Al Jannat

Al Jannat يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً ( 208 )البقرة.

آخر رومی میں ایسا کیا ہے کہ آج بھی امریکہ کا بیسٹ سیلر لکھاری ہے؟مسلم غیر مسلم ہر کوئی ان کے اقوال کیوں پوسٹ کرتا ہے؟کیو...
06/12/2025

آخر رومی میں ایسا کیا ہے کہ آج بھی امریکہ کا بیسٹ سیلر لکھاری ہے؟

مسلم غیر مسلم ہر کوئی ان کے اقوال کیوں پوسٹ کرتا ہے؟
کیوں 24 سال کی جوانی میں بڑی پوزیشن چھوڑی؟
اقبال، گلزار سے لے کر ہر کوئی کیوں ان سے انسپائرڈ ہے؟

اور سب سے اہم سوال کیا وہ ہم جنس تھے؟
یا ان کے خلاف ایک غلط فہمی عام ہے۔

(پری وارننگ: رومی کے سراپا عاشق یا نفرت کرنے والے اس پوسٹ کو سکپ کردیں۔ کیوں کہ یہاں نیوٹرل اور ریفرنس کے ساتھ تجزیہ ملے گا۔)

آج ہم مولانا جلال الدین رومی کی شخصیت کو جاننے کی کوشش کریں گے۔

رومی کی پیدائش بلغ (موجودہ افغانستان ) میں سن 1208ء میں ہوئی۔
ان کے والد بہائو الدین اپنے علاقے میں "سلطان العما" کہلاتے تھے۔
ویسے تو ان کی جائے پیدائش تصوف و فقہ و حدیث کا سینٹر سمجھی جاتی تھی۔

مگر رومی جب بمشکل گیارہ سال کا تھا۔
تب منگولیا سے چنگیز خان نے چڑھائی کردی۔

اور کم عمری میں ہی رومی کو ہجرتوں کا سفر نصیب ہوا۔

جب آپ نیشا پور پہنچے تو اک ٹیچر نے کہا:
"یہ بچہ سراپا آگ ہے۔
ایک دن دنیا کے دل میں عشق بھڑکائے گا۔"

ابھی آپ بمشکل 24 سال کے تھے کہ والدِ محترم کا انتقال ہوا۔
اور ان کے سکول میں چیف کے طور پہ مقرر کیا گیا۔
مگر اس عہدے اور علماء و کتب کے درمیان وہ مضطرب رہتے۔

ایک دن سب کچھ چھوڑ کر دور چل نکلے۔
اور ایک ایسے سخت استاد کے ہاتھ لگے۔

جنہوں نے ان سے 9 سال یہ کام کروائے:
1): خاموش رہنے کی عادت پہ لایا۔
2): نئے سکول کے ٹوائلٹس صاف کروائے۔
3): مہمانوں کے لیے لکڑیاں لانے کا کام کروایا۔
4): تندور جلانے سے مریضوں کے بستر بھی صاف کروائے۔

المختصر انہیں ایک سکول کے پرنسپل سے ہائوس کیپنگ پہ لے گے۔

خود سوچیں علم و ادب کا سمندر ایسے روزانہ کام کررہا تھا۔
کیا استاد (برہان الدین ترمذی) کسی خاص مقصد کے تحت کر رہے تھے؟

پھر ایک ایسا لمحہ آیا جسے تاریخ "مرج البحرین" کہتی ہے۔

یہ سال 1244ء کا اہم علمی واقعہ ہے۔
یعنی دو سمندروں کا ملنے والا لمحہ اور جس نے نئی دنیا تخلیق کی۔

کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں۔
اس رات آسمان پہ دو ستاروں نے اپنی جگہ بھی بدلی۔
رومی قونیہ میں مزے سے اپنے مریدوں کے ساتھ جا رہے تھے۔

سوالات، محبتوں اور مسائل کا ہجوم ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔

اتنے میں بکھرے بالوں والا اک درویش سامنے آیا۔
اس نے رومی سے سوال کیا:
"جلال الدین!
یہ بتائو کہ نبی کریم بڑے ہیں یا بایزد بسطامی؟"

رومی نے فورا مگر حیرت سے جواب دیا:
"یہ سوال ہی غلط ہے۔ حضور اکرم ﷺ اٖفضل ہیں۔"

اور منطق و سوال جواب کا سلسلہ چل نکلا۔
رومی نے سرپرائز ہوتے ہوئے پوچھا:
"آخر آپ کون ہیں؟"

جس پہ شمس تبریز نے کہا:
"میں وہ ہوں جو تمھیں تلاش کررہا ہوں۔
تم وہ ہو جسے میں نے برسوں سے پکارا ہے۔"

کہتے ہیں کہ رومی سمجھ گے تھے کہ سامنے کوئی سمندر آن پہنچا ہے۔
وہ گھر پہنچے تو کتابوں کو دیر تک کھلی آنکھوں بس دیکھتے رہے۔

اور گہری سانس لے کر کہنے لگے؛

"ایسے علم کا کیا فائدہ جو دل کو نہ جگائے۔
یہ تو بس الفاظ کا پہاڑ ہے جو میں لیے گھوم رہا۔"

دوسری ملاقات بازار کے ایک کیفے میں ہوئی۔

نئے استاد نے رومی کو کہا:
"علم اگر زبان تک رہے تو بوجھ ہے۔
علم اگر دل میں اتر جائے تو سراپا روشنی ہے۔"

تین سال تک دونوں کی رفاقت رہی ۔

ان سالوں میں رومی شاعر بن چکے تھے:
انہوں نے 3 ہزار غزلیں لکھیں۔
تقریبا 2ہزار رباعیات تحریر کیں۔
چھ والیم پہ مشتمل روحانی داستان "مثنوی" لکھی۔

کولمین بارکس نے امریکی سٹائل میں ان کی نظموں کو ڈھالا ہے۔
دو لاکھ سے اوپر اور 23 زبانوں میں ان کا ترجمہ کیا جاچکا ہے۔

ان کے بارے میں اک غلط فہمی بھی عام ہے۔
بہت سے تراجم کے بعد لوگ رومی و شمس کو ہم ج-نس ثابت کہتے ہیں۔
مگر پروفیسر فرانکلن لوئس نے اس پہ بھرپور وضاحت دی ہے۔
ان کے مطابق معشوق کا تصور فارسی شاعری کا رواج ہے۔

وہیں ابراہیم گامارد بھی اس تعلق کو سراپا روحانی کہتے ہیں۔

بلکہ قارین کو توجہ دلاتے کہ رومی کو پڑھیے۔مثلا:
"میری زندگی کا مقصد صرف خدا کے لیے روحانی ملاقات تھا۔
اور ایسی محبت تخلیق کرنا جس میں خواہش و ہوس نہ ہو۔"

آئیے رومی کے 3 فلسفوں پہ سوچ بچار کرتے ہیں:
1) : وحدت الوجود کے مطابق ہر شے میں اللہ کا عکس موجود ہے۔
اگر اسے حرف بہ حرف سمجھا جائے۔
تو سورۃ النساء (4:116) کے منافی جاتا ہے۔

جس میں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھرایا جائے۔
نتیجہ کے طور پہ ان اشعار علامتی سمجھنے سے مفہوم اوکے ہے۔
مگر ظاہری مفہوم سے توحید کا بنیادی فلسفہ چیلنج ہوتا ہے۔

2): رومی کہتے ہیں کہ اصلی محبت ہر نفس میں محبت تلاش کرنا ہے۔
اگر اس محبت کو مادی کی بجائے علامتی بریک ڈائون کیا جائے۔
تو اس فلسفہ میں امن، امید و محبت کا درس ملتا ہے۔

3): مولانا کہتے ہیں کہ دیکھنے والے تم ہو اور دیکھا جانے والا خدا ہے۔
اگر اسے "ہر چیز اللہ ہے" کے طور پہ لیا جائے۔
تو توحید کا اصول چیلنج ہوتا ہے۔

لیکن اگر اسے صرف ادیبانہ اور شاعرانہ انداز میں پرکھا جائے۔
تو محبوب کی جھلک بلکہ تجلی ہر جگہ ملنا محبت کی ایک سندر مثال ہے۔

ان کی ذاتی زندگی پہ بہت سے اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں۔
حقائق یا افسانوں کی بجائے میری رائے میں “سوچ” اہم ہے۔

پرسنل زندگی میں جج کرنے بیٹھے تو تاریخ میں انگلیوں پہ فرشتے ملیں گے۔

(ان کی سوچ پہ 3 اہم نکات اوپر پہلے ہی لکھ چکا ہوں۔)

مولانا کے تخلیق کیے گے 5 میرے فیورٹس خیالات درج ذیل ہیں:
1): شکر گزاری روح کی شراب ہے۔
آگے بڑھو اور مست ہوجائو۔

2): نیکی اور بدی کے تصورات کے اس پار ایک میدان ہے۔
میں تمھیں وہاں ملوں گا۔"

3): ہماری روحیں بھی سن سکتی ہیں۔
وہ کچھ ایسا سنتی ہیں جو عقل سے ماورا ہے۔

4): جب دنیا تمھیں گھٹنوں تک لے جائے۔
اس غم کے سمے دعا کرنا بہترین عمل ہے۔

اور یہ خیال کتنا پیارا ہے:
5): میں پرندوں کی طرح گاناچاہتا ہوں۔
یہ سوچے بغیر کے کون سن رہا ہے۔

المختصر شمس تبریز کے اچانک غائب ہونے پہ انہیں نے رقص سماع لایا۔
جس میں عاشق اپنے محبوب کی یاد میں whirling dervishes بنتا۔

ہم مولانا کی تعلیمات سے 5 سبق سیکھ سکتے ہیں:
1) : سچے عشق کی تلاش و جستجو کرنا۔
2): انسانوں کےدرمیان محبت کو پیدا کرنا۔
3): مذہبی اختلافات کو چھوڑ کر آگے ملکر بڑھنا۔
4): اندر کی صفائی پہ محنت کرنا۔
5): خدا کو دل میں محسوس کرنا۔

کہتے ہیں کہ 17 ستمبر 1273ء کو مولانا کا انتقال ہوا۔
یعنی 66 سال کی عمر میں مسلسل سما ومجاہدے سے جسم کمزور ہوگیا۔

آج لاکھوں لوگ ہر سال ان کے مزارپہ جاتے ہیں۔
اوردنیا بھر میں سلسلہ مولویہ کے پیروکار ہیں۔

آپ کو مولانا کیسے لگتے ہیں؟
اور ان سے متعلق کیا نیا سیکھا؟

شکریہ
بلال مختار
آسٹریلیا

01/12/2025

سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کا تعلق مکہ کے اس طبقے سے تھا جسے ھماری دنیا میں "ایلیٹ" یا "برگر کلاس" سمجھا جاتا ھے۔ مکہ کی گلیوں سے جب یہ خوبرو نوجوان گزرا کرتا تو جھروکوں سے کئی آنکھیں اسے تکتی تھیں۔ گلی سے دیرو دور تلک آنے والی خوشبو بتاتی تھِی کہ ابھی ابھی مصعب رضی اللہ عنہ یہاں سے گزرا ھے۔ اس خوش باش خوش پوش و خوبرو جوان کو اپنی ماں سے محبت تھی شدید محبت ۔ ایک دن اس بے فکر نوجوان کی کانوں نے اس پکار کو سنا جو تیزی سے مکہ کی سر زمین کو اپنا بنا رہی تھی۔

مصعب نے اس دعوت کو سمجھا پرکھا اور پھر اس قافلے کے سنگ ھو لئے، جو غربا کہلاتے تھے۔ مصعب نے ماں کی محبت دین متین پہ با آسانی قربان کردی۔ لمحے بھر کا بھی توقف نہ کیا۔ خدائے واحد کی صدا پر لبیک کہا تو پہلی مزاحمت ماں نے کی۔ قید کیا اور سارے خوبصورت لباس اور خوشبوں سے محروم کردیا۔ کسی نہ کسی طرح ماں کی قید سے رہائی پائی، اور سیدھے نبی علیہ السلام کے پاس پہنچ گئے۔ مگر حال یہ تھا کہ جسم پر ایک کپڑا تھا، جسے کانٹوں سے جوڑنے کی ناکام کوشش کی گئی تھی اور اسی سے ستر پوشی ہورہی تھی۔

ایک وقت آیا جب سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے داعی بنا کر مدینہ بھیجا۔ میرے نبی کا انتخاب بھی کیا خوب تھا، فہم و فراست کے پیکر سیدنا مصعب کے دلنشیں انداز اور دعوت و فکر نے مدینہ کے اہم قبائل میں آتش شوق بھڑکا دی۔ اور پھر اہل مدینہ جوق در جوق اسلام کی پناہ میں آنے لگے۔ بدر کے معرکے میں شریک ہوئے تو انکی تلوار اپنے مشرک رشتہ داروں پہ بجلی بن کر برسی۔ معرکہ اختتام پذیر ہوا تو ان مشرک قیدیوں کے پاس سے گزرنے لگے، جنہیں مسلمانوں نے گرفتار کیا تھا کہ اچانک نظر اپنے ہی سگے بھائی پر پڑی۔
ایک صحابی انکی مشکیں کس رھے تھے۔ فرمایا کہ اسکے ھاتھ اچھی طرح باندھو، اسکی ماں بہت امیر عورت ھے۔ تمہیں اچھا فدیہ دے گی۔

احد کے میدان میں اترے اور جانبازی کی مثالیں قائم کیں اور پھر شہید ھوئے۔ خون آلود تن پہ ایک ہی کپڑا تھا جسے کفن بنایا گیا۔ حال یہ تھا کہ سر چھپاتے، تو پیر ننگے۔ پیر ڈھانکتے تو سر کھل جاتا ۔ اسے دیکھ کر نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سر کپڑے سے ڈھانک دو۔ پیر پر اذخر گھاس رکھ دو۔ میرے آقا نے جب میرے ستاروں جیسے مصعب کو دیکھا تو رودئے۔ فرمایا مکہ کی گلیوں نے اس سے زیاد٥ حسین جوان نہیں دیکھا ۔
واللہ ہم نے بھی نہ دیکھا نہ سنا ....!!!
رضی اللہ تعالی عنہ۔ (اقتباس)

اللہ تعالی کی مخلوقات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!! یہ ایک بلو وہیل کا دل ہے،اس کا وزن 1,300 پونڈ/ 590 کلوگرام سے زیادہ ہے،، یعنی ...
24/11/2025

اللہ تعالی کی مخلوقات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!

یہ ایک بلو وہیل کا دل ہے،اس کا وزن 1,300 پونڈ/ 590 کلوگرام سے زیادہ ہے،، یعنی ایک چھوٹی کار کا سائز جتنا ہوتا ہے،، اس طرح اس کا دل 8 سے لیکر 10 بار فی منٹ دھڑکتا ہے،،، اور "دل" کی ہر دھڑکن 2 میل یعنی 3.2 کلومیٹر دور سے سنی جاسکتی ہے۔ سب سے حیران کن بات یہ ہےکہ بعض بلو وہیل کی شریانیں اتنی بڑی ہوتی ہیں، کہ اس کے اندر ایک بالغ انسان آسانی سے تیر سکتا ہے۔

پیدائش کے وقت "بلو وہیل" کا ایک "بچہ" تقریبا 25 فٹ لمبا ہوتا ہے،، اور بلو وہیل کا یہی "بچہ" ایک دن میں تقریبا 150 گیلن (568 لیٹر) دودھ پیتا ہے،،،، جس سے اس کے وزن میں یومیہ 200 پونڈ یعنی 90 کلوگرام تک کا اضافہ ہوتا ہے ایک سال بعد بلو وہیل کا یہی بچہ کرل پر کھانا کھانا شروع کرتا ہے، جو کہ چھوٹے کیکڑے اور مچهلی وغیرہ شامل ہوتے ہیں، جو اوسطاً صرف ایک یا دو سینٹی میٹر تک "لمبے" ہوتے ہیں ساٸنسی ماہرین کہتے ہیں کہ اسطرح وہ ایک دن میں 4 سے لیکر 6 ٹن تک کرل کھاتے ہیں، یعنی "بلو وہیل" کا ایک چھوٹا بچہ ہم سے کہیں زیادہ خوراک کھاتا ہے جو بالغ ہونے کے بعد لمبائی میں 110 فٹ (33 میٹر) تک پہنچتے ہیں،،،، اور ان کا وزن 180 ٹن تک بڑھ جاتا ہے،، ایک منٹ کے لٸے سوچ لیں کہ اس وقت سمندر میں کتنے بلو وہیل گھوم رہے ہوں گے ان کو رزق کون دے رہا ہے؟

ہمارے کچھ دوست گریجویشن مکمل ہوتے ہی چند ماہ بعد اس رب سے نا امید ہوکر بیٹھ جاتے ہیں جس نے 93 بلین نوری سال پر محیط ایک بڑی "کاٸنات" بناٸی ہے، جسکو صرف دیکھنے کے لٸے ایک ارب سال کا وقت بھی ناکافی ہے، اتنے بڑے خدا سے نا امید ہونا عقل مندی نہیں ہے، اگر آپ کے اندر صلاحيت ہے،، تو وہ آپکو کبھی ضائع نہیں کرے گا البتہ وہ آپ کا امتحان لے سکتا ہے اس پر بھروسہ رکھو اور پوری ایمان داری اور لگن کے ساتھ اپنی محنت جاری رکھو، آپ کو وہی ملے گا جو اپکے مقدر میں لکھا ہوگا کیوں کہ ہمارا یقین اور ایمان ہے کہ اللہ تعالی کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا۔

اللہ تعالی ایسا رزاق ذات ہے، جو جانوروں کو سمندر کے اندر رات کے اندھیرے میں رزق دیتا ہے،،،،،،، اور آپ ایسے رب سے مایوس ہوجاتے ہیں

اللہ تعالی پر مکمل بھروسہ رکھیں، اللہ تعالی کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

18/11/2025
Al Jannat
18/11/2025

Al Jannat

Address

W Block New Multan
Multan
00006

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Jannat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Al Jannat:

Share