18/03/2025
السلام و علیکم
زندگی باخیر
گزارش براۓ صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری صاحب
وزیر اعظم اسلامیہ جمہوریہ پاکستان جناب میاں شہباز شریف صاحب
قابل عزت محترمہ مریم نواز صاحبہ وزیر اعلی پنجاب صاحبہ
جناب اعلی۔
پاکستان میں دو قسم کے لوگ بڑے اطمینان سے ہیں‘ غریب اور امیر……
یہ جو درمیان والے ”مڈل کلاسیئے“ ہیں، صحیح بیڑا ان کا غرق ہوا ہے. یہ رکھ رکھاؤ سے لگ بھگ امیر لگتے ہیں لیکن حالت یہ ہوتی ہے کہ گھر میں آئے روز اس وجہ سے لڑائیاں ہوتی ہے کہ
گھی اتنی جلدی کیسے ختم ہوگیا.کپڑے روز روز کی مہنگائ آٹا گھی کے روز کے بڑھتے ہوۓ ریٹس اور سکول کالجز کا فیس اور ہر کام کیلیۓ اداروں کی مٹھائ
ہمارے ہاں قابل رحم اور قابل زکر بھی دو ہی طبقات ہیں‘ امیر اور غریب۔
امیر قابل عزت ہے کیونکہ اس کے پاس پیسہ ہے اور ملک کے سارے وسائل پر اس کس قبضہ ہےاور ساری آسائشیں اور ہر سہولت اور قرضے کی معافی دوسروں کے وسائل غضب کرنا زمینوں پے قبضے کرنااور قتل کرکے بھی اسکی قیمت ادا کرکے بچ جانا اور دوسرا طبقہ غریب قابل رحم ہے کیونکہ اس کے پاس پیسہ نہیں۔
پاکستان کا بجٹ آج تک سمجھ نہیں آیا کہ کون کیوں اور کس کو دیکھ کے بناتا خدارا میاں صاحب اس طبقہ کا خیال رکھیں اور بجٹ میں ایک عام آدمی بھی شامل کر لیا کریں جو آپ کی انتظامیہ کو بتا سکے کہ خالی پیٹ و خالی جیب کا درد کیا ہوتا کہ انسان خالی جیب چیزوں کو کیسے دیکھتا اور دیکھ کہ حاکم وقت کی پالیسیوں پے آہیں بھرتا
جناب والا
امیر کی دولت سے نہیں غریب کی آہ کو دیکھیں کیونکہ امیر کی دولت دنیاوی چیز لیکن جب غریب کی آہ نکلتی تو آسمان کو چھوتی
درمیان میں جو سینڈوچ بنتا مڈل طبقہ ہے وہ بیچارا مڈل کلاس ہے۔امیر لوگ اسے غریب سمجھتے ہیں اور غریب لوگ امیر۔
یہ مڈل کلاسیا کون ہوتاہے؟
اس کے پاس بظاہر امیروں والی ہر چیز ہوتی ہے لیکن سیکنڈ ہینڈ۔
اس کے پاس نسبتاً بہتر گھر ہوتا ہے لیکن کرائے کا یا اسے دکھاوا کرنا پڑتا۔
گاڑی ہوتی ہے لیکن بیس تیس سال پرانی۔
کپڑے صاف ہوتے ہیں لیکن چلتے کئی
یہ اپنے بچوں کو پارک میں سیرو تفریح کے لیے لے کر جائے تو عموماً گھر سے اچھی طرح کھانا کھا کر نکلتا ہے۔
اس کے پاس اے ٹی ایم کارڈ تو ہوتا ہے لیکن کبھی پانچ سو ہزار سے زیادہ نکلوانے کی نہ ضرورت پڑتی ہے نہ ہمت۔
یہ دن رات کوئی ایسا بزنس کرنے کے ہوائی منصوبے بناتا ہے جس میں کوئی خرچہ نہ کرنا پڑے۔اور جو حکومتی قرضے کی سکیمیں آتی اس میں سٹیٹمنٹس کا چکر اور کسی کی ضمانت کا چکر ڈال کے پھر امیروں کو دی جاتیں دکھاوے کی گاڑی تو ہوتی وہ بجی قسطوں کی اور
اِس کی گاڑی صرف سردیوں میں بڑے کمال کی کولنگ کرتی ہے۔
"یہ جب بھی اپنے بیوی بچوں کو لے کر کسی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ جاتا ہے چھ افراد کی ساری فیملی کے لیے تین کھانوں کا آرڈر دیتا ہے.
رشتے دار آسے امیر سمجھ اکثر اس سے ادھار مانگنے آجاتے ہیں یا کم از کم تحائف کی توقع ضرور رکھتے ہیں.
یہ اپنی اوقات سے صرف 20فیصد اونچی زندگی گذارنے کی کوشش میں پستا رہتا ہے۔
اصل میں یہ غریبوں سے بھی بدتر زندگی گذار رہا ہوتا ہے۔
اس کی ساری زندگی کمیٹیاں ڈالنے اور بھگتانے میں گذر جاتی ہے۔اور اکثر کمیٹیاں عین نکلنے سے پہلے ہی ٹوٹ جاتی ہیں
پاکستان میں امیروں اور غریبوں سے کہیں زیادہ تعداد مڈل کلاسیوں کی ہے لیکن یہ کسی کھاتے میں شمار نہیں ہوتے۔ ہمارے ہاں ہر وہ بندہ مزے میں ہے جس کے پاس بہت سارا پیسہ ہے یا بالکل نہیں ہے۔
جس کے پاس پیسہ ہے وہ اے سی میں
سوجاتاہے۔
جس کے پاس نہیں وہ کسی فٹ پاتھ پر نیند پوری کر لیتا ہے۔
پیسے والا کسی سے کچھ نہیں مانگتا اور غریب ہر کسی کے آگے ہاتھ پھیلا کر کھڑا ہو جاتا ہے۔
رگڑا اُس کو لگتا ہے جس کے پاس پیسہ تو ہے لیکن صرف گذارے لائق۔
پورے ملک کی اشرافیہ کو ٹیکسوں کے زریعے اور غریبوں کی اکثریت کو یہ "مڈل کلاسیے"
ہی پال رہے ہیں۔کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ سب سے زیادہ خوف خدا بھی اِس مڈل کلاس میں ہی پایا جاتاہے۔
یہی کلاس سب سے زیادہ خیرات کرتی ہے۔ بعض اوقات تو ان کی اپنی زندگی غریب سے بھی بدتر گذر رہی ہوتی ہے لیکن انا کے مارے یہ بیچارے کسی کو بتاتے نہیں۔
آپ نے کبھی لوئر ایلیٹ کلاس یا
اپر ایلیٹ کلاس کی ٹرم نہیں سنی ہوگی۔
لوئر غریب یا اپر غریب بھی نہیں ہوتا صرف لوئر مڈل کلاس یا اپر مڈل کلاس کے الفاظ سننے کو ملتے ہیں۔
لوئر اور اپر میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہوتا‘ لوئر والے کے پاس موٹر سائیکل ہوتی ہے اور اپر والے کے پاس پرانے ماڈل کی کار۔نیندیں دونوں کی اڑی رہتی ہیں
عیدالاضحی پر قربانی کی استطاعت نہ رکھنے کے باوجود کسی اونٹ یا گائے میں حصہ ڈال لیتے ہیں۔
ان کی ساری زندگی گھر کی فالتو لائٹس آف کرنے اور بل کم کرنے کے منصوبے بناتے گذر جاتی ہے۔
یہ موبائل میں سو روپے والا کارڈ بھی پوری احتیاط سے استعمال کرتے ہیں اور گھر والوں کو آگاہ کیا ہوتا
ہے کہ ایک مسڈ کال دوں تو اس کا مطلب ہے میں آرہا ہوں۔ دو مسڈ کال دوں تو مطلب ہے میں ذرا لیٹ ہوں۔
یہ ایک دن کے استری کیے ہوئے کپڑے دو دن چلاتے ہیں۔
یہ ہر دو گھنٹے بعد شک دور کرنے کے لیے بجلی کے میٹر کی ریڈنگ چیک کرتے رہتے ہیں۔
یہ کبھی بھی اس قابل نہیں ہو پاتے کہ ایک ہی
مہینے میں بجلی، گیس اور پانی کے سارے بل اکٹھے ادا کرسکیں لہذا بجلی کا بل ادا کر دیں تو گیس کا بل اگلے مہینے پر ڈال دیتے ہیں۔
ان کی اکثریت چونکہ پڑھی لکھی بھی ہوتی ہے لہذا کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتی۔
ان کے پاس بیٹیوں کی شادی کرنے کے پیسے نہیں ہوتے.
اولاد کے لیے اچھی
نوکری کی سفارش نہیں ہوتی.
اس کے باوجود یہ کسی کو دکھ میں دیکھتے ہیں تو خود بھی آبدیدہ ہوجاتے ہیں۔
ان کی گھر کام کرنے والی غریب ماسی چونکہ دیگر مختلف گھروں میں بھی کام کرتی ہے اس لیے رمضان میں ہر گھر سے راشن کے نام پر لگ بھگ پچاس کلو آٹے سمیت چار
پانچ ماہ کا راشن اکٹھا کرنے میں کامیاب رہتی ہے۔ لیکن " مڈل کلاسئے" پریشان رہتے ہیں کہ اپنے گھر کے لیے جو پندرہ دن کا راشن لائے تھے، وہ ختم ہونے کے قریب ہے اور تنخواہ ملنے میں ابھی کافی دن باقی ہیں۔
زکوٰۃ غریبوں کو جاتی ہے۔
خیرات کے پیسے بھی کوئی غریب ہی لیتا ہے۔
فطرانہ بھی غریب کا نصیب بنتا ہے۔
لیکن غریب یہ سب لےکر بھی کوئی کام کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا کیونکہ اس نے طے کر لیا ہے کہ چونکہ وہ غریب ہے لہذا اس پر کسی قسم کی کوئی محنت فرض نہیں اور باقی سب کو چاہیے کہ وہ اسے مل جل کر پا لیں۔
بھکاری وہ واحد طبقہ ہے جو کبھی کسی کو بھیک نہیں دیتا
آپ کسی بھکاری کو ذرا کسی کام پر لگانے کی آفر کریں، آگے سے جو سننے کو ملے گا وہ آپ بہتر جانتے ہیں۔
لیکن مڈل کلاسیا کیا کرے؟
یہ نہ زکوٰۃ مانگتا ہے‘
نہ فطرانہ
نہ خیرات
۔یہ صرف کڑھتا ہے، سسکتا ہے
اور مرتا ہے..
ان الفاظ کا مان رکھیے اور سمجھیے خدارا مہنگائ کا بہت ہے زندگی گزارنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا جارہا
دعا گو # # فیروز کانجو