27/01/2023
تکبر و غرور سے غراتے ہوۓ سردار نے جب عثمان غازی کو یہ کہا کہ سلطنت بنانے کے خواب ان کو دیکھنے دیں جو بادشاہوں کی اولاد میں سے ہوں۔یعنی یہ آپ جیسے مہاجر سردار کے بس کی بات نہیں یہ کام آپ کی اوقات سے باہر ہے سلطنت تو صرف ہم جیسے طاقت ور لوگ بنا سکتے ہیں
ہاۓ میں قربان جاؤں رب ذوالجلال پر یہ منظر دیکھ کر مجھے حضرت عمر یاد آگۓ جب وہ بائیس لاکھ مربع میل کے حکمران تھے روم و فارس کے تاج ان کے قدموں میں پڑے ہوۓ تھے اور رو کر کہنے لگے کہ کیا یہ وہی عمر ہے جسے اس کا باپ یہ طعنہ دیا کرتا تھا کہ اے خطاب! تجھے تو ڈھنگ سے اونٹ چرانے بھی نہیں آتے تو آگے کیا کرے گا لیکن جب میں نے اسلام قبول کیا اور اپنا سب کچھ اس دین پر قربان کیا تو اللہ نے آدھی دنیا کی حکمرانی عطا کر دی۔
اس منظر سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کے ہاں نہ طاقت نہ ثروت قابلِ قبول ہے اللہ کے ہاں صرف تقوی، اطاعت اور شکر گزاری قبولیت رکھتی ہے اور اللہ ان لوگوں سے ہی اپنے دین کو مستحکم کراتا ہے جو صرف اللہ کے آگے جھکتے ہیں یہ بڑے بڑے سردار صرف دیکھتے ہی رہ گۓ حسد کی آگ میں جلتے ہی رہ گۓ اور اللہ کا چنیدہ بندہ عثمان اللہ پر یقینِ کامل اور جہدِ مسلسل کرتے ہوۓ تین براعظموں تک اسلام کا جھنڈا لہرا گیا کیونکہ وہ اللہ کا منتخب شدہ بندہ تھا اور اللہ کے ہاں قبولیت پانے کے لیے اپنی زندگی کو جھنم جیسا بنانا پڑتا ہے تب جا کر یہ جنت میں تبدیل ہوتی ہے۔