23/02/2025
یہ تصویر ایک پاکستانی معاشرتی منظر کو دکھاتی ہے جہاں ایک والد اپنے بچے کو اسکول سے لے کر آ رہا ہے۔ والد نے ایک پرانی لکڑی کی گاڑی پر بچے کو بٹھایا ہوا ہے اور بچہ اپنی کاپی پر کچھ لکھ رہا ہے۔ والد کے چہرے پر تھکن اور فکر کے آثار نمایاں ہیں۔ پس منظر میں ایک بس اور سڑک کا منظر دکھائی دے رہا ہے۔
یہ کہانی ایک ایسے والد کی ہے جو پیشے کے ساتھ ساتھ اپنی گاڑی پر اپنے بچے کو اسکول سے لے کر آتا ہے۔ والد اپنے پیشے کے ساتھ ساتھ اپنے بچے کی تعلیم پر بھی دھیان دیتا ہے۔ وہ صبح سویرے اپنی گاڑی لے کر نکلتا ہے، مختلف محنت و مشقت کے کام کرتا ہے اور شام کو اپنے بچے کو اسکول سے لے کر آتا ہے۔ وہ بچے کو کہانیاں سناتا ہے، اسے پڑھائی کی اہمیت بتاتا ہے اور اس کے بہتر مستقبل کی امید لگاتا ہے۔
مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری معاشرتی نظام میں ایسے بچوں کے لئے مواقع بہت کم ہیں۔ ہمارے عدالتی نظام میں بہتری کی ضرورت ہے تاکہ ہر بچے کو برابر کے مواقع مل سکیں۔ امیر لوگ اپنی دولت کی بنا پر نوکریاں خرید لیتے ہیں جبکہ اہل اور حقد ہیں۔ بہت سے امتحانات کے بعد سوالیہ پرچے اور جوابی پرچے چند منٹوں میں سوشل میڈیا پر آ جاتے ہیں۔
یہ تصویر اور کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہماری معاشرتی نظام میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہر بچے کو برابر کے مواقع مل سکیں اور کوئی بھی بچہ اپنی محنت و مشقت کی بنا پر پیچھے نہ رہ جائے۔ مجھے امید ہے کہ ایک دن ہمارا عدالتی نظام بہتر ہوگا اور ہر اہل شخص کو اس کا حق ملے گا۔