21/05/2026
کفر اعراض.
کفر کی ایک قسم کفرِ اِعراض ہے۔ بعض کفار ایسے ہوتے ہیں جو رسول ﷺ کی دعوت سے اعراض برتتے ہیں؛ نہ اس کی طرف کان دھرتے ہیں اور نہ اس کی حقیقت سے آگاہی حاصل کرتے ہیں۔ انہیں دعوت دی جاتی ہے مگر وہ سماعت نہیں کرتے، نہ غور و فکر کرتے ہیں اور نہ تدبر و تأمل سے کام لیتے ہیں۔
پھر جب کوئی شخص بظاہر اسلام کا اظہار کرنے والا اور شہادتین کا اقرار کرنے والا ہو، لیکن دینِ اللہ سے اعراض کیے ہوئے ہو، اسے نہ حلال کی پروا ہو نہ حرام کی، اور وہ دینِ اللہ کے کسی حکم پر عمل نہ کرتا ہو، نہ کسی دینی مسئلے کے بارے میں دریافت کرتا ہو، تو وہ نہ نماز پڑھتا ہے، نہ روزہ رکھتا ہے، نہ حج کرتا ہے، نہ اللہ کے لیے صدقہ دیتا ہے، نہ اللہ کا ذکر کرتا ہے، نہ قرآنِ مجید میں سے کچھ تلاوت کرتا ہے، نہ اللہ کے خوف سے زنا ترک کرتا ہے اور نہ اللہ کے خوف سے شراب نوشی چھوڑتا ہے۔ اگر وہ اسے ترک کرتا بھی ہے تو صرف اس وجہ سے کہ اسے اس کی قدرت یا موقع میسر نہیں ہوتا۔
تو کیا ایسا شخص مسلمان ہوسکتا ہے؟
ہرگز نہیں؛ کیونکہ یہ کلی اعراض شہادتین کے مقتضا کے منافی ہے۔ اگر وہ اپنے اقرار میں صادق ہوتا تو دینِ اللہ کے کسی نہ کسی حکم پر ضرور عمل کرتا.
@[شرح نواقض الإسلام للشيخ عبد الرحمن بن ناصر البراك ص٣٩.]
نادر علي.