتھ ساتھ ہاتھ بھی ہلایا
"ایسے نہیں جیسے میں کہتا ہوں ویسے کہو ۔" عادل نے فرمائش کی تو وہ خاموش ہوگئی
"کس سوچ میں پڑ گئی ۔ میں نے ایسا بھی کوئی مشکل کام نہیں بول دیا ۔"اس کو سوچ میں ڈوبا دیکھ کر اس کے سامنے چٹکی بجائی
"اوکے تم آنکھیں بند کرو اور تھوڑا نیچے جھکو ۔"امثال اس کے قریب ہوتے ہوئے بولی۔ تو وہ آنکھیں بند کر نیچے ہوا تو وہ اس کی پیشانی چوم کر پیچھے ہوئی
"اب جاؤ ۔"اس نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا
"کہاں جاؤں ۔"وہ اس کو نظریں چراتے دیکھ کر محظوط ہوا
"عادی جاؤ نہ ۔"اس نے دروازے کی طرف دھیکلا
"میری آفت شرماتے ہوئے اور بھی کیوٹ لگتی ہے ۔ا"س کا رخ اپنی طرف موڑتے ہوئے اس نے چھیڑا
"اچھا اچھا جا رہا ہوں ۔"اس کو آنکھیں دکھاتا دیکھ کر وہ اس کی پیشانی چومتا باہر نکل گیا
"ایوں ای فری ہو رہا ہے ۔ "ٹیرس کا دروازہ کھول کر باہر نکلی تو وہ جیپ میں بیٹھ رہا تھا اس کے دیکھنے پراس نے ہاتھ ہلایا ۔اس کی گاڑی جانے تک وہی کھڑی رہی ۔مڑ کر اندر آئی تو اس کا فون بج رہا تھا
"کیسے ہو عافین؟ "فون اٹھاتے ہوئے اس نے پوچھا
"میں ٹھیک ہوں ۔تم کیسی ہو ؟"
"الحمدللہ میں بھی ٹھیک ۔ تم اس دن اچانک ہی آئے اور اچانک ہی چلے گئے۔ تمہاری طبعیت بھی ٹھیک نہیں لگ رہی تھی ۔ خیریت تھی ؟"
" بس ایسے ہی کچھ اچھا فیل نہیں کر رہا تھا اس لیے آ گیا ۔ تم بتاؤ کیا کر رہی ہو؟"
"کچھ نہیں گھر پر ہوں ۔"وہ فون کان سے لگائے سیڑھیاں اترتی ہال میں آ بیٹھی
"آفس نہیں گئی ۔"
"کہاں یار ۔پتہ نہیں عادی کے مسئلے کب سولو ہوں گے اور کب میں آزادی کی سانس لوں گی ۔"اس نے بیزاری سے کہا
"کیسے مسئلے ۔" جان کر بھی انجان بنتے ہوئے اس نے پوچھا
"اس کا کوئی کیس ایشو ہے اور مخالف پارٹی مجھے فضول میں گھسیٹ رہی ہے ۔پتہ نہیں کیسے کمینے لوگ ہیں جو اپنی لڑائی میں عورتوں کو انوالو کر رہے ہیں۔"
"تم جانتی ہوں انہیں ۔"عافین نے جاننا چاہا کہ وہ کس حد تک جانتی ہے
"نہیں۔ خیر تم چھوڑو ۔ یہ بتاؤ کہ تم کہہ رہے تھے کہ کچھ دنوں کے لیے تمہیں کہیں جانا ہے ۔کب جا رہے ہو ؟"
"وہ پہلے کا پروگرام تھا۔ اب نہیں جاؤں گا ۔کچھ دنوں تک میری یہاں زیادہ ضرورت ہے ۔جب آفس جوائن کرو تو مجھے بتانا ۔"عافین نے اسے ٹالا
"عادی نے کہا تو ہے کل سے چلی جاؤں ۔ اب دیکھو ۔اس کا پتہ کہاں چلتا ہے کبھی ہاں تو کبھی نہ۔"
"چلو ٹھیک ہے اگر کل آؤ تو بتا دینا۔ابھی مجھے تھوڑا کام ہے ،پھر بات ہو گی ۔ خدا حافظ ۔"عافین نے فون بند کرتے ہوئے رشید کا نمبر ملایا
"مجھے تم سے ملنا ہے ۔جہاں کہیں بھی ہو ابھی کے ابھی فارم ہاوس پہنچو ۔ "دوسری طرف سے اس کی سنے بغیر اس نے کال کاٹ کر موبائل ساتھ والی سیٹ پر پھینکا اور گاڑی لے کر نکل گیا ۔فارم ہاوس پہنچ کر وہ کمرے میں بیٹھا بے چینی سے اس کا انتظار کر رہا تھا کہ رشید اندر آیا
"اتنی دیر میں کب سے ویٹ کر رہا ہوں ۔"
"سوری سر میں لیٹ ہو گیا۔ کہیں کیا کام تھا۔ "اس نے معذرت کرتے ہو کہا
"پرسوں کچی آبادی والے اڈے پر ریڈ ہوئی ہے۔ ڈیڈ کو اس بارے میں بتایا ہے تم نے۔"
"نہیں سر میں نے کال کی تھی ان کا نمبر نہیں لگا ۔میں دوبارہ کرتا ہوں۔" اس نے موبائل نکالتے ہوئے کہا
"نہیں اس کی ضرورت نہیں۔ جب وہ واپس آئیں گے تو میں خود بات کر لوں گا ۔مجھے تم سے ایک اور کام تھا۔"
"جی سر حکم کریں ۔"اس نے مودبانہ انداز میں کہا تو عافین نے ایک چیک سائن کر کہ اس کے سامنے ٹیبل پر رکھا
"یہ دس لاکھ کا چیک ہے ۔ اٹھاؤ اسے ۔"اس نے حکمیہ انداز میں کہا ۔ اس نے حیرانگی سے اس کا بدلا انداز دیکھتے ہوئے اٹھا لیا
"تم ڈیڈ کے مینجر، رائٹ ہینڈ ، سب کچھ ہو۔ وہ کوئی بھی کام تمہیں بتائے بغیر نہیں کرتے ۔ جو کیس چل رہا ہے اس کو لے کر تم مجھے بغیر ان کی نظروں میں آئے، ان کے ہر قدم ، ہر ارادے سے آگاہ کرو گے ۔مگر خیال رکھنا انہیں اس بات کا پتہ نہیں چلنا چایئے۔"عافین نے ایک ہی سانس میں اپنی بات مکمل کرتے ہوئے حکم سنایا
"سر مگر ۔"وہ ہچکچایا
"اگر مگر کی گنجائش میں تمہیں دے ہی نہیں رہا۔ سو اس بات کو رہنے دو ۔ تم سے جو کہا گیا ہے وہ کرنا اور میری ایک بات یاد رکھنا مجھ سے غداری کی سزا تمہاری سوچ سے بھی زیادہ بری ہوگی ۔ "عافین کا لہجہ بے حد سرد تھا ۔ وہ جھرجھری لے کر رہ گیا
"جج جی سر۔ آپ کو کوئی شکائت نہیں ہو گی۔"
"اگر اپنا کام پورا کرو گے تو تمہیں تمہارا معاوضہ بھی پورا ملے گا ۔انسان کو گھر میں سو طرح کی ضرورتیں ہوتی ہیں تم میرا کام کرتے رہنا اور تمہاری ضرورتیں میرے زمے رہیں سمجھ رہے ہو نہ ۔" عافین نے گھر پر اچھا خاصا زور دیا اور اسکی ڈھکی چھپی دھمکی سن کر اس کا رنگ اڑا
"جی سر۔ سمجھ گیا ۔"
"گڈ انفارم کرتے رہنا ۔"اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا باہر نکل گیا
"تو عالم صاحب حقیقی معنوں میں آپ کی بربادی کے دن شروع ہوگئے ہیں ۔"رشید نے بڑبڑاتے ہوئے ہاتھ میں پکڑے چیک کو دیکھا
"ایم سوری ڈیڈ مگر میں ژلے کو کوئی نقصان پہنچتا نہیں دیکھ سکتا ۔" اس نے سوچتے گاڑی کی پشت پر ٹیک لگائی۔جانتا تھا کہ واپس آنے پر جب انہیں پتہ چلے گا کہ ایک ہی ہفتے میں پہلے شپ اور پھر اڈے پر ریڈ کی وجہ سے انہیں بھاری نقصان ہوا ہے تو وہ لازمی کوئی ایکشن لیں گے اور انہیں امثال کی راہ تو اسی نے ہی دکھائی تھی اور اب اسی کو ہی انہیں روکنا بھی تھا
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
امثال گنگناتی ہوئی بازل کے پاس آئی ۔وہ سیڑھیوں پر کھڑی ہو کر کافی دیر سے اسے دیکھ رہی تھی جو بہت ہی انہماک سے یونی کا کام کرتی زروا کو تاڑ رہا تھا
"اوئے ٹیمپو نہ توڑو ۔خاموش ہو کر بیٹھو ۔"بازل اس کو بول کر دوبارہ اپنے شغل میں مصروف ہو گیا
"لڑکی کی بھابھی پاس بیٹھی ہے کچھ شرم حیا کر لو ۔"امثال اور اس کی بات کو سنجیدگی لے لیتی ناممکن تھا
"ہاں تو بھابھی میں اگر زرا سی بھی شرم ہوتی تو یہاں آتی ہی نہیں ۔شادی شدہ کپل کے درمیان بیٹھنا اچھا لگتا ہے بھلا۔"
"زری یہ دیکھو تمہیں سر عام گھور رہا ہے ۔"اس نے زروا کو متوجہ کیا
"جانتی ہوں آپی یہ کافی دیر شاہ رخ خان بننے کی ناکام کوشش کر رہا ہے ۔"زروا نے سر اٹھائے بغیر جواب دیا
"تو پھر تمہارا کیا خیال ہے ۔"بازل نے محبت بھرے لہجے میں کہا
"شاہ بی بی کہتیں ہیں کہ شوہر کی عزت کرنی چایئے ورنہ سوچنا کیا میرا تو عمل کرنے کا بھی پورا پورا ارادہ تھا ۔"زروا نے دانت پیسے
"اپنے آپ تو تمہیں شرم آئے گی نہیں ۔ چل نکل یہاں سے ۔ میں ذرا اپنی بیوی دو گھڑی باتیں کر لوں ۔"اس نے امثال کا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا
"احتیاط کرنا ایسا نہ ہو ۔جب یہاں سے باہر آؤ تو میں پہچان ہی پاؤں اور تمہیں مجھے اپنی کوئی نشانیاں بتا کر پہچان کروانی پڑے ۔"وہ ہنستی ہوئی اٹھ گئی
"ہاں تو تم بتاؤ ۔کیا کہہ رہی تھی؟"اس کے جانے کے بعد بازل اس کی طرف مڑا
"میں کہہ رہی تھی کہ یہ ایکویشن سولو نہیں ہو رہی۔ تم کر دو ۔"زروا نے میٹھے لہجے میں کہا
"ہاں کیوں نہیں لاؤ۔ میں کر دیتا ہوں ۔بازل نے اس کے ہاتھ سے رجسٹر لیا اور سولو کرنے لگا
یہ مجھ سے نہیں ہو رہا ۔ "پندرہ بیس منٹ بعد ہی بازل نے ہار مانتے ہوئے رجسٹر سائیڈ پر پھینکا
"مجھے پہلے ہی پتہ تھا کہ تم سے نہیں ہو سکے گا ۔ فضول میں اتنا ٹائم ویسٹ کیا ۔میں امثال آپی سے کروا لوں گی ۔"زروا نے چیزیں سمیٹتے ہوئے کہا
"اسے بھی نہیں آتا ۔ہم دونوں نے سکپ کر دیا تھا تم بھی چھوڑ دو ۔۔اور اگر تمہیں کرنا ہی کرنا ہے تو شہری بھائی سے کر لینا۔ ابھی تو تم یہاں بیٹھو مجھے تم سے بات کرنی ہے۔"
"دیکھو اگر تو تم نے کوئی الٹی سیدھی بکواس کی نہ تو پہلے سے بتا رہی ہوں آج ژلے آپی کی بجائے میں تمہارے بال نوچوں گی ۔"زروا اس کے پاس آ کر بیٹھی
"بولو ۔"اس کو اپنی طرف دیکھتا پا کر اس نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا
"تم اتنا غصہ کیوں کرتی ہو چار دن کی زندگی ہے۔ ﺍﺳﮯ ﺍﭼﮭﮯ ﻃﺮﯾﻘﮯ سے ﮔﺰﺍﺭنی چایئے ﮐﮧ ﺟﺐ ﺁﭖ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﻮﮞ ﺗﻮﻟﻮﮒ ﺁﭖ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﺗﻤﻨﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭﺟﺐ ﺁﭖ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺁﭖ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮ۔" بازل نے سنجیدگی سے کہا تو زروا نے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا
"اوہ تو تم نے نشہ کرنا بھی شروع کر دیا ہے ۔"زروا نے بغور اس کا جائزہ لیتے ہوئے کہا
"توبہ کرو لڑکی تم نے کب مجھے ٹن ہو کر کوڑے کے ڈھیر پر پڑے دیکھا ہے یا کسی نالے میں گرا ہوا پایا ہے ۔"بازل نے برا سا منہ بنایا
"تمہارا مسئلہ کیا ہے۔ جو بھی بات کرنی ہے سیدھی سیدھی کرو ۔ گھما پھرا کیوں رہے ہو؟" زروا زچ ہوتے ہوئے بولی
"میں کہہ رہا تھا ڈیٹ پر چلتے ہیں۔"
" واٹ ؟" وہ ایک دم چیختے ہوئے اٹھی ۔ اس نے جلدی سے اٹھ کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھا
"آہستہ چیخو۔ کیوں مجھے جوتے پڑوانے ہیں ۔سننے والے کو لگے گا میں تمہیں چھیڑ رہا ہوں۔" ہائے بازل اور اس کی سوچیں
" تم اپنی بات پر غور بھی تو کرو ۔یہ تمہیں بیٹھے بیٹھے کون سا دورہ پڑا ہے ۔"
"اوکے۔ ناؤ ایم سیرئیس۔ آجاؤ کہیں لنچ کر کہ آتے ہیں ۔"بازل نے اٹھتے ہوئے کہا
"سچ بتاؤ لنچ کے لیے ہی لے کر جاؤ گے نہ ۔"زروا مشکوک ہوئی
" ظاہر ہے اور کہاں جانا ہے ؟" اس نے رک کر حیرانی سے اسے دیکھا
"تمہارا کیا بھروسہ راستے میں کہیں مار کر پھینک دو ۔"اس نے جس انداز میں کہا تھا بازل بھونچکا رہ گیا
استغفراللہ ۔حد نہیں ہو گئی۔ میں نے پہلے کتنے بندے مارے ہیں۔ وہ اس الزام پر تڑپ اٹھا تھا
"تمہاری حرکتیں ہی ایسی ہیں تو میں کیا کر سکتی ہوں۔" اس نے کندھے اچکائے
"ٹھیک ہے نہیں تو نہ سہی ۔"
"اچھا اچھا چلتی ہوں ۔تم رکو میں چینج کر کہ آتی ہوں ۔"وہ اپنے کمرے کی طرف بھاگی
"اسے کیا ہوا ہے ۔"عائشہ اور شامین کے لیے جوس لے کر جاتی امثال نے بازل سے پوچھا
"لنچ ڈیٹ پر جا رہی ہے۔"
" ہاااا بے غیرت انسان ۔سامنے تمہاری بہن کھڑی ہے۔" امثال کا منہ کھلا
"تو بہن بیٹھ جائے میں نے کب منع کیا۔"اس نے بے نیازی سے کہا
"سچ بتاؤ کیا چل رہا ہے تمہارے دماغ میں ؟"امثال نے رازدارنہ انداز میں پوچھا
"کچھ نہیں بس محترمہ کو لنچ پر جانے کا شوق ہے ۔پرسوں شائد اپنی کسی دوست سے فون پر بات کر رہی تھی کہ میں اسے کبھی کہیں گھومانے لے کر نہیں گیا تو میں نے سوچا اس کا یہ گلہ دور کر دوں۔"
"اچھی بات ہے بلکہ ایک کام کرو تم یہیں رکو۔ میں یہ عاشی آپ کے روم میں رکھ کر آتی ہوں ۔جانا نہیں ۔"امثال نے کہا اور تیز تیز چلتی عائشہ کے کمرے میں آئی اسے جوس پکڑیا اور دوسرا گلاس شامین کو دے کر اپنے کمرے میں گئی
"چلو ۔"زروا بس چادر اور بیگ لے کر ہی واپس آ گئی تھی
"بس دو منٹ۔ ژلے کو کوئی کام ہے۔"
"زری تم گاڑی کے پاس چلو ۔یہ بھی آ رہا ہے ۔"امثال نے واپس آ کر اس کے پاس کھڑی زروا سے کہا تو وہ باہر نکل گئی
"یہ لو اسے شاپنگ بھی کروا دینا ۔"امثال نے اپنا کریڈٹ کارڈ اسے تھمایا
"میرے پاس ہیں۔ اس ماہ کی پاکٹ منی ویسے کی ویسے پڑی ہے تو میں مینج کر لوں گا۔"
"تمہارے پاس اس ماہ کی ہے جبکہ اس کارڈ میں تین منتھ کی سیو ہے۔ مجھے جب بھی شاپنگ کرنی ہوتی ہے۔ عادی کا کارڈ لے جاتی ہوں سو یہ ویسے ہی پڑی ہے۔ تم کوئی بریسلٹ وغیرہ گفٹ کر دینا اسے بہت شوق ہے۔"
"اگر تم یہ سب اس لیے کر رہی ہو کہ میں تمہیں سمجھدار اور عقلمند سمجھ کر تمہاری عزت کرنا شروع کر دوں گا تو غلط فہمی ہے تمہاری ۔"بازل نے کارڈ جیب میں ڈالتے ہوئے کہا
"نہیں میں جانتی ہوں جس بندے کے پاس جو چیز ہو گئی وہ دوسرے کو بھی وہی دے گا اس لیے عزت نامی چیز تمہارے خود کے پاس نہیں ہے تو میں کیا توقع رکھوں گی ۔ اچھا اب جاؤ وہ ویٹ کر رہی ہے ۔"امثال نے اس کو باہر کی طرف دھکیلا
" رکو ۔"وہ ہال کے دروازے پر پہنچا ہی تھا کہ امثال نے اسے آواز دے کر روکا
"بیسٹ آف لک ۔"اس کے گلے لگتے ہوئے اس نے کہا
"یار اپنی منکوحہ کے ساتھ باہر جا رہا ہوں۔ بارڈر پر نہیں جو ایسے بی ہیو کر رہی ۔پاگل ۔"بازل قہقہ لگاتے ہوئے باہر نکل گیا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔
(season 02)
رات کے نو بج رہے تھے جب عافین گھر میں داخل ہوا ۔ وہ صبح سے گھر سے نکلا ہواتھا۔ امثال اور بازل کے ساتھ لنچ کرنے کے بعد وہ کافی دیر تک ان کے سکول میں ان کے پاس بیٹھا رہا تھا ۔رشید نے اسے کال کر کہ بتایا کہ نواز عالم پاکستان آ چکے ہیں تو وہ گھر جانے کی بجائے لمبی مٹر گشت کے لیے نکل گیا کہ اگر گھر جاتا تو جو ان کے پیچھے ہو چکا تھا وہ لازمی اس سے پوچھتے ۔سارا دن گھوم پھر کر وہ رات نو بجے گھر آیا تو لاونج میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر نوازعالم پر پڑی جو شائد نے یقینا اسی کے ہی انتظار میں بیٹھے تھے
"آو آو تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا ۔شکر ہے تم نے شکل تو دکھائی ورنہ مجھے لگا تھا کہ اب تمہاری شکل دیکھنی بھی نصیب نہیں ہوگی ۔" نواز عالم نے طنز سے کہا
"ڈیڈ آپ کب آئے؟ آپ نے تو دو دن بعد آنا تھا ۔" وہ جو ان کو نظرانداز کیے اپنے کمرے میں جا رہا تھا ان کے مخاطب کرنے پر مڑ کر ان کی جانب آیا
"آنا تو دو دن بعد ہی تھا مگر جو صورتحال یہاں چل رہی تھی۔ مجھے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر آنا پڑا۔"
" صیح ۔"عافین نے ان کے طعنوں کا نوٹس لیے بغیر کہا
"مجھے لگتا ہے اب مجھے خود ہی کچھ کرنا پڑے گا ۔تم تو اپنی پاکستان آمد کا مقصد سرے سے ہی فراموش کر چکے ہو ۔"
"جانتا ہوں یار ڈیڈ مگر ہم کر بھی کیا سکتے ہیں۔ آپ نے بات کی ۔میں نے کی اور تو اور اس کے روبرو جا کر بھی بات کر آیا ہوں۔ اب اگر وہ نہیں مان رہا تو کیا کر سکتے ہیں ۔عافین نے بیٹھتے ہوئے کہا۔ اس کے چہرے پر انتہا کی بیزاریت چھائی تھی
"کیا مطلب ؟ کیا کر سکتے ہیں ؟میں تمہیں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اس کو راستے سے ہٹا دیتے ہیں اور نیا جو بھی آئے گا اس کو خرید لیں گے ہر کوئی ایک جیسا نہیں ہوتا ۔"
"یہ اتنا بھی آسان نہیں ہے ڈیڈ کسی کی جان لینی ہے کوئی چھوٹی بات تو نہیں ۔آپ رہنے دیجیے میں دیکھ لوں گا ۔"عافین نے انہیں ٹالا
"عافین مجھے تمہارے انداز کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے ۔سچ سچ بتاؤ کیا چل رہا ہے تمہارے دماغ میں ۔"اس کی بیزاریت اور لاپرواہی دیکھ کر وہ کھٹکے ۔
"پلیز ڈیڈ میرا موڈ بہت اچھا ہے۔ اس لیے ابھی خراب مت کریں۔ پھر بات ہو گئی ۔میں سونے جا رہا ہوں ۔"انہیں ہکا بکا چھوڑتا وہ اپنے کمرے میں چلا گیا ۔
"میرے بعد کچھ تو ایسا ضرور ہوا ہے جو نہیں ہونا چایئے تھا ۔" نواز عالم نے اس کی پشت دیکھتے ہوئے سوچا۔
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
"یہ گھر میں چل کیا رہا ہے ? "چھجے پر بیٹھی امثال سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی. صبح ہی عائشہ شہریار کے ساتھ کہیں باہر گئی تھی جب اس نے پوچھا تو عائشہ نے کافی روکھے انداز میں کہا کہ ہر بات اسے بتانی ضروری نہیں ہوتی ۔اس کے بعد سانیہ شامین اور رامین دریاب کے ساتھ گئیں تھی ۔ان سے پوچھا تو انہوں نے بھی کام کا بول دیا ۔ابھی وہ اسی سوچ میں بیٹھی تھی کہ بازل اسے پکارتا ہوا اندر آیا مگر اپنی سوچوں میں مگن وہ اس کی آواز نہ سن سکی ۔بازل کی اس پر نظر پڑی تو وہ اس کے پاس آ بیٹھا
"کون سا تیزاب ایجاد کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہو؟"
" گھر میں کچھ چل رہا ہے کیا ؟"اس کی بات کا نوٹس لیے بغیر اس نے کہا
" مجھے تو نہیں پتہ۔ کیا چل رہا ہے ؟"
"پتہ نہیں۔ ایک آتا ہے۔ دوسرا جاتا ہے ۔کچھ سمجھ نہیں آ رہا ,اگر پوچھو تو ایسے جواب دیتے ہیں جیسے جانتے ہی نہیں ہیں ۔"
"چھوڑو پتہ چل ہی جائے گا ۔تم یہ بریانی کھاؤ ۔"بازل نے ہاتھ میں پکڑا چھوٹا سا ڈبہ اسے پکڑایا
"واؤ !یہ کہاں سے لائے ؟"اس نے ڈبہ کھولتے ہوئے پوچھا
"میں واپس آ رہا تھا کہ راستے میں ایک آدمی گھر کے باہر بیٹھا بانٹ رہا تھا ۔پہلے تو میں نے ڈٹ کر کھائی اور آتے ہوئے اسے کہا کہ میری بہن کے لیے بھی دے تو اس نے پیک کر دی اور ہاں ڈبہ سنبھال کر رکھنا واپس کرنا ہے ۔"
"آآآ تھینک یو .کتنے اچھے بھائی ہو تم ۔"جس ہاتھ سے وہ کھا رہی تھی اسی سے اس کا گال کھینچا
"دفع ہو موٹی۔ میرا منہ خراب کر رہی ہو۔"بازل نے اس کا ہاتھ جھٹکا ۔تھوڑی دیر بعد زروا ان کے پاس آئی اور ان دونوں کو اٹھا کر اندر لے گئی
رات بارہ بجنے میں پانچ منٹ رہتے تھے جب امثال کا فون بجا ۔اس نے آنکھیں کھولیں تو عادل کی جگہ خالی پائی ۔
"یہ ابھی تک نہیں آیا۔ کمال ہے اتنی رات کو کہاں جا سکتا ہے ۔" بڑبڑاتے ہوئے اس نے موبائل اٹھایا ۔عدید کی کال آتی دیکھ کر تشویش زدہ ہوتے اس نے فون اٹھایا
"ہاں عدی کیا ہوا خیریت ہے؟"
" شہری بھائی کی طبعیت بہت خراب ہے ۔ تم جلدی سے نیچے آؤ ۔"عدید کے کہنے کی دیر تھی وہ فون پھینکتی بغیر جوتے کے باہر کی جانب دوڑی
"کیا ہوا ہے! ژلے بھائی کہاں ہیں ؟"پیچھے سے آتی بازل کی آواز پر اس نے مڑ کر دیکھا
"پتہ نہیں عدی کی کال آئی تھی, کہہ رہا تھا کہ شہری بھائی کی طبعیت خراب ہے ۔"امثال رونے والی ہو گئی تھی
"مجھے بھی اسی نے کال کی ہے مگر یہاں تو کوئی نہیں ہے۔" بازل نے پریشانی سے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
"تم پریشان مت ہو ، آؤ نیچے جا کر دیکھتے ہیں ۔"بازل نے اس کو تسلی دیتے ہوئے کہا اور اس کا ہاتھ پکڑے نیچے آیا۔جیسے ہی وہ آخری سیڑھی پر پہنچے ایک دم سے ہال میں روشنی ہوئی
"ہیپی برتھڈے ٹو یو ۔"ساری ینگ پارٹی ایک دم سے ان کے سامنے آئی تو دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔سب کی وہاں موجودگی سے انہیں اتنے دن کے سسپینس کی سمجھ آئی تھی ۔امثال گہری سانس خارج کرتے ہوئے آخری سیڑھی پر بیٹھی ۔کچھ دیر تک خود کو پرسکون کرتے ہوئے اس نے سر اٹھا کر ان سب میں عدید کو ڈھونڈا
"عدی کہاں ہے؟"اس کو نہ پا کر اس نے اٹھتے ہوئے پوچھا
"ابھی تک تو یہیں تھا۔ اب پتہ نہیں کہاں گیا ۔کیوں اسے کیا کہنا ہے ۔"شہریار نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا
"تم کیک تو کاٹو نہ ۔"عائشہ ان دونوں کو ٹیبل کی طرف لے کر آئی ۔اس دوران عدید بھی کہیں سے نکل کر آ گیا تھا ۔کیک کاٹ کر دونوں نے باری باری سب کو کھلایا ۔عدید کی باری آئی تو امثال نے بازل کو اشارہ کیا ۔ وہ باقی بچا کیک اٹھا کر لے آیا اور لا کر اس کے سر پر الٹ دیا
"کیا کر رہے ہو؟ چھوڑو مجھے۔ "بازل کو اپنے ہاتھ پکڑتا دیکھ کر وہ چیخا
"تمہیں جھوٹ بولتے ہوئے زرا خیال نہیں آیا ۔پتہ ہے میں کتنا ڈر گئی تھی ۔"امثال نے اس کے بالوں سے کیک اتار کر اس کے منہ پر مل دیا
"بالکل مجھے تو دھچکا ہی لگا تھا کہ بھائی شام میں تو اچھے بھلے تھے ۔ اچانک اتنی رات کو کیا ہو گیا ۔"بازل نے پانی کا جگ اٹھا کر اس پر انڈیلا
"بھائی ۔"عدید نے خود کو گھرا پا کر آخری سہارے کے طور پر شہریار کو آواز دی ۔
"اس بار معاف کر دو آئندہ ایسا نہیں کرے گا ۔"شہریار نے ہنستے ہوئے کہا تو دونوں اسے چھوڑ کر پیچھے ہٹے
"توبہ ہے جنوں کی طرح چمٹ جاتے ہیں ۔" وہ سدرہ کے دوپٹے سے اپنا منہ صاف کرتے ہوئے بولا۔سدرہ نے دوپٹہ کھینچتے ہوئے اسے آنکھیں دکھائیں تو اس نے کندھے اچکا دیے
"واپس آؤ ۔ تم ساری پارٹی ایسے ہی اٹینڈ کرو گے ۔" امثال نے اس کو کمرے کی طرف جاتا دیکھ کر امثال نے اس کو روکا تو وہ منہ لٹکائے ان کے ساتھ آ بیٹھا
"اتنے دنوں کا سسپینس رکھا ہوا تھا اور صرف کیک پر ٹرخا رہے ہو ہمارے گفٹس لاؤ ۔ "بازل نے ہاتھ پھیلایا
"کس خوشی میں؟"امان نے ابرو اچکائے
"ہماری سالگرہ کی خوشی میں ۔" بازل نے فخر سے کہا
"تو پیدا ہو کر کون سا ہم پر احسان عظیم کیا ہے ۔ الٹا ہماری زندگیاں حرام کی ہوئیں ۔"صدام نے ان کی خوشی پر پانی پھیرا
"یہ بھی کسی کسی کا ٹیلنٹ ہوتا وہ بات نہیں سنی کہ کچھ لوگ زندگی میں صرف زندگی حرام کرنے کے لیے آتے ہیں۔"امثال قہقہ لگاتے ہوئے بولی
"اور تم لوگ اس پر پورا پورا عمل کرتے ہو۔"
"اچھا بھئی دو ہمارے گفٹس ورنہ ہم نے خود اٹھا لینے ہیں ۔"امثال نے ایک سائیڈ پر پڑی ٹیبل پر پڑے گفٹس دیکھتے ہوئے کہا
"یہ لو یہ میری طرف سے ہے ۔"زریاب نے ایک فائل ان کی طرف بڑھائی
"یہ کیا ہے؟" بازل نے فائل کھول کر دیکھتے ہوئے پوچھا
"گاؤں کے ہوسپیٹل کے لیے گورٹمنٹ کی طرف سے منظوری اور ایٹی پرسنٹ تک فنڈ بھی مہیا کریں گے۔"
"واقعی ہی ۔"وہ دونوں اچھلے ۔وہ پچھلے کئی دنوں سے کوششوں میں تھے مگر ان کو منظوری نہیں مل رہی تھی
"تھینک یو سو مچ بھائی ۔"دونوں نے یک زبان ہو کر کہا
"اب ہم سب ان کی طرح بڑا تو گفٹ نہیں دے سکتے مگر یہ چھوٹا سا گفٹ ہماری طرف سے ۔"صدام نے کہتے ہوئے ایک ایک گفٹ انہیں دیا ۔باقی سب نے بھی باری باری اپنے اپنے گفٹس دیے
"ژلے کل بچوں کے ساتھ ایک چھوٹی سی پارٹی ارینج کی ہے صبح نو بجے تم دونوں پہنچ جانا ۔پے میں کر چکی ہوں ۔"عائشہ نے ایک ریسٹورینٹ کا نام بتاتے ہوئے تاکید کی
"واقعی ہی بھابھی !تھینک یو سو مچ آپ نے ارینج کر دی ورنہ ہم غریبوں کو اپنے پلے سے خرچا کرنا پڑتا۔ ویسے ہمارا گفٹ کہاں ہے ۔"بات کرتے کرتے اسے اپنا گفٹ یاد آیا
"چار سے پانچ گھنٹے کے لیے پورے ریسٹورینٹ کی بکنگ کو گفٹ ہی کہتے ہیں پاگل لڑکی ۔"عائشہ نے مسکراتے ہوئے کہا
"اوہ واو ! مجھے آپ کا گفٹ سب سے زیادہ اچھا لگا۔ پچھلی بار اپنے جیب سے کی تھی سکول میں ہی بس کیک کاٹ لیا تھا۔ لگتا ہے اس بار بہت مزہ آنے والا ہے ۔"ایکسئاٹمنٹ سے امثال کی آنکھیں پھیلیں
"ویسے جہاں تم لوگوں کے اتنے نقصان ہیں۔ وہیں آج ایک اور نقصان ہمارے سامنے آیا ہے کہ ایک کیک پر دو لوگوں کو گفٹس دینے پڑے ہیں۔ "دریاب نے ان دونوں کے سامنے گفٹس کا ڈھیر لگے دیکھ کر کہا
"خبردار جو اچھی یا بری نظر رکھی تو ۔"بازل نے مصنوعی سنجیدگی سے کہتے ہوئے دونوں ہاتھ اپنے گفٹس پر رکھے
"ژلے آپی یہ سب تو امیر امیر لوگ ہیں اس لیے اچھے اچھے گفٹس دیے ہیں۔ میں تو غریب سی سٹوڈنٹ ہوں ۔"اس لیے میری طرف سے یہ چاکلیٹس ہی قبول کر لیں زروا اپنے کمرے سے چاکلیٹ کا پیک اٹھا لائی
"ارے نہیں میری شونو مونو انفیکٹ تمہارا گفٹ مجھے سب سے زیادہ پسند آیا ۔"امثال نے اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے مسکرا کر کہا
"اوئے تم مجھے بھول گئی۔ بس ایک ہی گفٹ لائی ہو۔ میرا کہاں ہیں۔" بازل نے اس کو واپس بیٹھتے دیکھ کر پوچھا
"میں تو بس آپی کے لیے ہی