Khuda Aor Ishq

Khuda Aor Ishq Live like A Candly Which Burn Itself, But Light To Others

29/11/2025

29/11/2025

*رب المشرقین و رب المغربین کی تفسیر*

سوال
السلام علیکم جیسا کہ ہم سب کو معلوم ہے کہ دنیا میں ایک ہی مشرق اور ایک ہی مغرب ہے۔ اور قرآن پاک میں بھی جابجا ایک ہی مشرق اور مغرب کا ذکر ملتا ہے۔ مگر سورۃ رحمن کی آیت نمبر ۱۷ میں اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ :سورۃ رحمن آیت نمبر ۱۷ ترجمہ: وہی دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا مالک (ہے) اس آیت میں اللہ تعالی دو مشرقوں اور دو مغربوں کو ذکر کر رہا ہے۔ براہ مہربانی اس کا تفصیل سے مدلل جواب عنائت کریں تاکہ میری کم علمی میں اضافہ ہو۔ سکے. والسلام

جواب
قرآن کریم میں لفظ مشرق اور مغرب، واحد، تثنیہ اور جمع تینوں صیغوں میں استعمال ہوا ہے، واحد کا صیغہ سورہ مزمل میں::رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لا إِلَهَ إِلا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلاتثنیہ کا صیغہ سورہ رحمٰن میں:رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِاور جمع کا صیغہ سورہ معارج میں آیا ہے:فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِچونکہ ہر روز سورج کا مطلع بدلتا رہتا ہے، ہر نئے روز سورج کے نکلنے اور اسی طرح غروب ہونے کی جگہ گزشتہ روز کی جگہ سے مختلف ہوتی ہے، چنانچہ اس آیت میں جمع کے صیغہ سے تعبیر فرمایا۔ اور واحد کے صیغوں میں جنس مشارق اور مغارب مراد ہے۔ اور جس آیت میں تثنیہ کے صیغے استعمال ہوئے ہیں وہاں مشرقین اور مغربین سے مراد خاص گرمی اور سردی دو موسموں کے مشرق اور مغرب مراد ہیں۔ کذا فی تفسیر ابن کثیر (492/7، ط: دار طیبۃ للنشر و التوزیع)۔تفسیر معارف القرآن میں ہے:" سردی اور گرمی میں آفتاب کا مطلع بدلتا رہتا ہے، اس لیے سردی کے زمانے میں مشرق یعنی آفتاب کے نکلنے کی جگہ اور ہوتی ہے اور گرمی کے زمانے میں دوسری، انہی دونوں جگہوں کو آیت میں مشرقین سے تعبیر فرمایا ہے، اسی طرح اس کے بالمقابل مغربین فرمایا، کہ سردی میں غروب آفتاب کی جگہ اور ہوتی ہے اور گرمی میں دوسری۔" (ص:247، ج:8، ط:دار الاشاعت)

فتویٰ نمبر : 143502200018

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

and

Live like A Candly Which Burn Itself, But Light To Others

29/11/2025

22/11/2025

*اگر میں تنہا فرض نماز پڑھوں تو کیا تکبیر پڑھنا ضروری ہے؟*

سوال:

اگر میں تنہا فرض نماز پڑھوں تو کیا تکبیر پڑھنا ضروری ہے؟

جواب نمبر: 67233

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 993-978/N=10/1437

اگر آپ فرض نماز کسی آبادی میں یا آبادی سے کچھ باہر کسی ایسی جگہ میں ادا کریں جہاں آس پاس کی کسی مسجد کی اذان کی آواز آتی ہے تو اذان یا اقامت سنت موٴکدہ نہیں، آپ اذان واقامت کے بغیر نماز پڑھ سکتے ہیں؛ کیوں کہ جب وہاں مسجد کی اذان کی آواز آتی ہے تو مسجد کی اذان واقامت دونوں آپ کے لیے کافی ہوں گی، البتہ اذان واقامت کے ساتھ ادا کرنا مستحب ہے۔ اور اگر آپ فرض نماز آبادی سے دور کسی ایسی جگہ ادا کریں جہاں مسجد کی اذان کی آواز نہیں آتی تو اقامت سنت موٴکدہ ہے اور اذان مستحب ہے، پس اقامت کا ترک مکروہ ہوگا اور اذان کا ترک صرف خلاف اولی ہوگا

(در مختار وشامی ۲ :۴۹، ۶۳، ۶۴، مطبوعہ: مکتبہ زکریا دیوبند)۔
واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

22/11/2025

عربی محاورہ

Address

Munsab
Mardan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khuda Aor Ishq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category