19/09/2026
ضلع کوٹ ادو، احسان پور موضع ہنجرائی درمیانی میں پیش آنے والا یہ واقعہ ایسا ہے کہ دل اسے ماننے کو تیار نہیں اور آنکھیں اسے سن کر اشکبار ہو جاتی ہیں۔
ایک بھینس روز کی طرح گھاس چَرنے وہاں آئی تھی۔ اسے کیا معلوم تھا کہ چند لمحوں بعد اس کے لیے زمین کے نیچے ایک ایسی قبر تیار ہونے والی ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔
ایک شخص نے اسے پکڑا، مین ہول کا ڈھکن ہٹایا، اس بے زبان جانور کو اندر گرا دیا اور پھر اوپر سے مین ہول بند کر دیا۔
وہ ایک دن نہیں… تین دن تک اسی اندھیرے میں قید رہی۔
نہ پانی، نہ خوراک، نہ باہر نکلنے کا راستہ، نہ اپنی تکلیف کسی کو بتانے کی زبان۔
پھر تیسرے دن جب مالکوں کو اس کا پتا چلا اور مین ہول کا ڈھکن اٹھایا گیا تو اندر ایک زندہ جان نہیں، ایک بے زبان لاش پڑی تھی۔
ذرا سوچیں…
ان تین دنوں میں اس معصوم نے کتنی بار باہر نکلنے کی کوشش کی ہوگی؟
کتنی بار اس نے اپنے مالک کو ڈھونڈا ہوگا؟
کتنی بار اس کی آنکھیں اندھیرے میں کسی مدد کے منتظر ہوئی ہوں گی؟
اور جس شخص نے اسے وہاں گرایا تھا، وہ شاید اپنی زندگی میں معمول کے کام کرتا رہا ہوگا…
مگر کیا کبھی ایک لمحے کے لیے اس کے دل نے یہ سوال نہیں کیا ہوگا:
"میں نے ایک بے زبان کے ساتھ کیا کیا؟"
اے انسان! اگر تمہیں اپنی طاقت پر غرور تھا تو اس بے زبان کے سامنے طاقت دکھانے کے بجائے اسے چھوڑ دیتے۔
وہ تم سے لڑ نہیں سکتی تھی، تمہیں عدالت میں نہیں لے جا سکتی تھی، تمہارے ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکتی تھی۔
مگر یاد رکھو… بے زبان کی خاموشی کو کمزوری مت سمجھنا۔
اس کی آنکھوں میں جو خوف تھا، اس کی تکلیف میں جو آہ تھی، وہ تم سے کہیں زیادہ طاقتور عدالت تک پہنچ سکتی ہے۔
کاش مین ہول کا ڈھکن بند کرنے سے پہلے تم نے ایک لمحے کے لیے سوچا ہوتا کہ اگر یہی اندھیرا تمہارا مقدر بنا دیا جائے تو تم کیسا محسوس کرو گے؟
یہ صرف ایک بھینس کی موت نہیں…
یہ ہمارے ضمیر کے لیے ایک سوال ہے:
ہم کب اتنے بے حس ہو گئے کہ ایک بے زبان کی زندگی بھی ہمیں زندگی محسوس نہ ہوئی؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے اس شخص کا نام لکھنے میں بھی شرم محسوس ہو رہی ہے!