05/08/2026
# *"لوگ کیا کہیں گے؟"**
**یہ صرف ایک جملہ نہیں... بلکہ لاکھوں خوابوں کا قاتل ہے!** 💔
کتنی بیٹیاں اپنی خواہشیں دفن کر دیتی ہیں...
کتنے نوجوان اپنے خواب چھوڑ دیتے ہیں...
کتنے لوگ اپنی پوری زندگی صرف اس خوف میں گزار دیتے ہیں کہ **"لوگ کیا کہیں گے؟"**
ذرا سوچیں...
اللہ تعالیٰ نے آپ کو **صرف ایک زندگی** عطا کی ہے۔ 🤲
پھر آپ اپنی خوشیوں، اپنے فیصلوں اور اپنے سکون کی چابی دوسروں کے ہاتھ میں کیوں دے دیتے ہیں؟
ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنی خوشی سے زیادہ لوگوں کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں۔ ہم اپنی خواہشوں کا گلا گھونٹ دیتے ہیں، صرف اس لیے کہ کہیں کوئی تنقید نہ کر دے، کہیں کوئی انگلی نہ اٹھا دے، کہیں لوگ ہمیں اپنی مرضی کے مطابق جینے کی اجازت نہ دیں۔
یاد رکھیں!
**لوگوں کو خوش کرتے کرتے پوری زندگی گزر سکتی ہے، لیکن لوگ پھر بھی خوش نہیں ہوتے۔**
اصل سکون اس دن ملتا ہے جب انسان دنیا کی رضا نہیں، *اللہ کی رضا* کو اپنی منزل بنا لیتا ہے۔ ❤️
آج ہمارے معاشرے میں بے سکونی، ذہنی دباؤ اور اضطراب کی `ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم نے اپنے دل دنیا سے جوڑ لیے ہیں، اپنے رب سے نہیں۔`
`سرفراز بزمی نے کیا خوب فرمایا:`
**اللہ سے کرے دُور، تو تعلیم بھی فتنہ*
*املاک بھی، اولاد بھی، جاگیر بھی فتنہ*
*ناحق کے لیے اُٹھے تو شمشیر بھی فتنہ*
*شمشیر ہی کیا، نعرۂ تکبیر بھی فتنہ**
اس لیے اپنی خوشیوں کو لوگوں کی واہ واہ سے نہیں، **اللہ کی رضا سے جوڑ لیجیے۔**
یقین مانیں، جس دن آپ نے دنیا کے ڈر سے زیادہ اللہ پر بھروسہ کرنا سیکھ لیا، اسی دن حقیقی سکون آپ کا مقدر بن جائے گا۔ ❤️🤲
**اب ذرا خود سے ایک سوال کیجیے...**
**کیا میں واقعی اپنی زندگی اپنی مرضی سے جی رہا ہوں، یا آج بھی میری زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ "لوگ کیا کہیں گے؟" ہی کر رہے ہیں؟**