22/10/2024
“علماء کی خود کفالی: علم کے ساتھ ہنر”
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں بہت سے علماء معاشی پریشانیوں کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ علم کے اعلیٰ مدارج تک پہنچنے کے باوجود مالی مشکلات سے دوچار رہتے ہیں، جو ان کے ذہنی سکون اور دینی خدمات کو متاثر کرتی ہیں۔ جب ہم انہیں مشورہ دیتے ہیں کہ کوئی کاروبار یا کام شروع کر لیں تاکہ خود کفیل ہو سکیں، تو وہ اکثر شکوہ کرتے ہیں کہ انہوں نے کئی سال علم حاصل کرنے میں گزارے ہیں، اور یہ خیال رکھتے ہیں کہ انہیں صرف تدریس اور دینی خدمات تک محدود رہنا چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ دینی تعلیم اور دنیاوی کاروبار کو ایک ساتھ جاری رکھنا ممکن ہے، بلکہ آج کے دور میں یہ بہت ضروری بھی ہے۔ اگر اربابِ مدارس طلباء کو شروع سے ہی کسی ہنر یا کاروباری مہارت کی تعلیم دیں، تو یہ طلباء کی مستقبل کی مشکلات کو بڑی حد تک کم کر سکتا ہے۔ مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی زندگی کی تربیت بھی دی جائے تو علماء بعد میں بغیر کسی جھجھک کے اپنے روزگار کا بندوبست کر سکتے ہیں۔
علماء کا یہ خیال کہ وہ آٹھ سال علم حاصل کرنے کے بعد دنیاوی کاموں کی طرف جائیں، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر مدارس میں ہی اس سوچ کو تبدیل کیا جائے اور طلباء کو عملی مہارتیں سکھائی جائیں تو مستقبل میں علماء خود کفیل ہو کر دینی خدمات کے ساتھ ساتھ اپنے معاشی مسائل کا حل بھی نکال سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے علماء تدریس کے ساتھ ساتھ کامیاب کاروبار بھی کر رہے ہیں، اور اس سے ان کی دینی خدمات میں بھی کوئی کمی نہیں آئی۔
مدارس کے نظام میں اگر یہ تبدیلی لائی جائے کہ طلباء کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ کسی عملی ہنر کی تربیت دی جائے تو تقریباً ہر عالم دین کامیاب ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ارباب مدارس طلباء کی استعداد کو دیکھتے ہوئے انہیں ایسا ہنر سکھائیں جو وہ دینی کام کے ساتھ بآسانی کر سکیں۔ یہ ایک ایسا قدم ہو گا جو معاشرے میں علماء کی مالی مشکلات کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے علم و خدمت کے دائرے کو بھی وسیع کر دے گا۔
حلیم اللہ حلیمی