06/12/2025
آخر رومی میں ایسا کیا ہے کہ آج بھی امریکہ کا بیسٹ سیلر لکھاری ہے؟
مسلم غیر مسلم ہر کوئی ان کے اقوال کیوں پوسٹ کرتا ہے؟
کیوں 24 سال کی جوانی میں بڑی پوزیشن چھوڑی؟
اقبال، گلزار سے لے کر ہر کوئی کیوں ان سے انسپائرڈ ہے؟
اور سب سے اہم سوال کیا وہ ہم جنس تھے؟
یا ان کے خلاف ایک غلط فہمی عام ہے۔
(پری وارننگ: رومی کے سراپا عاشق یا نفرت کرنے والے اس پوسٹ کو سکپ کردیں۔ کیوں کہ یہاں نیوٹرل اور ریفرنس کے ساتھ تجزیہ ملے گا۔)
آج ہم مولانا جلال الدین رومی کی شخصیت کو جاننے کی کوشش کریں گے۔
رومی کی پیدائش بلغ (موجودہ افغانستان ) میں سن 1208ء میں ہوئی۔
ان کے والد بہائو الدین اپنے علاقے میں "سلطان العما" کہلاتے تھے۔
ویسے تو ان کی جائے پیدائش تصوف و فقہ و حدیث کا سینٹر سمجھی جاتی تھی۔
مگر رومی جب بمشکل گیارہ سال کا تھا۔
تب منگولیا سے چنگیز خان نے چڑھائی کردی۔
اور کم عمری میں ہی رومی کو ہجرتوں کا سفر نصیب ہوا۔
جب آپ نیشا پور پہنچے تو اک ٹیچر نے کہا:
"یہ بچہ سراپا آگ ہے۔
ایک دن دنیا کے دل میں عشق بھڑکائے گا۔"
ابھی آپ بمشکل 24 سال کے تھے کہ والدِ محترم کا انتقال ہوا۔
اور ان کے سکول میں چیف کے طور پہ مقرر کیا گیا۔
مگر اس عہدے اور علماء و کتب کے درمیان وہ مضطرب رہتے۔
ایک دن سب کچھ چھوڑ کر دور چل نکلے۔
اور ایک ایسے سخت استاد کے ہاتھ لگے۔
جنہوں نے ان سے 9 سال یہ کام کروائے:
1): خاموش رہنے کی عادت پہ لایا۔
2): نئے سکول کے ٹوائلٹس صاف کروائے۔
3): مہمانوں کے لیے لکڑیاں لانے کا کام کروایا۔
4): تندور جلانے سے مریضوں کے بستر بھی صاف کروائے۔
المختصر انہیں ایک سکول کے پرنسپل سے ہائوس کیپنگ پہ لے گے۔
خود سوچیں علم و ادب کا سمندر ایسے روزانہ کام کررہا تھا۔
کیا استاد (برہان الدین ترمذی) کسی خاص مقصد کے تحت کر رہے تھے؟
پھر ایک ایسا لمحہ آیا جسے تاریخ "مرج البحرین" کہتی ہے۔
یہ سال 1244ء کا اہم علمی واقعہ ہے۔
یعنی دو سمندروں کا ملنے والا لمحہ اور جس نے نئی دنیا تخلیق کی۔
کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں۔
اس رات آسمان پہ دو ستاروں نے اپنی جگہ بھی بدلی۔
رومی قونیہ میں مزے سے اپنے مریدوں کے ساتھ جا رہے تھے۔
سوالات، محبتوں اور مسائل کا ہجوم ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔
اتنے میں بکھرے بالوں والا اک درویش سامنے آیا۔
اس نے رومی سے سوال کیا:
"جلال الدین!
یہ بتائو کہ نبی کریم بڑے ہیں یا بایزد بسطامی؟"
رومی نے فورا مگر حیرت سے جواب دیا:
"یہ سوال ہی غلط ہے۔ حضور اکرم ﷺ اٖفضل ہیں۔"
اور منطق و سوال جواب کا سلسلہ چل نکلا۔
رومی نے سرپرائز ہوتے ہوئے پوچھا:
"آخر آپ کون ہیں؟"
جس پہ شمس تبریز نے کہا:
"میں وہ ہوں جو تمھیں تلاش کررہا ہوں۔
تم وہ ہو جسے میں نے برسوں سے پکارا ہے۔"
کہتے ہیں کہ رومی سمجھ گے تھے کہ سامنے کوئی سمندر آن پہنچا ہے۔
وہ گھر پہنچے تو کتابوں کو دیر تک کھلی آنکھوں بس دیکھتے رہے۔
اور گہری سانس لے کر کہنے لگے؛
"ایسے علم کا کیا فائدہ جو دل کو نہ جگائے۔
یہ تو بس الفاظ کا پہاڑ ہے جو میں لیے گھوم رہا۔"
دوسری ملاقات بازار کے ایک کیفے میں ہوئی۔
نئے استاد نے رومی کو کہا:
"علم اگر زبان تک رہے تو بوجھ ہے۔
علم اگر دل میں اتر جائے تو سراپا روشنی ہے۔"
تین سال تک دونوں کی رفاقت رہی ۔
ان سالوں میں رومی شاعر بن چکے تھے:
انہوں نے 3 ہزار غزلیں لکھیں۔
تقریبا 2ہزار رباعیات تحریر کیں۔
چھ والیم پہ مشتمل روحانی داستان "مثنوی" لکھی۔
کولمین بارکس نے امریکی سٹائل میں ان کی نظموں کو ڈھالا ہے۔
دو لاکھ سے اوپر اور 23 زبانوں میں ان کا ترجمہ کیا جاچکا ہے۔
ان کے بارے میں اک غلط فہمی بھی عام ہے۔
بہت سے تراجم کے بعد لوگ رومی و شمس کو ہم ج-نس ثابت کہتے ہیں۔
مگر پروفیسر فرانکلن لوئس نے اس پہ بھرپور وضاحت دی ہے۔
ان کے مطابق معشوق کا تصور فارسی شاعری کا رواج ہے۔
وہیں ابراہیم گامارد بھی اس تعلق کو سراپا روحانی کہتے ہیں۔
بلکہ قارین کو توجہ دلاتے کہ رومی کو پڑھیے۔مثلا:
"میری زندگی کا مقصد صرف خدا کے لیے روحانی ملاقات تھا۔
اور ایسی محبت تخلیق کرنا جس میں خواہش و ہوس نہ ہو۔"
آئیے رومی کے 3 فلسفوں پہ سوچ بچار کرتے ہیں:
1) : وحدت الوجود کے مطابق ہر شے میں اللہ کا عکس موجود ہے۔
اگر اسے حرف بہ حرف سمجھا جائے۔
تو سورۃ النساء (4:116) کے منافی جاتا ہے۔
جس میں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھرایا جائے۔
نتیجہ کے طور پہ ان اشعار علامتی سمجھنے سے مفہوم اوکے ہے۔
مگر ظاہری مفہوم سے توحید کا بنیادی فلسفہ چیلنج ہوتا ہے۔
2): رومی کہتے ہیں کہ اصلی محبت ہر نفس میں محبت تلاش کرنا ہے۔
اگر اس محبت کو مادی کی بجائے علامتی بریک ڈائون کیا جائے۔
تو اس فلسفہ میں امن، امید و محبت کا درس ملتا ہے۔
3): مولانا کہتے ہیں کہ دیکھنے والے تم ہو اور دیکھا جانے والا خدا ہے۔
اگر اسے "ہر چیز اللہ ہے" کے طور پہ لیا جائے۔
تو توحید کا اصول چیلنج ہوتا ہے۔
لیکن اگر اسے صرف ادیبانہ اور شاعرانہ انداز میں پرکھا جائے۔
تو محبوب کی جھلک بلکہ تجلی ہر جگہ ملنا محبت کی ایک سندر مثال ہے۔
ان کی ذاتی زندگی پہ بہت سے اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں۔
حقائق یا افسانوں کی بجائے میری رائے میں “سوچ” اہم ہے۔
پرسنل زندگی میں جج کرنے بیٹھے تو تاریخ میں انگلیوں پہ فرشتے ملیں گے۔
(ان کی سوچ پہ 3 اہم نکات اوپر پہلے ہی لکھ چکا ہوں۔)
مولانا کے تخلیق کیے گے 5 میرے فیورٹس خیالات درج ذیل ہیں:
1): شکر گزاری روح کی شراب ہے۔
آگے بڑھو اور مست ہوجائو۔
2): نیکی اور بدی کے تصورات کے اس پار ایک میدان ہے۔
میں تمھیں وہاں ملوں گا۔"
3): ہماری روحیں بھی سن سکتی ہیں۔
وہ کچھ ایسا سنتی ہیں جو عقل سے ماورا ہے۔
4): جب دنیا تمھیں گھٹنوں تک لے جائے۔
اس غم کے سمے دعا کرنا بہترین عمل ہے۔
اور یہ خیال کتنا پیارا ہے:
5): میں پرندوں کی طرح گاناچاہتا ہوں۔
یہ سوچے بغیر کے کون سن رہا ہے۔
المختصر شمس تبریز کے اچانک غائب ہونے پہ انہیں نے رقص سماع لایا۔
جس میں عاشق اپنے محبوب کی یاد میں whirling dervishes بنتا۔
ہم مولانا کی تعلیمات سے 5 سبق سیکھ سکتے ہیں:
1) : سچے عشق کی تلاش و جستجو کرنا۔
2): انسانوں کےدرمیان محبت کو پیدا کرنا۔
3): مذہبی اختلافات کو چھوڑ کر آگے ملکر بڑھنا۔
4): اندر کی صفائی پہ محنت کرنا۔
5): خدا کو دل میں محسوس کرنا۔
کہتے ہیں کہ 17 ستمبر 1273ء کو مولانا کا انتقال ہوا۔
یعنی 66 سال کی عمر میں مسلسل سما ومجاہدے سے جسم کمزور ہوگیا۔
آج لاکھوں لوگ ہر سال ان کے مزارپہ جاتے ہیں۔
اوردنیا بھر میں سلسلہ مولویہ کے پیروکار ہیں۔
آپ کو مولانا کیسے لگتے ہیں؟
اور ان سے متعلق کیا نیا سیکھا؟
شکریہ
بلال مختار
آسٹریلیا