14/09/2026
اللہ سے بات منوانے کا آسان طریقہ
میں نے ایک سفید ریش بزرگ سے ایک سوال پوچھا
اللہ تعالیٰ سے بات منوانے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟"
وہ مسکرائے' قبلہ رو ہوئے' پاؤں لپیٹے' رانیں تہہ کیں ' " اپنے جسم کا سارا بوجھ رانوں پر شفٹ کیا اور مجھ سے پوچھا
"تمہیں اللہ سے کیا چاہیے؟"
ہم دونوں اس وقت جنگل میں بیٹھے تھے' حبس اور گرمی کا موسم تھا' سانس تک لینا مشکل تھا' میں نے اوپر دیکھا' اوپر درختوں کے پتے تھے اور پتوں سے پرے گرم' پگھلتا ہوا سورج تھا' میں نے مسکرا کر عرض کیا اگر بادل آ جائیں' ذرا سی ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں تو " "موسم اچھا ہو جائے گا
وہ ہنسے اور آہستہ سے بولے "لو دیکھو" وہ اس کے بعد بیٹھے بیٹھے رکوع میں جھکے اور پنجابی زبان میں دعا کرنے لگے
اللہ جی! کاکے کی دعا قبول کر لے' اللہ جی! ہماری سن " لے" وہ دعا کرتے جاتے تھے اور روتے جاتے تھے' پہلے ان کی پلکیں گیلی ہوئیں' پھر ان کے منہ سے سسکیوں کی آوازیں آئیں اور پھر ان کی آنکھیں چھم چھم برسنے لگیں' وہ بری طرح رو رہے تھے۔
میں ان کی حالت دیکھ کر پریشان ہو گیا' میں نے زندگی میں بے شمار لوگوں کو روتے دیکھا لیکن ان کا رونا عجیب تھا۔
وہ ایک خاص ردہم میں رو رہے تھے' منہ سے سسکی نکلتی تھی' پھر آنکھیں برستیں تھیں اور پھر "اللہ جی! ہماری سن لے" کا راگ الاپ بنتا تھا۔
میں پریشانی' استعجاب اور خوف کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ انھیں دیکھ رہا تھا' وہ دعا کرتے جاتے تھے' روتے جاتے تھے اور سسکیاں بھرتے جاتے تھے' میں نے پھر وہاں ایک عجیب منظر دیکھا۔
جنگل میں سورج کی موجودگی کے باوجود ہوا میں خنکی بڑھ گئی جس سے پسینہ خشک ہو گیا اور پتوں، شاخوں اور پودوں میں ایک ہلچل سی مچ گئی، اتنے میں بادل کا ٹکڑا سورج کے آگے آ گیا اور وہ شکر ادا کرنے لگے۔
ہمارے سر کے درمیان بن کر ٹھہر گیا وہ روتے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور شکر ادا کرنے لگے۔
اوہ دیر تک "اللہ جی!
آپ کا بہت شکر ہے' اللہ جی! آپ کی بہت مہربانی ہے " کہتے رہے' وہ دعا سے فارغ ہوئے' ذرا سا اوپر اٹھے' ٹانگیں سیدھی کیں اور منہ میری طرف کر کے بیٹھ گئے' ان کی سفید داڑھی آنسوؤں سے تر تھی' انھوں نے کندھے سے رومال اتارا' داڑھی خشک کی اور پھر بولے " دیکھ لو! اللہ نے اپنے دونوں بندوں کی بات مان لی"
میں نے ان کا ہاتھ پکڑا' چوما اور پھر عرض کیا "باباجی لیکن اللہ سے بات منوانے کا فارمولہ کیا ہے' اللہ کب' کیسے اور کیا کیا مانتا ہے ؟
وہ مسکرائے' شہادت کی دونوں انگلیاں آنکھوں پر رکھیں اور پھر بولے "
"یہ دو آنکھیں فارمولہ ہیں"
باباجی نے مزید بتایا کہ انہوں نے یہ فارمولہ اپنی ماں سے سیکھا تھا، جو بچپن میں ان کا رونا دیکھ کر تڑپ اٹھتی تھیں اور ان کی ہر بات پوری کر دیتی تھیں. اور میری خواہش، میری ضرورت بھی پوری کرتی تھی۔
میں ماں کی اس کمزوری کا جی بھر کر فائدہ اٹھاتا تھا، میں رو رو کر اس سے اپنی پسند کے کھانے بھی بنواتا تھا، اس سے نئے کپڑے اور نئے جوتے بھی لیتا تھا اور کھیلنے کے لیے گھر سے باہر بھی جاتا تھا۔
وہ رکے اور پھر آہستہ سے بولے "میں نے جب مولوی صاحب سے قرآن مجید پڑھنا شروع کیا تو مولوی صاحب نے ایک دن فرمایا۔
"اللہ تعالیٰ انسان سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے"
یہ فقرہ سیدھا میرے دل میں لگا اور میں نے سوچا،
'میں رو کر اپنی ایک ماں سے سب کچھ منوا لیتا ہوں،
اللہ اگر مجھ سے ستر ماؤں جتنی محبت کرتا ہے تو پھر میں رو رو کر اس سے کیا کیا نہیں منوا سکتا۔" وہ رکے اور بولے۔
بس وہ دن ہے اور آج کا دن ہے' میں روتا ہوں' اللہ کی ذات میں ستر ماؤں کی محبت جگاتا ہوں اور میری ہر خواہش' میری ہر دعا قبول ہو جاتی ہے!
جزاک اللہ۔۔
Everyone Products