11/06/2021
۔ کنسٹرکشن گائیڈ
(پہلی قسط)
نقشہ کی اقسام
نقشہ تین قسم کا ہوتا ہے، ہائوس پلان، ایلیویشن اور اسٹرکچرل ڈرائینگ ۔
ہائوس پلان سے مراد ہے کہ آپکے منتخب کردہ انجینیئر صاحب آپکے پلاٹ کی پیمائش کے مطابق آپکی ضروریات اور پسند کو مدنظر رکھتے ہوئے کمرے, باتھ روم، کچن، ڈرائنگ روم کارپورچ وغیرہ ڈیزان کریں گے کہ پلاٹ کی کونسی طرف کتنے سائز کا کمرہ ہوگا، اگر آپکی ڈیمانڈ ہے کہ اٹیچ باتھ روم ضروری یے تو وہ کہاں بنے گا اور اسکا سائز کیا ہوگا، کچن کا سائز کیا ہوگا، ہوا اور روشنی کا بندوبست کہاں کیسے کیا جائے گا، ایگزاسٹ کہاں سے ہوگا کہ گھر میں گرمی نہ ہو وغیرہ۔ خیال رہے اگر آپ کے پلاٹ کے کونے مناسب نہیں ہوں یا اگر آپکا پلاٹ بد گنیا ہو یعنی کون ہو تو اسکو بھی آپکے منتخب کردہ انجینیئر صاحب اس طرح سے ڈیزائن کریں گے کہ اسکا کم سے کم نقصان ہو اور گھر بن جانے کے بعد وہ کم سے کم نمایاں رہے۔
نقشے کی دوسری قسم ہے ایلیویشن جسے فرنٹ ویو بھی کہا جاتا ہے، اسکا بنوانا آپکی اپنی مرضی ہے اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپکا گھر علاقے کے باقی تمام گھروں میں ممتاز نظر آئے اور آپکی حسب منشاء خوبصورت ہو تو کرائیں ورنہ بےشک نہ کرائیں۔
نقشے کی تیسری قسم ہے اسٹرکچرل ڈرائنگ، پاکستان میں اس ڈرائنگ کا تصور صرف بہت بڑے پراجیکٹس مثلا بہت بڑے شادی ہال, ملٹی اسٹوری بلڈنگز، سرکاری بلڈنگز یا بحریہ، ڈی ایچ اے جیسی ہائوسنگ سوسائٹیز وغیرہ میں ہے ورنہ عام گھروں یا پلازوں میں اسٹرکچرل ڈیزائن نہیں کرایا جاتا اور ٹھیکیدار صاحب اپنی مرضی سے ہی کام کرلیتے ہیں، اس نقشے میں بلڈنگ یا گھر میں استعمال ہونے والا سریا ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ سریا کتنا موٹا ہوگا وہ کتنے کتنے فاصلے پر ڈلے گا، اسی طرح سمینٹ اور میٹیریل کی ریشو بھی اس ڈیزائن کا حصہ ہوتی ہے۔
یاد رکھیں گھر آپ بناتے ہیں اور اسے بیچتے آپ کے بچے ہیں۔ گھر زندگی میں ایک ہی بار بنتا ہے لہذا “ہائوس پلان” والا نقشہ ضرور بنوائیں تاکہ متعلقہ انجینیئر صاحب آپکے پلاٹ، آپکی ضروریات اور آپکی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے آپکو بہترین سیٹنگ و ترتیب بنا کر دیں۔
ٹھیکیدار سے کام کروانا
ہمارے ایک عموما ایک سوچ یہ پائی جاتی ہے کہ ٹھیکیدار تو لوٹتے ہیں یا وہ کرتے بھی کیا ہیں اور جتنا ہوسکے ٹھیکیداد ہائر کرنے کے بجائے کام خود کرنا چاہیئے۔
یاد رکھیئے ہر شعبے میں اچھے برے لوگ ہوتے ہیں لیکن سب کو ایک ہی نظر سے دیکھنا انتہائی نامناسب ہے۔ (اچھا بلڈنگ ٹھیکیدار ہائر کرنے کا آسان طریقہ ہے کہ آپ اپنے علاقے میں موجود کم از ہم چار پانچ ٹھیکیدار صاحبان سے اپنا کام بتا کر ریٹس لیں اور پھر جو مناسب لگے اسے کہیں جناب آپ نے آج تک جو کوئی پراجیکٹ کیا ہے اسکا وزٹ کرادیں، انکا کیا کام دیکھ کر آپکو کافی حد تک انکے کام کے معیار کی بابت معلوم ہو جائے گا)۔اگر آپ کا ٹھیکیدار انجینیئر بھی ہو تو اور بھی اچھا ہے۔ ممکن ہو تو پروجیکٹ کے مالک سے بھی ملیں اور پوچھیں کہ آپکے ٹھیکیدار صاحب پیسوں کے لین دین اور دیگر معاملات میں کیسے ہیں اب اگر ان کے ساتھ ٹھیکیدار صاحب کا معاملہ اچھا رہا ہوگا اور اس نے پراجیکٹ مالک کوتنگ کیے بغیر اچھا کام کیا ہوگا تو مالک خود انکی تعریف کرے گا۔ یہاں یہ بات ہرگز مت بھولیے گا کہ ضروری نہیں کہ جو بلڈنگ ٹھیکیدار سستا ہوگا وہی اچھا ہوگا۔
بلکہ آپ اسے بات کا دھیان رکھیں کہ آپ کا ٹھیکیدار مناسب معاوضہ لے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ٹھیکیدار حضرات مالک کو سامان کے اخراجات تو کم بتاتے ہیں جب کہ اپنا معاوضہ پورا لیتے ہیں۔ جبکہ کام ابھی پورا نہیں ہوا ہوتا اور مالک کے پیسے ختم ہو جاتے ہیں اور وہ پریشان ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک دوسرا فراڈ یہ ہوتا ہے کہ ٹھیکیدار انتہائی کم معاوضہ بتا کر کام تو لے لیتے ہیں مگر بعد میں کام کا معیار گرا دیتے ہیں یا کام ادھورا چھوڑ کر معاوضہ بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں نقصان مالک کا ہوتا ہے۔
اک بلڈنگ کنسٹرکشن کرواتے وقت مناسب ٹھیکیدار ہائر کر لیا جائے تو بہت سے مسائل، سردردی اور وقت کے ضیاع سے بچا جا سکتا ہے جبکہ تجربہ کار ٹھیکیدار سے کام کروانے کی صورت میں کام کا معیار بھی بہتر ہوجاتا ہے اور ٹھیکیدار آپ سے انہی چیزوں کے ہی پیسے چارج کرتا ہے جو اسکا حق ہے۔
عام کلائنٹ کو یہ سمجھنا چاہیئے کہ آپ نے کبھی کبھار یا زندگی میں فقط ایک بار گھر بنانا ہے جبکہ ٹھیکیدار صاحب یہ کام روزانہ کی بنیاد پر کرتے ہیں لہذا وہ آپ سے بہتر جانتے ہیں کہ کام کاج میں موجود تکنیکی مسائل کو کیسے حل کرنا ہے، مختلف شعبوں کی لیبر سے کیسے کام لینا ہے، کونسے شعبے کے لوگ کہاں سے ملیں گے جو مناسب پیسوں میں معیاری کام کرتے ہوں، نیز یاد رکھیئے ایک چھوٹا سا گھر بنانے کے لیے بھی بلڈنگ ٹھکیدار کے پاس اپنی ذاتی پیسوں سے خریدے گئے مختلف اوزار اور چیزیں ہوتی ہیں (مثلا، بیلچے، کڑاہیاں، پھٹے، بانس، ریڑھیاں وغیرہ)۔
اب ایک آدمی جس کا بلڈنگ کنسٹرکشن سے کوئی تعلق نہیں ہے اسے یہ بھی نہیں پتہ کہ ایک کمرہ گنیا کیسے کیا جاتا ہے، شٹرنگ، سریے، چنائی، پلستر وغیرہ کے کاموں میں کیا کیا باریکیاں ہوتی ہیں وہ کیسے معیاری کام کروا سکے گا ؟ اور بلڈنگ کنسٹرکشن میں موجود مختلف چھوٹے ٹھیکیداروں اور مستری مزدوروں کو کیسے سنبھال سکے گا ؟ اب اگر یہ کام ایک عام آدمی کے بس کی بات ہوتے یا یہ کام اتنے ہی آسان ہوتے تو جناب پوری دنیا میں کوئی بلڈنگ ٹھیکیدار سرے سے موجود ہی نہیں ہوتا۔ لہذا جس کا کام اسی کو ساجھے تو جب بھی آپ بلڈنگ کنسٹرکشن کریں تو ٹھیکیدار ضرور ہائر کریں، کہیں ایسا نہ ہو کے تھوڑے پیسے بچانے کے چکر میں آپ دگنے خرچ کر بیٹھیں اور کام بھی انتہائی غیر معیاری ہو۔
اگلی قسطوں کیلئے ہمارے پیج کو فالو کریں جس میں ہم ٹھیکے کی اقسام اور سریے کی خریداری پر بات کریں گے۔