08/06/2026
*پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 میں 2026 کی تاریخی ترامیم: "کاغذ سے کلاؤڈ تک"*
*21 مئی 2026* کو پنجاب اسمبلی نے "The Punjab Land Revenue Amendment Act 2026" منظور کر کے 1967 کے 58 سال پرانے نظام کی جڑیں ہلا دیں۔ یہ ترامیم محض الفاظ کی تبدیلی نہیں، بلکہ پنجاب کی 6 کروڑ عوام کی زمین کا نظام "پٹواری کلچر سے ARC کلچر" کی طرف شفٹ کر گئی ہیں۔
*1. مسئلہ کیا تھا؟ 3 بڑی بیماریاں*
1. *تاخیر*: وراثتی تقسیم 20-25 سال۔ "دادا کا کیس، پوتا لڑ رہا تھا"
2. *بدعنوانی*: انتقال = پٹواری کی جیب۔ بغیر 20-50 ہزار کام نہیں ہوتا تھا
3. *لٹکاؤ*: AC کا فیصلہ → کلکٹر اپیل → کمشنر ریویژن → بورڈ ریویژن → سول کورٹ۔ ایک کیس 4 فورم پر
*2. 2026 کا حل: 7 انقلابی تبدیلیاں*
*1. رجسٹری = انتقال*
اب رجسٹرار کی ڈیجیٹل اطلاع ملتے ہی زمین ریکارڈ خود اپ ڈیٹ ہو جائے گی۔ AC صرف 1 ماہ میں "تصدیق" کرے گا۔ پٹواری کے چکر ختم۔ PLRA + ای-اسٹامپ + لینڈ ریکارڈ ایک ہو گئے۔
*2. تقسیم 60 دن میں، لازمی*
نئی دفعہ 142-A: وراثتی انتقال منظور ہوتے ہی AC کے پاس 60 دن کی ڈیڈ لائن۔ فیصلہ نہ کیا تو کیس خود کلکٹر کے پاس چلا جائے گا اور AC کے خلاف محکمانہ کارروائی۔ تاریخ پر تاریخ کا کھیل ختم۔
*3. AC کو مکمل اختیار*
دفعہ 44، 117، 141 کے تحت اب تحصیلدار خود:
- زمین کے عنوان کا تنازعہ سنے گا
- ناجائز قابض سے 10,000 جرمانہ لے کر قبضہ واپس دلائے گا
- حدبندی کرے گا، پولیس ساتھ لے جائے گا
*4. سول کورٹ کا دروازہ بند*
دفعہ 172: زمین کا ریکارڈ، انتقال، تقسیم، حدبندی - یہ سب "ریونیو کا کام" ہے۔ سول کورٹ دخل نہیں دے سکتی۔ 30 سال کی فورم شاپنگ ختم۔
*5. جرمانے 200 گنا بڑھ گئے*
دفعہ 118: حدبندی میں رکاوٹ = 50 روپے سے 10,000 روپے
دفعہ 175-A: ریکارڈ میں جعل سازی = 500 روپے سے 1 لاکھ روپے
دفعہ 134: ریکارڈ میں ردوبدل = کلکٹر 10 لاکھ تک جرمانہ کرے گا
*6. "بھائی خود بانٹ لو" سکیم*
نئی دفعہ 135-A: ورثاء اگر آپس میں راضی ہیں تو 1 سال کے اندر "پرائیویٹ پارٹیشن اسکیم" AC سے تصدیق کروا لیں۔ AC صرف چیک کرے گا۔ نہ بانٹو تو AC 60 دن میں زبردستی بانٹ دے گا۔
*7. ڈیجیٹل نوٹس + ڈیجیٹل سروے*
دفعہ 6: سمن اب واٹس ایپ، SMS، ای میل پر بھی جائے گا۔ 7 دن کا وقت۔
دفعہ 119: موضع کی GPS/ڈرون سروے کا خرچہ مالکان دیں گے۔ نہ دو تو زمین سے وصولی۔
*3. عام آدمی کو کیا فائدہ؟*
1. *زمین بیچو*: رجسٹری کرو، گھر جاؤ۔ انتقال خود ہو جائے گا
2. *وراثت لو*: والد کے مرنے کے بعد 60 دن میں زمین اپنے نام + حصہ الگ
3. *قبضہ چھڑاؤ*: کسی نے زمین دبا لی؟ AC کو درخواست دو، وہ ناپ کر پولیس کے ساتھ واپس دلائے گا
4. *فراڈ سے بچو*: جھگڑے والی زمین پر AC فوراً "فروخت ممنوع" لگا دے گا۔ کوئی بیچ نہیں سکے گا
*4. نتیجہ: 1 لائن کا خلاصہ*
2026 کی ترامیم کا مقصد صرف ایک ہے: *"زمین کا انصاف 120 دن میں، پٹواری کے بغیر، سول کورٹ کے بغیر"*۔
یہ ایکٹ 21 مئی 2026 سے پورے پنجاب میں نافذ ہے۔ اب اگر آپ کی زمین کا کوئی مسئلہ ہے تو وکیل کے بجائے تحصیلدار کے دفتر جائیں اور دفعہ 142-A کے تحت درخواست دیں۔ 60 دن کی ڈیڈ لائن قانون نے لکھ دی ہے۔
زمین اب کاغذ پر نہیں، کلاؤڈ پر ہے۔ اور انصاف اب فائل پر نہیں، ڈیڈ لائن پر ہے۔