23/05/2026
🌸✨ بادشاہ اور بہلول دانا ✨🌸
ایک دن ایک بادشاہ اپنے محل کی چھت پر ٹہل رہا تھا۔ اسی دوران اس کی نظر دجلہ کے کنارے سے گزرتے ہوئے بہلول دانا پر پڑی۔ بادشاہ کے دل میں خیال آیا کہ آج بہلول سے ملاقات کی جائے۔
اس نے فوراً خادموں کو حکم دیا:
“بہلول کو ہمارے پاس حاضر کیا جائے!”
محل کی چھت سے ایک ڈولی نیچے لٹکائی گئی۔ سپاہیوں نے بہلول کو اس میں بٹھایا اور چند لمحوں میں رسی کھینچ کر اوپر لے آئے۔ تھوڑی ہی دیر میں بہلول بادشاہ کے سامنے موجود تھا۔
بادشاہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا:
“بہلول! ایک بات بتاؤ… تم خدا تک کیسے پہنچے؟”
بہلول نے مسکرا کر جواب دیا:
“بادشاہ سلامت! جیسے میں آپ تک پہنچا ہوں۔”
بادشاہ حیران ہوا اور بولا:
“یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی!”
بہلول نے کہا:
“بات تو بہت سادہ ہے۔ اگر میں خود آپ سے ملنے آتا تو پہلے دربانوں کے پاس جاتا، پھر درخواست دیتا، پھر کئی واسطوں سے گزر کر شاید آپ تک رسائی ملتی۔ پھر آپ کی مرضی ہوتی کہ ملاقات کا وقت دیتے یا نہیں۔ تین مہینے، چھ مہینے یا شاید ایک سال بعد کا وقت ملتا۔ اور اگر اس دن کوئی اور مصروفیت آ جاتی تو میری ملاقات پھر مؤخر ہو جاتی۔ ممکن تھا کہ برسوں گزر جاتے اور ملاقات نہ ہو پاتی۔
لیکن جب آپ نے خود چاہا، تو دو گھڑیاں بھی نہ لگیں اور میں آپ کے سامنے حاضر تھا۔
اسی طرح بندہ اگر اپنی کوششوں پر رہے تو شاید کروڑوں سال بھی قرب حاصل نہ ہو… مگر جب اللہ خود چاہے تو اللہ اور بندے کے درمیان فاصلے لمحوں میں مٹ جاتے ہیں
منقول
─────••●◎●••─────